حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «خَرَجَ فِي رَمَضَانَ زَمَنَ الْفَتْحِ فَصَامَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِقُدَيْدٍ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ أَصْحَابُهُ حَتَّى قَدِمُوا مَكَّةَ» . «وَاللَّفْظُ لِسُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ فتح مکہ کے موقع پر رمضان میں نکلے تو روزہ رکھا، یہاں تک کہ جب قدید پہنچے تو روزہ توڑ دیا اور آپ ﷺ کے صحابہ نے بھی روزہ توڑ دیا، یہاں تک کہ وہ مکہ پہنچے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «رَمَلَ فِي حَجَّتِهِ الثَّلَاثَ الْأُوَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ وَمَشَى الْأَرْبَعَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حج میں پہلے تین چکروں میں حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا، اور باقی چار چکر عام چال چلے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بُرْدَيْنِ أَبْيَضَيْنِ، وَبُرْدٍ أَحْمَرَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی کریم ﷺ کو دو سفید اور ایک سرخ چادر میں کفنایا گیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَهْدَى مِائَةَ بَدَنَةٍ فِيهَا جَمَلٌ لِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ فِي أَنْفِهِ بُرَةٌ مِنْ فِضَّةٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سو اونٹ ہدیہ بھیجے، ان میں ایک اونٹ ابوجہل بن ہشام کا تھا جس کی ناک میں چاندی کی نتھ تھی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ الْمُسْلِمِينَ أَصَابُوا رَجُلًا مِنْ عُظَمَاءِ الْمُشْرِكِينَ فَقَتَلُوهُ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَشْتَرُوهُ فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوا بِجِيفَتِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مسلمانوں کو مشرکین کے ایک بڑے سردار پر قابو مل گیا تو انہوں نے اسے قتل کر دیا، پھر انہوں نے درخواست کی کہ اس کی لاش خرید لیں، تو نبی کریم ﷺ نے صحابہ کو اس کی لاش کے بدلے (قیمت) لینے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْقَمَ بْنَ أَبِي الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيَّ عَلَى السِّعَايَةِ فاستتبعَ أَبَا رَافِعٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: «يَا أَبَا رَافِعٍ إِنَّ الصَّدَقَةَ حَرَامٌ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ»
ترجمہ
…نبی کریم ﷺ نے ارقم بن ابی ارقم زہری رضی اللہ عنہ کو صدقات کی وصولی پر مقرر کیا، تو انہوں نے ابورافع رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لے لیا، تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے دریافت کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابورافع! صدقہ محمد اور آلِ محمد پر حرام ہے، اور کسی قوم کا آزاد کردہ غلام انہی میں سے شمار ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ قَتَلَ قَتِيلًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعُوا أَبَا قَتَادَةَ وَسَلَبَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو قتل کیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ابوقتادہ کو اور اس کے سلب (مقتول کا سازوسامان) کو چھوڑ دو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُنَاجِيهِ إِذِ انْشَقَّ أُفُقُ السَّمَاءِ فَأَخَذَ جِبْرِيلُ يَدْنُو مِنَ الْأَرْضِ، وَيَتَمَايَلُ فَإِذَا مَلَكٌ قَدْ مَثُلَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَخْتَارَ بَيْنَ نَبِيٍّ عَبْدٍ، وَمَلِكٍ نَبِيٍّ قَالَ: " فَأَشَارَ جِبْرِيلُ إِلَيَّ بِيَدِهِ أَنْ تَوَاضَعَ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لِي نَاصِحٌ فَقُلْتُ: عَبْدٌ نَبِيٌّ فَعَرَجَ ذَلِكَ الْمَلَكُ إِلَى السَّمَاءِ فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ قَدْ كُنْتُ أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ هَذَا فَرَأَيْتُ مِنْ حَالِكَ مَا شَغَلَنِي عَنِ الْمَسْأَلَةِ، فَمَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا إِسْرَافِيلُ خَلَقَهُ اللهُ يَوْمَ خَلَقَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ صافًّا قَدَمَيْهِ لَا يَرْفَعُ طَرْفَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّبِّ سَبْعُونَ نُورًا مَا مِنْهَا مِنْ نُورٍ يَكَادُ يَدْنُو مِنْهُ إِلَّا احْتَرَقَ، بَيْنَ يَدَيْهِ لَوْحٌ فَإِذَا أَذِنَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَيْءٍ فِي السَّمَاءِ أَوْ فِي الْأَرْضِ ارْتَفَعَ ذَلِكَ الْوَحْيُ فَضَرَبَ جَبْهَتَهُ فَيَنْظُرُ فَإِنْ كَانَ مِنْ عَمَلِي أَمَرَنِي بِهِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ عَمِلِ مِيكَائِيلَ أَمَرَهُ بِهِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ عَمِلِ مَلَكِ الْمَوْتِ أَمَرَهُ بِهِ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، وَعَلَى أَيِّ شَيْءٍ أَنْتَ؟ قَالَ: عَلَى الرِّيحِ وَالْجُنُودِ قُلْتُ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ مِيكَائِيلُ؟ قَالَ: عَلَى النَّبَاتِ وَالْقَطْرِ قُلْتُ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ مَلَكُ الْمَوْتِ؟ قَالَ: عَلَى قَبْضِ الْأَنْفُسِ وَمَا ظَنَنْتُ أَنَّهُ نَزَلَ إِلَّا لَقِيَامِ السَّاعَةِ وَمَا الَّذِي رَأَيْتَ مِنِّي إِلَّا خَوْفًا مِنْ قِيَامِ السَّاعَةِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جبریل علیہ السلام سرگوشی کر رہے تھے کہ اچانک آسمان کا کنارہ پھٹ گیا، تو جبریل علیہ السلام زمین کے قریب ہونے لگے اور جھکنے لگے، پھر ایک فرشتہ نبی کریم ﷺ کے سامنے آ کھڑا ہوا اور کہا: اے محمد! اللہ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ایک غلام نبی اور ایک بادشاہ نبی میں سے انتخاب کر لیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام نے مجھے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ عاجزی اختیار کرو، تو میں سمجھ گیا کہ وہ میرا خیرخواہ ہے، تو میں نے کہا: غلام نبی۔ اس پر وہ فرشتہ آسمان کی طرف چڑھ گیا، تو میں نے کہا: اے جبریل! میں تم سے اس کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا، لیکن تمہاری حالت دیکھ کر سوال کرنا بھول گیا، یہ کون تھا اے جبریل؟ انہوں نے کہا: یہ اسرافیل علیہ السلام ہیں، اللہ نے جس دن انہیں پیدا کیا اسی دن سے یہ اس کے سامنے اپنے دونوں قدم جوڑے کھڑے ہیں، اپنی نظر نہیں اٹھاتے، ان کے اور رب کے درمیان ستر نور ہیں، ان میں سے کوئی نور بھی ان کے قریب ہونے لگے تو جل جائے۔ ان کے سامنے ایک لوح ہے، جب اللہ عزوجل آسمان یا زمین میں کسی چیز کی اجازت دیتا ہے تو وہ وحی بلند ہوتی ہے اور ان کی پیشانی پر ٹکراتی ہے، تو وہ دیکھتے ہیں کہ اگر یہ میرا (جبریل کا) کام ہے تو مجھے اس کا حکم دیتے ہیں، اور اگر میکائیل کا کام ہے تو انہیں حکم دیتے ہیں، اور اگر ملک الموت کا کام ہے تو انہیں حکم دیتے ہیں۔ میں نے کہا: اے جبریل! اور آپ کس چیز پر مقرر ہیں؟ انہوں نے کہا: ہوا اور لشکروں پر۔ میں نے کہا: میکائیل کس چیز پر مقرر ہیں؟ کہا: نباتات اور بارش پر۔ میں نے کہا: ملک الموت کس چیز پر مقرر ہیں؟ کہا: روحیں قبض کرنے پر۔ اور میں نے یہی سمجھا کہ وہ صرف قیامت کے قائم ہونے کی وجہ سے اترے تھے، اور تم نے میری جو حالت دیکھی وہ صرف قیامت کے قائم ہونے کے خوف کی وجہ سے تھی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ " افْتَتَحَ خَيْبَرَ اشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنَّ لَهُ الْأَرْضَ وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ، يَعْنِي الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ، فَقَالَ لَهُ أَهْلُ خَيْبَرَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِالْأَرْضِ فَأَعْطِنَاهَا عَلَى أَنْ نَعْمَلَ فِيهَا، وَيَكُونَ لَنَا نِصْفُ الثَّمَرَةِ وَلَكُمْ نِصْفُهَا، فَذَكَرَ أَنَّهُ أَعْطَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ فَلَمَّا كَانَ حِينَ يُصْرَمُ النَّخْلُ بَعَثَ إِلَيْهِمْ ابْنَ رَوَاحَةَ فَحَزَرَ النَّخْلَ وَهُوَ الَّذِي يَدْعُوهُ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْخَرْصَ فَقَالَ: فِي ذَا كَذَا وَكَذَا فَقَالُوا: أَكْثَرْتَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ رَوَاحَةَ قَالَ: فَإِنِّي أَلِي حِزْرَ النَّخْلِ فَأُعْطيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ، قَالُوا: هَذَا الْحَقُّ وَبِهِ قَامَتِ السَّماَوَاتُ وَالْأَرْضُ رَضِينَا أَنْ تَأْخُذَ الَّذِي قُلْتَ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب خیبر فتح کیا تو ان پر یہ شرط رکھی کہ زمین اور ہر سونا چاندی آپ ﷺ کا ہو گا، تو خیبر والوں نے آپ ﷺ سے کہا: ہم زمین کو زیادہ بہتر جانتے ہیں، ہمیں یہ دے دیجیے کہ ہم اس میں کام کریں، اور آدھی پیداوار ہماری اور آدھی آپ کی ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں: آپ ﷺ نے انہیں اسی شرط پر زمین دے دی۔ پھر جب کھجوریں کاٹنے کا وقت آیا تو آپ ﷺ نے ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف بھیجا، تو انہوں نے کھجوروں کا تخمینہ لگایا - جسے اہلِ مدینہ 'خرص' کہتے ہیں - اور کہا: اس میں اتنی اتنی ہیں۔ انہوں نے کہا: تم نے ہم پر زیادہ لگا دیا، اے ابن رواحہ! انہوں نے کہا: میں تخمینے کا ذمہ دار ہوں، تو میں تمہیں اپنے کہے ہوئے کا آدھا بھی دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا: یہی حق ہے، اور اسی پر آسمان و زمین قائم ہیں، ہم اس پر راضی ہیں کہ تم اپنا کہا ہوا لے لو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ عِدَّةُ أَهْلِ بَدْرٍ ثَلَاثَمِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اہلِ بدر کی تعداد تین سو تیرہ تھی۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ أَبُو سَعْدٍ الْهَرَوِيُّ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ شِبْلِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا تَحْتَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو وہ آگ میں ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ الْجَعْدٍ، ثنا قَتَادَةُ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ رَجُلًا أَتَى نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَعَمَ أَنَّهُ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِدِينَارٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِنِصْفِ دِينَارٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور بتایا کہ اس نے اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں مباشرت کی ہے، تو نبی کریم ﷺ نے اسے ایک دینار صدقہ کرنے کا حکم دیا، اور اگر نہ پائے تو آدھا دینار۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي «الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص کے بارے میں جو حیض کی حالت میں اپنی بیوی کے پاس جائے فرمایا: ”وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو حَنِيفَةَ مُحَمَّدُ بْنُ حَنِيفَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّينِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو الْحَارِثِ الْوَرَّاقُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى بَدْرٍ فَقَالَ: «جَزَاكُمِ اللهُ عَنِّي مِنْ عِصَابَةٍ شَرًّا قَدْ خَوَّنْتُمُوني أَمِينًا، وكَذَّبْتُموني صَادِقًا» ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا كَانَ أَعْتَى عَلَى اللهِ مِنْ فِرْعَوْنَ إِنَّ فِرْعَوْنَ لَمَّا أَيْقَنَ بِالْهَلَكَةِ وَحَّدَ اللهَ، وَإِنَّ هَذَا لَمَّا أَيْقَنَ بِالْمَوْتِ دَعَا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی کریم ﷺ بدر کے مقتولین کے پاس رکے اور فرمایا: ”اللہ تمہیں میری طرف سے برا بدلہ دے، اے گروہ! تم نے مجھے، جو امانت دار تھا، خیانت کار کہا، اور مجھے، جو سچا تھا، جھوٹا کہا۔“ پھر ابوجہل بن ہشام کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”یہ فرعون سے بھی زیادہ اللہ کے مقابلے میں سرکش تھا، فرعون جب ہلاکت کا یقین ہو گیا تو اس نے اللہ کی وحدانیت مان لی، لیکن یہ جب موت کا یقین ہو گیا تو لات اور عزیٰ کو پکارنے لگا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: صَالَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ خَيْبَرَ عَلَى كُلِّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ، وَعَلَى كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَذَرَارِيَهُمْ، قَالَ: فَأُتِي بِالرَّبِيعِ وَكِنَانَةَ ابْنِي أَبِي الْحُقَيْقِ وَأَحَدُهُمَا عَرُوسٌ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ فَقَالَ: «أَيْنَ آنِيَتُكُمُ الَّتِي كَانَتْ تُسْتَعارُ فِي أَعْرَاسِِ الْمَدِينَةِ؟» قَالَ: أَخْرَجْتَنَا وأَجْلَيْتَنَا فَأَنْفَقْناها فَقَالَ: «انْظُرا مَا تَقُولَانِ فَإِنَّكُمَا إِنْ كَتَمْتَانِي اسْتَحْلَلْتُ بِذَلِكَ دماءَكُمُا وذُرِّيَّتَكُمَا» قَالَ: فَدَعَا رَجُلَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: «اذْهَبْ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا فَانْظُرْ نُخَيْلَةً فِي رَأْسِهَا رُقْعَةٌ فَانْزَعْ تِلْكَ الرُّقْعَةَ وَاسْتَخْرِجْ تِلْكَ الْآنِيَةَ وَائْتِنِي بِهَا» فَانْطَلَقَ حَتَّى جَاءَ بِهَا، فَقَدَّمَهُما رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَ أعناقَهُما وَبَعَثَ إِلَى ذُرِّيَّتِهما فَأُتِي بِصَفِيَّةَ وَهِيَ عَرُوسٌ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَانْطَلَقَ بِهَا إِلَى مَنْزِلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقَ بِلَالٌ فَمَرَّ عَلَى زَوْجِهَا وَأَخِيهِ وَهُمَا قَتِيلَانِ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سُبْحَانَ اللهِ مَا أَرَدْتَ يَا بِلَالُ إِلَى جَارِيَةٍ بَكْرٍ تَمُرُّ بِهَا عَلَى قَتِيلَيْنِ تُرِيهُمَا إِيَّاهُمَا أَمَا لَكَ رَحْمَةٌ؟» قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أُحَرِّقَ جَوْفَهَا قَالَ: وَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاتَ مَعَهَا وَجَاءَ أَبُو أَيُّوبَ بِسَيْفِهِ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِ الْفُسْطَاطِ قَالَ: إِنْ سَمِعْتُ راعةً أَوْ رَابَنِي شَيْءٌ كُنْتُ قَرِيبًا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى إِقَامَةِ بِلَالٍ قَالَ: «مَنْ هَذَا» قَالَ أَنَا أَبُو أَيُّوبَ قَالَ: «مَا شَأْنُكَ هَذِهِ السَّاعَةَ هَاهُنَا» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ دَخَلْتَ بِجَارِيَةٍ بَكْرٍ وَقَدْ قَتَلْتَ زَوْجَهَا وَأَخَاهُ، فَأَشْفَقْتُ عَلَيْكَ، قُلْتُ: أَكُونُ قَرِيبًا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَرْحَمُكَ اللهُ أَبَا أَيُّوبَ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَأَكْثَرَ النَّاسُ فِيهَا، فَقَائِلٌ يَقُولُ: سُرِّيَّتُهُ، وَقَائِلٌ يَقُولُ: امْرَأَتُهُ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الرَّحِيلِ قَالُوا: انْظُرُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ سُرِّيَّتُهُ، فَأَخْرَجَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَبَها فَوَضَعَ لَهَا رُكْبَتَهُ فَقَالَ: «ارْكَبِي» فَأَكْرَمَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَضَعَ قَدَمَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ، وَوَضَعَتْ رُكْبَتَهَا عَلَى فَخِذِهِ، وَرَكِبَتْ وَقَدْ كَانَ عَرَضَ عَلَيْهَا قَبْلَ ذَلِكَ أَنْ يَتَّخِذَهَا سُرِّيَّةً أَوْ يُعْتِقَهَا وَيَنْكِحَهَا فَقَالَتْ: لَا، بَلْ أَعْتِقْنِي وَأَنْكِحْنِي فَفَعَلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
…اور ہر چیز پر (صلح ہوئی) سوائے ان کی جانوں اور ان کی اولاد کے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ربیع اور کنانہ، ابوالحقیق کے دونوں بیٹوں کو لایا گیا، اور ان میں سے ایک سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا نیا دولہا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے وہ برتن کہاں ہیں جو مدینہ کی شادیوں کے لیے ادھار مانگے جاتے تھے؟“ اس نے کہا: ہمیں نکالا اور جلاوطن کیا گیا تو ہم نے وہ خرچ کر ڈالے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دیکھ لو کیا کہتے ہو، اگر تم دونوں مجھ سے چھپاؤ گے تو میں تمہارا خون اور تمہاری اولاد کو اس کی بنا پر حلال کر لوں گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو آپ ﷺ نے انصار میں سے دو آدمیوں کو بلایا اور فرمایا: ”فلاں جگہ جاؤ اور دیکھو ایک چھوٹا کھجور کا درخت جس کے اوپر ایک نشان لگا ہو، وہ نشان اکھاڑو اور وہ برتن نکال کر میرے پاس لے آؤ۔“ وہ گئے یہاں تک کہ وہ لے آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے دونوں کو آگے کیا اور ان کی گردنیں اڑا دیں، اور ان کی اولاد کی طرف بھیجا، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو لایا گیا جبکہ وہ نئی دلہن تھیں، تو آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ انہیں رسول اللہ ﷺ کی قیام گاہ لے جائیں۔ بلال رضی اللہ عنہ چل پڑے اور ان کے شوہر اور بھائی کے پاس سے گزرے جو دونوں مقتول پڑے تھے۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سبحان اللہ! تم نے کیا چاہا، اے بلال، کہ ایک کنواری لڑکی کو دو مقتولوں کے پاس سے لے جاؤ اور انہیں یہ دونوں دکھاؤ؟ کیا تمہیں کوئی رحم نہیں آیا؟“ انہوں نے کہا: میں نے چاہا کہ اس کے دل میں (غصے کی) آگ بھڑکا دوں۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے ساتھ رات گزاری۔ ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنی تلوار لے کر خیمے کے پہلو میں بیٹھ گئے اور کہا: اگر مجھے کوئی خوفناک آواز سنائی دے یا کوئی چیز مجھے پریشان کرے تو میں رسول اللہ ﷺ کے قریب رہوں گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ بلال رضی اللہ عنہ کی اقامت کے لیے باہر تشریف لائے تو فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا: میں ابوایوب ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس وقت یہاں تمہارا کیا معاملہ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ایک کنواری لڑکی سے رخصتی کی ہے جس کا شوہر اور بھائی آپ نے قتل کیے ہیں، تو مجھے آپ کی فکر ہوئی، میں نے سوچا میں رسول اللہ ﷺ کے قریب رہوں گا۔ آپ ﷺ نے تین بار فرمایا: ”اللہ تم پر رحم فرمائے، اے ابوایوب۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر لوگوں نے اس بارے میں بہت باتیں کیں، کچھ کہتے: یہ آپ ﷺ کی باندی ہیں، اور کچھ کہتے: یہ آپ ﷺ کی بیوی ہیں۔ جب روانگی کا وقت آیا تو لوگوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو دیکھو، اگر آپ نے انہیں پردہ کرایا تو وہ آپ کی بیوی ہیں، اور اگر پردہ نہ کرایا تو وہ آپ کی باندی ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں باہر لا کر پردہ کرایا اور اپنا گھٹنا ان کے لیے جھکا دیا اور فرمایا: ”سوار ہو جاؤ۔“ لیکن انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تکریم کرتے ہوئے اپنا قدم آپ ﷺ کے گھٹنے پر رکھنے سے گریز کیا، اور اپنا گھٹنا آپ ﷺ کی ران پر رکھ کر سوار ہو گئیں۔ اس سے پہلے آپ ﷺ نے انہیں اختیار دیا تھا کہ یا تو وہ انہیں باندی بنا لیں، یا انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیں، تو انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ مجھے آزاد کر کے مجھ سے نکاح کر لیں، تو نبی کریم ﷺ نے ایسا ہی کیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: شُغِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى غَرَبَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى مَلَأَ اللهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی کریم ﷺ عصر کی نماز سے اس وقت تک مشغول رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے ہمیں نمازِ وسطیٰ سے مشغول رکھا، اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔“
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ السِّمْسَارُ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «طَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى بَعِيرٍ، وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اونٹ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا اور اپنی چھڑی سے رکن کو چھوا۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ السِّمْسَارُ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَهْدَى مِائَةَ بَدَنَةٍ فَنَحَرَ مِنْهَا سِتِّينَ بَدَنَةً، وَأَمَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَنَحَرَ مِنْهَا أَرْبَعِينَ، وَأَمَرَهُ فَأَخَذَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بَضْعَةً فَيُنْظَمْنَ فِي خَيْطٍ فَيُطْبَخْنَ فِي قِدْرٍ فَأَكَلَ مِنْهَا وَحَسَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سو اونٹ ہدیہ بھیجے، ان میں سے ساٹھ خود ذبح کیے، اور اپنے ایک صحابی کو حکم دیا کہ وہ باقی چالیس ذبح کریں، اور انہیں حکم دیا کہ ہر اونٹ سے ایک ایک ٹکڑا لیں اور انہیں دھاگے میں پرو کر ہانڈی میں پکائیں، تو آپ ﷺ نے اس میں سے کھایا اور شوربہ پیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُرْفَعُ الْأَيْدِي إِلَّا فِي سَبْعِ مَوَاطِنَ حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ وَحِينَ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ فَيَنْظُرُ إِلَى الْبَيْتِ، وَحِينَ يَقُومُ عَلَى الصَّفَا، وَحِينَ يَقُومُ عَلَى الْمَرْوَةِ، وَحِينَ يَقِفُ مَعَ النَّاسِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وبِجَمْعٍ، وَالْمَقامَيْنِ حِينَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہاتھ صرف سات مقامات پر اٹھائے جاتے ہیں: نماز شروع کرتے وقت، مسجد الحرام میں داخل ہو کر بیت اللہ کو دیکھتے وقت، صفا پر کھڑے ہوتے وقت، مروہ پر کھڑے ہوتے وقت، عرفہ کی شام اور مزدلفہ میں لوگوں کے ساتھ ٹھہرتے وقت، اور جمرے کو کنکری مارتے وقت دونوں مقامات پر۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مُزْدَلِفَةَ إِلَى مِنًى فِي ضَعَفَةِ أَهْلِ بَيْتِهِ وَأَخَذَ بِعَضُدِ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنَّا فَقَالَ: «لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی کریم ﷺ نے مجھے اپنے گھر کے کمزور افراد کے ساتھ مزدلفہ سے منیٰ کی طرف بھیجا اور ہم میں سے ہر ایک کا بازو تھام کر فرمایا: ”جب تک سورج طلوع نہ ہو، جمرے کو کنکری نہ مارو۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الطَّحَّانُ، ثنا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «سَافَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَشَكَا إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ الْعَطَشَ فَدَعَا بِمَاءٍ، فَشَرِبَ فَأَفْطَرَ بَعْضُ النَّاسِ، وَصَامَ بَعْضُهُمْ، فَلَمْ يَعِبْ وَاحِدٌ مِنَ الْفَرِيقَيْنِ مَا صَنَعَ أَصْحَابُهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں سفر کیا، آپ ﷺ کے صحابہ نے پیاس کی شکایت کی، تو آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور پیا، اس پر کچھ لوگوں نے روزہ توڑ دیا اور کچھ نے رکھا، تو کسی گروہ نے دوسرے کے عمل پر اعتراض نہ کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ {وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ} [البقرة: ٢١٩] قَالَ: «الْفَضْلُ عَلَى الْعِيَالِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت ”اور آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں، فرما دیں: جو ضرورت سے زائد ہو“ [سورۃ البقرہ: 219] کے بارے میں فرمایا: ”یعنی اہل و عیال کی ضرورت سے زائد۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، {وَيَوْمَ يُحْشَرُ أَعْدَاءُ اللهِ إِلَى النَّارِ فَهُمْ يُوزَعُونَ} [فصلت: ١٩] قَالَ: «يُحْبَسُ أَوَّلُهُمْ عَلَى آخِرِهِمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت ”اور جس دن اللہ کے دشمن آگ کی طرف جمع کیے جائیں گے تو انہیں روک روک کر لایا جائے گا“ [سورۃ فصلت: 19] کے بارے میں فرمایا: ”ان کے پہلوں کو آخری لوگوں کے لیے روک لیا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ فِي الْهُدْنَةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ، وَالْمُشْرِكُونَ عِنْدَ بَابِ النَّدْوَةِ مِمَّا يَلِي الْحَجَرِ، وَقَدْ تَحَدَّثُوا أَنَّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ جَهْدًا وهَزْلًا، فَلَمَّا اسْتَلَمُوا الْحَجَرَ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُمْ تَحَدَّثُوا أَنَّ بِكُمْ جَهْدًا وهَزْلًا فَارْمُلُوا الثَّلَاثَ أَشْوَاطٍ حَتَّى يَرَوْنَ أَنَّ بِكُمْ قُوَّةً» فَلَمَّا اسْتَلَمُوا الْحَجَرَ رَفَعُوا أَرْجُلَهُمْ فَرَمَلُوا فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَلَيْسَ يَزْعُمُونَ أَنَّ بِهِمْ جَهْدًا وهَزْلًا لَا يَرْضَوْنَ بِالْمَشْي حَتَّى يَسْعَوْنَ سَعْيًا
ترجمہ
…اور وہ (مشرکین) یہ کہتے پھرے تھے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کمزور اور لاغر ہو چکے ہیں، تو جب انہوں نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”وہ کہتے پھرتے ہیں کہ تم کمزور اور لاغر ہو چکے ہو، تو پہلے تین چکروں میں رمل کرو تاکہ وہ دیکھیں کہ تم میں طاقت ہے۔“ چنانچہ جب انہوں نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا تو اپنے پاؤں اٹھا کر رمل کیا، تو مشرکین آپس میں کہنے لگے: کیا یہ وہی نہیں جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ کمزور اور لاغر ہیں؟ یہ تو چلنے پر راضی ہی نہیں، دوڑ رہے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: رَحَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ بِلَيْلٍ، ثُمَّ جَاءَنَا وَاحِدًا وَاحِدًا حَتَّى يَضْرِب عَلَى فَخِذَيْهِ، فَكُنْتُ مِمَّنْ ضَرَبَ عَلَى فَخِذَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «يَا بُنَيَّ لَا تَرْمُوا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر کے کمزور افراد کو رات ہی میں مزدلفہ سے روانہ کر دیا، پھر ہمارے پاس ایک ایک کر کے آئے یہاں تک کہ ہماری رانوں پر تھپکی دی، تو میں بھی ان میں سے تھا جن کی ران پر آپ ﷺ نے تھپکی دی، پھر فرمایا: ”اے میرے بیٹے! جب تک سورج طلوع نہ ہو، جمرہ عقبہ کو کنکری نہ مارنا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أَعْتَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الطَّائِفِ مَنْ خَرَجَ إِلَيْهِ مِنْ عَبِيدِ الْمُشْرِكِينَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے طائف کے دن مشرکین کے غلاموں میں سے جو بھی آپ ﷺ کی طرف نکل آیا اسے آزاد کر دیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ، ثُمَّ أَتَى السِّقَايَةَ وَبَنُو عَمِّهِ يَنْزِعُونَ مِنْهَا، فَدَعَا بِشَرَابٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الدَّلْوُ فَشَرِبَ مِنْهُ، وَقَالَ: «لَوْلَا أَنْ يَحْسِبَ النَّاسُ فَيَتَّخِذُونَهُ مَنْسَكًا فَيُقاتِلُونَكُمْ عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ» ثُمَّ أَتَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ فَطَافَ بِهِمَا عَلَى رَاحِلَتِهِ
ترجمہ
…رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر بیت اللہ کے پاس تشریف لائے اور اپنی چھڑی سے رکن کو چھوا، پھر سقایہ پر آئے جہاں آپ ﷺ کے چچازاد بھائی پانی نکال رہے تھے، تو آپ ﷺ نے پانی طلب کیا، ڈول آپ ﷺ کی طرف اٹھایا گیا تو آپ ﷺ نے اس میں سے پیا اور فرمایا: ”اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ یہ سمجھ کر اسے ہمیشہ کے لیے ایک عبادت بنا لیں گے اور اس پر تم سے جھگڑا کریں گے، تو میں تمہارے ساتھ پانی نکالتا۔“ پھر آپ ﷺ صفا اور مروہ کی طرف تشریف لائے اور اپنی سواری پر ہی ان کے درمیان سعی کی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَّهَ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ الْأَنْصَارِيَّ وَجَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَزَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ فَتَخَلَّفَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا خَلَّفَكَ؟» قَالَ: الْجُمُعَةُ يَا رَسُولَ اللهِ أُجَمِّعُ، ثُمَّ أَرُوحُ قَالَ: «لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا» فَرَاحَ مُنْطَلِقًا
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن رواحہ انصاری، جعفر بن ابی طالب، اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم کو ایک مہم پر روانہ کیا، تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پیچھے رہ گئے، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”تمہیں کس چیز نے روکا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جمعہ، میں جمعہ ادا کر کے پھر روانہ ہوتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں صبح یا شام نکلنا دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے۔“ چنانچہ وہ فوراً روانہ ہو گئے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِامْرَأَةٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ مَقْتُولَةً فَقَالَ: «مَنْ قَتَلَ هَذِهِ؟» فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «وَلِمَ؟» قَالَ: نازَعَتْني سَيْفِي، فَسَكَتَ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ خندق کے دن ایک قتل شدہ عورت کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اسے کس نے قتل کیا؟“ ایک آدمی نے کہا: میں نے، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیوں؟“ اس نے کہا: وہ میری تلوار پر مجھ سے الجھ پڑی تھی، تو آپ ﷺ خاموش ہو گئے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ عِدَّةُ أَهْلِ بَدْرٍ ثَلَاثَمِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ نَيِّفًا وَسِتِّينَ رَجُلًا، وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ مِائَتَيْنِ وَسِتَّةً وَثَلَاثِينَ رَجُلًا، وَكَانَ صَاحِبُ رَايَةِ الْمُهَاجِرِينَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمْ، وَصَاحِبُ رَايَةِ الْأَنْصَارِ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ رَضِي اللهُ عَنْهُمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اہلِ بدر کی تعداد تین سو تیرہ تھی، مہاجرین ساٹھ سے کچھ زائد تھے، اور انصار دو سو چھتیس تھے، مہاجرین کے علَم بردار سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے، اور انصار کے علَم بردار سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ عِدَّةُ أَهْلِ بَدْرٍ ثَلَاثَمِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ نَيِّفًا وَسِتِّينَ رَجُلًا، وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ مِائَتَيْنِ وَسِتَّةً وَثَلَاثِينَ رَجُلًا، وَكَانَ صَاحِبُ رَايَةِ الْمُهَاجِرِينَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِي اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ، وَصَاحِبُ رَايَةِ الْأَنْصَارِ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ رَضِي اللهُ تَعَالَى عَنْهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اہلِ بدر کی تعداد تین سو تیرہ تھی، مہاجرین ساٹھ سے کچھ زائد تھے، اور انصار دو سو چھتیس تھے، مہاجرین کے علَم بردار سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے، اور انصار کے علَم بردار سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَمَّارُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، ثنا أَبِي، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ سِيمَاءُ الْمَلَائِكَةِ يَوْمَ بَدْرٍ عمائمَ بِيضٍ قَدْ أَرْسَلُوها إِلَى ظُهُورِهِمْ، وَيَوْمَ حُنَيْنٍ عمائمَ حُمْرٍ، وَلَمْ يُقَاتِلِ الْمَلَائِكَةُ فِي يَوْمٍ أَلَا يَوْمَ بَدْرٍ إِنَّمَا كَانُوا يَكُونُونَ عِدَدًا ومَدَدًا لَا يَضْرِبُونَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”بدر کے دن فرشتوں کی علامت سفید عمامے تھے جو انہوں نے اپنی پیٹھوں پر لٹکا رکھے تھے، اور حنین کے دن سرخ عمامے تھے، اور فرشتوں نے بدر کے سوا کسی دن جنگ نہیں کی، وہ صرف تعداد اور کمک کے طور پر ہوتے، خود ضرب نہیں لگاتے تھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَمَّارُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، ثنا أَبِي، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَغُشِيَ عَلَيْهِ وَلِذَلِكَ كَرِهَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں پچھنے لگوائے تو آپ ﷺ پر غشی طاری ہو گئی، اسی وجہ سے یہ ناپسندیدہ سمجھا گیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَامِرِيُّ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے روزے اور احرام دونوں کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «رَمَى الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ ذَبَحَ، ثُمَّ حَلَقَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن جمرے کو کنکری ماری، پھر قربانی کی، پھر سر منڈوایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَمِّي أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ لِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”بدر کا دن ستائیس رمضان کو تھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَمِّي أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ وَطِئَ حُبْلَى»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو حاملہ (باندی) سے مباشرت کرے وہ ہم میں سے نہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبِي، ثنا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا، ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، پھر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا أَبِي، ثنا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ عَبْدَيْنِ خَرَجَا يَوْمَ الطَّائِفِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحاصِرُهُمْ، فَأَعْتَقَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ طائف کے دن دو غلام نکل آئے جبکہ نبی کریم ﷺ ان کا محاصرہ کیے ہوئے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں آزاد کر دیا۔
…