حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّاسِبِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّهُ زَنَى فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَسَأَلَ قَوْمَهُ: «أَمَجْنُونٌ هُوَ؟» قَالُوا: لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، قَالَ: «فَعَلْتَ بِهَا» قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ، فَانْطُلِقَ بِهِ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میں نے زنا کیا ہے، تو آپ ﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا۔ پھر آپ ﷺ نے اس کی قوم سے پوچھا: ”کیا یہ پاگل ہے؟“ انہوں نے کہا: اس میں کوئی خرابی نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے اس (عورت) کے ساتھ ایسا کیا؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا، تو اسے لے جا کر سنگسار کر دیا گیا، اور نبی کریم ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھائی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحَيَّاتُ مَسْخُ الْجِنِّ كَمَا مُسِخَتِ الْقِرَدَةُ، وَالْخَنَازِيرُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”سانپ جنوں کی مسخ شدہ صورت ہیں، جیسے بندر اور خنزیر بنی اسرائیل کی مسخ شدہ صورتیں تھیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَخْلَدٍ اللَّيْثِيِّ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِصَفِيَّةَ: «اشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي مِنْ حَيْثُ حَبَسْتَنِي»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”شرط لگا لو کہ میرا احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو نے مجھے روک دیا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ خُيِّلَ لَهُ فِي صَلَاتِهِ أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ فَلَا يَنْصَرِفَنَّ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے اپنی نماز میں یہ خیال آئے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے، وہ اس وقت تک نماز نہ توڑے جب تک آواز نہ سنے یا بو نہ محسوس کرے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا بِشْرٌ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً قَالَ: «لِتَرْكَبْ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ غَنِيٌّ عَنْ مَشْيِهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بہن نے نذر مانی ہے کہ وہ پیدل چل کر حج کرے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ سوار ہو جائے، اللہ عزوجل کو اس کے پیدل چلنے کی کوئی حاجت نہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُصَلِّي فَجَاءَ أَبُو جَهْلٍ فَنَهَاهُ أَنْ يُصَلِّيَ» فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى {وَلْيَدْعُ نَادِيَهُ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ} " قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَلَوْ فَعَلَ لَأَخَذَتْهُ الزَّبَانِيَةُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ ابوجہل آیا اور اسے نماز پڑھنے سے روکا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”وہ اپنی مجلس کو بلا لے، ہم بھی عذاب کے فرشتوں کو بلا لیں گے۔“ [سورۃ العلق: 17-18] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر وہ ایسا کرتا تو عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، ح، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، أَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقراطيسيُّ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، كُلُّهُمْ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ قَالَ: وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ قَالَ: «لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللهُ» فَقَالَ: قُلْتَ: طَهُورٌ لَا بَلْ هِيَ حُمَّى تَفُورُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ تَزِيرُهُ الْقُبُورُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَنَعَمْ إِذَنْ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُخْتَارِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک بدوی کی عیادت کے لیے اس کے پاس تشریف لے گئے - راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ جب کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتے تو فرماتے: ”کوئی حرج نہیں، ان شاء اللہ یہ (بیماری) گناہوں سے پاک کرنے والی ہے۔“ اس شخص نے کہا: آپ فرماتے ہیں پاک کرنے والی؟ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا بخار ہے جو ایک بوڑھے آدمی پر جوش مار رہا ہے، جو اسے قبروں کی زیارت کرا دے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر ایسا ہی ہو گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ الطَّرَسُوسِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الْفَرَّاءُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ بَدْرٍ: «هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَخَذَ بِرَأْسِ فَرَسٍ مَعَهُ عَلَيْهِ أَدَاةُ الْحَرْبِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بدر کے دن فرمایا: ”یہ جبریل علیہ السلام ہیں، اپنے ساتھ ایک گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہیں، جس پر جنگ کا ساز و سامان ہے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مِنْ مَكَّةَ اسْتَقْبَلَهُ أُغَيْلِمَةٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ «فَحَمَلَ وَاحِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ وَآخَرَ مِنْ خَلْفِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے تشریف لائے تو بنی عبدالمطلب کے چھوٹے بچے آپ ﷺ کے استقبال کے لیے آئے، تو آپ ﷺ نے ایک کو اپنے آگے اور دوسرے کو اپنے پیچھے سوار کر لیا۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَلَوْ عَلِمَهُ خَبِيثًا لَمْ يُعْطِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے اور پچھنے لگانے والے کو اس کی اجرت دی، اور اگر آپ ﷺ اسے ناپاک جانتے تو یہ اجرت نہ دیتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقراطيسيُّ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَافَ عَلَى بَعِيرٍ فَكُلَّمَا أَتَى الرُّكْنَ أَشَارَ إِلَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، جب بھی رکن (حجر اسود) کے پاس پہنچتے تو اس کی طرف اشارہ کرتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقراطيسيُّ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «حُرِّمَ سَبْعٌ مِنَ النَّسَبِ، وَسَبْعٌ مِنَ الصِّهْرِ» وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي سُورَةِ النِّسَاءِ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”نسب کی وجہ سے سات عورتیں اور سسرالی رشتے کی وجہ سے سات عورتیں حرام کی گئی ہیں۔“ اور انہوں نے سورۃ النساء کی وہ آیت پڑھی جس میں ان کا ذکر ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقراطيسيُّ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللهَ حَرَّمَ مَكَّةَ فَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي، وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِيَ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُعَرِّفٍ» قَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا، قَالَ: «إِلَّا الْإِذْخِرَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے مکہ کو حرمت والا بنایا، تو یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا، اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا، اور یہ صرف میرے لیے دن کی ایک گھڑی کے لیے حلال کیا گیا۔ اس کی گھاس نہ اکھاڑی جائے، اس کا درخت نہ کاٹا جائے، اس کا شکار نہ بھگایا جائے، اور اس کی گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے سوائے اعلان کرنے والے کے۔“ عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سوائے اذخر کے، ہمارے سناروں کے کام آتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سوائے اذخر کے۔“
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا حَامِدُ بْنُ آدَمَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْإِسْلَامُ عَشَرَةُ أَسْهُمٍ، وَقَدْ خَابَ مَنْ لَا سَهْمَ لَهُ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَهِيَ الْمِلَّةُ، وَالثَّانِي الصَّلَاةُ، وَهِيَ الْفِطْرَةُ، وَالثَّالِثُ الزَّكَاةُ، وَهِيَ الطُّهُورُ، وَالرَّابِعُ الصَّوْمُ، وَهُوَ الْجُنَّةُ، وَالْخَامِسُ الْحَجُّ، وَهُوَ الشَّرِيعَةُ، وَالسادسُ الْجِهَادُ، وَهُوَ الْغَزْوُ، وَالسابعُ الْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَهُوَ الْوَفَاءُ، وَالثامِنُ النَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ وَهِيَ الْحُجَّةُ، وَالتاسعُ الْجَمَاعَةُ، وَهِيَ الْأُلْفَةُ، وَالْعَاشِرُ الطَّاعَةُ، وَهِيَ الْعِصْمَةُ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام دس حصے ہیں، اور جس کا کوئی حصہ نہیں وہ نامراد ہوا: پہلا شہادت ہے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور وہی ملت ہے؛ دوسرا نماز ہے، اور وہی فطرت ہے؛ تیسرا زکاۃ ہے، اور وہی پاکیزگی ہے؛ چوتھا روزہ ہے، اور وہی ڈھال ہے؛ پانچواں حج ہے، اور وہی شریعت ہے؛ چھٹا جہاد ہے، اور وہی میدانِ جنگ کی کوشش ہے؛ ساتواں امر بالمعروف ہے، اور وہی وفا ہے؛ آٹھواں نہی عن المنکر ہے، اور وہی حجت ہے؛ نواں جماعت ہے، اور وہی باہمی الفت ہے؛ اور دسواں اطاعت ہے، اور وہی حفاظت ہے۔“
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَمْرٍو السلفيُّ الْحِمْصِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ الْحِمْصِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے لیے بری مثال نہیں، جو اپنا ہبہ واپس لیتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اپنی قے کی طرف واپس آتا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ الْآنُكُ، وَمَنْ تَحَلَّمَ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَةٍ، وَيُعَذَّبُ، وَلَيْسَ بِعَاقِدٍ، وَمَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی قوم کی بات سنے جبکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں، اس کے دونوں کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا، اور جو جھوٹا خواب گھڑے، اسے مکلف کیا جائے گا کہ ایک جو کے دانے میں گرہ لگائے، اور اسے عذاب دیا جائے گا حالانکہ وہ ایسا کر ہی نہیں سکے گا، اور جو کوئی تصویر بنائے، اسے اس وقت تک عذاب دیا جائے گا جب تک وہ اس میں روح نہ پھونک دے، حالانکہ وہ روح پھونک ہی نہیں سکے گا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: ضَمَّنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «اللهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے ساتھ لپٹا لیا اور فرمایا: ”اے اللہ! اسے حکمت سکھا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: «يَا عَبَّاسُ أَلَا تَعْجَبُ مِنْ شِدَّةِ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ، وَمَنْ شِدَّةِ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا» فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ رَاجَعْتِيهِ فَإِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتَأْمُرُنِي؟ فَقَالَ: «إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ» قَالَتْ: فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر ایک غلام تھا جسے مغیث کہا جاتا تھا۔ گویا میں ابھی اسے دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس کے پیچھے پیچھے پھرتا روتا ہے اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے ہوتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”عباس! کیا تمہیں مغیث کی بریرہ سے شدید محبت، اور بریرہ کی مغیث سے شدید نفرت پر تعجب نہیں ہوتا؟“ پھر نبی کریم ﷺ نے بریرہ سے فرمایا: ”اگر تم اس سے رجوع کر لو تو بہتر ہے، وہ تمہاری اولاد کا باپ ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو صرف سفارش کر رہا ہوں۔“ انہوں نے عرض کیا: پھر مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى السِّقَايَةِ، فَاسْتَسْقَى فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِلْفَضْلِ: اذْهَبْ إِلَى أُمِّكِ، فَأْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِهَا فَقَالَ: «اسْقِنِي» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ أَيْدِيَهُمْ فِيهِ، فَقَالَ: «اسْقِنِي» فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ وَهُمْ يَسْقُونَ وَيَعمَلُونَ فِيهَا فَقَالَ: «اعْمَلُوا فَإِنَّكُمْ عَلَى عَمِلٍ صَالِحٍ» ثُمَّ قَالَ: «لَوْلَا أَنَّ تُغْلَبُوا لَنَزَلْتُ حَتَّى أَضَعَ عَلَى هَذِهِ» ، يَعْنِي: عَاتِقَهُ، وَأَشَارَ إِلَى عَاتِقِهِ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سقایہ (حاجیوں کو پانی پلانے کی جگہ) پر تشریف لائے اور پانی طلب فرمایا۔ عباس رضی اللہ عنہ نے فضل رضی اللہ عنہ سے کہا: اپنی ماں کے پاس جاؤ اور ان کے ہاں سے رسول اللہ ﷺ کے لیے مشروب لے آؤ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے یہیں سے پلاؤ۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! لوگ اس میں اپنے ہاتھ ڈالتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے پلاؤ۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے اسی میں سے پیا۔ پھر آپ ﷺ زمزم کے پاس تشریف لائے جہاں لوگ پانی نکال رہے اور کام کر رہے تھے، تو فرمایا: ”کام کرتے رہو، تم نیک عمل پر ہو۔“ پھر فرمایا: ”اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم پر ہجوم ہو جائے گا تو میں خود اتر کر اپنے کندھے پر یہ رکھ لیتا،“ یعنی کندھے کی طرف اشارہ کیا۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «مَا جَهَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَهَرْنَا، وَمَا سَكَتَ سَكَتْنَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”نبی کریم ﷺ جو بلند آواز سے کہتے ہم بھی بلند آواز سے کہتے، اور جس میں آپ ﷺ خاموش رہتے ہم بھی خاموش رہتے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ إِلَى حُنَيْنٍ، وَالنَّاسُ مُخْتَلِفُونَ فَصَائِمٌ وَمُفْطِرٌ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى رَاحِلَتِهِ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ أَوْ مَاءٍ فَشَرِبَهُ قَالَ: فَوَضَعَهُ عَلَى رَاحِلَتِهِ، ثُمَّ بَصُرَ النَّاسُ فَقَالَ: " الْمُفْطِرُونَ لِلصُّوَّامِ: أَفْطِرُوا "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ رمضان میں حنین کی طرف نکلے، لوگوں میں اختلاف تھا، کوئی روزے سے تھا کوئی روزہ توڑے ہوئے تھا۔ جب آپ ﷺ اپنی سواری پر سیدھے بیٹھے تو دودھ یا پانی کا ایک برتن منگوایا اور اسے پی لیا - راوی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے اسے اپنی سواری پر رکھ لیا - پھر لوگوں نے دیکھا تو فرمایا: ”روزہ توڑنے والے روزہ داروں سے کہیں: روزہ توڑ دو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا الْخَلِيلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَى فَاطِمَةَ قَالُوا: هَاتِ شَيْئًا قَالَ: مَا أَجِدُ شَيْئًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ؟»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس (رخصتی کے لیے) جانا چاہتے تھے تو لوگوں نے کہا: کچھ لے آؤ۔ انہوں نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری حطمیہ زرہ کہاں ہے؟“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الْعَيْشِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَّا قَالَ: «لَا حَرَجَ، لَا حَرَجَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی کریم ﷺ سے قربانی کے دن جو بھی سوال کیا گیا، آپ ﷺ نے یہی فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَنْبَسَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رضاعت سے وہی حرام ہوتا ہے جو نسب سے حرام ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ ثَابِتٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: وَاللهِ مَا أَعْيَبُ عَلَيْهِ مِنْ خُلُقٍ، وَلَا دِينٍ، وَلَكِنْ أَكْرَهُ الْكُفْرَ بَعْدَ الْإِسْلَامِ، قَالَ: «فَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «يَا ثَابِتُ اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ، وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ثابت رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کی قسم! میں ان کے اخلاق یا دین میں کوئی عیب نہیں نکالتی، لیکن اسلام کے بعد کفر (ناشکری) کو ناپسند کرتی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم انہیں ان کا باغ واپس کرو گی؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ثابت! باغ قبول کر لو، اور اسے ایک طلاق دے دو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ يُكْرَهُ إِذَا بَاتَ الصَّيْدُ عَنْ صَاحِبِهِ لَيْلَةً أَنْ يَأْكُلَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”شکار اگر اپنے شکاری سے رات بھر الگ رہتا تو اسے کھانا ناپسندیدہ سمجھا جاتا تھا۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ» .
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے احرام کی حالت میں نکاح کیا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے احرام کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ تَمَّامٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَفْضَلُ عَلِيَّ فِي نِعْمَةِ أَهْلٍ، وَلَا مَالٍ مِنْ أَبِي بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُهُ، وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ أَوِ الْإِيمَانِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں میں سے کسی نے بھی اپنے اہل اور مال کی نعمت کے ساتھ مجھ پر ابوبکر سے بڑھ کر احسان نہیں کیا، اور اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو انہیں بناتا، لیکن اسلام - یا ایمان - کی اخوت بہتر ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ بْنِ مِهْرَانَ النَّاقِدُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّازِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ تَمَّامٍ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كُنْتَ تَزَوَّجُهَا فَرُدَّ عَلَيْنَا ابْنَتَنَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کو پیغامِ نکاح بھیجا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم اس سے نکاح کرنا چاہتے ہو تو ہماری بیٹی ہمیں واپس کر دو۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ فِي قُبَّتِهِ: «اللهُمَّ أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تَعْبُدْ بَعْدَ الْيَوْمِ» وَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ فَقَالَ: حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَدْ أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ، وَهُوَ فِي الدِّرْعِ، فَخَرَجَ يَقُولُ: «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ، وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ، بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ، وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن اپنے خیمے میں فرمایا: ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرا عہد اور تیرا وعدہ مانگتا ہوں، اے اللہ! اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کا ہاتھ تھام لیا اور عرض کیا: بس کیجیے یا رسول اللہ! آپ نے اپنے رب سے بہت اصرار کر لیا۔ اور آپ ﷺ زرہ پہنے ہوئے تھے، پھر آپ ﷺ یہ فرماتے ہوئے باہر نکلے: ”عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گی، بلکہ قیامت ہی ان کے وعدے کی گھڑی ہے، اور قیامت زیادہ سخت اور زیادہ کڑوی ہے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى عَنِ الْجَلَّالَةِ وَالْمُجَثَّمَةِ، وَأَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جلالہ (نجاست کھانے والے جانور) اور مجثمہ (باندھ کر نشانہ بنائے گئے جانور) سے، اور مشکیزے کے منہ سے پینے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «نَهَى النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ، وَعَنْ أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی کریم ﷺ نے مشکیزے کے منہ سے پینے، اور برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَلَّافُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْخَطَّابِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِ كُلِّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ، فَاقْتُلُوا الْمعينةَ مِنَ الْكِلَابِ، فَإِنَّهَا الْمَلْعُونَةُ مِنَ الْجِنِّ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر یہ نہ ہوتا کہ کتے بھی امتوں میں سے ایک امت ہیں، تو میں ہر خالص کالے کتے کو قتل کرنے کا حکم دیتا، سو تم کتوں میں سے اس (نشان زدہ) کتے کو قتل کر دو، کیونکہ وہ جنوں میں سے ملعون ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَكْرِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا لَمْ يَلْقَ الْعَدُوَّ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ أَخَّرَهُ حَتَّى يَهِبَّ الرِّيحُ، وَيَكُونَ عِنْدَ مَوَاقِيتِ الصَّلَوَاتِ، وَكَانَ يَقُولُ: «اللهُمَّ بِكَ أُصُولُ، وَبِكَ أَجُولُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب دن کے آغاز میں دشمن سے مڈبھیڑ نہ ہوتی تو اسے اس وقت تک مؤخر کر دیتے جب تک ہوا چلنے لگتی، اور یہ نمازوں کے اوقات کے قریب ہوتا، اور آپ ﷺ فرماتے: ”اے اللہ! تیری ہی مدد سے میں حملہ کرتا ہوں، اور تیری ہی مدد سے میں گھومتا ہوں، اور کوئی طاقت و قوت نہیں مگر اللہ کی توفیق سے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْفرْغَانِيُّ طُغْكُ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي إِذَا أَصَبْتُ مِنَ اللَّحْمِ انْتَشَرَتُ لِلنِّسَاءِ فَأَخَذَتْنِي شَهْوَتِي فَحَرَّمْتُ عَلِيَّ اللَّحْمَ» ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ وَكُلُوا مِمَّا رِزْقَكُمِ اللهُ حَلَالًا طَيِّبًا} [المائدة: ٨٨]
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! جب میں گوشت کھاتا ہوں تو عورتوں کے لیے میری خواہش بھڑک اٹھتی ہے اور شہوت مجھ پر غالب آ جاتی ہے، اس لیے میں نے اپنے اوپر گوشت حرام کر لیا ہے۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اے ایمان والو! اللہ نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کرو، اور حد سے تجاوز نہ کرو، بے شک اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، اور اللہ نے تمہیں جو حلال اور پاکیزہ رزق دیا ہے اس میں سے کھاؤ۔“ [سورۃ المائدہ: 88]
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَخْرَمَ، ثنا رَوْحٌ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «حَرَّمَ النَّقِيرَ وَالْمُزَفَّتَ وَالدُّبَّاءَ وَالْجَرَّ وَالْحَنْتَمَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نقیر، مزفت، دباء، جرّ اور حنتم (نشہ آور مشروب بنانے میں استعمال ہونے والے برتنوں کی اقسام) سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ الْعَبَّاسُ يَسِيرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ قَدْ وَسَمَهُ فِي وَجْهِهِ بِالنَّارِ فَقَالَ: «مَا هَذَا الْمِيسَمُ يَا عَبَّاسُ؟» قَالَ: مِيسَمٌ كُنَّا نَسِمُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ: «لَا تَسِمُوا بِالْحَريقِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک ایسے اونٹ پر جا رہے تھے جسے انہوں نے اس کے چہرے پر آگ سے داغ لگا رکھا تھا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”عباس! یہ داغ کیسا ہے؟“ انہوں نے کہا: یہ وہ داغ ہے جو ہم جاہلیت میں لگایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جلانے کا داغ مت لگاؤ۔“
…