حدیث نمبر: 11933
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ الْعَبَّاسُ يَسِيرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ قَدْ وَسَمَهُ فِي وَجْهِهِ بِالنَّارِ فَقَالَ: «مَا هَذَا الْمِيسَمُ يَا عَبَّاسُ؟» قَالَ: مِيسَمٌ كُنَّا نَسِمُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ: «لَا تَسِمُوا بِالْحَريقِ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک ایسے اونٹ پر جا رہے تھے جسے انہوں نے اس کے چہرے پر آگ سے داغ لگا رکھا تھا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”عباس! یہ داغ کیسا ہے؟“ انہوں نے کہا: یہ وہ داغ ہے جو ہم جاہلیت میں لگایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جلانے کا داغ مت لگاؤ۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11933
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 350، حدیث 11983