المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 11919
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ ثَابِتٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: وَاللهِ مَا أَعْيَبُ عَلَيْهِ مِنْ خُلُقٍ، وَلَا دِينٍ، وَلَكِنْ أَكْرَهُ الْكُفْرَ بَعْدَ الْإِسْلَامِ، قَالَ: «فَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «يَا ثَابِتُ اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ، وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ثابت رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کی قسم! میں ان کے اخلاق یا دین میں کوئی عیب نہیں نکالتی، لیکن اسلام کے بعد کفر (ناشکری) کو ناپسند کرتی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم انہیں ان کا باغ واپس کرو گی؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ثابت! باغ قبول کر لو، اور اسے ایک طلاق دے دو۔“