المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 11895
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّاسِبِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّهُ زَنَى فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَسَأَلَ قَوْمَهُ: «أَمَجْنُونٌ هُوَ؟» قَالُوا: لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، قَالَ: «فَعَلْتَ بِهَا» قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ، فَانْطُلِقَ بِهِ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ "ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میں نے زنا کیا ہے، تو آپ ﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا۔ پھر آپ ﷺ نے اس کی قوم سے پوچھا: ”کیا یہ پاگل ہے؟“ انہوں نے کہا: اس میں کوئی خرابی نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے اس (عورت) کے ساتھ ایسا کیا؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا، تو اسے لے جا کر سنگسار کر دیا گیا، اور نبی کریم ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھائی۔