المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: «يَا عَبَّاسُ أَلَا تَعْجَبُ مِنْ شِدَّةِ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ، وَمَنْ شِدَّةِ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا» فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ رَاجَعْتِيهِ فَإِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتَأْمُرُنِي؟ فَقَالَ: «إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ» قَالَتْ: فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر ایک غلام تھا جسے مغیث کہا جاتا تھا۔ گویا میں ابھی اسے دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس کے پیچھے پیچھے پھرتا روتا ہے اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے ہوتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”عباس! کیا تمہیں مغیث کی بریرہ سے شدید محبت، اور بریرہ کی مغیث سے شدید نفرت پر تعجب نہیں ہوتا؟“ پھر نبی کریم ﷺ نے بریرہ سے فرمایا: ”اگر تم اس سے رجوع کر لو تو بہتر ہے، وہ تمہاری اولاد کا باپ ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو صرف سفارش کر رہا ہوں۔“ انہوں نے عرض کیا: پھر مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں۔