المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 11926
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ فِي قُبَّتِهِ: «اللهُمَّ أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تَعْبُدْ بَعْدَ الْيَوْمِ» وَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ فَقَالَ: حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَدْ أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ، وَهُوَ فِي الدِّرْعِ، فَخَرَجَ يَقُولُ: «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ، وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ، بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ، وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن اپنے خیمے میں فرمایا: ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرا عہد اور تیرا وعدہ مانگتا ہوں، اے اللہ! اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کا ہاتھ تھام لیا اور عرض کیا: بس کیجیے یا رسول اللہ! آپ نے اپنے رب سے بہت اصرار کر لیا۔ اور آپ ﷺ زرہ پہنے ہوئے تھے، پھر آپ ﷺ یہ فرماتے ہوئے باہر نکلے: ”عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گی، بلکہ قیامت ہی ان کے وعدے کی گھڑی ہے، اور قیامت زیادہ سخت اور زیادہ کڑوی ہے۔“