المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى السِّقَايَةِ، فَاسْتَسْقَى فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِلْفَضْلِ: اذْهَبْ إِلَى أُمِّكِ، فَأْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِهَا فَقَالَ: «اسْقِنِي» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ أَيْدِيَهُمْ فِيهِ، فَقَالَ: «اسْقِنِي» فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ وَهُمْ يَسْقُونَ وَيَعمَلُونَ فِيهَا فَقَالَ: «اعْمَلُوا فَإِنَّكُمْ عَلَى عَمِلٍ صَالِحٍ» ثُمَّ قَالَ: «لَوْلَا أَنَّ تُغْلَبُوا لَنَزَلْتُ حَتَّى أَضَعَ عَلَى هَذِهِ» ، يَعْنِي: عَاتِقَهُ، وَأَشَارَ إِلَى عَاتِقِهِسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سقایہ (حاجیوں کو پانی پلانے کی جگہ) پر تشریف لائے اور پانی طلب فرمایا۔ عباس رضی اللہ عنہ نے فضل رضی اللہ عنہ سے کہا: اپنی ماں کے پاس جاؤ اور ان کے ہاں سے رسول اللہ ﷺ کے لیے مشروب لے آؤ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے یہیں سے پلاؤ۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! لوگ اس میں اپنے ہاتھ ڈالتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے پلاؤ۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے اسی میں سے پیا۔ پھر آپ ﷺ زمزم کے پاس تشریف لائے جہاں لوگ پانی نکال رہے اور کام کر رہے تھے، تو فرمایا: ”کام کرتے رہو، تم نیک عمل پر ہو۔“ پھر فرمایا: ”اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم پر ہجوم ہو جائے گا تو میں خود اتر کر اپنے کندھے پر یہ رکھ لیتا،“ یعنی کندھے کی طرف اشارہ کیا۔