کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ فَضَالَةَ الصَّيْرَفِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَبِيبِ بْنِ نُدْبَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنَا عَنْ عُمْرَتِنَا هَذِهِ , لِعَامِنَا هَذَا؟ أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ: «لَا، بَلْ لِلْأَبَدِ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنَا عَنْ دِينِنَا كَأَنَّمَا نَنْظُرُ إِلَيْهِ؟ بِمَا جَرَتْ بِهِ الْأَقْلَامُ، وَثَبَتَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ؟ أَمْ لِأَمْرٍ نَسْتَأْنِفُهُ؟ قَالَ: «بَلْ مَا جَرَتْ بِهِ الْأَقْلَامُ، وَثَبَتَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ» قَالَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «اعْمَلُوا , فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں بتائیے کہ ہمارا یہ عمرہ صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لیے، عمرہ قیامت تک حج میں داخل ہو گیا ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ہمارے دین کے بارے میں ایسے بتائیے جیسے ہم اسے دیکھ رہے ہوں؟ کیا سب کچھ قلموں سے لکھا جا چکا اور تقدیریں طے ہو چکی ہیں، یا کوئی نیا کام ہے جو ہم شروع کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ جو کچھ قلموں سے لکھا جا چکا اور تقدیریں طے ہو چکی ہیں (وہی ہے)۔“ میں نے عرض کیا: پھر عمل کس چیز کے لیے ہے، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو، ہر شخص کے لیے وہی کام آسان کر دیا گیا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ , حَتَّى النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ» , قُلْنَا: أَيُّ الْحِلِّ؟ قَالَ: «الْحِلُّ كُلُّهُ» , فَأَتَيْنَا النِّسَاءَ، وَلَبِسْنَا الثِّيَابَ، وَمَسَسْنَا الطِّيبَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ، وَكَفَانَا الطَّوَافُ الْأَوَّلُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ , كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ، فَجَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا كَأَنَّنَا خُلِقْنَا الْآنَ؟ أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ , لِعَامِنَا هَذَا؟ أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ: «بَلْ لِلْأَبَدِ»
ترجمہ
(سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احرام باندھے نکلے، یہاں تک کہ عورتیں اور بچے بھی احرام میں تھے، جب ہم مکہ پہنچے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی، تو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے۔“ ہم نے عرض کیا: کس طرح حلال ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مکمل طور پر حلال ہو جاؤ۔“ چنانچہ ہم اپنی عورتوں کے پاس گئے، کپڑے پہنے، اور خوشبو لگائی، پھر جب یومِ ترویہ آیا تو ہم نے حج کا احرام باندھا، اور صفا و مروہ کے درمیان پہلا طواف (یعنی سعی) ہمیں کافی ہو گیا، اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹوں اور گائیوں میں شریک ہو جائیں، ہم میں سے ہر سات آدمی ایک بڑے جانور میں، تو سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ہمارا دین ایسے بتائیے جیسے ہم ابھی پیدا کیے گئے ہوں، ہمیں بتائیے کہ ہمارا یہ عمرہ صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ ہمیشہ کے لیے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلَلْنَا عَنِ الْوِلْدَانِ، وَطُفْنَا عَنْهُمْ، وَسَعَيْنَا عَنْهُمْ، ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَحْلَلْنَا الْحِلَّ كُلَّهُ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ عَشِيَّةُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ مِنَ الْبَطْحَاءِ» ، وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، ہم نے ذوالحلیفہ سے حج کا احرام باندھا، اور بچوں کی طرف سے بھی احرام باندھا، ان کی طرف سے طواف کیا اور سعی کی، پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا تو ہم مکمل طور پر حلال ہو گئے، یہاں تک کہ جب یومِ ترویہ کی شام آئی تو ہم نے بطحاء سے حج کا احرام باندھا۔ (راوی نے) سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ الْمُدْلِجِيَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ , أَخْبِرْنَا عَنْ دِينِنَا هَذَا , كَأَنَّنَا خُلِقْنَا لَهُ السَّاعَةَ؟ فِي أَيِّ شَيْءٍ نَعْمَلُ؟ أَفِي شَيْءٍ تَثْبُتُ فِيهِ الْمَقَادِيرُ وَجَرَتْ فِيهِ الْأَقْلَامُ , أَمْ فِي أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ؟ قَالَ: «بَلْ فِيمَا تَثْبُتُ فِيهِ الْأَقْلَامُ» قَالَ سُرَاقَةُ: فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اعْمَلُوا , فَكُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ» وَقَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى} [الليل: ٦]- بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ - {فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى} [الليل: ٧]- قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ - {فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى "} [الليل: ١٠]
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ہمارے اس دین کے بارے میں بتائیے، گویا ہم ابھی اسی گھڑی پیدا کیے گئے ہوں؟ ہم کس بنیاد پر عمل کریں؟ کیا ایسی چیز میں جس میں تقدیریں طے ہو چکیں اور قلم چل چکے، یا کسی نئے کام میں جو شروع کیا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ اس میں جس میں قلم ثابت ہو چکے۔“ سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: پھر عمل کس لیے ہے، یا رسول اللہ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو، ہر عمل کرنے والے کے لیے وہی کام آسان کر دیا گیا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”پس جس نے دیا اور تقویٰ اختیار کیا، اور بھلائی (یعنی لا الٰہ الا اللہ) کی تصدیق کی، تو ہم اسے آسانی کے لیے سہولت دیں گے۔ اور جس نے بخل کیا اور بے پروائی کی، اور بھلائی (یعنی لا الٰہ الا اللہ) کو جھٹلایا، تو ہم اسے سختی کے لیے سہولت دیں گے“ [سورۃ اللیل: 6-10]۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَعُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَدِمَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، حَدِّثْنَا عَنْ عُمْرَتِنَا هَذِهِ، لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ: «بَلْ , لِلْأَبَدِ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنَا عَنْ أَعْمَالِنَا , كَأَنَّمَا خُلِقْنَا السَّاعَةَ , شَيْءٌ ثَبَتَ بِهِ الْكِتَابُ , وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ؟ أَوْ شَيْءٌ نَسْتَأْنِفُهُ؟ قَالَ: «لَا , بَلْ شَيْءٌ ثَبَتَ بِهِ الْكِتَابُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ قَالَ: «اعْمَلُوا , فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں بتائیے کہ ہمارا یہ عمرہ صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ ہمیشہ کے لیے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ہمارے اعمال کے بارے میں بتائیے، گویا ہم ابھی پیدا کیے گئے ہوں، کیا یہ ایسی چیز ہے جو کتاب میں لکھی جا چکی اور تقدیریں طے ہو چکیں، یا کوئی نیا کام ہے جو ہم شروع کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ایسی چیز ہے جو کتاب میں لکھی جا چکی اور تقدیریں طے ہو چکیں۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر عمل کس لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو، ہر شخص کے لیے وہی آسان کر دیا گیا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو الْمُعَافَى الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ سَاقَ هَدْيًا فَلْيَحِلَّ , وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً» ، قُلْنَا: حِلُّ مَاذَا يَا رَسُولِ اللهِ؟ قَالَ: «الْحِلُّ كُلُّهُ» ، فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ، وَلَبِسْنَا الثِّيَابَ، وَتَطَيَّبْنَا الطِّيبَ، فَقَالَ نَاسٌ: يَحِلُّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ أَرْبَعَةُ أَيَّامٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فِينَا كَالْمُغْضَبِ، فَقَالَ: " وَاللهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ، وَلَوْ عَلِمْتُ أَنْ تَقُولُوا ذَلِكَ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ، فَاسْتَجِيبُوا لِمَا تُؤْمَرُونَ بِهِ. فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، عُمْرَتُنَا هَذِهِ الَّتِي أَمَرْتَنَا بِهَا , لِعَامِهَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ لِلْأَبَدِ» فَقَالَ سُرَاقَةُ: حَدِّثْنَا يَا رَسُولَ اللهِ عَنْ دِينِنَا كَأَنَّنَا خُلِقْنَا الْآنَ، أَفِي شَيْءٍ جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ , وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ أَوْ فِيمَا يُسْتَأْنَفُ؟ قَالَ: «بَلْ فِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ» ، فَقَالَ سُرَاقَةُ: فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «اعْمَلُوا , فَكُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ» ثُمَّ قَرَأَ: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى، وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى} [الليل: ٦]
ترجمہ
(سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھے نکلے، جب ہم مکہ پہنچے تو ہم نے بیت اللہ کا اور صفا و مروہ کے درمیان طواف کیا، پھر رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”جس نے ہدی ساتھ نہ لائی ہو وہ حلال ہو جائے اور اسے عمرہ بنا لے۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کس چیز سے حلال ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مکمل طور پر حلال ہو جاؤ۔“ چنانچہ ہم عورتوں کے پاس گئے، کپڑے پہنے، اور خوشبو لگائی، تو کچھ لوگوں نے کہا: (کیا) حلال ہو جائیں جبکہ ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف چار دن رہ گئے ہیں؟ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ ہمارے درمیان کچھ ناراضی کی حالت میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم جانتے ہو کہ میں تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں، اور اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم یہ بات کہو گے تو میں ہدی ساتھ نہ لاتا، تو جو حکم دیا جا رہا ہے اسے مان لو۔“ اس پر سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا یہ عمرہ جس کا آپ نے ہمیں حکم دیا، صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ ہمیشہ کے لیے۔“ سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ہمارے دین کے بارے میں بتائیے، گویا ہم ابھی پیدا کیے گئے ہوں، کیا یہ ایسی چیز ہے جس میں قلم خشک ہو چکے اور تقدیریں طے ہو چکیں، یا کوئی نیا کام ہے جو شروع کیا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ ایسی چیز ہے جس میں قلم خشک ہو چکے اور تقدیریں طے ہو چکیں۔“ سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: پھر عمل کس لیے ہے، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو، ہر عمل کرنے والے کے لیے آسانی ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”پس جس نے دیا اور تقویٰ اختیار کیا، اور بھلائی کی تصدیق کی، تو ہم اسے آسانی کے لیے سہولت دیں گے۔ اور جس نے بخل کیا اور بے پروائی کی، اور بھلائی کو جھٹلایا، تو ہم اسے سختی کے لیے سہولت دیں گے“ [سورۃ اللیل: 6-10]۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَعْمَلُ لِأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ؟ أَمْ لِأَمْرٍ نَأْتَنِفُهُ؟ فَقَالَ: «لِأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ» , فَقَالَ سُرَاقَةُ: فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذَنْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم ایسے کام کے لیے عمل کرتے ہیں جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے، یا کسی نئے کام کے لیے جو ہم شروع کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسے کام کے لیے جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے۔“ سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: پھر عمل کس لیے ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر عمل کرنے والے کے لیے آسانی ہے۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا , مَا نُرِيدُ إِلَّا الْحَجَّ، وَلَا نَنْوِي غَيْرَهُ , حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرِفٍ، حَاضَتْ عَائِشَةُ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكِ؟» قَالَتْ: أَصَابَنِي الْأَذَى، قَالَ: «إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ يُصِيبُكِ مَا يُصِيبُهُنَّ» , قَالَ: فَقَدِمْنَا مَكَّةَ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ كَمَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَذَاكَرْنَا بَيْنَنَا، فَقُلْنَا: خَرَجْنَا حُجَّاجًا، وَلَا نُرِيدُ إِلَّا الْحَجَّ، وَلَا نَنْوِي غَيْرَهُ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَاتٍ إِلَّا أَرْبَعُ لَيَالٍ وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ الْمَنِيَّ مِنَ النِّسَاءِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ: «إِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ، وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ، وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَأَحْلَلْتُ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ» فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ الْمُدْلِجِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، حَدِّثْنَا حَدِيثَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، عُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا؟ أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ: «لِلْأَبَدِ» , فَأَتَيْنَا عَرَفَةَ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الِانْصِرَافِ , قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكُمْ قَدْ طُفْتُمْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَلَمْ أَكُنْ طُفْتُ؟ فَقَالَ: «إِنَّ لَكِ مِثْلَ مَا لِلْقَوْمِ» قَالَتْ: فَإِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي؟ قَالَ: فَوَقَفَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَعْلَى وَادِي مَكَّةَ، وَأَرْدَفَهَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى أَتَتِ التَّنْعِيمَ
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کی نیت سے نکلے، ہم حج کے سوا کچھ اور نیت نہیں رکھتے تھے، یہاں تک کہ جب ہم سرف پہنچے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حیض آ گیا، تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ رو رہی تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا رلا رہا ہے؟“ انہوں نے کہا: مجھے یہ تکلیف پہنچی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم بھی آدم کی بیٹیوں میں سے ہی ہو، تمہیں بھی وہی پیش آتا ہے جو انہیں پیش آتا ہے۔“ پھر ہم ذوالحجہ کی چار راتیں گزرنے پر مکہ پہنچے، تو ہم نے بیت اللہ کا اور صفا و مروہ کے درمیان طواف کیا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا تھا، پھر ہم نے آپس میں تذکرہ کیا اور کہا: ہم حج کی نیت سے نکلے تھے اور صرف حج ہی چاہتے تھے، کوئی اور نیت نہیں رکھتے تھے، یہاں تک کہ جب ہمارے اور عرفات کے درمیان صرف چار راتیں رہ گئیں اور ہماری شرمگاہیں عورتوں سے مباشرت کی وجہ سے منی ٹپکا رہی تھیں، یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے، اور اگر مجھے پہلے وہ بات معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں ہدی ساتھ نہ لاتا، اور اگر ہدی نہ ہوتی تو میں حلال ہو جاتا، تو جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے۔“ اس پر سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ایسی بات بتائیے جیسے ہم آج ہی پیدا ہوئے ہوں، ہمارا یہ عمرہ صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے۔“ پھر ہم عرفہ پہنچے، جب واپسی کا وقت ہوا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ سب نے تو بیت اللہ کا اور صفا و مروہ کے درمیان طواف کر لیا ہے، جبکہ میں نے طواف نہیں کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے بھی وہی ہے جو دوسروں کے لیے ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: لیکن میں اپنے دل میں کچھ محسوس کرتی ہوں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے مکہ کی بالائی وادی میں ٹھہر کر انتظار کیا، اور عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ سوار کر دیا، یہاں تک کہ وہ تنعیم پہنچیں۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ أَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ كُلُّنَا، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ، وَصَلَّيْنَا وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَمَرَنَا فَقَصَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: «أَحِلُّوا» , قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ , حِلُّ مَاذَا؟ قَالَ: «حِلُّ مَا يُحِلُّ الْحَلَالَ مِنَ النِّسَاءِ وَالطِّيبِ» قَالَ: فَغُشِيَتِ النِّسَاءُ، وَسَطَعَتِ الْمَجَامِرُ، قَالَ: وَبَلَغَهُ أَنَّ بَعْضَهُمْ يَقُولُ: أَينَطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى مِنًى وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا؟ فَخَطَبَهُمْ , فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ، وَلَوْ لَمْ أَسُقِ الْهَدْيَ حَلَقْتُ، أَلَا فَخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ» قَالَ: فَأَقَامَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ , حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، وَأَرَادُوا التَّوَجُّهَ إِلَى مِنًى أَهَلُّوا بِالْحَجِّ، قَالَ: كَانَ الْهَدْيُ عَلَى مَنْ وَجَدَ، وَالصِّيَامُ عَلَى مَنْ لَمْ يَجِدْ، وَأَشْرَكَ بَيْنَهُمْ فِي هَدْيِهِمُ , الْجَزُورُ بَيْنَ سَبْعَةٍ , وَالْبَقَرَةُ بَيْنَ سَبْعَةٍ، وَكَانَ طَوَافُهُمْ بِالْبَيْتِ وَسَعْيُهُمْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ طَوَافًا وَاحِدًا , وَسَعْيًا وَاحِدًا , لِحَجِّهِمْ وَعُمْرَتِهِمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم سب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھے ذوالحجہ کی چار تاریخیں گزرنے کے بعد صبح کے وقت (مکہ) پہنچے، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، نماز پڑھی اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، پھر آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا تو ہم نے بال کتروائے، پھر فرمایا: ”حلال ہو جاؤ۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کس چیز سے حلال ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر وہ چیز جو حلال شخص کے لیے حلال ہوتی ہے، عورتوں اور خوشبو سمیت۔“ (راوی کہتے ہیں:) تو عورتوں سے مباشرت کی گئی اور خوشبو کے انگیٹھے دہکنے لگے۔ آپ ﷺ کو یہ بات پہنچی کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں: کیا ہم میں سے کوئی منیٰ کی طرف جائے گا جبکہ اس کا عضو منی ٹپکا رہا ہوگا؟ تو آپ ﷺ نے انہیں خطبہ دیا، اللہ عزوجل کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اگر مجھے پہلے وہ بات معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں ہدی ساتھ نہ لاتا، اور اگر میں ہدی ساتھ نہ لاتا تو سر منڈوا لیتا، خبردار! اپنے مناسک سیکھ لو۔“ (راوی کہتے ہیں:) پھر سب لوگ اسی حالت میں رہے، یہاں تک کہ جب یومِ ترویہ آیا اور انہوں نے منیٰ کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے حج کا احرام باندھا۔ (راوی کہتے ہیں:) ہدی اس پر واجب تھی جسے میسر ہو، اور روزہ اس پر جسے میسر نہ ہو، اور آپ ﷺ نے انہیں ہدی میں شریک کیا، ایک اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے اور ایک گائے سات آدمیوں کی طرف سے، اور ان کا بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی، حج اور عمرہ دونوں کے لیے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی تھی۔ (راوی نے) سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ مُوسَى بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: قَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا مُتَمَتِّعٌ، بِعُمْرَةٍ، فَقَدِمْنَا قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَقَالَ لِي أَهْلُ مَكَّةَ: تَصِيرُ الْآنَ حَجَّتُكَ مَكِّيَّةً، فَدَخَلْتُ عَلَى عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَسْتَفْتِيهِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ حَجَّ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ سَاقَ الْبُدْنَ، وَقَدْ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ مُفْرَدًا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحِلُّوا مِنْ إِحْرَامِكُمْ بِطَوَافٍ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَقِيمُوا حَلَالًا , حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَأَهِلُّوا بِالْحَجِّ , وَاجْعَلُوا الَّذِي قَدِمْتُمْ بِهَا مُتْعَةً» ، قَالُوا: كَيْفَ نَجْعَلُهَا مُتْعَةً , وَقَدْ سَمَّيْنَا الْحَجَّ؟ فَقَالَ: «افْعَلُوا مَا أَمَرْتُكُمْ، فَلَوْلَا أَنِّي سُقْتُ الْهَدْيَ لَفَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي أَمَرْتُكُمْ، وَلَكِنِّي لَا يَحِلُّ مِنِّي حَرَامٌ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ» , فَفَعَلُوا، وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ
ترجمہ
ابوشہاب موسیٰ بن نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں عمرہ کے ساتھ تمتع کرتے ہوئے مکہ آیا، ہم ترویہ سے تین دن پہلے پہنچے، تو اہل مکہ نے مجھ سے کہا: اب تمہارا حج مکی حج بن جائے گا، تو میں فتویٰ پوچھنے کے لیے عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کے پاس گیا، انہوں نے کہا: مجھے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس سال حج کیا جب آپ ﷺ ہدی کے جانور ساتھ لائے تھے، اور لوگوں نے حجِ افراد کا احرام باندھا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر کے اپنے احرام سے حلال ہو جاؤ، اور حلال حالت میں ٹھہرے رہو، یہاں تک کہ جب یومِ ترویہ آئے تو حج کا احرام باندھ لو، اور جس (حج کے احرام) کے ساتھ تم آئے ہو اسے متعہ بنا لو۔“ انہوں نے عرض کیا: ہم اسے متعہ کیسے بنائیں جبکہ ہم نے حج کی نیت کر لی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو میں نے تمہیں حکم دیا ہے وہی کرو، اگر میں ہدی ساتھ نہ لایا ہوتا تو میں بھی وہی کرتا جو میں نے تمہیں حکم دیا ہے، لیکن میرے لیے کوئی حرام چیز اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک ہدی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔“ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ (راوی نے) سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَمَّا طَافُوا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْعَلُوهَا عُمْرَةً» ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ لَبَّوْا بِالْحَجِّ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَافُوا بِالْبَيْتِ، وَلَمْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ذوالحجہ کی چار تاریخیں گزرنے پر مکہ پہنچے، جب انہوں نے بیت اللہ کا اور صفا و مروہ کے درمیان طواف کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے عمرہ بنا لو۔“ جب یومِ ترویہ آیا تو انہوں نے حج کی تلبیہ پکاری، پھر جب یومِ نحر آیا تو انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا، اور صفا و مروہ کے درمیان (دوبارہ) طواف نہیں کیا۔ (راوی نے) سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ح وَعَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَا: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ صُبْحَ رَابِعَةٍ مُهِلُّونَ بِالْحَجِّ , لَمْ يُخَالِطْهُ شَيْءٌ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا , فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً , وَأَنْ نَحِلَّ إِلَى نِسَائِنَا، فَقِيلَتْ فِي ذَلِكَ الْقَالَةُ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَى مِنًى وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا؟ وَقَالَ جَابِرٌ: فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ: «بَلَغَنِي أَنَّ أَقْوَامًا يَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا، وَاللهِ لَأَنَا أَبَرُّ وَأَتْقَى لِلَّهِ مِنْهُمْ، وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، وَلَوْلَا أَنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ» , فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ , أَهِيَ لَنَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ: «بَلْ لِلْأَبَدِ» وَجَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: أَحَدُهُمَا يَقُولُ: لَبَّيْكَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ، وَقَالَ الْآخَرُ: لَبَّيْكَ بِحَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِيمَ عَلَى إِحْرَامِهِ , وَأَشْرَكَهُ فِي الْهَدْيِ
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ (ذوالحجہ کی) چوتھی تاریخ کی صبح (مکہ) پہنچے، وہ صرف حج کا احرام باندھے ہوئے تھے جس کے ساتھ کوئی اور چیز شامل نہ تھی، جب ہم پہنچے تو آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا تو ہم نے اسے عمرہ بنا دیا، اور (حکم دیا) کہ ہم اپنی عورتوں کے لیے حلال ہو جائیں، اس پر اس بارے میں باتیں کی جانے لگیں۔ عطاء کہتے ہیں: جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہم میں سے کوئی منیٰ کی طرف جائے گا جبکہ اس کا عضو منی ٹپکا رہا ہوگا؟ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ بات نبی کریم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ کچھ لوگ ایسی ایسی بات کہہ رہے ہیں، اللہ کی قسم! میں ان سے زیادہ نیک اور اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، اور اگر مجھے پہلے وہ بات معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں ہدی ساتھ نہ لاتا، اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں حلال ہو جاتا۔“ اس پر سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ حکم صرف ہمارے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ ہمیشہ کے لیے۔“ اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آئے تو (دونوں راویوں میں سے) ایک کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں اسی کی تلبیہ پکارتا ہوں جس کا نبی کریم ﷺ نے احرام باندھا ہے، اور دوسرے کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نبی کریم ﷺ کے حج کی تلبیہ پکارتا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے احرام پر قائم رہیں، اور انہیں اپنی ہدی میں شریک کر لیا۔
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَهْلَلْنَا مَعَهُ بِالْحَجِّ خَالِصًا، حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مِنَّا سَاقَ هَدْيًا أَنْ يَحِلَّ، قَالَ: وَلَمْ يَعْزِمْ فِي أَمْرِ النِّسَاءِ، قَالَ جَابِرٌ فَقُلْنَا: تَرَكَنَا , حَتَّى إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسُ لَيَالٍ، أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ , فَنَأْتِيَ عَرَفَاتٍ وَالْمَذْيُ يَقْطُرُ مِنْ مَذَاكِيرِنَا، وَلَمْ يَحْلِلَ هُوَ؟ وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَاقَ الْهَدْيَ، قَالَ: فَبَلَغَ قَوْلُنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللهَ , وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ ذَكَرَ الَّذِي بَلَغَهُ مِنْ قَوْلِهِمْ، فَقَالَ: «لَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَصْدَقُكُمْ وَأَبَرُّكُمْ وَلَوْلَا أَنِّي سُقْتُ الْهَدْيَ لَحَلَلْتُ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ» قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ: فَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا، فَحَلَلْنَا قَالَ اللَّيْثُ: يُرِيدُ الْمُتْعَةَ، وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّيْثُ قِصَّةَ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھا اور ہم نے آپ ﷺ کے ساتھ خالص حج کا احرام باندھا، یہاں تک کہ ہم ذوالحجہ کی چوتھی تاریخ کی صبح مکہ پہنچے، تو ہم نے بیت اللہ کا اور صفا و مروہ کا طواف کیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے ہم میں سے ان لوگوں کو جو ہدی ساتھ نہیں لائے تھے حلال ہونے کا حکم دیا۔ (جابر رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: اور آپ ﷺ نے عورتوں کے معاملے میں تاکیدی حکم نہیں دیا۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: آپ ﷺ نے ہمیں (یوں ہی) چھوڑے رکھا، یہاں تک کہ جب ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ راتیں رہ گئیں تو ہمیں حلال ہونے کا حکم دیا، تو کیا ہم عرفات اس حال میں جائیں کہ ہماری شرمگاہوں سے مذی ٹپک رہی ہو، اور آپ ﷺ خود حلال نہ ہوں؟ اور رسول اللہ ﷺ ہدی ساتھ لائے تھے۔ (جابر رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: ہماری یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ لوگوں کو خطبہ دینے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر جو بات آپ ﷺ کو پہنچی تھی اس کا ذکر کیا اور فرمایا: ”تم جانتے ہو کہ میں تم میں سب سے زیادہ اللہ عزوجل سے ڈرنے والا، سب سے زیادہ سچا اور سب سے زیادہ نیک ہوں، اور اگر میں ہدی ساتھ نہ لایا ہوتا تو حلال ہو جاتا، اور اگر مجھے پہلے وہ بات معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں ہدی ساتھ نہ لاتا۔“ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو ہم نے سنا اور اطاعت کی اور حلال ہو گئے۔ (راوی) لیث کہتے ہیں: اس سے مراد متعہ (حج تمتع) ہے۔ لیث نے سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ، فَأَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ، فَقُلْنَا: أَيُّ الْحِلِّ يَا نَبِيَّ اللهِ؟ قَالَ: «أَحِلُّوا الْحِلَّ كُلَّهُ» ، قُلْنَا: نَغْدُو إِلَى مِنًى وأَحَالِيلُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا، قَالَ: «أَحِلُّوا الْحِلَّ كُلَّهُ، فَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَصَنَعْتُ مِثْلَ الَّذِي صَنَعْتُمْ» قَالَ: فَأَحْلَلْنَا وَأَتَيْنَا النِّسَاءَ، وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ عُيَيْنَةَ قِصَّةَ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چوتھی تاریخ کی صبح مکہ پہنچے، آپ ﷺ نے ہمیں حلال ہونے کا حکم دیا، ہم نے عرض کیا: یا نبی اللہ! کس طرح حلال ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مکمل طور پر حلال ہو جاؤ۔“ ہم نے عرض کیا: پھر تو ہم منیٰ کی طرف جائیں گے جبکہ ہمارے اعضا منی ٹپکا رہے ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مکمل طور پر حلال ہو جاؤ، اگر مجھے پہلے وہ بات معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں بھی وہی کرتا جو تم نے کیا۔“ (راوی کہتے ہیں:) تو ہم حلال ہو گئے اور اپنی عورتوں کے پاس گئے۔ (راوی) ابن عیینہ نے سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَذَّنَ فِينَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، فَخَرَجَ , حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا الْمَسْجِدَ عِنْدَ الشَّجَرَةِ نَزَلَ وَنَزَلْنَا، ثُمَّ رَكِبْنَا فَوَقَفْنَا نَنْتَظِرُ حَتَّى رَكِبَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طَافَ وَطُفْنَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَرَأَ فِيهِمَا قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ ثُمَّ طُفْنَا بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , حَتَّى إِذَا كُنَّا عِنْدَ الْمَرْوَةِ، قَالَ «مَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْدَى فَلْيَحِلَّ» ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، نَوَيْنَا الْحَجَّ قَالَ: «دَخَلَ الْحَجُّ فِي الْعُمْرَةِ» , فَأَصَبْنَا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا وَبَيْنَنَا وَبَيْنَ أَنْ نَأْتِيَ مِنًى أَرْبَعَةُ أَيَّامٍ , فَنَأْتِيَ مِنًى وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مِنْ نِسَائِنَا؟ فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ: أَنْبِئْنَا يَا رَسُولَ اللهِ، كَقَوْمٍ إِنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، قَالَ: «إِنَّ الْحَجَّ قَدْ دَخَلَ فِي الْعُمْرَةِ» قَالَ: لَنَا؟ أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ: «لَا بَلْ لِلْأَبَدِ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ہم میں حج کا اعلان فرمایا، پھر آپ ﷺ نکلے، یہاں تک کہ جب ہم شجرہ کے پاس والی مسجد پر پہنچے تو آپ ﷺ اترے اور ہم بھی اترے، پھر ہم سوار ہوئے اور کھڑے انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ سوار ہوئے، پھر جب ہم مکہ پہنچے تو آپ ﷺ نے طواف کیا اور ہم نے بھی طواف کیا، پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں جن میں قُلْ یٰاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ اور قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ پڑھیں، پھر ہم نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، یہاں تک کہ جب ہم مروہ کے پاس پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ہدی نہ بھیجی ہو وہ حلال ہو جائے۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے تو حج کی نیت کی تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حج عمرے میں داخل ہو گیا۔“ تو ہم نے عورتوں سے مباشرت کی اور خوشبو لگائی، پھر جب ہم پہنچے تو ہمارے اور منیٰ جانے کے درمیان چار دن باقی تھے، ہم نے کہا: ہم منیٰ کیسے جائیں جبکہ ہمارے اعضا ہماری عورتوں کے سبب منی ٹپکا رہے ہوں گے؟ اس پر سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ایسے بتائیے جیسے ہم آج ہی پیدا ہوئے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”حج عمرے میں داخل ہو گیا ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: کیا یہ ہمارے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لیے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بن عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «قَدِمْنَا مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً، وَنَحِلَّ، وَكَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً» ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو بِشْرٍ فِي حَدِيثِهِ قِصَّةَ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم حج کا احرام باندھے پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ بنا لیں اور حلال ہو جائیں، جبکہ آپ ﷺ کے ساتھ ہدی تھی، اس لیے آپ ﷺ خود اسے عمرہ نہ بنا سکے۔ (راوی) ابوبشر نے اپنی حدیث میں سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّهِيدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: «بِأَيِّ شَيْءٍ أَهْلَلْتُمْ؟» فَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: بِالْحَجِّ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: بِالْعُمْرَةِ، وَمِنْهُمْ مِنْ قَالَ: بِالَّذِي أَهْلَلْتَ بِهِ يَا رَسُولَ اللهِ , قَالَ: «فَأَحِلُّوا جَمِيعًا إِلَّا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ فَإِنِّي لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ حَتَّى أَكُونَ مَعَكُمْ حَلَالًا» , قَالَ: وَسَاقَ مِائَةَ بَدَنَةٍ لِيُقَلِّدَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ قِصَّةَ سُرَاقَةَ
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع میں مکہ پہنچے تو اپنے صحابہ سے فرمایا: ”تم نے کس چیز کا احرام باندھا ہے؟“ کسی نے کہا: حج کا، کسی نے کہا: عمرے کا، اور کسی نے کہا: یا رسول اللہ! جس کا آپ نے احرام باندھا ہے اسی کا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تم سب حلال ہو جاؤ، سوائے اس کے جو ہدی ساتھ لایا ہو، کیونکہ اگر مجھے پہلے وہ بات معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں ہدی ساتھ نہ لاتا، تاکہ میں بھی تمہارے ساتھ حلال ہوتا۔“ (راوی کہتے ہیں:) اور آپ ﷺ سو اونٹ ہدی کے طور پر لائے تھے تاکہ انہیں قلادہ پہنائیں۔ (راوی) محمد بن سلمہ نے سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: لَمَّا قَدِمْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ، فَسَأَلَ النَّاسَ: «بِمَ أَحْرَمْتُمْ؟» قَالَ نَاسٌ: أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ، وَقَالَ آخَرُونَ: قَدِمْنَا مُتَمَتِّعِينَ، وَقَالَ آخَرُونَ: أَهْلَلْنَا بِإِهْلَالِكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ قَدِمَ وَلَمْ يَسُقْ هَدْيًا فَلْيَحْلِلْ، فَإِنِّي لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقِ الْهَدْيَ حَتَّى أَكُونَ حَلَالًا» ، فَقَالَ لَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا؟ أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ: «لَا، بَلْ لِلْأَبَدِ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے حج میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے لوگوں سے پوچھا: ”تم نے کس چیز کا احرام باندھا؟“ کچھ لوگوں نے کہا: ہم نے حج کا احرام باندھا، اور کچھ نے کہا: ہم متمتع ہو کر آئے، اور کچھ نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے آپ کے احرام جیسا احرام باندھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو پہنچا ہو اور اس نے ہدی ساتھ نہ لائی ہو وہ حلال ہو جائے، کیونکہ اگر مجھے پہلے وہ بات معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں ہدی ساتھ نہ لاتا تاکہ میں بھی حلال ہوتا۔“ اس پر سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا یہ عمرہ صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لیے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ عُمْرَتُنَا هِيَ لَنَا خَاصَّةً , أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ: «لَا، بَلْ لِلْأَبَدِ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہمارا یہ عمرہ خاص ہمارے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لیے۔“
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أنا خَالِدٌ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرِيدُ إِلَّا الْحَجَّ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً , فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ، وَكَانَ مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ هَدْيٌ، وَقَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ الْيَمَنِ، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِمَ أَهْلَلْتَ؟» قَالَ: بِمَا أَهْلَلْتَ بِهِ، وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيٌ ومِائَةُ هَدْيٍ، فَقَالَ سُرَاقَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَحَجَّتُنَا هَذِهِ , لِعَامِنَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ: «لَا، بَلْ لِلْأَبَدِ»
ترجمہ
(سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (مکہ) آئے، ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ جس کے ساتھ ہدی نہیں وہ اسے عمرہ بنا لے، یہ بات لوگوں پر بہت گراں گزری۔ اور سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہدی تھی، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے تشریف لائے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: ”تم نے کس چیز کا احرام باندھا؟“ انہوں نے کہا: جس کا آپ نے باندھا۔ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہدی اور سو مزید ہدی کے جانور تھے، تو سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا یہ حج صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لیے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى أَبُو مَالِكٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيُّ، ثنا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، فَدَخَلْنَا مَكَّةَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذِهِ الْمُتْعَةُ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ: «لَا , بَلْ لِلْأَبَدِ، دَخَلْتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
(سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) ہم ذوالقعدہ کے پانچ دن باقی تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (حج کے لیے) نکلے، پھر ہم ذوالحجہ کی چار تاریخیں گزرنے پر مکہ میں داخل ہوئے، تو سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ متعہ خاص ہمارے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لیے، عمرہ قیامت تک حج میں داخل ہو گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الطَّرِيقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَهْلَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحِلَّهَا وَنَجْعَلَهَا عُمْرَةً، فَأَحْلَلْنَا الْحِلَّ كُلَّهُ، فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّى، إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَمَرَنَا فَأَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: خَرَجْنَا مِنْ أَرْضِنَا , حَتَّى إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مِنًى إِلَّا أَرْبَعٌ , نَخْرُجُ وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا؟ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: «أَتَتَّهِمُونِي وَأَنَا أَمِينُ أَهْلِ السَّمَاءِ وَأَهْلِ الْأَرْضِ؟ أَمَا إِنِّي لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا كَانَ الْهَدْيُ إِلَّا مِنْ مَكَّةَ» وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ سُرَاقَةَ
ترجمہ
(سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) ہم نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ احرام باندھا، پھر ذوالحجہ کی چار تاریخیں گزرنے پر مکہ پہنچے، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم احرام کھول دیں اور اسے عمرہ بنا لیں، چنانچہ ہم پوری طرح حلال ہو گئے، ہم نے بیت اللہ کا اور صفا و مروہ کے درمیان طواف کیا، یہاں تک کہ جب یوم الترویہ آیا تو آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے حج کا احرام باندھا۔ تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے ایک دوسرے سے کہا: ہم اپنی سرزمین سے (حج کے لیے) نکلے، یہاں تک کہ جب ہمارے اور منیٰ کے درمیان صرف چار دن رہ گئے تو کیا ہم اس حال میں (منیٰ کو) نکلیں کہ ہمارے اعضا منی ٹپکا رہے ہوں؟ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم مجھ پر تہمت لگاتے ہو حالانکہ میں آسمان اور زمین والوں کا امین ہوں؟ سن لو، اگر مجھے پہلے وہ بات معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو ہدی صرف مکہ سے خریدی جاتی۔“ (راوی نے) سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا وَرْدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ لَبِيدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ کی یہی روایت اسی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْخَطِيبُ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا رَبَاحُ بْنُ أَبِي مَعْرُوفٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، الْعُمْرَةُ لِعَامِنَا هَذَا , أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ: «لَا بَلْ لِلْأَبَدِ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا عمرہ صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لیے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، فَقَالَ: عُمْرَتُنَا لِعَامِنَا هَذَا، أَمْ لِأَبَدِ أَبَدٍ؟ فَشَبَّكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ وَاحِدَةً فِي الْأُخْرَى، وَقَالَ: «دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ مَرَّتَيْنِ , لَا بَلْ لِأَبَدِ أَبَدٍ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: ہمارا یہ عمرہ صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے فرمایا: ”عمرہ حج میں دو بار داخل ہو گیا ہے، نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔“