المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك باب: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ , حَتَّى النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ» , قُلْنَا: أَيُّ الْحِلِّ؟ قَالَ: «الْحِلُّ كُلُّهُ» , فَأَتَيْنَا النِّسَاءَ، وَلَبِسْنَا الثِّيَابَ، وَمَسَسْنَا الطِّيبَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ، وَكَفَانَا الطَّوَافُ الْأَوَّلُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ , كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ، فَجَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا كَأَنَّنَا خُلِقْنَا الْآنَ؟ أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ , لِعَامِنَا هَذَا؟ أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ: «بَلْ لِلْأَبَدِ»(سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھے نکلے، یہاں تک کہ عورتیں اور بچے بھی احرام میں تھے، جب ہم مکہ پہنچے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی، تو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے۔“ ہم نے عرض کیا: کس طرح حلال ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مکمل طور پر حلال ہو جاؤ۔“ چنانچہ ہم نے اپنی عورتوں کے پاس گئے، کپڑے پہنے، اور خوشبو لگائی، پھر جب یومِ ترویہ آیا تو ہم نے حج کا احرام باندھا، اور پہلا طواف اور صفا و مروہ کی سعی ہمیں کافی ہو گئی، اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹوں اور گائیوں میں شریک ہو جائیں، ہم میں سے ہر سات آدمی ایک بڑے جانور میں، تو سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ہمارا دین ایسے بتائیے جیسے ہم ابھی پیدا کیے گئے ہوں، ہمیں بتائیے کہ ہمارا یہ عمرہ صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ ہمیشہ کے لیے۔“