حدیث نمبر: 6539
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا , مَا نُرِيدُ إِلَّا الْحَجَّ، وَلَا نَنْوِي غَيْرَهُ , حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرِفٍ، حَاضَتْ عَائِشَةُ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكِ؟» قَالَتْ: أَصَابَنِي الْأَذَى، قَالَ: «إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ يُصِيبُكِ مَا يُصِيبُهُنَّ» , قَالَ: فَقَدِمْنَا مَكَّةَ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ كَمَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَذَاكَرْنَا بَيْنَنَا، فَقُلْنَا: خَرَجْنَا حُجَّاجًا، وَلَا نُرِيدُ إِلَّا الْحَجَّ، وَلَا نَنْوِي غَيْرَهُ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَاتٍ إِلَّا أَرْبَعُ لَيَالٍ وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ الْمَنِيَّ مِنَ النِّسَاءِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ: «إِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ، وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ، وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَأَحْلَلْتُ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ» فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ الْمُدْلِجِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، حَدِّثْنَا حَدِيثَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، عُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا؟ أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ: «لِلْأَبَدِ» , فَأَتَيْنَا عَرَفَةَ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الِانْصِرَافِ , قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكُمْ قَدْ طُفْتُمْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَلَمْ أَكُنْ طُفْتُ؟ فَقَالَ: «إِنَّ لَكِ مِثْلَ مَا لِلْقَوْمِ» قَالَتْ: فَإِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي؟ قَالَ: فَوَقَفَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَعْلَى وَادِي مَكَّةَ، وَأَرْدَفَهَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى أَتَتِ التَّنْعِيمَ
ترجمہ

(سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) …اور ہم حج کے سوا کچھ اور نیت نہیں رکھتے تھے، یہاں تک کہ جب ہم سرف پہنچے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حیض آ گیا، تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ رو رہی تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا رلا رہا ہے؟“ انہوں نے کہا: مجھے یہ تکلیف پہنچی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے، یہ تمہیں بھی پہنچے گی جیسے انہیں پہنچتی ہے۔“ (راوی کہتے ہیں:) پھر ہم ذوالحجہ کی چار راتیں گزرنے پر مکہ پہنچے، تو ہم نے بیت اللہ کا اور صفا و مروہ کے درمیان طواف کیا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا تھا، پھر ہم نے آپس میں تذکرہ کیا اور کہا: ہم حج کی نیت سے نکلے تھے اور صرف حج ہی چاہتے تھے، کوئی اور نیت نہیں رکھتے تھے، یہاں تک کہ جب ہمارے اور عرفات کے درمیان صرف چار راتیں رہ گئیں اور ہماری شرمگاہیں عورتوں سے مباشرت کی وجہ سے منی ٹپکا رہی تھیں، یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے، اور اگر مجھے پہلے وہ بات معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں ہدی ساتھ نہ لاتا، اور اگر ہدی نہ ہوتی تو میں حلال ہو جاتا، تو جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے۔“ اس پر سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ایسی بات بتائیے جیسے ہم آج ہی پیدا ہوئے ہوں، ہمارا یہ عمرہ صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے۔“ پھر ہم عرفہ پہنچے، جب واپسی کا وقت ہوا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ سب نے تو بیت اللہ کا اور صفا و مروہ کے درمیان طواف کر لیا ہے، جبکہ میں نے طواف نہیں کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے بھی وہی ہے جو دوسروں کے لیے ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: لیکن میں اپنے دل میں کچھ محسوس کرتی ہوں۔ (راوی کہتے ہیں:) تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے مکہ کی بالائی وادی میں ٹھہر کر انتظار کیا، اور عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ سوار کر دیا، یہاں تک کہ وہ تنعیم پہنچیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6539
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 122، حدیث 6569