المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك باب: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَهْلَلْنَا مَعَهُ بِالْحَجِّ خَالِصًا، حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مِنَّا سَاقَ هَدْيًا أَنْ يَحِلَّ، قَالَ: وَلَمْ يَعْزِمْ فِي أَمْرِ النِّسَاءِ، قَالَ جَابِرٌ فَقُلْنَا: تَرَكَنَا , حَتَّى إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسُ لَيَالٍ، أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ , فَنَأْتِيَ عَرَفَاتٍ وَالْمَذْيُ يَقْطُرُ مِنْ مَذَاكِيرِنَا، وَلَمْ يَحْلِلَ هُوَ؟ وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَاقَ الْهَدْيَ، قَالَ: فَبَلَغَ قَوْلُنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللهَ , وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ ذَكَرَ الَّذِي بَلَغَهُ مِنْ قَوْلِهِمْ، فَقَالَ: «لَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَصْدَقُكُمْ وَأَبَرُّكُمْ وَلَوْلَا أَنِّي سُقْتُ الْهَدْيَ لَحَلَلْتُ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ» قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ: فَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا، فَحَلَلْنَا قَالَ اللَّيْثُ: يُرِيدُ الْمُتْعَةَ، وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّيْثُ قِصَّةَ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍسیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھا اور ہم نے آپ ﷺ کے ساتھ خالص حج کا احرام باندھا، یہاں تک کہ ہم ذوالحجہ کی چوتھی تاریخ کی صبح مکہ پہنچے، تو ہم نے بیت اللہ کا اور صفا و مروہ کا طواف کیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے ہم میں سے ان لوگوں کو جو ہدی ساتھ نہیں لائے تھے حلال ہونے کا حکم دیا۔ (جابر رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: اور آپ ﷺ نے عورتوں کے معاملے میں تاکیدی حکم نہیں دیا۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: آپ ﷺ نے ہمیں (یوں ہی) چھوڑے رکھا، یہاں تک کہ جب ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ راتیں رہ گئیں تو ہمیں حلال ہونے کا حکم دیا، تو کیا ہم عرفات اس حال میں جائیں کہ ہماری شرمگاہوں سے مذی ٹپک رہی ہو، اور آپ ﷺ خود حلال نہ ہوں؟ اور رسول اللہ ﷺ ہدی ساتھ لائے تھے۔ (جابر رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: ہماری یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ لوگوں کو خطبہ دینے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر جو بات آپ ﷺ کو پہنچی تھی اس کا ذکر کیا اور فرمایا: ”تم جانتے ہو کہ میں تم میں سب سے زیادہ اللہ عزوجل سے ڈرنے والا، سب سے زیادہ سچا اور سب سے زیادہ نیک ہوں، اور اگر میں ہدی ساتھ نہ لایا ہوتا تو حلال ہو جاتا، اور اگر مجھے پہلے وہ بات معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں ہدی ساتھ نہ لاتا۔“ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو ہم نے سنا اور اطاعت کی اور حلال ہو گئے۔ (راوی) لیث کہتے ہیں: اس سے مراد متعہ (حج تمتع) ہے۔ لیث نے سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر نہیں کیا۔