المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك باب: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أنا خَالِدٌ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرِيدُ إِلَّا الْحَجَّ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً , فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ، وَكَانَ مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ هَدْيٌ، وَقَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ الْيَمَنِ، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِمَ أَهْلَلْتَ؟» قَالَ: بِمَا أَهْلَلْتَ بِهِ، وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيٌ ومِائَةُ هَدْيٍ، فَقَالَ سُرَاقَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَحَجَّتُنَا هَذِهِ , لِعَامِنَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ: «لَا، بَلْ لِلْأَبَدِ»(سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (مکہ) آئے، ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ جس کے ساتھ ہدی نہیں وہ اسے عمرہ بنا لے، یہ بات لوگوں پر بہت گراں گزری۔ اور سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہدی تھی، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے تشریف لائے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: ”تم نے کس چیز کا احرام باندھا؟“ انہوں نے کہا: جس کا آپ نے باندھا۔ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہدی اور سو مزید ہدی کے جانور تھے، تو سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا یہ حج صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لیے۔“