المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك باب: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 6552
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى أَبُو مَالِكٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيُّ، ثنا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، فَدَخَلْنَا مَكَّةَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذِهِ الْمُتْعَةُ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ: «لَا , بَلْ لِلْأَبَدِ، دَخَلْتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»ترجمہ
(سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) پھر ہم ذوالحجہ کی چار تاریخیں گزرنے پر مکہ میں داخل ہوئے، تو سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ متعہ خاص ہمارے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لیے، عمرہ قیامت تک حج میں داخل ہو گیا ہے۔“