المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك باب: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ الْمُدْلِجِيَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ , أَخْبِرْنَا عَنْ دِينِنَا هَذَا , كَأَنَّنَا خُلِقْنَا لَهُ السَّاعَةَ؟ فِي أَيِّ شَيْءٍ نَعْمَلُ؟ أَفِي شَيْءٍ تَثْبُتُ فِيهِ الْمَقَادِيرُ وَجَرَتْ فِيهِ الْأَقْلَامُ , أَمْ فِي أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ؟ قَالَ: «بَلْ فِيمَا تَثْبُتُ فِيهِ الْأَقْلَامُ» قَالَ سُرَاقَةُ: فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اعْمَلُوا , فَكُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ» وَقَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى} [الليل: ٦]- بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ - {فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى} [الليل: ٧]- قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ - {فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى "} [الليل: ١٠](سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے) عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ہمارے اس دین کے بارے میں بتائیے، گویا ہم ابھی اسی گھڑی پیدا کیے گئے ہوں؟ ہم کس بنیاد پر عمل کریں؟ کیا ایسی چیز میں جس میں تقدیریں طے ہو چکیں اور قلم خشک ہو چکے، یا کسی نئے کام میں جو شروع کیا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ اس میں جس میں قلم خشک ہو چکے۔“ سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: پھر عمل کس لیے ہے، یا رسول اللہ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو، ہر عمل کرنے والے کے لیے وہی کام آسان کر دیا گیا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”پس جس نے دیا اور تقویٰ اختیار کیا، اور بھلائی (یعنی لا الٰہ الا اللہ) کی تصدیق کی، تو ہم اسے آسانی کے لیے سہولت دیں گے۔ اور جس نے بخل کیا اور بے پروائی کی، اور بھلائی (یعنی لا الٰہ الا اللہ) کو جھٹلایا، تو ہم اسے سختی کے لیے سہولت دیں گے“ [سورۃ اللیل: 6-10]۔