المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك باب: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ مُوسَى بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: قَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا مُتَمَتِّعٌ، بِعُمْرَةٍ، فَقَدِمْنَا قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَقَالَ لِي أَهْلُ مَكَّةَ: تَصِيرُ الْآنَ حَجَّتُكَ مَكِّيَّةً، فَدَخَلْتُ عَلَى عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَسْتَفْتِيهِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ حَجَّ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ سَاقَ الْبُدْنَ، وَقَدْ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ مُفْرَدًا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحِلُّوا مِنْ إِحْرَامِكُمْ بِطَوَافٍ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَقِيمُوا حَلَالًا , حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَأَهِلُّوا بِالْحَجِّ , وَاجْعَلُوا الَّذِي قَدِمْتُمْ بِهَا مُتْعَةً» ، قَالُوا: كَيْفَ نَجْعَلُهَا مُتْعَةً , وَقَدْ سَمَّيْنَا الْحَجَّ؟ فَقَالَ: «افْعَلُوا مَا أَمَرْتُكُمْ، فَلَوْلَا أَنِّي سُقْتُ الْهَدْيَ لَفَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي أَمَرْتُكُمْ، وَلَكِنِّي لَا يَحِلُّ مِنِّي حَرَامٌ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ» , فَفَعَلُوا، وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس سال حج کیا جب آپ ﷺ ہدی کے جانور ساتھ لائے تھے، اور لوگوں نے حجِ افراد کا احرام باندھا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر کے اپنے احرام سے حلال ہو جاؤ، اور حلال حالت میں ٹھہرے رہو، یہاں تک کہ جب یومِ ترویہ آئے تو حج کا احرام باندھ لو، اور جس عمرہ کے ساتھ تم آئے ہو اسے متعہ بنا لو۔“ انہوں نے عرض کیا: ہم اسے متعہ کیسے بنائیں جبکہ ہم نے حج کی نیت کر لی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو میں نے تمہیں حکم دیا ہے وہی کرو، اگر میں ہدی ساتھ نہ لایا ہوتا تو میں بھی وہی کرتا جو میں نے تمہیں حکم دیا ہے، لیکن میرے لیے احرام اس وقت تک حلال نہیں ہوگا جب تک ہدی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔“ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ (راوی نے) سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر نہیں کیا۔