حدیث نمبر: 6532
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ فَضَالَةَ الصَّيْرَفِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَبِيبِ بْنِ نُدْبَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنَا عَنْ عُمْرَتِنَا هَذِهِ , لِعَامِنَا هَذَا؟ أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ: «لَا، بَلْ لِلْأَبَدِ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنَا عَنْ دِينِنَا كَأَنَّمَا نَنْظُرُ إِلَيْهِ؟ بِمَا جَرَتْ بِهِ الْأَقْلَامُ، وَثَبَتَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ؟ أَمْ لِأَمْرٍ نَسْتَأْنِفُهُ؟ قَالَ: «بَلْ مَا جَرَتْ بِهِ الْأَقْلَامُ، وَثَبَتَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ» قَالَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «اعْمَلُوا , فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ»
ترجمہ

سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں بتائیے کہ ہمارا یہ عمرہ صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لیے، عمرہ قیامت تک حج میں داخل ہو گیا ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ہمارے دین کے بارے میں ایسے بتائیے جیسے ہم اسے دیکھ رہے ہوں؟ کیا سب کچھ قلموں سے لکھا جا چکا اور تقدیریں طے ہو چکی ہیں، یا کوئی نیا کام ہے جو ہم شروع کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ جو کچھ قلموں سے لکھا جا چکا اور تقدیریں طے ہو چکی ہیں (وہی ہے)۔“ میں نے عرض کیا: پھر عمل کس چیز کے لیے ہے، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو، ہر شخص کے لیے وہی کام آسان کر دیا گیا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6532
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 119، حدیث 6562