المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك باب: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَذَّنَ فِينَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، فَخَرَجَ , حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا الْمَسْجِدَ عِنْدَ الشَّجَرَةِ نَزَلَ وَنَزَلْنَا، ثُمَّ رَكِبْنَا فَوَقَفْنَا نَنْتَظِرُ حَتَّى رَكِبَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طَافَ وَطُفْنَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَرَأَ فِيهِمَا قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ ثُمَّ طُفْنَا بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , حَتَّى إِذَا كُنَّا عِنْدَ الْمَرْوَةِ، قَالَ «مَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْدَى فَلْيَحِلَّ» ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، نَوَيْنَا الْحَجَّ قَالَ: «دَخَلَ الْحَجُّ فِي الْعُمْرَةِ» , فَأَصَبْنَا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا وَبَيْنَنَا وَبَيْنَ أَنْ نَأْتِيَ مِنًى أَرْبَعَةُ أَيَّامٍ , فَنَأْتِيَ مِنًى وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مِنْ نِسَائِنَا؟ فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ: أَنْبِئْنَا يَا رَسُولَ اللهِ، كَقَوْمٍ إِنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، قَالَ: «إِنَّ الْحَجَّ قَدْ دَخَلَ فِي الْعُمْرَةِ» قَالَ: لَنَا؟ أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ: «لَا بَلْ لِلْأَبَدِ»(سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) جب ہم مکہ پہنچے تو آپ ﷺ نے طواف کیا اور ہم نے بھی طواف کیا، پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں جن میں قُلْ یٰاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ اور قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ پڑھیں، پھر ہم نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، یہاں تک کہ جب ہم مروہ کے پاس پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ہدی نہ بھیجی ہو وہ حلال ہو جائے۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے تو حج کی نیت کی تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حج عمرے میں داخل ہو گیا۔“ تو ہم نے عورتوں سے مباشرت کی اور خوشبو لگائی، پھر جب ہم پہنچے تو ہمارے اور منیٰ جانے کے درمیان چار دن باقی تھے، ہم نے کہا: ہم منیٰ کیسے جائیں جبکہ ہمارے اعضا ہماری عورتوں کے سبب منی ٹپکا رہے ہوں گے؟ اس پر سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ایسے بتائیے جیسے ہم آج ہی پیدا ہوئے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”حج عمرے میں داخل ہو گیا ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: کیا یہ ہمارے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لیے۔“