المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك باب: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الطَّرِيقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَهْلَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحِلَّهَا وَنَجْعَلَهَا عُمْرَةً، فَأَحْلَلْنَا الْحِلَّ كُلَّهُ، فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّى، إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَمَرَنَا فَأَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: خَرَجْنَا مِنْ أَرْضِنَا , حَتَّى إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مِنًى إِلَّا أَرْبَعٌ , نَخْرُجُ وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا؟ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: «أَتَتَّهِمُونِي وَأَنَا أَمِينُ أَهْلِ السَّمَاءِ وَأَهْلِ الْأَرْضِ؟ أَمَا إِنِّي لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا كَانَ الْهَدْيُ إِلَّا مِنْ مَكَّةَ» وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ سُرَاقَةَ(سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) ہم نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ احرام باندھا، پھر ذوالحجہ کی چار تاریخیں گزرنے پر مکہ پہنچے، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم احرام کھول دیں اور اسے عمرہ بنا لیں، چنانچہ ہم پوری طرح حلال ہو گئے، ہم نے بیت اللہ کا اور صفا و مروہ کے درمیان طواف کیا، یہاں تک کہ جب یوم الترویہ آیا تو آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے حج کا احرام باندھا۔ تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے ایک دوسرے سے کہا: ہم اپنی سرزمین سے (حج کے لیے) نکلے، یہاں تک کہ جب ہمارے اور منیٰ کے درمیان صرف چار دن رہ گئے تو کیا ہم اس حال میں (منیٰ کو) نکلیں کہ ہمارے اعضا منی ٹپکا رہے ہوں؟ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم مجھ پر تہمت لگاتے ہو حالانکہ میں آسمان اور زمین والوں کا امین ہوں؟ سن لو، اگر مجھے پہلے وہ بات معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو ہدی صرف مکہ سے خریدی جاتی۔“ (راوی نے) سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر نہیں کیا۔