حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُنِي وَالْحُسَيْنَ، فَيَقْعُدُ أَحَدُنَا عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَالْآخَرُ عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَيَقُولُ: «اللهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ مجھے اور سیدنا حسین کو پکڑ لیتے، تو ہم میں سے ایک آپ کی دائیں ران پر بیٹھتا اور دوسرا بائیں ران پر، اور آپ فرماتے: ”اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ رَاشِدٍ الْهِلَالِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ: «مَنْ أَحَبَّ هَذَا فَقَدْ أَحَبَّنِي»
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ”جو اس سے محبت رکھے اس نے مجھ سے محبت رکھی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَى ظَهْرِهِ، فَباعَدَهُمَا النَّاسُ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعُوهُمَا بِأَبِي هُمَا وَأُمِّي مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ هَذَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ نماز پڑھ رہے تھے اور سیدنا حسن اور سیدنا حسین آپ کی پیٹھ پر تھے، تو لوگوں نے انہیں دور کرنا چاہا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو، میرے ماں باپ ان پر قربان، جو مجھ سے محبت رکھے وہ ان دونوں سے بھی محبت رکھے۔“
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سَلْمٌ الْحَذَّاءُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي»
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو حسن اور حسین سے محبت رکھے اس نے مجھ سے محبت رکھی، اور جو ان سے بغض رکھے اس نے مجھ سے بغض رکھا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي» . يَعْنِي الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو ان دونوں سے محبت رکھے اس نے مجھ سے محبت رکھی، اور جو ان سے بغض رکھے اس نے مجھ سے بغض رکھا“، یعنی حسن اور حسین سے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي» . يَعْنِي الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو ان دونوں سے محبت رکھے اس نے مجھ سے محبت رکھی، اور جو ان سے بغض رکھے اس نے مجھ سے بغض رکھا“، یعنی حسن اور حسین سے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، وَأَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: ثنا إِسْرَائِيلُ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي حَفْصَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي»
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو حسن اور حسین سے محبت رکھے اس نے مجھ سے محبت رکھی، اور جو ان سے بغض رکھے اس نے مجھ سے بغض رکھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيِّ، ثنا جُمْهُورُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سَيْفُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ: «مَنْ أَحَبَّهُمَا فَبِحُبِّي، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَبِبُغْضِي»
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو حسن اور حسین کے بارے میں فرماتے سنا: ”جو ان سے محبت رکھے تو یہ میری محبت کے سبب ہے، اور جو ان سے بغض رکھے تو یہ میرے بغض کے سبب ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْهَيَّاجِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَرْحَبِيُّ، ثنا عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ الطَّائِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَحَبَّنِي فَقَدْ أَحَبَّهُمَا» . يَعْنِي الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو مجھ سے محبت رکھے اس نے ان دونوں سے بھی محبت رکھی“، یعنی حسن اور حسین سے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ وَكَثِيرٍ النَّوَّاءِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَرَّ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا وَأَبْغِضْ مَنْ أَبْغَضَهُمَا»
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا حسن اور سیدنا حسین، رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما، اور جو ان سے بغض رکھے اس سے تو بھی بغض رکھ۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ بُرْدٍ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا الْمُتَوَكِّلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْرِعٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَيْتِ فَاطِمَةَ فَسَلَّمَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ الْحَسَنُ أَوِ الْحُسَيْنُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْقَ بِأَبِيكَ أَنْتَ عَيْنُ بَقَّةٍ» وَأَخَذَ بِأُصْبُعَيْهِ، فَرَقَى عَلَى عَاتِقِهِ، ثُمَّ خَرَجَ الْآخَرُ الْحَسَنُ أَوِ الْحُسَيْنُ مُرْتَفِعَةً إِحْدَى عَيْنَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَرْحَبًا بِكَ، ارْقَ بِأَبِيكَ أَنْتَ عَيْنُ الْبَقَّةِ» وَأَخَذَ بِأُصْبُعَيْهِ فَاسْتَوَى عَلَى عَاتِقِهِ الْآخَرِ، وَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَقْفِيَتِهِمَا حَتَّى وَضَعَ أَفْوَاهَهُمَا عَلَى فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا»
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے پاس رکے اور سلام کیا، تو حسن یا حسین (رضی اللہ عنہما میں سے ایک) باہر آئے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”چڑھو، تمہارے باپ پر قربان، تم مچھر کی آنکھ ہو،“ اور ان کی انگلیاں پکڑیں، تو وہ آپ کے کندھے پر چڑھ گئے۔ پھر دوسرے، حسن یا حسین، باہر آئے، ان کی ایک آنکھ (کچھ) اونچی تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”خوش آمدید، چڑھو، تمہارے باپ پر قربان، تم مچھر کی آنکھ ہو،“ اور ان کی انگلیاں پکڑیں تو وہ آپ کے دوسرے کندھے پر بیٹھ گئے، اور رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کی گردنیں پکڑ کر ان کے منہ اپنے منہ پر رکھ دیے، پھر فرمایا: ”اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما، اور جو ان سے محبت رکھے اس سے بھی محبت فرما۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعَتْ أُذُنَايَ هَاتَانِ وَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ هَاتَانِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِكَفَّيْهِ جَمِيعًا حَسَنًا أَوْ حُسَيْنًا وَقَدَمَاهُ عَلَى قَدَمَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: «حُزُقَّةُ حُزُقَّةُ ارْقَ عَيْنَ بَقَّةٍ» فَيَرْقى الْغُلَامُ حَتَّى يَضَعَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: «افْتَحْ» . قَالَ: ثُمَّ قَبَّلَهُ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ أَحِبَّهُ فَإِنِّي أُحِبُّهُ»
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے ان دونوں کانوں نے سنا اور میری ان دونوں آنکھوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے حسن یا حسین کے دونوں ہاتھ پکڑ رکھے تھے، اور اس کے دونوں پاؤں رسول اللہ ﷺ کے دونوں پاؤں پر تھے، اور آپ فرما رہے تھے: ”حزقہ حزقہ، چڑھو مچھر کی آنکھ،“ تو وہ بچہ چڑھتا رہا یہاں تک کہ اپنے پاؤں رسول اللہ ﷺ کے سینے پر رکھ دیے، پھر آپ نے اس سے فرمایا: ”(منہ) کھولو۔“ راوی کہتے ہیں: پھر آپ نے اسے بوسہ دیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! اس سے محبت فرما، کیونکہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَخِيهِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ، فَقَالَ: «مَنْ أَحَبَّ هَذَيْنِ وَأَبَاهُمَا وَأُمَّهُمَا كَانَ مَعِي فِي دَرَجَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”جو ان دونوں سے، اور ان کے والد اور والدہ سے محبت رکھے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجے میں ہو گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُسْتُمَ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ: «مَنْ أَحَبَّهُمَا أَحْبَبْتُهُ، وَمَنْ أَحْبَبْتُهُ أَحَبَّهُ اللهُ، وَمَنْ أَحَبَّهُ اللهُ أَدْخَلَهُ جَنَّاتِ النَّعِيمِ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا أَوْ بَغَى عَلَيْهِمَا أَبْغَضْتُهُ، وَمَنْ أَبْغَضْتُهُ أَبْغَضَهُ اللهُ، وَمَنْ أَبْغَضَهُ اللهُ أَدْخَلَهُ عَذَابَ جَهَنَّمَ وَلَهُ عَذَابٌ مُقِيمٌ»
ترجمہ
سیدنا سلمان (فارسی) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین کے بارے میں فرمایا: ”جو ان دونوں سے محبت رکھے، میں اس سے محبت رکھتا ہوں، اور جس سے میں محبت رکھوں اس سے اللہ محبت رکھتا ہے، اور جس سے اللہ محبت رکھے اسے وہ نعمتوں والی جنتوں میں داخل کرے گا، اور جو ان دونوں سے بغض رکھے یا ان پر ظلم کرے، میں اس سے بغض رکھتا ہوں، اور جس سے میں بغض رکھوں اس سے اللہ بغض رکھتا ہے، اور جس سے اللہ بغض رکھے وہ اسے جہنم کے عذاب میں داخل کرے گا، اور اس کے لیے دائمی عذاب ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَلْمَانَ الْمَازِنِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ أَتَى أَبَا هُرَيْرَةَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ مَرْوَانُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: مَا وَجَدْتُ عَلَيْكَ فِي شَيْءٍ مُنْذُ اصْطَحَبْنَا إِلَّا فِي حُبِّكَ اِلْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ. قَالَ: فَتَحَفَّزَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَجَلَسَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ لَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ سَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ وَهُمَا يَبْكِيَانِ وَهُمَا مَعَ أُمِّهِمَا، فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى أَتَاهُمَا، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهَا: «مَا شَأْنُ ابْنَيَّ؟» فَقَالَتِ: الْعَطَشُ. قَالَ: فَأَخْلَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَنَّةٍ يَبْتَغِي فِيهَا مَاءً، وَكَانَ الْمَاءُ يَوْمَئِذٍ أَغْدَارًا، وَالنَّاسُ يُرِيدُونَ الْمَاءَ، فَنَادَى:: «هَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَهُ مَاءٌ؟» فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ إِلَّا أَخْلَفَ بِيَدِهِ إِلَى كُلَّابِهِ يَبْتَغِي الْمَاءَ فِي شَنَّةٍ، فَلَمْ يَجِدْ أَحَدٌ مِنْهُمْ قَطْرَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَاوِلِينِي أَحَدَهُمَا» فَنَاوَلَتْهُ إِيَّاهُ مِنْ تَحْتِ الْخِدْرِ، فَرَأَيْتُ بَيَاضَ ذِرَاعَيْهَا حِينَ نَاوَلَتْهُ، فَأَخَذَهُ فَضَمَّهُ إِلَى صَدْرِهِ وَهُوَ يَطْغُو مَا يَسْكُتُ، فَأَدْلَعَ لَهُ لِسَانَهُ فَجَعَلَ يَمُصُّهُ حَتَّى هَدَأَ أَوْ سَكَنَ، فَلَمْ أَسْمَعْ لَهُ بُكَاءً، وَالْآخَرُ يَبْكِي كَمَا هُوَ مَا يَسْكُتُ، فَقَالَ: «نَاوِلِينِي الْآخَرَ» ، فَنَاوَلَتْهُ إِيَّاهُ فَفَعَلَ بِهِ كَذَلِكَ، فَسَكَتَا فَمَا أَسْمَعُ لَهُمَا صَوْتًا، ثُمَّ قَالَ: «سِيرُوا» ، فَصَدَعْنا يَمِينًا وَشِمَالًا عَنِ الظَّعائِنِ حَتَّى لَقِينَاهُ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ، فَأَنَا لَا أُحِبُّ هَذَيْنِ وَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مروان بن حکم ان کی اس بیماری میں جس میں وہ فوت ہوئے، ان کے پاس آیا، تو مروان نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: جب سے ہم ساتھ رہے ہیں، مجھے آپ سے کسی بات پر ناراضی نہیں ہوئی سوائے حسن اور حسین سے آپ کی محبت کے۔ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سنبھل کر اٹھ بیٹھے اور فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب ہم راستے کے کسی حصے میں تھے تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین کے رونے کی آواز سنی، وہ اپنی والدہ کے ساتھ تھے، تو آپ ﷺ تیزی سے چل کر ان تک پہنچے، تو میں نے آپ کو ان (کی والدہ) سے فرماتے سنا: ”میرے دونوں بیٹوں کو کیا ہوا؟“ انہوں نے عرض کیا: پیاس۔ راوی کہتے ہیں: تو رسول اللہ ﷺ ایک مشکیزے کی طرف بڑھے تاکہ اس میں پانی تلاش کریں، اور اس دن پانی جگہ جگہ تھوڑا تھوڑا تھا، اور لوگ پانی چاہتے تھے، تو آپ ﷺ نے پکارا: ”کیا تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے؟“ کوئی شخص ایسا نہ بچا جس نے اپنے کجاوے کی طرف ہاتھ بڑھا کر مشکیزے میں پانی تلاش نہ کیا ہو، مگر کسی کو ایک قطرہ بھی نہ ملا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے ایک کو میرے حوالے کرو۔“ تو انہوں (والدہ) نے پردے کے نیچے سے آپ کو دے دیا، میں نے دیتے وقت ان کے بازوؤں کی سفیدی دیکھی، تو آپ ﷺ نے اسے لے کر اپنے سینے سے لگا لیا، اور وہ زور سے رو رہا تھا، خاموش نہیں ہو رہا تھا، تو آپ نے اس کے لیے اپنی زبان نکالی، تو وہ اسے چوسنے لگا یہاں تک کہ خاموش ہو گیا یا پرسکون ہو گیا، تو میں نے اس کا رونا نہ سنا، جبکہ دوسرا ویسے ہی رو رہا تھا، خاموش نہیں ہو رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”دوسرے کو میرے حوالے کرو۔“ تو انہوں نے اسے بھی دے دیا، تو آپ نے اس کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا، تو دونوں خاموش ہو گئے، اور میں نے ان کی کوئی آواز نہ سنی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”چلو۔“ تو ہم کجاووں سے دائیں بائیں ہٹ گئے یہاں تک کہ ہم آپ سے راستے کے کھلے حصے میں ملے۔ تو میں ان دونوں سے محبت کیوں نہ رکھوں جبکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ منظر دیکھا ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: «جَاءَ الْحُسَيْنُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَالْتَزَمَ عُنُقَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ بِهِ وَأَخَذَ بِيَدِهِ، فَلَمْ يَزَلْ مُمْسِكَهَا حَتَّى رَكَعَ»
ترجمہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا حسین آئے جبکہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، تو وہ نبی کریم ﷺ کی گردن سے لپٹ گئے، تو آپ ﷺ انہیں لیے ہوئے کھڑے ہو گئے اور ان کا ہاتھ پکڑ لیا، اور رکوع تک انہیں پکڑے رہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَسَوِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُرَنِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَّجَ مَا بَيْنَ فَخِذَيِ الْحُسَيْنِ وَقَبَّلَ زَبِيبَتَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے (ننھے) سیدنا حسین کی دونوں رانیں الگ کیں اور ان کے عضوِ مخصوص کو بوسہ دیا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، فَكَانَ إِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَلَى ظَهْرِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخَذَهُمَا بِيَدِهِ أَخْذًا رَقِيقًا حَتَّى يَضَعَهُمَا عَلَى الْأَرْضِ، فَإِذَا عَادَ عَادَا، حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ وَانْصَرَفَ وَوَضَعَهُمَا عَلَى فَخِذَيْهِ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَذْهَبُ بِهِمَا؟ قَالَ: «لَا» . فَبَرَقَتْ بَرْقَةٌ، فَقَالَ: «الْحَقَا بِأُمِّكُمَا» . فَلَمْ يَزَالَا فِي ضَوْئِهَا حَتَّى دَخَلَا
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے کہ جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما آپ کی پیٹھ پر چڑھ جاتے، تو جب آپ رکوع کرنے کا ارادہ فرماتے تو انہیں نرمی سے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر زمین پر رکھ دیتے، تو جب آپ (سجدے میں) لوٹتے تو وہ دونوں بھی لوٹ آتے، یہاں تک کہ آپ نے اپنی نماز مکمل کی اور فارغ ہو کر انہیں اپنی رانوں پر بٹھا لیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں آپ کی طرف کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا میں انہیں لے جاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ اتنے میں بجلی چمکی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی ماں کے پاس چلے جاؤ۔“ تو وہ اس کی روشنی میں چلتے رہے یہاں تک کہ اندر داخل ہو گئے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ حُمَيْدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عُثْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " كَانَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يُحِبُّهُ حُبًّا شَدِيدًا، فَقَالَ: أَذْهَبُ إِلَى أُمِّي. فَقُلْتُ: أَذْهَبُ مَعَهُ. فَجَاءَتْ بَرْقَةٌ مِنَ السَّمَاءِ فَمَشَى فِي ضَوْئِهَا حَتَّى بَلَغَ "
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس تھے، اور آپ ان سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے، تو انہوں نے کہا: میں اپنی ماں کے پاس جاتا ہوں۔ تو میں نے کہا: میں بھی ان کے ساتھ جاتا ہوں۔ تو آسمان سے بجلی چمکی، تو وہ اس کی روشنی میں چلتے رہے یہاں تک کہ (گھر) پہنچ گئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا مَسْرُوحٌ أَبُو شِهَابٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمْشِي عَلَى أَرْبَعَةٍ وَعَلَى ظَهْرِهِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَهُوَ يَقُولُ: «نِعْمَ الْجَمَلُ جَمَلُكُمَا، وَنِعْمَ الْعِدْلَانِ أَنْتُمَا»
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس گیا تو آپ ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چل رہے تھے، اور آپ کی پیٹھ پر سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما سوار تھے، اور آپ فرما رہے تھے: ”تمہارا اونٹ کیا خوب اونٹ ہے، اور تم دونوں کیا خوب کجاوے ہو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي بَيْتِي: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣] ، وَهِيَ جَالِسَةٌ عَلَى الْبَابِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَسْتُ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ؟ قَالَ: «أَنْتِ إِلَى خَيْرٍ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: یہ آیت میرے گھر میں نازل ہوئی: ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ہر قسم کی گندگی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ [سورۃ الاحزاب: 33]، اور وہ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) دروازے پر بیٹھی تھیں، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم خیر کی طرف ہو۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ فَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ثُمَّ أَدْخَلَهُمْ تَحْتَ ثَوْبِهِ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي» . قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَدْخِلْنِي مَعَهُمْ. قَالَ: «إِنَّكِ مِنْ أَهْلِي»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کو جمع کیا، پھر انہیں اپنی چادر کے نیچے کر لیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! یہی میرے اہل بیت ہیں۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، مجھے بھی ان کے ساتھ داخل کر لیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم بھی میرے اہل میں سے ہو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَةَ: «ائْتِينِي بِزَوْجِكِ وَابْنَيْهِ» . فَجَاءَتْ بِهِمْ، فَأَلْقَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِسَاءً فَدَكِيًّا، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ إِنَّ هَؤُلَاءِ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ فَإِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» . قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: فَرَفَعْتُ الْكِسَاءَ لِأَدْخُلَ مَعَهُمْ، فَجَذَبَهُ مِنْ يَدِي، وَقَالَ: «إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ سے فرمایا: ”اپنے شوہر اور اپنے دونوں بیٹوں کو میرے پاس لاؤ۔“ تو وہ انہیں لے آئیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ایک فدکی چادر ان پر ڈالی، پھر اپنا ہاتھ ان پر رکھا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! یہ آل محمد ہیں، تو اپنی رحمتیں اور برکتیں آل محمد پر نازل فرما، بے شک تو قابلِ تعریف اور بزرگی والا ہے۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے چادر اٹھائی تاکہ ان کے ساتھ داخل ہو جاؤں، تو آپ ﷺ نے وہ میرے ہاتھ سے کھینچ لی اور فرمایا: ”تم خیر پر ہو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو عُبَيْدَةَ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ الْمِنْقَرِيُّ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرِّفَاعِيُّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَةَ: «ائْتِينِي بِزَوْجِكِ وَابْنَيْكِ» . فَجَاءَتْ بِهِمْ، فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِسَاءً، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ هَؤُلَاءِ آلُ مُحَمَّدٍ فَاجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا جَعَلْتَهَا عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ سے فرمایا: ”اپنے شوہر اور اپنے دونوں بیٹوں کو میرے پاس لاؤ۔“ تو وہ انہیں لے آئیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان پر ایک چادر ڈالی، پھر فرمایا: ”اے اللہ! یہ آل محمد ہیں، تو اپنی رحمتیں اور برکتیں آل محمد پر نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم پر نازل کیں، بے شک تو قابلِ تعریف اور بزرگی والا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ الْفَزَارِيُّ، ثنا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ عُدَّيَةً بِثَرِيدٍ لَهَا تَحْمِلُهَا فِي طَبَقٍ لَهَا حَتَّى وَضَعَتْهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ لَهَا: «وَأَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ؟» قَالَتْ: هُوَ فِي الْبَيْتِ. قَالَ: «اذْهَبِي فَادْعِيهِ وائْتِينِي بِابْنَيَّ» . فَجَاءَتْ تَقُودُ ابْنَيْهَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي يَدٍ، وَعَلِيٌّ يَمْشِي فِي أَثَرِهِمَا، حَتَّى دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَسَهُمَا فِي حِجْرِهِ، وَجَلَسَ عَلِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ، وَجَلَسَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي يَسَارِهِ. قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: فَأَخَذَتْ مِنْ تَحْتِي كِسَاءً كَانَ بِسَاطَنَا عَلَى الْمَنَامَةِ فِي الْبَيْتِ بِبُرْمَةٍ فِيهَا خَزِيرَةٌ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْعِي لِي بَعْلَكِ وَابْنَيْكِ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ» . فَدَعَتْهُمْ فَجَلَسُوا جَمِيعًا يَأْكُلُونَ مِنْ تِلْكَ الْبُرْمَةِ. قَالَتْ: وَأَنَا أُصَلِّي فِي تِلْكَ الْحُجْرَةِ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣] ، فَأَخَذَ فَضْلَ الْكِسَاءِ فَغَشَّاهُمْ، ثُمَّ أَخْرَجَ يَدَهُ الْيُمْنَى مِنَ الْكِسَاءِ وَأَلْوَي بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَحَامَتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا» . قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: فَأَدْخَلْتُ رَأْسِيَ الْبَيْتَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَنَا مَعَكُمْ؟ قَالَ: «أَنْتِ عَلَى خَيْرٍ» مَرَّتَيْنِ
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدہ فاطمہ اپنے کچھ ثرید کے ساتھ آئیں، جسے وہ ایک تھالی میں اٹھائے ہوئے تھیں، یہاں تک کہ اسے آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اور تمہارے چچا زاد بھائی کہاں ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: وہ گھر میں ہیں۔ فرمایا: ”جاؤ انہیں بلاؤ اور میرے دونوں بیٹوں کو بھی لے آؤ۔“ تو وہ اپنے دونوں بیٹوں کو، ہر ایک کو ایک ایک ہاتھ سے پکڑ کر لے آئیں، اور سیدنا علی ان کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے، یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ نے دونوں کو اپنی گود میں بٹھا لیا، اور سیدنا علی آپ کے دائیں طرف بیٹھے، اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے بائیں طرف بیٹھیں۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو میں نے اپنے نیچے سے ایک چادر لی جو گھر میں سونے کی جگہ پر ہمارا بستر تھی، اور اس میں ایک ہانڈی تھی جس میں خزیرہ (گوشت اور آٹے کا سالن) تھا، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”میرے لیے اپنے شوہر اور اپنے دونوں بیٹوں حسن اور حسین کو بلاؤ۔“ تو انہوں نے انہیں بلایا، تو وہ سب اکٹھے بیٹھ گئے اور اس ہانڈی سے کھانے لگے۔ وہ کہتی ہیں: اور میں اس حجرے میں نماز پڑھ رہی تھی، تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ہر قسم کی گندگی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ [سورۃ الاحزاب: 33]، تو آپ ﷺ نے چادر کا بچا ہوا حصہ اٹھایا اور انہیں ڈھانپ لیا، پھر اپنا دایاں ہاتھ چادر سے نکالا اور اسے آسمان کی طرف بلند کیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت اور میرے خاص لوگ ہیں، تو ان سے گندگی دور فرما اور انہیں خوب پاک کر دے۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے اپنا سر گھر کے اندر داخل کیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا میں بھی آپ کے ساتھ ہوں؟ آپ ﷺ نے دو بار فرمایا: ”تم خیر پر ہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ عَطِيَّةَ أَبِي الْمُعَذِّلِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: اعْتَنَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ بِيَدٍ، وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا بِيَدٍ، وعَطَفَ عَلَيْهِمْ خَمِيصَةً كَانَتْ عَلَيْهِ سَوْدَاءَ، وَقَبَّلَ عَلِيًّا وَقَبَّلَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ إِلَيْكَ لَا إِلَى النَّارِ أَنَا وَأَهْلُ بَيْتِي» . قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: قُلْتُ: وَأَنَا؟ قَالَ: «وَأَنْتِ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک ہاتھ سے سیدنا علی اور سیدہ فاطمہ کو گلے لگایا، اور دوسرے ہاتھ سے سیدنا حسن اور سیدنا حسین کو، اور اپنی ایک سیاہ خمیصہ (چادر) جو آپ پر تھی، ان پر لپیٹ دی، اور سیدنا علی کو بوسہ دیا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کو بوسہ دیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! تیری طرف، نہ کہ آگ کی طرف، میں اور میرے اہل بیت۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اور میں؟ فرمایا: ”تم بھی۔“
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَعْفَرٌ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ بِطُعَيمٍ لَهَا إِلَى أَبِيهَا وَهُوَ عَلَى مَنَامَةٍ لَهُ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ: «اذْهَبِي فَادْعِي ابْنَيَّ وَابْنَ عَمِّكِ» . فَجَاءُوا فَجَلَّلَهُمْ بِكِسَاءٍ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَحَامَتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا» . قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَأَنَا مَعَهُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «أَنْتِ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى - أَوْ عَلَى - خَيْرٍ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ اپنے کچھ کھانے کے ساتھ اپنے والد کے پاس آئیں، وہ سیدہ ام سلمہ کے گھر میں اپنے بستر پر تھے، وہ کہتی ہیں: آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ میرے دونوں بیٹوں اور اپنے چچا زاد بھائی کو بلاؤ۔“ تو وہ آ گئے، تو آپ ﷺ نے انہیں ایک چادر سے ڈھانپ دیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت اور میرے خاص لوگ ہیں، تو ان سے گندگی دور فرما اور انہیں خوب پاک کر دے۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اور میں بھی ان کے ساتھ ہوں یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نبی ﷺ کی بیوی ہو، اور خیر کی طرف - یا خیر پر - ہو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ كُلْثُومِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، إِذْ ذَكَرُوا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَشَتَمُوهُ، فَلَمَّا قَامُوا، قَالَ: اجْلِسْ حَتَّى أُخْبِرَكَ عَنْ هَذَا الَّذِي شَتَمُوا، إِنِّي عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ جَاءَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ كِسَاءً لَهُ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، اللهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا» . فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَأَنَا؟ قَالَ: «وَأَنْتَ» . قَالَ: فَوَاللهِ إِنَّهَا لَأَوْثَقُ عَمَلٍ فِي نَفْسِي
ترجمہ
ابوعمار رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اور انہیں برا بھلا کہا، جب وہ لوگ اٹھ کر چلے گئے تو سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نے (مجھ سے) کہا: بیٹھو، میں تمہیں اس شخصیت کے بارے میں بتاتا ہوں جسے انہوں نے برا بھلا کہا ہے: میں ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا کہ سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم آئے، تو آپ ﷺ نے اپنی چادر ان پر ڈال دی، پھر فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں، اے اللہ! ان سے گندگی دور فرما اور انہیں خوب پاک کر دے۔“ تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، اور میں؟ فرمایا: ”تم بھی۔“ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ میرے نزدیک میرا سب سے زیادہ قابلِ اعتماد عمل ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ التِّنِّيسِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ شَدَّادٌ، قَالَ: قَالَ وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيُّ: كُنْتُ أُرِيدُ عَلِيًّا فَلَمْ أَجِدْ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: انْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُ حَتَّى يَأْتِيَ. قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَ، فَدَخَلْتُ مَعَهُمَا، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا، فَأَجْلَسَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى فَخِذِهِ، وَأَدْنَى فَاطِمَةَ مِنْ حِجْرِهِ، ثُمَّ لَفَّ عَلَيْهِمْ ثَوْبَهُ وَأَنَا مُسْتَنِدٌ، ثُمَّ قَالَ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبُ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣] ، ثُمَّ قَالَ: «هَؤُلَاءِ أَهْلِي» . قَالَ وَاثِلَةُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَأَنَا مِنْ أَهْلِكَ؟ قَالَ: «وَأَنْتَ مِنْ أَهْلِي» . قَالَ وَاثِلَةُ: إِنَّهُ لَأَرْجَى مَا أَرْجُوهُ
ترجمہ
سیدنا واثلہ بن اسقع لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ملنا چاہتا تھا مگر نہ ملا، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ رسول اللہ ﷺ کو بلانے گئے ہیں، آپ ﷺ کے آنے تک (انتظار کرو)۔ راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور سیدنا علی بھی آئے، تو میں ان دونوں کے ساتھ اندر داخل ہوا، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین کو بلایا، اور ان میں سے ہر ایک کو اپنی ران پر بٹھایا، اور سیدہ فاطمہ کو اپنی گود کے قریب کیا، پھر اپنا کپڑا ان پر لپیٹ دیا جبکہ میں (ایک طرف) ٹیک لگائے کھڑا تھا، پھر فرمایا: ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ہر قسم کی گندگی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ [سورۃ الاحزاب: 33]، پھر فرمایا: ”یہ میرے اہل ہیں۔“ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا میں بھی آپ کے اہل میں سے ہوں؟ فرمایا: ”ہاں، تم بھی میرے اہل میں سے ہو۔“ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ میری سب سے بڑی امید ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمُرُّ بِبَيْتِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا سِتَّةَ أَشْهُرٍ إِذَا خَرَجَ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ يَقُولُ: «يَا أَهْلَ الْبَيْتِ» الصَّلَاةَ، {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣]
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ چھ ماہ تک سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے پاس سے گزرتے، جب فجر کی نماز سے نکلتے تو فرماتے: ”اے اہل بیت! نماز“، ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ہر قسم کی گندگی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ [سورۃ الاحزاب: 33]۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ أَبِي الْأَسْوَدِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَمْرَاءِ يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي بَابَ فَاطِمَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَيَقُولُ: " {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣] "
ترجمہ
سیدنا ابوالحمراء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ چھ ماہ تک سیدہ فاطمہ کے دروازے پر آتے اور فرماتے: ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ہر قسم کی گندگی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ [سورۃ الاحزاب: 33]۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَعَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: " نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ} [الأحزاب: ٣٣] أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ "
ترجمہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ آیت نازل ہوئی: ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ہر قسم کی گندگی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ [سورۃ الاحزاب: 33]، رسول اللہ ﷺ، سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کے بارے میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ تَعَالَى قَسَّمَ الْخَلْقَ قِسْمَيْنِ، فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهَا قِسْمًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {وَأَصْحَابُ الْيَمِينِ} [الواقعة: ٢٧] {وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ} [الواقعة: ٤١] ، فَأَنَا مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ، وَأَنَا مِنْ خَيْرِ أَصْحَابِ الْيَمِينِ، ثُمَّ جَعَلَ الْقِسْمَيْنِ بُيُوتًا، فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمَا بَيْتًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ، وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ، وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ} [الواقعة: ٩] ، فَأَنَا مِنْ خَيْرِ السَّابِقِينَ، ثُمَّ جَعَلَ الْبُيُوتَ قَبَائِلَ، فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهَا قَبِيلَةً، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {شُعُوبًا وَقَبَائِلَ} [الحجرات: ١٣] ، فَأَنَا أَتْقَى وَلَدِ آدَمَ وَأَكْرَمُهُمْ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا فَخْرَ، ثُمَّ جَعَلَ الْقَبَائِلَ بُيُوتًا، فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهَا بَيْتًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣]
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو دو حصوں میں تقسیم کیا، تو مجھے ان میں سے بہتر حصے میں رکھا، تو یہی اس کا فرمان ہے: ”اور داہنے ہاتھ والے“ [سورۃ الواقعہ: 27]، ”اور بائیں ہاتھ والے“ [سورۃ الواقعہ: 41]، تو میں داہنے ہاتھ والوں میں سے ہوں، اور میں داہنے ہاتھ والوں میں سب سے بہتر ہوں۔ پھر دونوں حصوں کو گھرانوں میں تقسیم کیا، تو مجھے ان میں سے بہتر گھرانے میں رکھا، تو یہی اس کا فرمان ہے: ”تو داہنی طرف والے، کیا ہیں داہنی طرف والے؟ اور بائیں طرف والے، کیا ہیں بائیں طرف والے؟ اور سبقت لے جانے والے، وہی سبقت لے جانے والے ہیں“ [سورۃ الواقعہ]، تو میں سبقت لے جانے والوں میں سب سے بہتر ہوں۔ پھر گھرانوں کو قبیلوں میں تقسیم کیا، تو مجھے ان میں سے بہتر قبیلے میں رکھا، تو یہی اس کا فرمان ہے: ”قومیں اور قبیلے“ [سورۃ الحجرات: 13]، تو میں اولادِ آدم میں سب سے متقی اور اللہ عزوجل کے ہاں سب سے معزز ہوں، اور (میں یہ بات) فخر کے طور پر نہیں (کہتا)۔ پھر قبیلوں کو گھرانوں میں تقسیم کیا، تو مجھے ان میں سے بہتر گھرانے میں رکھا، تو یہی اس کا فرمان ہے: ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ہر قسم کی گندگی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ [سورۃ الاحزاب: 33]۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الْمَكِّيِّ الْهِلَالِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَكَاتِهِ الَّتِي قُبِضَ فِيهَا، فَإِذَا فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عِنْدَ رَأْسِهِ. قَالَ: فَبَكَتْ حَتَّى ارْتَفَعَ صَوْتُهَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرْفَهُ إِلَيْهَا، فَقَالَ: «حَبِيبَتِي فَاطِمَةُ مَا الَّذِي يُبْكِيكِ؟» فَقَالَتْ: أَخْشَى الضَّيْعَةَ مِنْ بَعْدِكَ. فَقَالَ: " يَا حَبِيبَتِي، أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ اطَّلَعَ إِلَى الْأَرْضِ اطِّلَاعَةً فَاخْتَارَ مِنْهَا أَبَاكِ فَبُعِثَ بِرِسَالَتِهِ، ثُمَّ اطَّلَعَ اطِّلَاعَةً فَاخْتَارَ مِنْهَا بَعْلَكِ وَأَوْحَى إِلَيَّ أَنْ أُنْكِحَكِ إِيَّاهُ، يَا فَاطِمَةُ وَنَحْنُ أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ أَعْطَانَا اللهُ سَبْعَ خِصَالٍ لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ قَبْلِنَا، وَلَا يُعْطَى أَحَدٌ بَعْدَنَا: أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَأَكْرَمُ النَّبِيِّينَ عَلَى اللهِ، وَأَحَبُّ الْمَخْلُوقِينَ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَنَا أَبُوكِ، وَوَصِيِّي خَيْرُ الْأَوْصِيَاءِ وَأَحَبُّهُمُ إِلَى اللهِ، وَهُوَ بَعْلُكِ، وشَهِيدُنا خَيْرُ الشُّهَدَاءِ وَأَحَبُّهُمْ إِلَى اللهِ، وَهُوَ عَمُّكِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَهُوَ عَمُّ أَبِيكِ، وَعَمُّ بَعْلِكِ، وَمِنَّا مَنْ لَهُ جَنَاحَانِ أَخْضَرَانِ يَطِيرُ فِي الْجَنَّةِ مَعَ الْمَلَائِكَةِ حَيْثُ يَشَاءُ، وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِيكِ وَأَخُو بَعْلِكِ، وَمِنَّا سِبْطَا هَذِهِ الْأُمَّةِ، وَهُمَا ابْنَاكِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، وَهُمَا سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَبُوهُمَا وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ خَيْرٌ مِنْهُمَا، يَا فَاطِمَةُ وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ إِنَّ مِنْهُمَا مَهْدِيَّ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِذَا صَارَتِ الدُّنْيَا هَرْجًا وَمَرْجًا، وَتَظَاهَرَتِ الْفِتَنُ، وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ، وَأَغَارَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَلَا كَبِيرَ يَرْحَمُ صَغِيرًا، وَلَا صَغِيرَ يُوَقِّرُ كَبِيرًا، فَيَبْعَثُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ ذَلِكَ مِنْهُمَا مَنْ يَفْتَتِحُ حُصُونَ الضَّلَالَةِ، وَقُلُوبًا غُلْفًا، يَقُومُ بِالدِّينِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ كَمَا قُمْتُ بِهِ فِي أَوَّلِ الزَّمَانِ، وَيَمْلَأُ الدُّنْيَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا، يَا فَاطِمَةُ لَا تَحْزَني وَلَا تَبْكِي؛ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْحَمُ بِكِ وَأَرْأَفُ عَلَيْكِ مِنِّي، وَذَلِكَ لِمَكَانِكِ مِنِّي، ومَوْضِعِكِ مِنْ قَلْبِي، وزَوَّجَكِ اللهُ زَوْجَكِ وَهُوَ أَشْرَفُ أَهْلِ بَيْتِكِ حَسَبًا، وَأَكْرَمُهُمْ مَنْصِبًا، وأَرْحَمُهُمْ بِالرَّعِيَّةِ، وَأَعْدَلُهُمْ بِالسَّوِيَّةِ، وأَبْصَرُهمْ بِالْقَضِيَّةِ، وَقَدْ سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَكُونِي أَوَّلَ مَنْ يَلْحَقُنِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِي ". قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «فَلَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ تَبْقَ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بَعْدَهُ إِلَّا خَمْسَةً وَسَبْعِينَ يَوْمًا حَتَّى أَلْحَقَهَا اللهُ بِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
علی بن علی الہلالی کے والد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کی اُس بیماری کے دوران آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جس میں آپ ﷺ کا وصال ہوا، تو دیکھا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے سرہانے تھیں۔ وہ رونے لگیں یہاں تک کہ ان کی آواز بلند ہو گئی، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی نگاہ ان کی طرف اٹھائی اور فرمایا: ”میری پیاری فاطمہ! تمہیں کیا چیز رلا رہی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: مجھے آپ کے بعد بےکسی کا ڈر ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے میری پیاری بیٹی! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ عزوجل نے زمین پر ایک نظر ڈالی تو اس میں سے تمہارے والد کو چن لیا اور اپنی رسالت کے ساتھ بھیجا، پھر دوبارہ نظر ڈالی تو اس میں سے تمہارے شوہر کو چن لیا اور مجھے وحی کی کہ میں تمہارا نکاح اس سے کر دوں۔ اے فاطمہ! ہم ایک ایسا گھرانہ ہیں جسے اللہ نے سات خصلتیں عطا کی ہیں جو ہم سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں اور نہ ہمارے بعد کسی کو دی جائیں گی: میں خاتم النبیین ہوں، اور اللہ کے ہاں سب سے معزز نبی ہوں، اور مخلوقات میں اللہ عزوجل کو سب سے زیادہ محبوب ہوں، اور میں تمہارا باپ ہوں؛ اور میرا وصی، اوصیاء میں سب سے بہتر اور اللہ کے ہاں ان میں سب سے زیادہ محبوب ہے، اور وہ تمہارا شوہر ہے؛ اور ہمارا شہید، شہداء میں سب سے بہتر اور اللہ کے ہاں ان میں سب سے زیادہ محبوب ہے، اور وہ تمہارا چچا حمزہ بن عبدالمطلب ہے، جو تمہارے والد کا چچا اور تمہارے شوہر کا چچا ہے؛ اور ہم میں سے ایک ایسا شخص ہے جس کے دو سبز پر ہیں، وہ جنت میں فرشتوں کے ساتھ جہاں چاہے اڑتا ہے، اور وہ تمہارے والد کا چچا زاد اور تمہارے شوہر کا بھائی ہے؛ اور ہم میں سے اس امت کے دو نواسے ہیں، اور وہ تمہارے دونوں بیٹے حسن اور حسین ہیں، وہ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں، اور ان کا باپ - اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا - ان دونوں سے بہتر ہے۔ اے فاطمہ! اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا، انہی دونوں میں سے اس امت کا مہدی ہو گا، جب دنیا میں انتشار اور افراتفری ہو گی، فتنے ظاہر ہوں گے، راستے کٹ جائیں گے، اور لوگ ایک دوسرے پر حملہ کریں گے، تو نہ کوئی بڑا کسی چھوٹے پر رحم کرے گا اور نہ کوئی چھوٹا کسی بڑے کی عزت کرے گا، تو اللہ عزوجل اس وقت انہی میں سے کسی کو اٹھائے گا جو گمراہی کے قلعے اور بند دل کھولے گا، وہ آخری زمانے میں دین کو ویسے ہی قائم کرے گا جیسے میں نے زمانے کے آغاز میں قائم کیا، اور دنیا کو انصاف سے بھر دے گا جیسے وہ ظلم سے بھری ہو گی۔ اے فاطمہ! غم نہ کرو اور نہ روؤ، کیونکہ اللہ عزوجل مجھ سے زیادہ تم پر مہربان اور رحم کرنے والا ہے، اور یہ اس لیے ہے کہ تمہارا مجھ سے کیا مقام ہے اور میرے دل میں تمہاری کیا جگہ ہے۔ اور اللہ نے تمہارا نکاح تمہارے شوہر سے کیا ہے، جو تمہارے گھرانے میں نسب کے اعتبار سے سب سے شریف، منصب میں سب سے معزز، رعایا پر سب سے زیادہ مہربان، برابری میں سب سے زیادہ عادل، اور فیصلے میں سب سے زیادہ بصیرت رکھنے والا ہے۔ اور میں نے اپنے رب عزوجل سے سوال کیا ہے کہ تم میرے اہل بیت میں سے سب سے پہلے مجھ سے آ ملو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”جب نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے بعد صرف پچھتر دن زندہ رہیں یہاں تک کہ اللہ نے انہیں آپ ﷺ سے ملا دیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ، وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا، فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا} [النصر: ٢] ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا جِبْرِيلُ نَفْسِي قَدْ نُعِيَتْ» . قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: الْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأُولَى، ولَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى. فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا أَنْ يُنَادِيَ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً، فَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ خَطَبَ خُطْبَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ وَبَكَتِ الْعُيُونُ، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ نَبِيٍّ كُنْتُ لَكُمْ؟» فَقَالُوا: جَزَاكَ اللهُ مِنْ نَبِيٍّ خَيْرًا؛ فَلَقَدْ كُنْتَ بِنَا كَالْأَبِ الرَّحِيمِ، وَكَالْأَخِ النَّاصِحِ الْمُشْفِقِ، أَدَّيْتَ رِسَالَاتِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وأَبْلَغْتَنَا وَحَيَهُ، وَدَعَوْتَ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكِ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ، فَجَزَاكَ اللهُ عَنَّا أَفْضَلَ مَا جَازَى نَبِيًّا عَنْ أُمَّتِهِ. فَقَالَ لَهُمْ: " مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ، أَنَا أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ وبِحَقِّي عَلَيْكُمْ، مَنْ كَانَتْ لَهُ قِبَلِي مَظْلَمَةٌ فَلْيَقُمْ فَلْيَقْتَصَّ مِنِّي. فَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ أَحَدٌ، فَنَاشَدَهُمُ الثَّانِيَةَ، فَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ أَحَدٌ، فَنَاشَدَهُمُ الثَّالِثَةَ: مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ وبِحَقِّي عَلَيْكُمْ مَنْ كَانَتْ لَهُ قِبَلِي مَظْلَمَةٌ فَلْيَقُمْ فَلْيَقْتَصَّ مِنِّي قَبْلَ الْقِصَاصِ فِي الْقِيَامَةِ ". فَقَامَ مِنْ بَيْنِ الْمُسْلِمِينَ شَيْخٌ كَبِيرٌ يُقَالُ لَهُ عُكَّاشَةُ، فَتَخَطَّى الْمُسْلِمِينَ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، لَوْلَا أَنَّكَ ناشَدْتَنَا مَرَّةً بَعْدَ أُخْرَى مَا كُنْتُ بِالَّذِي يُقْدِمُ عَلَى شَيْءٍ مِنْ هَذَا، كُنْتُ مَعَكَ فِي غَزَاةٍ، فَلَمَّا فَتَحَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْنَا وَنَصَرَ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وكُنَّا فِي الِانْصِرَافِ حَاذَتْ نَاقَتِي نَاقَتَكَ فَنَزَلْتُ عَنِ النَّاقَةِ، وَدَنَوْتُ مِنْكَ لِأُقَبِّلَ فَخِذَكَ، فَرَفَعْتَ الْقَضِيبَ فَضَرَبْتَ خَاصِرَتِي، وَلَا أَدْرِي أَكَانَ عَمْدًا مِنْكَ، أَمْ أَرَدْتَ ضَرْبَ النَّاقَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُعِيذُكَ بِجِلَالِ اللهِ أَنْ يَتَعَمَّدَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالضَّرْبِ، يَا بِلَالُ انْطَلِقْ إِلَى مَنْزِلِ فَاطِمَةَ وَائْتِنِي بِالْقَضِيبِ الْمَمْشُوقِ» . فَخَرَجَ بِلَالٌ مِنَ الْمَسْجِدِ وَيَدُهُ عَلَى أُمِّ رَأْسِهِ، وَهُوَ يُنَادِي: هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْقِصَاصَ مِنْ نَفْسِهِ. فَقَرَعَ الْبَابَ عَلَى فَاطِمَةَ، فَقَالَ: يَا بِنْتَ رَسُولِ اللهِ نَاوِلِينِي الْقَضِيبَ الْمَمْشُوقَ. فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: يَا بِلَالُ وَمَا يَصْنَعُ أَبِي بِالْقَضِيبِ وَلَيْسَ هَذَا يَوْمَ حَجٍّ وَلَا يَوْمَ غَزَاةٍ؟ فَقَالَ: يَا فَاطِمَةُ مَا أَغْفَلَكِ عَمَّا فِيهِ أَبُوكِ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَدِّعُ الدِّينَ وَيُفَارِقُ الدُّنْيَا، وَيُعْطِي الْقِصَاصَ مِنْ نَفْسِهِ. فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا بِلَالُ وَمَنْ ذَا الَّذِي تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَقْتَصَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ يَا بِلَالُ فَقُلْ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ يَقُومَانِ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فَيَقْتَصُّ مِنْهُمَا، وَلَا يَدَعانِهِ يَقْتَصُّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَدَخَلَ بِلَالٌ الْمَسْجِدَ، وَدَفَعَ الْقَضِيبَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَضِيبَ إِلَى عُكَّاشَةَ، فَلَمَّا نَظَرَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِلَى ذَلِكَ، قَامَا فَقَالَا: يَا عُكَّاشَةُ هَذَانِ نَحْنُ بَيْنَ يَدَيْكَ فَاقْتَصَّ مِنَّا، وَلَا تَقْتَصَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «امْضِ يَا أَبَا بَكْرٍ وَأَنْتَ يَا عُمَرُ، فَامْضِ فَقَدْ عَرَفَ اللهُ مَكَانَكُمَا ومَقامَكُمَا» . فَقَامَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: يَا عُكَّاشَةُ أَنَا فِي الْحَيَاةِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تَطِيبُ نَفْسِي أَنْ يُضْرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَذَا ظَهْرِي وَبَطْنِي، اقْتَصَّ مِنِّي بِيَدِكَ وَاجْلِدْني مِئَةً، وَلَا تَقْتَصَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ اقْعُدْ فَقَدْ عَرَفَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مَقَامَكَ ونِيَّتَكَ» . وَقَامَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَا: يَا عُكَّاشَةُ أَلَيْسَ تَعْلَمُ أَنَا سِبْطَا رَسُولِ اللهِ؟ فَالْقِصَاصُ مِنَّا كَالْقِصَاصِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ لَهُمَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْعُدَا يَا قُرَّةَ عَيْنِي، لَا نَسِيَ اللهُ لَكُمَا هَذَا الْمُقَامَ» . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عُكَّاشَةُ اضْرِبْ إِنْ كُنْتَ ضارِبًا» . فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ضَرَبْتَني وَأَنَا حاسِرٌ عَنْ بَطْنِي. فَكَشَفَ عَنْ بَطْنِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَاحَ الْمُسْلِمُونَ بِالْبُكَاءِ، وَقَالُوا: أَتُرَى عُكَّاشَةُ ضَارِبٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَلَمَّا نَظَرَ عُكَّاشَةُ إِلَى بَيَاضِ بَطْنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ الْقَبَاطِيُّ، لَمْ يَمْلِكْ أَنْ كَبَّ عَلَيْهِ وَقَبَّلَ بَطْنَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: فِدَاءٌ لَكَ أَبِي وَأُمِّي، وَمَنْ تُطِيقُ نَفْسُهُ أَنْ يَقْتَصَّ مِنْكَ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِمَّا أَنْ تَضْرِبَ، وَإِمَّا أَنْ تَعْفُوَ» . فَقَالَ: قَدْ عَفَوْتُ عَنْكَ رَجَاءَ أَنْ يَعْفُوَ اللهُ عَنِّي فِي الْقِيَامَةِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا الشَّيْخِ» . فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ، فَجَعَلُوا يُقَبِّلُونَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْ عُكَّاشَةَ، وَيَقُولُونَ: طُوبَاكَ طُوباكَ، نِلْتَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى وَمُرَافَقَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَمَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ، فَكَانَ مَرِيضًا ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا يَعُودُهُ النَّاسُ، وَكَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُلِدَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَبُعِثَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَقُبِضَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، فَلَمَّا كَانَ فِي يَوْمِ الْأَحَدِ ثَقُلَ فِي مَرَضِهِ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ، ثُمَّ وَقَفَ بِالْبَابِ فَنَادَى: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَرَحْمَةُ اللهِ، الصَّلَاةَ رَحِمَكَ اللهُ. فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ بِلَالٍ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا بِلَالُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ. فَدَخَلَ بِلَالٌ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا أَسْفَرَ الصُّبْحُ، قَالَ: وَاللهِ لَا أُقِيمُهَا أَوْ أَسْتَأْذِنَ سَيِّدِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَرَجَعَ فَقَامَ بِالْبَابِ وَنَادَى: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، الصَّلَاةَ يَرْحَمُكَ اللهُ. فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ بِلَالٍ، فَقَالَ: «ادْخُلْ يَا بِلَالُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ، مُرْ أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّ بِالنَّاسِ» . فَخَرَجَ وَيَدُهُ عَلَى أُمِّ رَأْسِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاغَوْثَا بِاللهِ، وَانْقِطَاعَ رَجَائِهِ، وَانْقِطَاعَ رَجَائِهِ، وَانْقِصامَ ظَهْرِي، لَيْتَنِي لَمْ تَلِدْنِي أُمِّي، وَإِذْ وَلَدَتْنِي لَمْ أَشْهَدْ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْيَوْمَ. ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَا إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ. فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلنَّاسِ، وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى خَلْوَةِ الْمَكَانِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَمَالَكْ أَنْ خَرَّ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ، وَصَاحَ الْمُسْلِمُونَ بِالْبُكَاءِ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَجِيجَ النَّاسِ، فَقَالَ: «مَا هَذِهِ الضَّجَّةُ؟» ، قَالُوا: ضَجَّةُ الْمُسْلِمِينَ لِفَقْدِكَ يَا رَسُولَ اللهِ. فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَاتَّكَأَ عَلَيْهِمَا، فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ الْمَلِيحِ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، أَسْتَوْدِعُكمُ اللهَ، أَنْتُمْ فِي رَجَاءِ اللهِ وَأَمَانِهِ، وَاللهُ خِلْفَتِي عَلَيْكُمْ، مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ، عَلَيْكُمْ بِاتِّقَاءِ اللهِ وَحِفْظِ طَاعَتِهِ مِنْ بَعْدِي، فَإِنِّي مُفَارِقٌ الدُّنْيَا، هَذَا أَوَّلُ يَوْمٍ مِنَ الْآخِرَةِ، وَآخِرُ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا» . فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ اشْتَدَّ بِهِ الْأَمْرُ، وَأَوْحَى الله عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مَلَكِ الْمَوْتِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اهْبِطْ إِلَى حَبِيبِي وَصَفِيِّي مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، وارْفُقْ بِهِ فِي قَبْضِ رُوحِهِ، فَهَبَطَ مَلَكُ الْمَوْتِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَقَفَ بِالْبَابِ شِبْهَ أَعْرَابِيٍّ، ثُمَّ قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ بَيْتِ النُّبُوَّةِ، وَمَعْدِنَ الرِّسَالَةِ، وَمُخْتَلَفَ الْمَلَائِكَةِ، أَدْخُلُ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لِفَاطِمَةَ: أَجِيبِي الرَّجُلَ. فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: آجَرَكَ اللهُ فِي مَمْشَاكَ يَا عَبْدَ اللهِ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ. فَدَعَا الثَّانِيَةَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا فَاطِمَةُ أَجِيبِي الرَّجُلَ. فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: آجَرَكَ اللهُ فِي مَمْشَاكَ يَا عَبْدَ اللهِ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ. ثُمَّ دَعَا الثَّالِثَةَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ بيت النُّبُوَّةِ، وَمَعْدِنَ الرِّسَالَةِ، وَمُخْتَلَفَ الْمَلَائِكَةِ، أَأَدْخُلُ؟ فَلَابُدَّ مِنَ الدُّخُولِ. فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ مَلَكِ الْمَوْتِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ مَنْ بِالْبَابِ؟» فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ رَجُلًا بِالْبَابِ يَسْتَأْذِنُ فِي الدُّخُولِ، فَأَجَبْناهُ مَرَّةً بَعْدَ أُخْرَى، فَنَادَى فِي الثَّالِثَةِ صَوْتًا اقْشَعَرَّ مِنْهُ جِلْدِي، وارْتَعَدَتْ فَرَائِصِي. فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا فَاطِمَةُ، أَتَدْرِينَ مَنْ بِالْبَابِ؟ هَذَا هَادِمُ اللَّذَّاتِ، ومُفَرِّقُ الْجَمَاعَاتِ، هَذَا مُرَمِّلُ الْأَزْوَاجِ، ومُوتِمُ الْأَوْلَادِ، هَذَا مُخَرِّبُ الدُّورِ، وَعَامِرُ الْقُبُورِ، هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ادْخُلْ رَحِمَكَ اللهُ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ» . فَدَخَلَ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَلَكَ الْمَوْتِ، جِئْتَنِي زَائِرًا أَمْ قَابِضًا؟» قَالَ: جِئْتُكَ زَائِرًا وَقَابِضًا، وَأَمَرَنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا أَدْخُلَ عَلَيْكَ إِلَّا بِإِذْنِكَ، وَلَا أَقْبِضَ رُوحُكَ إِلَّا بِإِذْنِكَ، فَإِنْ أَذِنْتَ وَإِلَّا رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَلَكَ الْمَوْتِ، أَيْنَ خَلَّفْتَ حَبِيبِي جِبْرِيلَ؟» قَالَ: خَلَّفْتُهُ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَالْمَلَائِكَةُ يُعَزُّونَهُ فِيكَ، فَمَا كَانَ بِأَسْرَعِ أَنْ أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا جِبْرِيلُ، هَذَا الرَّحِيلُ مِنَ الدُّنْيَا، فَبَشِّرْنِي مَا لِي عِنْدَ اللهِ» ؟ قَالَ: أُبَشِّرُكَ يَا حَبِيبَ اللهِ أَنِّي قَدْ تَرَكْتُ أَبْوَابَ السَّمَاءِ قَدْ فُتِحَتْ، وَالْمَلَائِكَةَ قَدْ قَامُوا صُفُوفًا صُفُوفًا بِالتَّحِيَّةِ وَالرَّيْحَانِ يُحَيُّونَ رُوحَكَ يَا مُحَمَّدُ. فَقَالَ: «لِوَجْهِ رَبِّيَ الْحَمْدُ، وَبَشِّرْنِي يَا جِبْرِيلُ» . قَالَ: أُبَشِّرُكَ أَنَّ أَبْوَابَ الْجِنَانِ قَدْ فُتِحَتْ، وَأَنْهَارَهَا قَدِ اطَّرَدَتْ، وأَشْجَارَهَا قَدْ تَدَلَّتْ، وحُورَهَا قَدْ تَزَيَّنَتْ لِقُدُومِ رُوحِكِ يَا مُحَمَّدُ. قَالَ: «لِوَجْهِ رَبِّي الْحَمْدُ، فَبَشِّرْنِي يَا جِبْرِيلُ» . قَالَ: أَنْتَ أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ فِي الْقِيَامَةِ. قَالَ: «لِوَجْهِ رَبِّيَ الْحَمْدُ» . قَالَ جِبْرِيلُ: يَا حَبِيبِي، عَمَّ تَسْأَلُنِي؟ قَالَ: «أَسْأَلُكَ عَنْ غَمِّي وَهَمِّي، مَنْ لِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ مِنْ بَعْدِي؟ مَنْ لِصَومِ شَهْرِ رَمَضَانَ مِنْ بَعْدِي؟ مَنْ لحَاجِّ بَيْتِ اللهِ الْحَرَامِ مِنْ بَعْدِي؟ مَنْ لِأُمَّتِي الْمُصْفَاةِ مِنْ بَعْدِي؟» قَالَ: أَبْشِرْ يَا حَبِيبَ اللهِ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: قَدْ حُرِّمَتِ الْجَنَّةُ عَلَى جَمِيعِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْأُمَمِ حَتَّى تُدَاخِلَهَا أَنْتَ وَأُمَّتُكَ يَا مُحَمَّدُ. قَالَ: «الْآنَ طَابَتْ نَفْسِي، إِذَنْ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ فَانْتَهِ إِلَى مَا أُمِرْتَ» . فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِذَا أَنْتَ قُبِضْتَ فَمَنْ يُغَسِّلُكَ؟ وَفِيمَ نُكَفِّنُكَ؟ وَمَنْ يُصَلَّى عَلَيْكَ؟ وَمَنْ يَدْخُلُ الْقَبْرَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ أَمَّا الْغُسْلُ فاغْسِلْنِي أَنْتَ، وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ يَصُبُّ عَلَيْكَ الْمَاءَ، وَجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ثَالِثُكُمَا، فَإِذَا أَنْتُمْ فَرَغْتُمْ مِنْ غُسْلِي فَكَفِّنُونِي فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ جُدُدٍ، وَجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَأْتِينِي بِحَنُوطٍ مِنَ الْجَنَّةِ، فَإِذَا أَنْتُمْ وَضَعْتُمُونِي عَلَى السَّرِيرِ فَضَعُونِي فِي الْمَسْجِدِ وَاخْرُجُوا عَنِّي، فَإِنَّ أَوَّلَ مَنْ يُصَلِّي عَلَيَّ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَوْقِ عَرْشِهِ، ثُمَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ مِيكَائِيلُ، ثُمَّ إِسْرَافِيلُ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، ثُمَّ الْمَلَائِكَةُ زُمَرًا زُمَرًا، ثُمَّ ادْخُلُوا، فَقُومُوا صُفُوفًا لَا يَتَقَدَّمُ عَلَيَّ أَحَدٌ» . فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا: يَا بِلَالُ وَمَنْ ذَا الَّذِي تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَقْتَصَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ يَا بِلَالُ فَقُلْ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ يَقُومَانِ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فَيَقْتَصُّ مِنْهُمَا، وَلَا يَدَعانِهِ يَقْتَصُّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَدَخَلَ بِلَالٌ الْمَسْجِدَ ، وَدَفَعَ الْقَضِيبَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَضِيبَ إِلَى عُكَّاشَةَ، فَلَمَّا نَظَرَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا إِلَى ذَلِكَ، قَامَا فَقَالَا: يَا عُكَّاشَةُ هَذَانِ نَحْنُ بَيْنَ يَدَيْكَ فَاقْتَصَّ مِنَّا، وَلَا تَقْتَصَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «امْضِ يَا أَبَا بَكْرٍ وَأَنْتَ يَا عُمَرُ، فَامْضِ فَقَدْ عَرَفَ اللهُ مَكَانَكُمَا ومَقامَكُمَا» . فَقَامَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: يَا عُكَّاشَةُ أَنَا فِي الْحَيَاةِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تَطِيبُ نَفْسِي أَنْ يُضْرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَذَا ظَهْرِي وَبَطْنِي، اقْتَصَّ مِنِّي بِيَدِكَ وَاجْلِدْني مِائَةً، وَلَا تَقْتَصَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ اقْعُدْ فَقَدْ عَرَفَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مَقَامَكَ ونِيَّتَكَ» . وَقَامَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا فَقَالَا: يَا عُكَّاشَةُ أَلَيْسَ تَعْلَمُ أَنَا سِبْطَا رَسُولِ اللهِ؟ فَالْقِصَاصُ مِنَّا كَالْقِصَاصِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ لَهُمَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْعُدَا يَا قُرَّةَ عَيْنِي، لَا نَسِيَ اللهُ لَكُمَا هَذَا الْمُقَامَ» . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عُكَّاشَةُ اضْرِبْ إِنْ كُنْتَ ضارِبًا» . فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ضَرَبْتَني وَأَنَا حاسِرٌ عَنْ بَطْنِي. فَكَشَفَ عَنْ بَطْنِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَاحَ الْمُسْلِمُونَ بِالْبُكَاءِ، وَقَالُوا: أَتُرَى عُكَّاشَةُ ضَارِبٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَلَمَّا نَظَرَ عُكَّاشَةُ إِلَى بَيَاضِ بَطْنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ الْقَبَاطِيُّ، لَمْ يَمْلِكْ أَنْ كَبَّ عَلَيْهِ وَقَبَّلَ بَطْنَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: فِدَاءٌ لَكَ أَبِي وَأُمِّي، وَمَنْ تُطِيقُ نَفْسُهُ أَنْ يَقْتَصَّ مِنْكَ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِمَّا أَنْ تَضْرِبَ، وَإِمَّا أَنْ تَعْفُوَ» . فَقَالَ: قَدْ عَفَوْتُ عَنْكَ رَجَاءَ أَنْ يَعْفُوَ اللهُ عَنِّي فِي الْقِيَامَةِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا الشَّيْخِ» . فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ، فَجَعَلُوا يُقَبِّلُونَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْ عُكَّاشَةَ، وَيَقُولُونَ: طُوبَاكَ طُوباكَ، نِلْتَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى وَمُرَافَقَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَمَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ، فَكَانَ مَرِيضًا ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا يَعُودُهُ النَّاسُ، وَكَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُلِدَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَبُعِثَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَقُبِضَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، فَلَمَّا كَانَ فِي يَوْمِ الْأَحَدِ ثَقُلَ فِي مَرَضِهِ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ، ثُمَّ وَقَفَ بِالْبَابِ فَنَادَى: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَرَحْمَةُ اللهِ، الصَّلَاةَ رَحِمَكَ اللهُ. فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ بِلَالٍ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا: يَا بِلَالُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ. فَدَخَلَ بِلَالٌ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا أَسْفَرَ الصُّبْحُ، قَالَ: وَاللهِ لَا أُقِيمُهَا أَوْ أَسْتَأْذِنَ سَيِّدِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَرَجَعَ فَقَامَ بِالْبَابِ وَنَادَى: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، الصَّلَاةَ يَرْحَمُكَ اللهُ. فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ بِلَالٍ، فَقَالَ: «ادْخُلْ يَا بِلَالُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ، مُرْ أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّ بِالنَّاسِ» . فَخَرَجَ وَيَدُهُ عَلَى أُمِّ رَأْسِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاغَوْثَا بِاللهِ، وَانْقِطَاعَ رَجَائِهِ، وَانْقِطَاعَ رَجَائِهِ، وَانْقِصامَ ظَهْرِي، لَيْتَنِي لَمْ تَلِدْنِي أُمِّي، وَإِذْ وَلَدَتْنِي لَمْ أَشْهَدْ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْيَوْمَ. ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَا إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ. فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ لِلنَّاسِ، وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى خَلْوَةِ الْمَكَانِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَمَالَكْ أَنْ خَرَّ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ، وَصَاحَ الْمُسْلِمُونَ بِالْبُكَاءِ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَجِيجَ النَّاسِ، فَقَالَ: «مَا هَذِهِ الضَّجَّةُ؟» ، قَالُوا: ضَجَّةُ الْمُسْلِمِينَ لِفَقْدِكَ يَا رَسُولَ اللهِ. فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، فَاتَّكَأَ عَلَيْهِمَا، فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ الْمَلِيحِ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، أَسْتَوْدِعُكمُ اللهَ، أَنْتُمْ فِي رَجَاءِ اللهِ وَأَمَانِهِ، وَاللهُ خِلْفَتِي عَلَيْكُمْ، مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ، عَلَيْكُمْ بِاتِّقَاءِ اللهِ وَحِفْظِ طَاعَتِهِ مِنْ بَعْدِي، فَإِنِّي مُفَارِقٌ الدُّنْيَا، هَذَا أَوَّلُ يَوْمٍ مِنَ الْآخِرَةِ، وَآخِرُ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا» . فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ اشْتَدَّ بِهِ الْأَمْرُ، وَأَوْحَى الله عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مَلَكِ الْمَوْتِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اهْبِطْ إِلَى حَبِيبِي وَصَفِيِّي مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، وارْفُقْ بِهِ فِي قَبْضِ رُوحِهِ، فَهَبَطَ مَلَكُ الْمَوْتِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَقَفَ بِالْبَابِ شِبْهَ أَعْرَابِيٍّ، ثُمَّ قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ بَيْتِ النُّبُوَّةِ، وَمَعْدِنَ الرِّسَالَةِ، وَمُخْتَلَفَ الْمَلَائِكَةِ، أَدْخُلُ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا لِفَاطِمَةَ: أَجِيبِي الرَّجُلَ. فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: آجَرَكَ اللهُ فِي مَمْشَاكَ يَا عَبْدَ اللهِ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ. فَدَعَا الثَّانِيَةَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا فَاطِمَةُ أَجِيبِي الرَّجُلَ. فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: آجَرَكَ اللهُ فِي مَمْشَاكَ يَا عَبْدَ اللهِ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ. ثُمَّ دَعَا الثَّالِثَةَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ النُّبُوَّةِ، وَمَعْدِنَ الرِّسَالَةِ، وَمُخْتَلَفَ الْمَلَائِكَةِ، أَأَدْخُلُ؟ فَلَا بُدَّ مِنَ الدُّخُولِ. فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ مَلَكِ الْمَوْتِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ مَنْ بِالْبَابِ؟» فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ رَجُلًا بِالْبَابِ يَسْتَأْذِنُ فِي الدُّخُولِ، فَأَجَبْناهُ مَرَّةً بَعْدَ أُخْرَى، فَنَادَى فِي الثَّالِثَةِ صَوْتًا اقْشَعَرَّ مِنْهُ جِلْدِي، وارْتَعَدَتْ فَرَائِصِي. فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا فَاطِمَةُ، أَتَدْرِينَ مَنْ بِالْبَابِ؟ هَذَا هَادِمُ اللَّذَّاتِ، ومُفَرِّقُ الْجَمَاعَاتِ، هَذَا مُرَمِّلُ الْأَزْوَاجِ، ومُوتِمُ الْأَوْلَادِ، هَذَا مُخَرِّبُ الدُّورِ، وَعَامِرُ الْقُبُورِ، هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ادْخُلْ رَحِمَكَ اللهُ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ» . فَدَخَلَ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَلَكَ الْمَوْتِ، جِئْتَنِي زَائِرًا أَمْ قَابِضًا؟» قَالَ: جِئْتُكَ زَائِرًا وَقَابِضًا، وَأَمَرَنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا أَدْخُلَ عَلَيْكَ إِلَّا بِإِذْنِكَ، وَلَا أَقْبِضَ رُوحُكَ إِلَّا بِإِذْنِكَ، فَإِنْ أَذِنْتَ وَإِلَّا رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَلَكَ الْمَوْتِ، أَيْنَ خَلَّفْتَ حَبِيبِي جِبْرِيلَ؟» قَالَ: خَلَّفْتُهُ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَالْمَلَائِكَةُ يُعَزُّونَهُ فِيكَ، فَمَا كَانَ بِأَسْرَعِ أَنْ أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا جِبْرِيلُ، هَذَا الرَّحِيلُ مِنَ الدُّنْيَا، فَبَشِّرْنِي مَا لِي عِنْدَ اللهِ» ؟ قَالَ: أُبَشِّرُكَ يَا حَبِيبَ اللهِ أَنِّي قَدْ تَرَكْتُ أَبْوَابَ السَّمَاءِ قَدْ فُتِحَتْ، وَالْمَلَائِكَةَ قَدْ قَامُوا صُفُوفًا صُفُوفًا بِالتَّحِيَّةِ وَالرَّيْحَانِ يُحَيُّونَ رُوحَكَ يَا مُحَمَّدُ. فَقَالَ: «لِوَجْهِ رَبِّيَ الْحَمْدُ، وَبَشِّرْنِي يَا جِبْرِيلُ» . قَالَ: أُبَشِّرُكَ أَنَّ أَبْوَابَ الْجِنَانِ قَدْ فُتِحَتْ، وَأَنْهَارَهَا قَدِ اطَّرَدَتْ، وأَشْجَارَهَا قَدْ تَدَلَّتْ، وحُورَهَا قَدْ تَزَيَّنَتْ لِقُدُومِ رُوحِكِ يَا مُحَمَّدُ. قَالَ: «لِوَجْهِ رَبِّي الْحَمْدُ، فَبَشِّرْنِي يَا جِبْرِيلُ» . قَالَ: أَنْتَ أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ فِي الْقِيَامَةِ. قَالَ: «لِوَجْهِ رَبِّيَ الْحَمْدُ» . قَالَ جِبْرِيلُ: يَا حَبِيبِي، عَمَّ تَسْأَلُنِي؟ قَالَ: «أَسْأَلُكَ عَنْ غَمِّي وَهَمِّي، مَنْ لِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ مِنْ بَعْدِي؟ مَنْ لِصَومِ شَهْرِ رَمَضَانَ مِنْ بَعْدِي؟ مَنْ لحَاجِّ بَيْتِ اللهِ الْحَرَامِ مِنْ بَعْدِي؟ مَنْ لِأُمَّتِي الْمُصْفَاةِ مِنْ بَعْدِي؟» قَالَ: أَبْشِرْ يَا حَبِيبَ اللهِ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: قَدْ حُرِّمَتِ الْجَنَّةُ عَلَى جَمِيعِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْأُمَمِ حَتَّى تُدَاخِلَهَا أَنْتَ وَأُمَّتُكَ يَا مُحَمَّدُ. قَالَ: «الْآنَ طَابَتْ نَفْسِي، إِذَنْ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ فَانْتَهِ إِلَى مَا أُمِرْتَ» . فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِذَا أَنْتَ قُبِضْتَ فَمَنْ يُغَسِّلُكَ؟ وَفِيمَ نُكَفِّنُكَ؟ وَمَنْ يُصَلَّى عَلَيْكَ؟ وَمَنْ يَدْخُلُ الْقَبْرَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ أَمَّا الْغُسْلُ فاغْسِلْنِي أَنْتَ، وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ يَصُبُّ عَلَيْكَ الْمَاءَ، وَجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ثَالِثُكُمَا، فَإِذَا أَنْتُمْ فَرَغْتُمْ مِنْ غُسْلِي فَكَفِّنُونِي فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ جُدُدٍ، وَجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَأْتِينِي بِحَنُوطٍ مِنَ الْجَنَّةِ، فَإِذَا أَنْتُمْ وَضَعْتُمُونِي عَلَى السَّرِيرِ فَضَعُونِي فِي الْمَسْجِدِ وَاخْرُجُوا عَنِّي، فَإِنَّ أَوَّلَ مَنْ يُصَلِّي عَلَيَّ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَوْقِ عَرْشِهِ، ثُمَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ مِيكَائِيلُ، ثُمَّ إِسْرَافِيلُ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، ثُمَّ الْمَلَائِكَةُ زُمَرًا زُمَرًا، ثُمَّ ادْخُلُوا، فَقُومُوا صُفُوفًا لَا يَتَقَدَّمُ عَلَيَّ أَحَدٌ» . فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا: الْيَوْمَ الْفِرَاقُ، فَمَتَى أَلْقَاكَ؟ فَقَالَ لَهَا: «يَا بُنَيَّةُ، تَلْقَيْنَنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ الْحَوْضِ وَأَنَا أَسْقِي مَنْ يَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ مِنْ أُمَّتِي» . قَالَتْ: فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «تَلْقَيْنَنِي عِنْدَ الْمِيزَانِ وَأَنَا أَشْفَعُ لِأُمَّتِي» . قَالَتْ: فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «تَلْقَيْنَنِي عِنْدَ الصِّرَاطِ وَأَنَا أُنَادِي رَبِّي سَلِّمْ أُمَّتِي مِنَ النَّارِ» . فَدَنَا مَلَكُ الْمَوْتِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَالِجُ قَبْضَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا بَلَغَ الرُّوحُ الرُّكْبَتَيْنِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْهِ» . فَلَمَّا بَلَغَ الرُّوحُ السُّرَّةَ نَادَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاكَرْبَاهُ» . فَقَالَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَامُ: كَرْبِي يَا أَبَتَاهُ. فَلَمَّا بَلَغَ الرُّوحُ إِلَى الثُّنْدُؤَةِ نَادَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا جِبْرِيلُ، مَا أَشَدَّ مَرَارَةَ الْمَوْتِ» . فَوَلَّى جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَجْهَهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا جِبْرِيلُ، كَرِهْتَ النَّظَرَ إِلَيَّ؟» فَقَالَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا حَبِيبِي، وَمَنْ تُطِيقُ نَفْسُهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْكَ وَأَنْتَ تُعَالِجُ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ؟ فَقُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَسَّلَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَابْنُ عَبَّاسٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ، وَجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَعَهُمَا، وَكُفِّنَ بِثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ جُدُدٍ، وَحُمِلَ عَلَى سَرِيرٍ، ثُمَّ أَدْخَلُوهُ الْمَسْجِدَ، وَوَضَعُوهُ فِي الْمَسْجِدِ، وَخَرَجَ النَّاسُ عَنْهُ، فَأَوَّلُ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ الرَّبُّ تَعَالَى مِنْ فَوْقِ عَرْشِهِ، ثُمَّ جِبْرِيلُ، ثُمَّ مِيكَائِيلُ، ثُمَّ إِسْرَافِيلُ، ثُمَّ الْمَلَائِكَةُ زُمَرًا زُمَرًا. قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: لَقَدْ سَمِعْنَا فِي الْمَسْجِدِ هَمْهَمَةً، وَلَمْ نَرَ لَهُمْ شَخْصًا، فَسَمِعْنَا هاتِفًا يَهْتِفُ وَيَقُولُ: ادْخُلُوا رَحِمَكُمُ اللهُ فَصَلُّوا عَلَى نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَدَخَلْنَا، وَقُمْنَا صُفُوفًا صُفُوفًا كَمَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبَّرْنَا بِتَكْبِيرِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَصَلَّيْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَلَاةِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، مَا تَقَدَّمَ مِنَّا أَحَدٌ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَخَلَ الْقَبْرَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ، وَدُفِنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّاسُ قَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: يَا أَبَا الْحَسَنِ، دَفَنْتُمْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا: كَيْفَ طَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا التُّرَابَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَمَا كَانَ فِي صُدُورِكُمْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّحْمَةُ، أَمَا كَانَ مُعَلِّمَ الْخَيْرِ؟ قَالَ: بَلَى يَا فَاطِمَةُ، وَلَكِنْ أَمْرُ اللهِ الَّذِي لَا مَرَدَّ لَهُ. فَجَعَلَتْ تَبْكِي وتَنْدُبُ، وَهِيَ تَقُولُ: يَا أَبَتَاهُ، الْآنَ انْقَطَعَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَكَانَ جِبْرِيلُ يَأْتِينَا بِالْوَحْيِ مِنَ السَّمَاءِ
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ”جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے، اور آپ دیکھیں کہ لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں، تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کریں اور اس سے بخشش مانگیں، بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے“ [سورۃ النصر: 1-2] کے بارے میں بیان کرتے ہیں، فرماتے ہیں: جب یہ سورت نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے جبریل! میری وفات کی خبر آ گئی ہے۔“ جبریل علیہ السلام نے کہا: آخرت آپ کے لیے دنیا سے بہتر ہے، اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا عطا کرے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ”الصلاۃ جامعہ“ کی منادی کریں، چنانچہ مہاجرین و انصار رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں جمع ہو گئے۔ پھر آپ ﷺ منبر پر چڑھے، اللہ عزوجل کی حمد و ثنا بیان کی، پھر ایسا خطبہ دیا جس سے دل کانپ اٹھے اور آنکھیں رو پڑیں، پھر فرمایا: ”اے لوگو! میں تمہارے لیے کیسا نبی رہا؟“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ آپ کو نبوت کی بہترین جزا دے، آپ ہمارے لیے مہربان باپ کی طرح اور خیرخواہ، شفیق بھائی کی طرح رہے، آپ نے اللہ عزوجل کے پیغامات ہم تک پہنچائے اور اس کی وحی ہمیں پہنچائی، اور حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اپنے رب کے راستے کی طرف بلایا؛ تو اللہ آپ کو ہماری طرف سے وہ بہترین جزا دے جو کسی نبی کو اس کی امت کی طرف سے دی گئی ہو۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے مسلمانو کی جماعت! میں تمہیں اللہ کی اور اپنے اس حق کی قسم دیتا ہوں جو تم پر ہے: جس کسی پر میری طرف سے کوئی ظلم ہوا ہو وہ کھڑا ہو جائے اور مجھ سے بدلہ لے۔“ کوئی شخص کھڑا نہ ہوا، تو آپ ﷺ نے دوبارہ قسم دی، پھر بھی کوئی کھڑا نہ ہوا، تو تیسری بار قسم دی: ”اے مسلمانو کی جماعت! میں تمہیں اللہ کی اور اپنے اس حق کی قسم دیتا ہوں جو تم پر ہے: جس کسی پر میری طرف سے کوئی ظلم ہوا ہو وہ کھڑا ہو جائے اور قیامت کے دن بدلہ لیے جانے سے پہلے مجھ سے بدلہ لے لے۔“ تو مسلمانوں میں سے ایک بوڑھے شخص، جن کا نام عکاشہ تھا، کھڑے ہوئے اور لوگوں کو پھلانگتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے سامنے آ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اگر آپ بار بار قسم نہ دیتے تو میں کبھی اس کام پر آگے نہ بڑھتا۔ میں ایک غزوے میں آپ کے ساتھ تھا، جب اللہ عزوجل نے ہمیں فتح دی اور اپنے نبی ﷺ کی مدد فرمائی اور ہم واپسی میں تھے تو میری اونٹنی آپ کی اونٹنی کے برابر آ گئی، میں اونٹنی سے اترا اور آپ کی ران چومنے کے لیے قریب ہوا تو آپ نے چھڑی اٹھائی اور میری کوکھ پر ماری، اور مجھے معلوم نہیں کہ یہ آپ نے جان بوجھ کر کیا یا اونٹنی کو مارنا چاہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اللہ کی عظمت کی پناہ مانگتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے جان بوجھ کر تمہیں مارا ہو۔ اے بلال! فاطمہ کے گھر جاؤ اور میرے لیے وہ چھڑی لے آؤ جو چھلی ہوئی (پتلی، چکنی) ہے۔“ بلال رضی اللہ عنہ مسجد سے نکلے، ان کا ہاتھ سر پر تھا، اور وہ پکار رہے تھے: یہ رسول اللہ ﷺ ہیں جو اپنی ذات سے بدلہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے سیدہ فاطمہ کے دروازے پر دستک دی اور کہا: اے رسول اللہ کی بیٹی! مجھے وہ چھڑی دے دیں۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے بلال! میرے والد کو چھڑی کا کیا کام؟ نہ یہ حج کا دن ہے نہ غزوے کا۔ بلال نے کہا: اے فاطمہ! آپ کو کیا خبر کہ آپ کے والد کس حال میں ہیں؟ رسول اللہ ﷺ دین کو الوداع کہہ رہے ہیں اور دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں، اور اپنی ذات سے بدلہ دے رہے ہیں۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے بلال! ایسا کون ہے جس کا دل رسول اللہ ﷺ سے بدلہ لینے پر راضی ہو؟ اے بلال! حسن اور حسین سے کہو کہ وہ اس شخص کے سامنے کھڑے ہو جائیں اور وہ ان سے بدلہ لے لے، اور اسے رسول اللہ ﷺ سے بدلہ لینے نہ دیں۔ بلال مسجد میں داخل ہوئے اور چھڑی رسول اللہ ﷺ کو دی، رسول اللہ ﷺ نے وہ چھڑی عکاشہ کو دے دی۔ جب ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے یہ دیکھا تو کھڑے ہو کر کہا: اے عکاشہ! یہ ہم دونوں تمہارے سامنے حاضر ہیں، ہم سے بدلہ لے لو اور رسول اللہ ﷺ سے بدلہ نہ لو۔ نبی کریم ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا: ”جاؤ اے ابوبکر، اور تم بھی جاؤ اے عمر، اللہ نے تمہارا مقام اور مرتبہ جان لیا ہے۔“ پھر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے عکاشہ! میں زندگی میں رسول اللہ ﷺ کے آگے ہوں، میرا دل اس بات پر راضی نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو مارا جائے، یہ رہی میری پیٹھ اور میرا پیٹ، اپنے ہاتھ سے مجھ سے بدلہ لے لو اور مجھے سو کوڑے لگاؤ، لیکن رسول اللہ ﷺ سے بدلہ نہ لو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے علی! بیٹھ جاؤ، اللہ عزوجل نے تمہارا مقام اور تمہاری نیت جان لی ہے۔“ پھر حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے اور کہا: اے عکاشہ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے دونوں نواسے ہیں؟ تو ہم سے بدلہ لینا ایسے ہی ہے جیسے رسول اللہ ﷺ سے بدلہ لینا۔ آپ ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ، اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک! اللہ تمہارا یہ مقام کبھی نہ بھلائے۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے عکاشہ! اگر مارنا ہے تو مار لو۔“ عکاشہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے مجھے مارا تھا جب میرا پیٹ کھلا ہوا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا پیٹ کھول دیا، اور مسلمان روتے ہوئے چیخ اٹھے اور کہنے لگے: کیا تم دیکھتے ہو کہ عکاشہ واقعی رسول اللہ ﷺ کو مارے گا؟ جب عکاشہ نے رسول اللہ ﷺ کے پیٹ کی سفیدی دیکھی، گویا وہ باریک مصری کپڑے کی طرح تھی، تو وہ اپنے آپ کو روک نہ سکا اور جھک کر آپ کا پیٹ چومنے لگا اور کہنے لگا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، ایسا کون ہے جس میں یہ طاقت ہو کہ آپ سے بدلہ لے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یا تو مارو یا معاف کر دو۔“ عکاشہ نے کہا: میں نے آپ کو معاف کر دیا، اس امید پر کہ اللہ قیامت کے دن مجھے معاف فرما دے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جنت میں میرے ساتھی کو دیکھنا چاہے وہ اس بزرگ کو دیکھ لے۔“ تو مسلمان کھڑے ہو گئے اور عکاشہ کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دینے لگے اور کہنے لگے: تمہیں مبارک ہو، تمہیں مبارک ہو، تم نے بلند درجات اور رسول اللہ ﷺ کی رفاقت پا لی۔
اس دن سے رسول اللہ ﷺ بیمار ہو گئے، اور اٹھارہ دن تک بیمار رہے، لوگ آپ کی عیادت کے لیے آتے رہے۔ آپ ﷺ پیر کے دن پیدا ہوئے، پیر کے دن نبوت ملی، اور پیر کے دن وفات پائی۔ جب اتوار کا دن آیا تو بیماری شدت اختیار کر گئی، بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر دروازے پر کھڑے ہو کر پکارا: السلام علیک یا رسول اللہ ورحمۃ اللہ، نماز کے لیے تشریف لائیں، اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ رسول اللہ ﷺ نے بلال کی آواز سنی، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے بلال! آج رسول اللہ ﷺ اپنی حالت میں مصروف ہیں۔ بلال مسجد میں داخل ہو گئے۔ جب صبح روشن ہوئی تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنے آقا رسول اللہ ﷺ سے اجازت لیے بغیر نماز کھڑی نہیں کروں گا۔ چنانچہ وہ واپس دروازے پر آئے اور پکارا: السلام علیک یا رسول اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، نماز کے لیے تشریف لائیں، اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ رسول اللہ ﷺ نے بلال کی آواز سنی تو فرمایا: ”اندر آ جاؤ اے بلال، رسول اللہ ﷺ اپنی حالت میں مصروف ہیں، ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ بلال اپنا ہاتھ سر پر رکھے باہر نکلے، کہہ رہے تھے: ہائے اللہ کی فریاد! ہائے امید کا ٹوٹ جانا! ہائے میری کمر کا ٹوٹنا! کاش میری ماں نے مجھے جنم ہی نہ دیا ہوتا، اور اگر جنم دیا بھی تھا تو کاش میں رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے یہ دن نہ دیکھتا۔ پھر کہا: اے ابوبکر! رسول اللہ ﷺ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کے لیے آگے بڑھے، وہ نرم دل انسان تھے، جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی جگہ کو خالی دیکھا تو بے ہوش ہو کر گر پڑے، اور مسلمان روتے ہوئے چیخ اٹھے۔ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کا شور سنا تو فرمایا: ”یہ کیسا شور ہے؟“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! یہ مسلمانوں کا شور ہے، آپ سے محرومی کے ڈر سے۔ تو نبی کریم ﷺ نے علی بن ابی طالب اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بلایا، ان دونوں پر ٹیک لگا کر مسجد کی طرف نکلے، اور لوگوں کو دو ہلکی رکعتیں پڑھائیں، پھر اپنا حسین چہرہ ان کی طرف کیا اور فرمایا: ”اے مسلمانو کی جماعت! میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں، تم اللہ کی امید اور امان میں ہو، اور اللہ میرے بعد تمہارا نگہبان ہے۔ اے مسلمانو کی جماعت! میرے بعد اللہ سے ڈرتے رہنا اور اس کی اطاعت کی حفاظت کرنا، کیونکہ میں دنیا سے رخصت ہونے والا ہوں، یہ آخرت کا پہلا دن اور دنیا کے دنوں کا آخری دن ہے۔“
پھر جب پیر کا دن آیا تو بیماری کی شدت بڑھ گئی، اور اللہ عزوجل نے ملک الموت کی طرف وحی کی کہ میرے محبوب اور برگزیدہ محمد ﷺ کے پاس بہترین صورت میں اترو، اور ان کی روح قبض کرتے وقت نرمی برتو۔ چنانچہ ملک الموت اترے اور ایک بدوی کی شکل میں دروازے پر کھڑے ہو کر کہا: السلام علیکم اے نبوت کے گھر والو، رسالت کے معدن اور فرشتوں کی آمد و رفت کی جگہ! کیا اندر آ سکتا ہوں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ سے کہا: اس آدمی کو جواب دو۔ فاطمہ نے کہا: اللہ آپ کو اس آمد کا اجر دے، اے اللہ کے بندے! رسول اللہ ﷺ اپنی حالت میں مصروف ہیں۔ انہوں نے دوبارہ پکارا، عائشہ نے کہا: اے فاطمہ! اس آدمی کو جواب دو۔ فاطمہ نے پھر وہی کہا: اللہ آپ کو اس آمد کا اجر دے، اے اللہ کے بندے! رسول اللہ اپنی حالت میں مصروف ہیں۔ پھر تیسری بار پکارا: السلام علیکم اے نبوت کے گھر والو، رسالت کے معدن اور فرشتوں کی آمد و رفت کی جگہ! کیا اندر آ سکتا ہوں؟ اندر آنا ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ملک الموت کی آواز سنی تو فرمایا: ”اے فاطمہ! دروازے پر کون ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دروازے پر ایک شخص اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے، ہم نے بار بار جواب دیا ہے، تیسری بار اس نے ایسی آواز سے پکارا کہ میرا رونگٹا کھڑا ہو گیا اور میرا جسم کانپ اٹھا۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے فاطمہ! کیا تمہیں معلوم ہے دروازے پر کون ہے؟ یہ لذتوں کو توڑنے والا، جماعتوں کو جدا کرنے والا ہے، یہ بیویوں کو بیوہ اور بچوں کو یتیم کرنے والا ہے، یہ گھروں کو ویران اور قبروں کو آباد کرنے والا ہے، یہ ملک الموت ہے، اندر آ جاؤ، اللہ تم پر رحم فرمائے، اے ملک الموت۔“ ملک الموت رسول اللہ ﷺ کے پاس داخل ہوئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ملک الموت! تم میرے پاس زیارت کے لیے آئے ہو یا روح قبض کرنے کے لیے؟“ انہوں نے کہا: میں زیارت اور قبض دونوں کے لیے آیا ہوں، اور اللہ عزوجل نے مجھے حکم دیا ہے کہ آپ کی اجازت کے بغیر آپ کے پاس داخل نہ ہوں اور آپ کی اجازت کے بغیر آپ کی روح قبض نہ کروں؛ اگر آپ اجازت دیں تو ٹھیک، ورنہ میں اپنے رب عزوجل کی طرف لوٹ جاؤں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ملک الموت! تم نے میرے محبوب جبریل کو کہاں چھوڑا؟“ انہوں نے کہا: میں نے انہیں آسمانِ دنیا میں چھوڑا ہے، اور فرشتے آپ کے بارے میں ان کی تعزیت کر رہے ہیں۔ ابھی یہ بات ہوئی ہی تھی کہ جبریل علیہ السلام تشریف لے آئے اور آپ ﷺ کے سرہانے بیٹھ گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے جبریل! یہ دنیا سے کوچ ہے، مجھے بتاؤ اللہ کے ہاں میرے لیے کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے محبوب! میں آپ کو خوشخبری دیتا ہوں کہ میں نے آسمان کے دروازے کھلے چھوڑے ہیں، اور فرشتے صفیں باندھے سلام اور ریحان کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ آپ کی روح کا استقبال کر رہے ہیں، اے محمد! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمام تعریفیں میرے رب کے لیے ہیں، اے جبریل! اور خوشخبری دو۔“ انہوں نے کہا: میں آپ کو خوشخبری دیتا ہوں کہ جنتوں کے دروازے کھول دیے گئے ہیں، اس کی نہریں بہنے لگی ہیں، اس کے درخت جھک آئے ہیں، اور اس کی حوریں آپ کی روح کی آمد کے لیے سج گئی ہیں، اے محمد! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمام تعریفیں میرے رب کے لیے ہیں، اور خوشخبری دو اے جبریل۔“ انہوں نے کہا: آپ قیامت کے دن سب سے پہلے شفاعت کرنے والے اور سب سے پہلے جن کی شفاعت قبول ہو گی، وہ ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمام تعریفیں میرے رب کے لیے ہیں۔“ جبریل علیہ السلام نے کہا: اے میرے محبوب! آپ مجھ سے اور کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تم سے اپنے غم اور فکر کے بارے میں پوچھتا ہوں: میرے بعد قرآن پڑھنے والوں کا خیال کون رکھے گا؟ میرے بعد رمضان کے روزے کا خیال کون رکھے گا؟ میرے بعد اللہ کے حرمت والے گھر کے حج کرنے والوں کا خیال کون رکھے گا؟ میرے بعد میری پاکیزہ امت کا خیال کون رکھے گا؟“ انہوں نے کہا: خوش ہو جائیں اے اللہ کے محبوب! اللہ عزوجل فرماتا ہے: تمام انبیاء اور امتوں پر جنت حرام کر دی گئی ہے یہاں تک کہ آپ اور آپ کی امت اس میں داخل ہو جائیں، اے محمد! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب میرا دل مطمئن ہو گیا، اے ملک الموت! تو اب اس کام کو پورا کرو جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔“
علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب آپ کی وفات ہو جائے تو آپ کو غسل کون دے گا؟ کس چیز میں آپ کو کفن دیا جائے گا؟ آپ پر نماز جنازہ کون پڑھائے گا؟ اور قبر میں کون اترے گا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے علی! غسل تم دو گے، اور فضل بن عباس تم پر پانی ڈالیں گے، اور جبریل علیہ السلام تم دونوں کے ساتھ تیسرے ہوں گے۔ جب تم میرے غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے تین نئے کپڑوں میں کفن دینا، اور جبریل علیہ السلام میرے لیے جنت سے خوشبو لائیں گے۔ جب تم مجھے تخت پر رکھ لو تو مجھے مسجد میں رکھ کر باہر نکل جانا، کیونکہ سب سے پہلے مجھ پر نماز پڑھنے والا میرا رب عزوجل ہو گا، اپنے عرش کے اوپر سے، پھر جبریل علیہ السلام، پھر میکائیل، پھر اسرافیل علیہما السلام، پھر فرشتے گروہ در گروہ؛ پھر تم لوگ اندر آنا اور صفیں باندھ کر کھڑے ہو جانا، کوئی بھی مجھ سے آگے نہ بڑھے۔“
فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آج جدائی کا دن ہے، تو میں آپ سے کب ملوں گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بیٹی! تم مجھ سے قیامت کے دن حوض پر ملو گی، اور میں اپنی امت میں سے حوض پر آنے والوں کو پانی پلا رہا ہوں گا۔“ انہوں نے عرض کیا: اور اگر میں آپ کو وہاں نہ پاؤں، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم مجھے میزان کے پاس پاؤ گی، میں اپنی امت کی شفاعت کر رہا ہوں گا۔“ انہوں نے عرض کیا: اور اگر میں آپ کو وہاں نہ پاؤں، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم مجھے پل صراط کے پاس پاؤ گی، میں اپنے رب کو پکار رہا ہوں گا: میری امت کو آگ سے بچا لے۔“
پھر ملک الموت قریب ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کی روح قبض کرنے میں مشغول ہو گئے۔ جب روح گھٹنوں تک پہنچی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اوہ۔“ جب روح ناف تک پہنچی تو نبی کریم ﷺ نے پکارا: ”ہائے تکلیف!“ فاطمہ علیہا السلام نے کہا: میرے والد! آپ کی تکلیف پر میں بھی تکلیف میں ہوں۔ جب روح سینے تک پہنچی تو نبی کریم ﷺ نے پکارا: ”اے جبریل! موت کتنی تلخ ہے۔“ جبریل علیہ السلام نے اپنا چہرہ رسول اللہ ﷺ سے پھیر لیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے جبریل! کیا تمہیں میری طرف دیکھنا ناگوار ہے؟“ جبریل علیہ السلام نے کہا: اے میرے محبوب! ایسا کون ہے جس میں یہ طاقت ہو کہ آپ کو موت کی سختیوں میں دیکھ سکے؟ پھر رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو غسل دیا، ابن عباس رضی اللہ عنہما پانی ڈالتے رہے، اور جبریل علیہ السلام ان کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ کو تین نئے کپڑوں میں کفن دیا گیا، تخت پر اٹھایا گیا، پھر مسجد میں لے جا کر رکھا گیا، اور لوگ آپ کے پاس سے نکل گئے۔ سب سے پہلے آپ پر نماز پڑھنے والے آپ کا رب تعالیٰ تھا، اپنے عرش کے اوپر سے، پھر جبریل، پھر میکائیل، پھر اسرافیل، پھر فرشتے گروہ در گروہ۔ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے مسجد میں ایک ہلکی آواز سنی مگر کسی کو دیکھا نہیں، پھر ہم نے ایک پکارنے والے کو یہ پکارتے سنا: اندر آ جاؤ، اللہ تم پر رحم فرمائے، اور اپنے نبی پر نماز پڑھو۔ چنانچہ ہم اندر گئے اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کے مطابق صفیں باندھ کر کھڑے ہو گئے، ہم نے جبریل علیہ السلام کی تکبیر کے ساتھ تکبیر کہی اور جبریل علیہ السلام کی نماز کے مطابق رسول اللہ ﷺ پر نماز پڑھی، ہم میں سے کوئی بھی رسول اللہ ﷺ سے آگے نہ بڑھا۔ ابوبکر صدیق، علی بن ابی طالب اور ابن عباس رضی اللہ عنہم قبر میں اترے، اور رسول اللہ ﷺ کو دفن کر دیا گیا۔ جب لوگ واپس چلے گئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوالحسن! کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو دفن کر دیا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تمہارے دل کیسے راضی ہوئے کہ تم رسول اللہ ﷺ پر مٹی ڈالو؟ کیا تمہارے سینوں میں رسول اللہ ﷺ کے لیے رحم نہ تھا؟ کیا وہ خیر کے معلم نہ تھے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں اے فاطمہ، لیکن یہ اللہ کا حکم ہے جسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔ تو وہ رونے اور نوحہ کرنے لگیں اور کہنے لگیں: اے میرے والد! اب جبریل علیہ السلام کا سلسلہ منقطع ہو گیا، جبریل ہمارے پاس آسمان سے وحی لاتے تھے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَنَّاطُ الرَّامَهُرْمُزِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ رُشْدِ بْنِ خَيْثَمٍ الْهِلَالِيُّ، ثنا عَمِّي سَعِيدُ بْنُ خَيْثَمٍ، ثنا مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ، عَنْ حَبَّةَ الْعُرَنِيِّ وَأَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: كُنَّا حَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ ضَلَّ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ. قَالَ: وَذَلِكَ رَادَّ النَّهَارِ، يَقُولُ: ارْتِفَاعَ النَّهَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُومُوا فَاطْلُبُوا ابْنَيَّ» . قَالَ: وَأَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ تُجَاهَ وَجْهِهِ، وَأَخَذْتُ نَحْوَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى أَتَى سَفْحَ جَبَلٍ، وَإِذَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مُلْتَزِقٌ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ، وَإِذَا شُجَاعٌ قَائِمٌ عَلَى ذَنَبِهِ، يَخْرُجُ مِنْ فِيهِ شِبْهُ النَّارِ، فَأَسْرَعَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَالْتَفَتَ مُخاطِبًا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ انْسَابَ فَدَخَلَ بَعْضَ الْأَحْجِرَةِ، ثُمَّ أَتَاهُمَا فَأَفْرَقَ بَيْنَهُمَا وَمَسَحَ وَجْهَهُمَا، وَقَالَ: «بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتُمَا مَا أَكَرَمَكُمَا عَلَى اللهِ» . ثُمَّ حَمَلَ أَحَدَهُمَا عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْمَنِ، وَالْآخَرَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ، فَقُلْتُ: طُوبَاكُمَا، نِعْمَ الْمَطِيَّةُ مَطِيَّتُكُمَا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَنِعْمَ الرَّاكِبانِ هُمَا، وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا»
ترجمہ
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے اردگرد بیٹھے تھے کہ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! حسن اور حسین گم ہو گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: اور یہ دن چڑھے کا وقت تھا، یعنی سورج بلند ہونے کا وقت۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اٹھو اور میرے دونوں بیٹوں کو تلاش کرو۔“ راوی کہتے ہیں: ہر شخص اپنی ایک سمت نکل گیا، اور میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ گیا، تو آپ ﷺ چلتے رہے یہاں تک کہ ایک پہاڑ کے دامن میں پہنچے، تو دیکھا کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما ایک دوسرے سے چمٹے ہوئے ہیں، اور ایک سانپ اپنی دم پر کھڑا ہے، اس کے منہ سے آگ جیسی چیز نکل رہی ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ تیزی سے اس کی طرف بڑھے، تو وہ مڑ کر رسول اللہ ﷺ سے گویا بات کرنے لگا، پھر رینگتا ہوا کسی چٹان کی دراڑ میں داخل ہو گیا۔ پھر آپ ﷺ ان دونوں کے پاس آئے، انہیں ایک دوسرے سے الگ کیا اور ان کے چہرے صاف کیے، اور فرمایا: ”میرے ماں باپ تم پر قربان، تم دونوں اللہ کے ہاں کتنے معزز ہو۔“ پھر ایک کو اپنے دائیں کندھے پر اور دوسرے کو بائیں کندھے پر اٹھا لیا۔ میں نے عرض کیا: تم دونوں کو مبارک ہو، تمہاری سواری کیا خوب سواری ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اور سوار بھی کیا خوب ہیں، اور ان کا باپ ان دونوں سے بہتر ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي أَمْرَيْنِ، أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ: كِتَابَ اللهِ، حَبَلٌ مَمْدُودٌ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ "
ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! میں تم میں دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں، اگر تم انہیں تھامے رکھو گے تو میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہو گے، ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے: اللہ کی کتاب، جو آسمان اور زمین کے درمیان پھیلی ہوئی رسی ہے، اور میری عترت، میرے اہل بیت، اور یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے آ ملیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، رَفَعَهُ، قَالَ: " كَأَنِّي قَدْ دُعِيتُ فَأَجَبْتُ فَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ: كِتَابَ اللهِ، حَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا "
ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے: ”گویا مجھے بلایا گیا ہے اور میں نے جواب دے دیا ہے، اور میں تم میں دو وزنی چیزیں چھوڑ رہا ہوں: اللہ کی کتاب، جو آسمان اور زمین کے درمیان پھیلی ہوئی رسی ہے، اور میری عترت، میرے اہل بیت، اور یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے آ ملیں، تو دیکھو میرے بعد ان دونوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَشَّاءُ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَنْمَاطِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ، فَخَطَبَ، فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ: " أَيُّهَا النَّاسُ، قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا: كِتَابَ اللهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي "
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے حج کے موقع پر عرفہ کے دن دیکھا، آپ اپنی اونٹنی قصواء پر سوار تھے، تو آپ نے خطبہ دیا، میں نے آپ کو فرماتے سنا: ”اے لوگو! میں نے تم میں وہ چیز چھوڑی ہے کہ اگر تم اسے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری عترت، میرے اہل بیت۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُكَيْرٍ الْغَنَوِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَكُمْ فَرَطٌ، وَإِنَّكُمْ وَارِدُونَ عَلَيَّ الْحَوْضَ، عَرْضُهُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ إِلَى بُصْرَى، فِيهِ عَدَدُ الْكَوَاكِبِ مِنْ قِدْحَانِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِي الثَّقَلَيْنِ؟» فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا الثَّقَلَانِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَكْبَرُ كِتَابُ اللهِ، سَبَبٌ طَرَفُهُ بِيَدِ اللهِ، وَطَرَفُهُ بِأَيْدِيكُمْ، فَتَمَسَّكُوا بِهِ لَنْ تَزَالُوا، وَلَنْ تَضِلُّوا، وَالْأَصْغَرُ عِتْرَتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَسَأَلْتُ لَهُمَا ذَاكَ رَبِّي، فَلَا تَقْدُمُوهُمَا فَتَهْلِكُوا، وَلَا تُعَلِّمُوهُمَا؛ فَإِنَّهُمَا أَعْلَمُ مِنْكُمْ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تم سے پہلے (حوض پر) پہنچنے والا ہوں، اور تم حوض پر مجھ سے آ ملو گے، اس کی چوڑائی صنعاء سے بصریٰ تک ہے، اس میں ستاروں کی تعداد کے برابر سونے اور چاندی کے پیالے ہیں، تو دیکھو میرے بعد ثقلین کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہو؟“ ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ، ثقلین کیا ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بڑی چیز اللہ کی کتاب ہے، ایک رسی جس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھوں میں ہے، تو اسے تھامے رکھو، نہ تم بھٹکو گے اور نہ گمراہ ہو گے، اور چھوٹی چیز میری عترت ہے، اور یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے آ ملیں، اور میں نے اپنے رب سے یہی دعا مانگی ہے، تو ان سے آگے نہ بڑھو ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے، اور انہیں کچھ سکھانے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ وہ تم سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔“
…