المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما باب: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بقیہ حالات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ التِّنِّيسِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ شَدَّادٌ، قَالَ: قَالَ وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيُّ: كُنْتُ أُرِيدُ عَلِيًّا فَلَمْ أَجِدْ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: انْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُ حَتَّى يَأْتِيَ. قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَ، فَدَخَلْتُ مَعَهُمَا، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا، فَأَجْلَسَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى فَخِذِهِ، وَأَدْنَى فَاطِمَةَ مِنْ حِجْرِهِ، ثُمَّ لَفَّ عَلَيْهِمْ ثَوْبَهُ وَأَنَا مُسْتَنِدٌ، ثُمَّ قَالَ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبُ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣] ، ثُمَّ قَالَ: «هَؤُلَاءِ أَهْلِي» . قَالَ وَاثِلَةُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَأَنَا مِنْ أَهْلِكَ؟ قَالَ: «وَأَنْتَ مِنْ أَهْلِي» . قَالَ وَاثِلَةُ: إِنَّهُ لَأَرْجَى مَا أَرْجُوهُسیدنا واثلہ بن اسقع لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ملنا چاہتا تھا مگر نہ ملا، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ رسول اللہ ﷺ کو بلانے گئے ہیں، آپ ﷺ کے آنے تک (انتظار کرو)۔ راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور سیدنا علی بھی آئے، تو میں ان دونوں کے ساتھ اندر داخل ہوا، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین کو بلایا، اور ان میں سے ہر ایک کو اپنی ران پر بٹھایا، اور سیدہ فاطمہ کو اپنی گود کے قریب کیا، پھر اپنا کپڑا ان پر لپیٹ دیا جبکہ میں (ایک طرف) ٹیک لگائے کھڑا تھا، پھر فرمایا: ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ہر قسم کی گندگی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ [سورۃ الاحزاب: 33]، پھر فرمایا: ”یہ میرے اہل ہیں۔“ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا میں بھی آپ کے اہل میں سے ہوں؟ فرمایا: ”ہاں، تم بھی میرے اہل میں سے ہو۔“ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ میری سب سے بڑی امید ہے۔