حدیث نمبر: 2664
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَنَّاطُ الرَّامَهُرْمُزِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ رُشْدِ بْنِ خَيْثَمٍ الْهِلَالِيُّ، ثنا عَمِّي سَعِيدُ بْنُ خَيْثَمٍ، ثنا مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ، عَنْ حَبَّةَ الْعُرَنِيِّ وَأَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: كُنَّا حَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ ضَلَّ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ. قَالَ: وَذَلِكَ رَادَّ النَّهَارِ، يَقُولُ: ارْتِفَاعَ النَّهَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُومُوا فَاطْلُبُوا ابْنَيَّ» . قَالَ: وَأَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ تُجَاهَ وَجْهِهِ، وَأَخَذْتُ نَحْوَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى أَتَى سَفْحَ جَبَلٍ، وَإِذَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مُلْتَزِقٌ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ، وَإِذَا شُجَاعٌ قَائِمٌ عَلَى ذَنَبِهِ، يَخْرُجُ مِنْ فِيهِ شِبْهُ النَّارِ، فَأَسْرَعَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَالْتَفَتَ مُخاطِبًا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ انْسَابَ فَدَخَلَ بَعْضَ الْأَحْجِرَةِ، ثُمَّ أَتَاهُمَا فَأَفْرَقَ بَيْنَهُمَا وَمَسَحَ وَجْهَهُمَا، وَقَالَ: «بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتُمَا مَا أَكَرَمَكُمَا عَلَى اللهِ» . ثُمَّ حَمَلَ أَحَدَهُمَا عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْمَنِ، وَالْآخَرَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ، فَقُلْتُ: طُوبَاكُمَا، نِعْمَ الْمَطِيَّةُ مَطِيَّتُكُمَا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَنِعْمَ الرَّاكِبانِ هُمَا، وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا»
ترجمہ

راوی کہتے ہیں: … تو ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ، حسن اور حسین گم ہو گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: اور یہ دن چڑھے کا وقت تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اٹھو اور میرے دونوں بیٹوں کو تلاش کرو۔“ راوی کہتے ہیں: ہر شخص اپنی طرف نکل گیا، اور میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ گیا، تو آپ چلتے رہے یہاں تک کہ ایک پہاڑ کے دامن میں پہنچے، تو دیکھا کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما ایک دوسرے سے چمٹے ہوئے ہیں، اور ایک سانپ اپنی دم پر کھڑا ہے، اس کے منہ سے آگ جیسی چیز نکل رہی ہے، تو رسول اللہ ﷺ تیزی سے اس کی طرف بڑھے، تو وہ مڑ کر رسول اللہ ﷺ سے گویا بات کرنے لگا، پھر رینگتا ہوا کسی چٹان کی دراڑ میں داخل ہو گیا۔ پھر آپ ﷺ ان دونوں کے پاس آئے، انہیں ایک دوسرے سے الگ کیا اور ان کے چہرے صاف کیے، اور فرمایا: ”میرے ماں باپ تم پر قربان، تم دونوں اللہ کے ہاں کتنے معزز ہو۔“ پھر ایک کو اپنے دائیں کندھے پر اور دوسرے کو بائیں کندھے پر اٹھا لیا۔ میں نے عرض کیا: تم دونوں کو مبارک ہو، تمہاری سواری کیا خوب سواری ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اور سوار بھی کیا خوب ہیں، اور ان کا باپ ان دونوں سے بہتر ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2664
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 65، حدیث 2677