المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما باب: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بقیہ حالات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ تَعَالَى قَسَّمَ الْخَلْقَ قِسْمَيْنِ، فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهَا قِسْمًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {وَأَصْحَابُ الْيَمِينِ} [الواقعة: ٢٧] {وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ} [الواقعة: ٤١] ، فَأَنَا مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ، وَأَنَا مِنْ خَيْرِ أَصْحَابِ الْيَمِينِ، ثُمَّ جَعَلَ الْقِسْمَيْنِ بُيُوتًا، فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمَا بَيْتًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ، وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ، وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ} [الواقعة: ٩] ، فَأَنَا مِنْ خَيْرِ السَّابِقِينَ، ثُمَّ جَعَلَ الْبُيُوتَ قَبَائِلَ، فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهَا قَبِيلَةً، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {شُعُوبًا وَقَبَائِلَ} [الحجرات: ١٣] ، فَأَنَا أَتْقَى وَلَدِ آدَمَ وَأَكْرَمُهُمْ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا فَخْرَ، ثُمَّ جَعَلَ الْقَبَائِلَ بُيُوتًا، فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهَا بَيْتًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣]سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو دو حصوں میں تقسیم کیا، تو مجھے ان میں سے بہتر حصے میں رکھا، تو یہی اس کا فرمان ہے: ”اور داہنے ہاتھ والے“ [سورۃ الواقعہ: 27]، ”اور بائیں ہاتھ والے“ [سورۃ الواقعہ: 41]، تو میں داہنے ہاتھ والوں میں سے ہوں، اور میں داہنے ہاتھ والوں میں سب سے بہتر ہوں۔ پھر دونوں حصوں کو گھرانوں میں تقسیم کیا، تو مجھے ان میں سے بہتر گھرانے میں رکھا، تو یہی اس کا فرمان ہے: ”تو داہنی طرف والے، کیا ہیں داہنی طرف والے؟ اور بائیں طرف والے، کیا ہیں بائیں طرف والے؟ اور سبقت لے جانے والے، وہی سبقت لے جانے والے ہیں“ [سورۃ الواقعہ]، تو میں سبقت لے جانے والوں میں سب سے بہتر ہوں۔ پھر گھرانوں کو قبیلوں میں تقسیم کیا، تو مجھے ان میں سے بہتر قبیلے میں رکھا، تو یہی اس کا فرمان ہے: ”قومیں اور قبیلے“ [سورۃ الحجرات: 13]، تو میں اولادِ آدم میں سب سے متقی اور اللہ عزوجل کے ہاں سب سے معزز ہوں، اور یہ فخر کے طور پر نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ پھر قبیلوں کو گھرانوں میں تقسیم کیا، تو مجھے ان میں سے بہتر گھرانے میں رکھا، تو یہی اس کا فرمان ہے: ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ہر قسم کی گندگی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ [سورۃ الاحزاب: 33]۔“