حدیث نمبر: 2662
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الْمَكِّيِّ الْهِلَالِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَكَاتِهِ الَّتِي قُبِضَ فِيهَا، فَإِذَا فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عِنْدَ رَأْسِهِ. قَالَ: فَبَكَتْ حَتَّى ارْتَفَعَ صَوْتُهَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرْفَهُ إِلَيْهَا، فَقَالَ: «حَبِيبَتِي فَاطِمَةُ مَا الَّذِي يُبْكِيكِ؟» فَقَالَتْ: أَخْشَى الضَّيْعَةَ مِنْ بَعْدِكَ. فَقَالَ: " يَا حَبِيبَتِي، أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ اطَّلَعَ إِلَى الْأَرْضِ اطِّلَاعَةً فَاخْتَارَ مِنْهَا أَبَاكِ فَبُعِثَ بِرِسَالَتِهِ، ثُمَّ اطَّلَعَ اطِّلَاعَةً فَاخْتَارَ مِنْهَا بَعْلَكِ وَأَوْحَى إِلَيَّ أَنْ أُنْكِحَكِ إِيَّاهُ، يَا فَاطِمَةُ وَنَحْنُ أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ أَعْطَانَا اللهُ سَبْعَ خِصَالٍ لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ قَبْلِنَا، وَلَا يُعْطَى أَحَدٌ بَعْدَنَا: أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَأَكْرَمُ النَّبِيِّينَ عَلَى اللهِ، وَأَحَبُّ الْمَخْلُوقِينَ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَنَا أَبُوكِ، وَوَصِيِّي خَيْرُ الْأَوْصِيَاءِ وَأَحَبُّهُمُ إِلَى اللهِ، وَهُوَ بَعْلُكِ، وشَهِيدُنا خَيْرُ الشُّهَدَاءِ وَأَحَبُّهُمْ إِلَى اللهِ، وَهُوَ عَمُّكِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَهُوَ عَمُّ أَبِيكِ، وَعَمُّ بَعْلِكِ، وَمِنَّا مَنْ لَهُ جَنَاحَانِ أَخْضَرَانِ يَطِيرُ فِي الْجَنَّةِ مَعَ الْمَلَائِكَةِ حَيْثُ يَشَاءُ، وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِيكِ وَأَخُو بَعْلِكِ، وَمِنَّا سِبْطَا هَذِهِ الْأُمَّةِ، وَهُمَا ابْنَاكِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، وَهُمَا سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَبُوهُمَا وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ خَيْرٌ مِنْهُمَا، يَا فَاطِمَةُ وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ إِنَّ مِنْهُمَا مَهْدِيَّ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِذَا صَارَتِ الدُّنْيَا هَرْجًا وَمَرْجًا، وَتَظَاهَرَتِ الْفِتَنُ، وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ، وَأَغَارَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَلَا كَبِيرَ يَرْحَمُ صَغِيرًا، وَلَا صَغِيرَ يُوَقِّرُ كَبِيرًا، فَيَبْعَثُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ ذَلِكَ مِنْهُمَا مَنْ يَفْتَتِحُ حُصُونَ الضَّلَالَةِ، وَقُلُوبًا غُلْفًا، يَقُومُ بِالدِّينِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ كَمَا قُمْتُ بِهِ فِي أَوَّلِ الزَّمَانِ، وَيَمْلَأُ الدُّنْيَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا، يَا فَاطِمَةُ لَا تَحْزَني وَلَا تَبْكِي؛ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْحَمُ بِكِ وَأَرْأَفُ عَلَيْكِ مِنِّي، وَذَلِكَ لِمَكَانِكِ مِنِّي، ومَوْضِعِكِ مِنْ قَلْبِي، وزَوَّجَكِ اللهُ زَوْجَكِ وَهُوَ أَشْرَفُ أَهْلِ بَيْتِكِ حَسَبًا، وَأَكْرَمُهُمْ مَنْصِبًا، وأَرْحَمُهُمْ بِالرَّعِيَّةِ، وَأَعْدَلُهُمْ بِالسَّوِيَّةِ، وأَبْصَرُهمْ بِالْقَضِيَّةِ، وَقَدْ سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَكُونِي أَوَّلَ مَنْ يَلْحَقُنِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِي ". قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «فَلَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ تَبْقَ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بَعْدَهُ إِلَّا خَمْسَةً وَسَبْعِينَ يَوْمًا حَتَّى أَلْحَقَهَا اللهُ بِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ

… تو دیکھا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے سرہانے تھیں۔ راوی کہتے ہیں: وہ رونے لگیں یہاں تک کہ ان کی آواز بلند ہو گئی، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی نگاہ ان کی طرف اٹھائی اور فرمایا: ”میری پیاری فاطمہ! تمہیں کیا چیز رلا رہی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: مجھے آپ کے بعد بےکسی کا ڈر ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے میری پیاری بیٹی! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ عزوجل نے زمین پر ایک نظر ڈالی تو اس میں سے تمہارے والد کو چن لیا اور اپنی رسالت کے ساتھ بھیجا، پھر دوبارہ نظر ڈالی تو اس میں سے تمہارے شوہر کو چن لیا اور مجھے وحی کی کہ میں تمہارا نکاح اس سے کر دوں۔ اے فاطمہ! ہم ایک ایسا گھرانہ ہیں جسے اللہ نے سات خصلتیں عطا کی ہیں جو ہم سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں اور نہ ہمارے بعد کسی کو دی جائیں گی: میں خاتم النبیین ہوں، اور اللہ کے ہاں سب سے معزز نبی ہوں، اور مخلوقات میں اللہ عزوجل کو سب سے زیادہ محبوب ہوں، اور میں تمہارا باپ ہوں؛ اور میرا وصی، اوصیاء میں سب سے بہتر اور اللہ کے ہاں ان میں سب سے زیادہ محبوب ہے، اور وہ تمہارا شوہر ہے؛ اور ہمارا شہید، شہداء میں سب سے بہتر اور اللہ کے ہاں ان میں سب سے زیادہ محبوب ہے، اور وہ تمہارا چچا حمزہ بن عبدالمطلب ہے، جو تمہارے والد کا چچا اور تمہارے شوہر کا چچا ہے؛ اور ہم میں سے ایک ایسا شخص ہے جس کے دو سبز پر ہیں، وہ جنت میں فرشتوں کے ساتھ جہاں چاہے اڑتا ہے، اور وہ تمہارے والد کا چچا زاد اور تمہارے شوہر کا بھائی ہے؛ اور ہم میں سے اس امت کے دو نواسے ہیں، اور وہ تمہارے دونوں بیٹے حسن اور حسین ہیں، وہ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں، اور ان کا باپ - اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا - ان دونوں سے بہتر ہے۔ اے فاطمہ! اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا، انہی دونوں میں سے اس امت کا مہدی ہو گا، جب دنیا میں انتشار اور افراتفری ہو گی، فتنے ظاہر ہوں گے، راستے کٹ جائیں گے، اور لوگ ایک دوسرے پر حملہ کریں گے، تو نہ کوئی بڑا کسی چھوٹے پر رحم کرے گا اور نہ کوئی چھوٹا کسی بڑے کی عزت کرے گا، تو اللہ عزوجل اس وقت انہی میں سے کسی کو اٹھائے گا جو گمراہی کے قلعے اور بند دل کھولے گا، وہ آخری زمانے میں دین کو ویسے ہی قائم کرے گا جیسے میں نے زمانے کے آغاز میں قائم کیا، اور دنیا کو انصاف سے بھر دے گا جیسے وہ ظلم سے بھری ہو گی۔ اے فاطمہ! غم نہ کرو اور نہ روؤ، کیونکہ اللہ عزوجل مجھ سے زیادہ تم پر مہربان اور رحم کرنے والا ہے، اور یہ اس لیے ہے کہ تمہارا مجھ سے کیا مقام ہے اور میرے دل میں تمہاری کیا جگہ ہے۔ اور اللہ نے تمہارا نکاح تمہارے شوہر سے کیا ہے، جو تمہارے گھرانے میں نسب کے اعتبار سے سب سے شریف، منصب میں سب سے معزز، رعایا پر سب سے زیادہ مہربان، برابری میں سب سے زیادہ عادل، اور فیصلے میں سب سے زیادہ بصیرت رکھنے والا ہے۔ اور میں نے اپنے رب عزوجل سے سوال کیا ہے کہ تم میرے اہل بیت میں سے سب سے پہلے مجھ سے آ ملو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”جب نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے بعد صرف پچھتر دن زندہ رہیں یہاں تک کہ اللہ نے انہیں آپ ﷺ سے ملا دیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2662
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 57، حدیث 2675