حدیث نمبر: 2646
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، فَكَانَ إِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَلَى ظَهْرِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخَذَهُمَا بِيَدِهِ أَخْذًا رَقِيقًا حَتَّى يَضَعَهُمَا عَلَى الْأَرْضِ، فَإِذَا عَادَ عَادَا، حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ وَانْصَرَفَ وَوَضَعَهُمَا عَلَى فَخِذَيْهِ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَذْهَبُ بِهِمَا؟ قَالَ: «لَا» . فَبَرَقَتْ بَرْقَةٌ، فَقَالَ: «الْحَقَا بِأُمِّكُمَا» . فَلَمْ يَزَالَا فِي ضَوْئِهَا حَتَّى دَخَلَا
ترجمہ

… تو جب آپ (سجدے سے) لوٹتے تو وہ دونوں بھی لوٹ آتے، یہاں تک کہ آپ نے اپنی نماز مکمل کی اور فارغ ہو کر انہیں اپنی رانوں پر بٹھا لیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں آپ کی طرف کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا میں انہیں لے جاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ اتنے میں بجلی چمکی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی ماں کے پاس چلے جاؤ۔“ تو وہ اس کی روشنی میں چلتے رہے یہاں تک کہ اندر داخل ہو گئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2646
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 51، حدیث 2659