المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما باب: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بقیہ حالات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ الْفَزَارِيُّ، ثنا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ عُدَّيَةً بِثَرِيدٍ لَهَا تَحْمِلُهَا فِي طَبَقٍ لَهَا حَتَّى وَضَعَتْهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ لَهَا: «وَأَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ؟» قَالَتْ: هُوَ فِي الْبَيْتِ. قَالَ: «اذْهَبِي فَادْعِيهِ وائْتِينِي بِابْنَيَّ» . فَجَاءَتْ تَقُودُ ابْنَيْهَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي يَدٍ، وَعَلِيٌّ يَمْشِي فِي أَثَرِهِمَا، حَتَّى دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَسَهُمَا فِي حِجْرِهِ، وَجَلَسَ عَلِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ، وَجَلَسَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي يَسَارِهِ. قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: فَأَخَذَتْ مِنْ تَحْتِي كِسَاءً كَانَ بِسَاطَنَا عَلَى الْمَنَامَةِ فِي الْبَيْتِ بِبُرْمَةٍ فِيهَا خَزِيرَةٌ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْعِي لِي بَعْلَكِ وَابْنَيْكِ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ» . فَدَعَتْهُمْ فَجَلَسُوا جَمِيعًا يَأْكُلُونَ مِنْ تِلْكَ الْبُرْمَةِ. قَالَتْ: وَأَنَا أُصَلِّي فِي تِلْكَ الْحُجْرَةِ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣] ، فَأَخَذَ فَضْلَ الْكِسَاءِ فَغَشَّاهُمْ، ثُمَّ أَخْرَجَ يَدَهُ الْيُمْنَى مِنَ الْكِسَاءِ وَأَلْوَي بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَحَامَتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا» . قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: فَأَدْخَلْتُ رَأْسِيَ الْبَيْتَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَنَا مَعَكُمْ؟ قَالَ: «أَنْتِ عَلَى خَيْرٍ» مَرَّتَيْنِسیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدہ فاطمہ اپنے کچھ ثرید کے ساتھ آئیں، جسے وہ ایک تھالی میں اٹھائے ہوئے تھیں، یہاں تک کہ اسے آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اور تمہارے چچا زاد بھائی کہاں ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: وہ گھر میں ہیں۔ فرمایا: ”جاؤ انہیں بلاؤ اور میرے دونوں بیٹوں کو بھی لے آؤ۔“ تو وہ اپنے دونوں بیٹوں کو، ہر ایک کو ایک ایک ہاتھ سے پکڑ کر لے آئیں، اور سیدنا علی ان کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے، یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ نے دونوں کو اپنی گود میں بٹھا لیا، اور سیدنا علی آپ کے دائیں طرف بیٹھے، اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے بائیں طرف بیٹھیں۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو میں نے اپنے نیچے سے ایک چادر لی جو گھر میں سونے کی جگہ پر ہمارا بستر تھی، اور اس میں ایک ہانڈی تھی جس میں خزیرہ (گوشت اور آٹے کا سالن) تھا، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”میرے لیے اپنے شوہر اور اپنے دونوں بیٹوں حسن اور حسین کو بلاؤ۔“ تو انہوں نے انہیں بلایا، تو وہ سب اکٹھے بیٹھ گئے اور اس ہانڈی سے کھانے لگے۔ وہ کہتی ہیں: اور میں اس حجرے میں نماز پڑھ رہی تھی، تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ہر قسم کی گندگی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ [سورۃ الاحزاب: 33]، تو آپ ﷺ نے چادر کا بچا ہوا حصہ اٹھایا اور انہیں ڈھانپ لیا، پھر اپنا دایاں ہاتھ چادر سے نکالا اور اسے آسمان کی طرف بلند کیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت اور میرے خاص لوگ ہیں، تو ان سے گندگی دور فرما اور انہیں خوب پاک کر دے۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے اپنا سر گھر کے اندر داخل کیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا میں بھی آپ کے ساتھ ہوں؟ آپ ﷺ نے دو بار فرمایا: ”تم خیر پر ہو۔“