المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما باب: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بقیہ حالات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُكَيْرٍ الْغَنَوِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَكُمْ فَرَطٌ، وَإِنَّكُمْ وَارِدُونَ عَلَيَّ الْحَوْضَ، عَرْضُهُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ إِلَى بُصْرَى، فِيهِ عَدَدُ الْكَوَاكِبِ مِنْ قِدْحَانِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِي الثَّقَلَيْنِ؟» فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا الثَّقَلَانِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَكْبَرُ كِتَابُ اللهِ، سَبَبٌ طَرَفُهُ بِيَدِ اللهِ، وَطَرَفُهُ بِأَيْدِيكُمْ، فَتَمَسَّكُوا بِهِ لَنْ تَزَالُوا، وَلَنْ تَضِلُّوا، وَالْأَصْغَرُ عِتْرَتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَسَأَلْتُ لَهُمَا ذَاكَ رَبِّي، فَلَا تَقْدُمُوهُمَا فَتَهْلِكُوا، وَلَا تُعَلِّمُوهُمَا؛ فَإِنَّهُمَا أَعْلَمُ مِنْكُمْ»سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تم سے پہلے (حوض پر) پہنچنے والا ہوں، اور تم حوض پر مجھ سے آ ملو گے، اس کی چوڑائی صنعاء سے بصریٰ تک ہے، اس میں ستاروں کی تعداد کے برابر سونے اور چاندی کے پیالے ہیں، تو دیکھو میرے بعد ثقلین کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہو؟“ ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ، ثقلین کیا ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بڑی چیز اللہ کی کتاب ہے، ایک رسی جس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھوں میں ہے، تو اسے تھامے رکھو، نہ تم بھٹکو گے اور نہ گمراہ ہو گے، اور چھوٹی چیز میری عترت ہے، اور یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے آ ملیں، اور میں نے اپنے رب سے یہی دعا مانگی ہے، تو ان سے آگے نہ بڑھو ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے، اور انہیں کچھ سکھانے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ وہ تم سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔“