حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ، يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: «كَانَ سَعْدٌ آخِرَ الْمُهَاجِرِينَ وَفَاةً رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ»
ترجمہ
عامر بن سعد کہتے ہیں: سعد رضی اللہ عنہ مہاجرین میں سب سے آخر میں وفات پانے والے تھے۔
قَالَ عَبْدُ اللهِ: قَالَ أَبِي: «تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَثَمَانِينَ، وَمَاتَ عَلَى عَشْرَةِ أَمْيَالٍ فِي الْمَدِينَةِ، فَحُمِلَ عَلَى رِقَابِ الرِّجَالِ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَكَانَ مَرْوَانُ يَوْمَئِذٍ الْوَالِيَ عَلَيْهَا، وَأَسْلَمَ وَهُوَ ابْنُ تِسْعَ عَشْرَةَ سَنَةً»
ترجمہ
عبداللہ (بن احمد) کہتے ہیں: میرے والد (امام احمد) نے فرمایا: سعد رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر تراسی (83) سال تھی، اور ان کی وفات مدینہ سے دس میل کے فاصلے پر ہوئی، تو انہیں لوگوں کے کندھوں پر اٹھا کر مدینہ لایا گیا۔ اس وقت مروان مدینہ کا گورنر تھا۔ انہوں نے انیس (19) سال کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، يَقُولُ: «مَاتَ سَعْدٌ، وَمَرْوَانُ وَالِي الْمَدِينَةِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، وَمَاتَ سَنَةَ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ»
ترجمہ
محمد بن عبداللہ بن نمیر کہتے ہیں: سعد رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو مروان مدینہ کا گورنر تھا، اس نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، اور وہ سنہ 55 ہجری میں وفات پا گئے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: " مَاتَ سَعْدٌ بِالْعَقِيقِ فِي قَصْرِهِ، عَلَى عَشْرَةِ أَمْيَالٍ مِنَ الْمَدِينَةِ، وَحُمِلَ عَلَى رِقَابِ الرِّجَالِ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَيُقَالُ: تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ بِضْعٍ وَسَبْعِينَ "
ترجمہ
زبیر بن بکار کہتے ہیں: سعد رضی اللہ عنہ کا انتقال العقیق میں اپنے محل میں ہوا، جو مدینہ سے دس میل کے فاصلے پر تھا، اور انہیں لوگوں کے کندھوں پر اٹھا کر مدینہ لایا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا انتقال ہوا تو ان کی عمر ستر کے پیٹے میں تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: " مَاتَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْعَقِيقِ، وَحُمِلَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَصَلَّى عَلَيْهِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، وَقَالَ: أَسْلَمْتُ وَأَنَا ابْنُ تِسْعَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَتُوُفِّيَ سَنَةَ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ "
ترجمہ
یحییٰ بن بکیر کہتے ہیں: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال العقیق میں ہوا، انہیں مدینہ لے جایا گیا، اور مروان بن حکم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: میں نے انیس (19) سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ ان کا انتقال سنہ 55 ہجری میں ہوا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا نُوحُ بنُ يَزِيدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: «تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بَعْدَ حَجَّتِهِ الْأُولَى، وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَثَمَانِينَ»
ترجمہ
ابراہیم بن سعد کہتے ہیں: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں، ان کے پہلے حج کے بعد ہوا، اس وقت ان کی عمر تراسی (83) سال تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَدِينِيُّ فُسْتُقَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ، يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: «كَانَ سَعْدٌ آخِرَ الْمُهَاجِرِينَ وَفَاةً رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ»
ترجمہ
عامر بن سعد کہتے ہیں: سعد رضی اللہ عنہ مہاجرین میں سب سے آخر میں وفات پانے والے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: كَانَ لِابْنِ مَسْعُودٍ عَلَى سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَالٌ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَدِّ الْمَالَ الَّذِي قِبَلَكَ. فَقَالَ سَعْدٌ: «وَيْحَكَ مَا لِي وَمَالِكَ؟» قَالَ: أَدِّ الْمَالَ الَّذِي قِبَلَكَ، فَقَالَ سَعْدٌ: «وَاللهِ إِنِّي لَأَرَاكَ لَاقٍ مِنِّي شَرًّا، هَلْ أَنْتَ إِلَّا ابْنُ مَسْعُودٍ وَعَبْدٌ مِنْ بَنِي هُذَيْلٍ؟» قَالَ: أَجَلْ، وَاللهِ إِنِّي لَابْنُ مَسْعُودٍ، وَإِنَّكَ لَابْنُ حَمْنَةَ. فَقَالَ لَهُمَا هَاشِمُ بْنُ عُتْبَةَ: إِنَّكُمَا صَاحِبَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْكُمَا، فَطَرَحَ سَعْدٌ عُودًا كَانَ بِيَدِهِ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ فَقَالَ: «اللهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ» فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: قُلْ: قَوْلًا، وَلَا تَلْعَنْ، فَسَكَتَ، ثُمَّ قَالَ سَعْدٌ: «أَمَا وَاللهِ لَوْلَا اتِّقَاءُ اللهِ لَدَعَوْتُ عَلَيْكَ دَعْوَةً لَا تُخْطِئُكَ»
ترجمہ
قیس کہتے ہیں: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا سعد رضی اللہ عنہ کے ذمے کچھ مال تھا، تو ابن مسعود نے کہا: جو مال تمہارے پاس ہے وہ ادا کرو۔ سعد نے کہا: ”افسوس تجھ پر! مجھے تم سے اور تمہیں مجھ سے کیا لینا دینا؟“ اس نے کہا: جو مال تمہارے پاس ہے وہ ادا کرو۔ تو سعد نے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے لگتا ہے تم مجھ سے بھی برا سلوک پاؤ گے، تم اس کے سوا کیا ہو کہ ابن مسعود اور بنو ہذیل کے ایک غلام ہو؟“ اس نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! میں ابن مسعود ہوں، اور تم ابن حمنہ ہو۔ تو ہاشم بن عتبہ نے دونوں سے کہا: تم دونوں رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہو، لوگ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں۔ تو سعد نے اپنے ہاتھ میں موجود لکڑی پھینک دی، پھر اپنا ہاتھ اٹھا کر کہا: ”اے آسمانوں کے رب!“ تو عبداللہ (بن مسعود) نے ان سے کہا: کوئی اور بات کہو، لعنت نہ کرو۔ تو وہ خاموش ہو گئے، پھر سعد نے کہا: ”سن لو، اللہ کی قسم! اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا تو میں تمہارے خلاف ایسی بددعا کرتا جو تمہیں ضرور لگتی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَنْبَأَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: بَيْنَمَا سَعْدٌ يَمْشِي، إِذْ مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَشْتِمُ عَلِيًّا، وَطَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرَ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: «إِنَّكَ تَشْتِمُ قَوْمًا قَدْ سَبَقَ لَهُمُ مِنَ اللهِ مَا سَبَقَ، فَوَاللهِ لَتَكُفَّنَّ عَنْ شَتْمِهِمْ، أَوْ لَأَدْعُوَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ» فَقَالَ: تُخَوِّفُنِي كَأَنَّكَ نَبِيٌّ، فَقَالَ سَعْدٌ: «اللهُمَّ إِنَّ هَذَا يَشْتِمُ أَقْوَامًا سَبَقَ لَهُمْ مِنْكَ مَا سَبَقَ، فَاجْعَلْهُ الْيَوْمَ نَكَالًا» فَجَاءَتْ بُخْتِيَّةٌ فَأَفْرَجَ النَّاسُ لَهَا، فَتَخَبَّطَتْهُ، فَرَأَيْتُ النَّاسَ يَتَّبِعُونَ سَعْدًا وَيَقُولُونَ: اسْتَجَابَ اللهُ لَكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ
ترجمہ
…عامر بن سعد کہتے ہیں: سعد چل رہے تھے کہ ان کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا جو علی، طلحہ اور زبیر کو گالیاں دے رہا تھا۔ تو سعد نے اس سے کہا: ”تم ایسے لوگوں کو گالیاں دے رہے ہو جن کے لیے اللہ کی طرف سے پہلے ہی بھلائی طے ہو چکی ہے، اللہ کی قسم! تم ان کو گالیاں دینے سے باز آ جاؤ، ورنہ میں تمہارے خلاف اللہ عزوجل سے دعا کروں گا۔“ اس نے کہا: تم مجھے ایسے ڈراتے ہو گویا تم نبی ہو۔ تو سعد نے کہا: ”اے اللہ! یہ شخص ایسے لوگوں کو گالیاں دے رہا ہے جن کے لیے تیری طرف سے پہلے ہی بھلائی طے ہو چکی ہے، تو آج اسے عبرت بنا دے۔“ تو ایک اونٹنی آئی، لوگوں نے اس کے لیے راستہ چھوڑ دیا، تو اس نے اس شخص کو روند ڈالا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ لوگ سعد کے پیچھے چل رہے تھے اور کہہ رہے تھے: اے ابواسحاق! اللہ نے تمہاری دعا قبول کر لی۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ، شَكَوْا سَعْدًا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَبَعَثَ رِجَالًا يَسْأَلُونَ عَنْهُ بِالْكُوفَةِ، فَكَانُوا لَا يَأْتُونَ مَسْجِدًا مِنْ مَسَاجِدِ أَهْلِ الْكُوفَةِ إِلَّا أَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا، وَقَالُوا مَعْرُوفًا، حَتَّى أَتَوْا مَسْجِدًا مِنْ مَسَاجِدِ بَنِي عَبْسٍ، فَقَامَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو سَعْدَةَ فَقَالَ: أَمَا إِذْ نَاشَدْتُمُونَا، فَإِنَّهُ كَانَ لَا يَسِيرُ بِالسَّرِيَّةِ، وَلَا يَعْدِلُ فِي الْقَضِيَّةِ، وَلَا يَقْسِمُ بِالسَّوِيَّةِ، فَقَالَ سَعْدٌ: «اللهُمَّ إِنْ كَانَ كَاذِبًا فَأَعْمِ بَصَرَهُ، وَأَطِلْ فَقْرَهُ، وَعَرِّضْهُ لِلْفِتَنِ» قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَتَعَرَّضُ لِلْإِمَاءِ فِي السِّكَكِ، فَإِذَا سَأَلُوهُ كَيْفَ أَنْتَ أَبَا سَعْدَةَ؟ فَيَقُولُ: كَبِيرٌ ضَرِيرٌ، فَقِيرٌ مَفْتُونٌ، أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعْدٍ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: «أَبُو سَعْدَةَ هُوَ جَدُّ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ»
ترجمہ
…پھر ابوسعدہ نامی ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: چونکہ تم نے ہمیں اللہ کی قسم دے کر پوچھا ہے، تو سچ یہ ہے کہ وہ لشکر کے ساتھ انصاف سے نہیں چلتا تھا، فیصلے میں عدل نہیں کرتا تھا، اور مال برابری سے تقسیم نہیں کرتا تھا۔ تو سعد نے کہا: ”اے اللہ! اگر یہ جھوٹا ہے تو اس کی بینائی اندھی کر دے، اس کی محتاجی لمبی کر دے، اور اسے فتنوں میں مبتلا کر دے۔“ عبدالملک کہتے ہیں: میں نے اسے گلیوں میں لونڈیوں کو چھیڑتے دیکھا، اور جب لوگ اس سے پوچھتے: اے ابوسعدہ! تم کیسے ہو؟ تو وہ کہتا: بوڑھا، اندھا، فقیر، فتنے میں مبتلا، مجھے سعد کی بددعا لگ گئی۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوسعدہ ابوبکر بن ابی شیبہ کے دادا ہیں۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوسعدہ ابوبکر بن ابی شیبہ کے دادا ہیں۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: " خَرَجَتْ جَارِيَةٌ لِسَعْدٍ يُقَالُ لَهَا: زِيرَا، وَعَلَيْهَا قَمِيصٌ جَدِيدٌ، فَكَشَفَتْهَا الرِّيحُ، فَشَدَّ عَلَيْهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالدِّرَّةِ، وَجَاءَ سَعْدٌ لِيَمْنَعَهُ، فَتَنَاوَلَهُ بِالدِّرَّةِ، فَذَهَبَ سَعْدٌ يَدْعُو عَلَى عُمَرَ، فَنَاوَلَهُ عُمَرُ الدِّرَّةَ، وَقَالَ: اقْتَصَّ، فَعَفَا عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا "
ترجمہ
سعید بن مسیب کہتے ہیں: سعد کی ایک باندی، جسے زیرا کہا جاتا تھا، نکلی، اور اس پر نئی قمیص تھی، تو ہوا نے اسے اڑا دیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کوڑے سے سزا دی۔ سعد اسے روکنے کے لیے آئے تو عمر نے انہیں بھی کوڑے سے مارا۔ سعد عمر کے خلاف بددعا کرنے کا ارادہ کرنے لگے، تو عمر نے انہیں کوڑا پکڑا دیا اور کہا: قصاص لے لو۔ تو سعد نے عمر رضی اللہ عنہما کو معاف کر دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: هَجَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَعْدًا، فَقَالَ:
[البحر الطويل]
يُقَاتِلُ حَتَّى يُنْزِلَ اللهُ نَصْرَهُ ... وَسَعْدٌ بِبَابِ الْقَادِسِيَّةِ مُعْصِمُ
فَأُبْنَا وَقَدْ آمَتْ نِسَاءٌ كَثِيرَةٌ ... وَنِسْوَةُ سَعْدٍ لَيْسَ فِيهِنَّ أَيِّمُ
فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَفَعَ يَدَهُ، وَقَالَ: «اللهُمَّ اقْطَعْ لِسَانَهُ وَيَدَهُ عَنِّي بِمَا شِئْتَ» فَرُمِيَ يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ، وَقُطِعَ لِسَانُهُ وَقُطِعَتْ يَدُهُ، وَقُتِلَ
[البحر الطويل]
يُقَاتِلُ حَتَّى يُنْزِلَ اللهُ نَصْرَهُ ... وَسَعْدٌ بِبَابِ الْقَادِسِيَّةِ مُعْصِمُ
فَأُبْنَا وَقَدْ آمَتْ نِسَاءٌ كَثِيرَةٌ ... وَنِسْوَةُ سَعْدٍ لَيْسَ فِيهِنَّ أَيِّمُ
فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَفَعَ يَدَهُ، وَقَالَ: «اللهُمَّ اقْطَعْ لِسَانَهُ وَيَدَهُ عَنِّي بِمَا شِئْتَ» فَرُمِيَ يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ، وَقُطِعَ لِسَانُهُ وَقُطِعَتْ يَدُهُ، وَقُتِلَ
ترجمہ
…”یہاں تک کہ اللہ اپنی مدد نازل کرے، جبکہ سعد قادسیہ کے دروازے پر محفوظ بیٹھا ہے۔
ہم واپس آئے تو بہت سی عورتیں بیوہ ہو چکی تھیں، جبکہ سعد کی بیویوں میں کوئی بیوہ نہیں۔“ یہ بات سعد رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے اپنا ہاتھ اٹھا کر کہا: ”اے اللہ! تو جس طرح چاہے اس کی زبان اور ہاتھ مجھ سے کاٹ دے۔“ چنانچہ وہ قادسیہ کے دن تیر کا نشانہ بنا، اس کی زبان کٹ گئی، ہاتھ کٹ گیا، اور وہ مارا گیا۔
ہم واپس آئے تو بہت سی عورتیں بیوہ ہو چکی تھیں، جبکہ سعد کی بیویوں میں کوئی بیوہ نہیں۔“ یہ بات سعد رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے اپنا ہاتھ اٹھا کر کہا: ”اے اللہ! تو جس طرح چاہے اس کی زبان اور ہاتھ مجھ سے کاٹ دے۔“ چنانچہ وہ قادسیہ کے دن تیر کا نشانہ بنا، اس کی زبان کٹ گئی، ہاتھ کٹ گیا، اور وہ مارا گیا۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَكَّائِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَمٍّ لَنَا يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ:
[البحر الطويل]
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللهَ أَنْزَلَ نَصْرَهُ ... وَسَعْدٌ بِبَابِ الْقَادِسِيَّةِ مُعْصِمُ
فَأُبْنَا وَقَدْ آمَتْ نِسَاءٌ كَثِيرَةٌ ... وَنِسْوَةُ سَعْدٍ لَيْسَ فِيهِنَّ أَيِّمُ
فَلَمَّا بَلَغَ سَعْدًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَوْلُهُ قَالَ: «اللهُمَّ اقْطَعْ عَنِّي لِسَانَهُ وَيَدَهُ» فَجَاءَتْ نُشَّابَةٌ فَأَصَابَتْ فَاهُ فَخَرِسَ، ثُمَّ قُطِعَتْ يَدُهُ فِي الْقِتَالِ، فَقَالَ سَعْدٌ: «احْمِلُونِي عَلَى بَابٍ» فَخُرِجَ بِهِ مَحْمُولًا، ثُمَّ كَشَفَ عَنْ ظَهْرِهِ وَبِهِ قُرُوحٌ فِي ظَهْرِهِ، فَأَخْبَرَ النَّاسَ بِعُذْرِهِ فَعَذَرُوهُ، وَكَانَ سَعْدٌ لَا يَجْبُنُ، وَقَالَ: " إِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا لِمَا بَلَغَنِي مِنْ قَوْلِكَم
[البحر الطويل]
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللهَ أَنْزَلَ نَصْرَهُ ... وَسَعْدٌ بِبَابِ الْقَادِسِيَّةِ مُعْصِمُ
فَأُبْنَا وَقَدْ آمَتْ نِسَاءٌ كَثِيرَةٌ ... وَنِسْوَةُ سَعْدٍ لَيْسَ فِيهِنَّ أَيِّمُ
فَلَمَّا بَلَغَ سَعْدًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَوْلُهُ قَالَ: «اللهُمَّ اقْطَعْ عَنِّي لِسَانَهُ وَيَدَهُ» فَجَاءَتْ نُشَّابَةٌ فَأَصَابَتْ فَاهُ فَخَرِسَ، ثُمَّ قُطِعَتْ يَدُهُ فِي الْقِتَالِ، فَقَالَ سَعْدٌ: «احْمِلُونِي عَلَى بَابٍ» فَخُرِجَ بِهِ مَحْمُولًا، ثُمَّ كَشَفَ عَنْ ظَهْرِهِ وَبِهِ قُرُوحٌ فِي ظَهْرِهِ، فَأَخْبَرَ النَّاسَ بِعُذْرِهِ فَعَذَرُوهُ، وَكَانَ سَعْدٌ لَا يَجْبُنُ، وَقَالَ: " إِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا لِمَا بَلَغَنِي مِنْ قَوْلِكَم
ترجمہ
…”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اپنی مدد نازل کی، جبکہ سعد قادسیہ کے دروازے پر محفوظ بیٹھا ہے۔
ہم واپس آئے تو بہت سی عورتیں بیوہ ہو چکی تھیں، جبکہ سعد کی بیویوں میں کوئی بیوہ نہیں۔“ جب سعد رضی اللہ عنہ کو اس کی یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا: ”اے اللہ! اس کی زبان اور اس کا ہاتھ مجھ سے کاٹ دے۔“ تو ایک تیر آیا اور اس کے منہ پر لگا، وہ گونگا ہو گیا، پھر لڑائی میں اس کا ہاتھ کٹ گیا۔ تو سعد نے کہا: ”مجھے ایک دروازے پر اٹھا کر لے چلو۔“ چنانچہ انہیں اٹھا کر باہر لے جایا گیا، پھر انہوں نے اپنی پیٹھ سے کپڑا ہٹایا، جس پر زخم تھے، اور لوگوں کو اپنا عذر بتایا، تو لوگوں نے ان کا عذر قبول کر لیا۔ سعد بزدل نہیں تھے۔ انہوں نے فرمایا: ”میں نے یہ صرف اس لیے کیا کہ مجھے تمہاری وہ بات پہنچی تھی۔“
ہم واپس آئے تو بہت سی عورتیں بیوہ ہو چکی تھیں، جبکہ سعد کی بیویوں میں کوئی بیوہ نہیں۔“ جب سعد رضی اللہ عنہ کو اس کی یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا: ”اے اللہ! اس کی زبان اور اس کا ہاتھ مجھ سے کاٹ دے۔“ تو ایک تیر آیا اور اس کے منہ پر لگا، وہ گونگا ہو گیا، پھر لڑائی میں اس کا ہاتھ کٹ گیا۔ تو سعد نے کہا: ”مجھے ایک دروازے پر اٹھا کر لے چلو۔“ چنانچہ انہیں اٹھا کر باہر لے جایا گیا، پھر انہوں نے اپنی پیٹھ سے کپڑا ہٹایا، جس پر زخم تھے، اور لوگوں کو اپنا عذر بتایا، تو لوگوں نے ان کا عذر قبول کر لیا۔ سعد بزدل نہیں تھے۔ انہوں نے فرمایا: ”میں نے یہ صرف اس لیے کیا کہ مجھے تمہاری وہ بات پہنچی تھی۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّ سَعْدًا قَالَ لِابْنِهِ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ: «يَا بُنَيَّ إِنَّكَ لَنْ تَلْقَى أَحَدًا هُوَ أَنْصَحُ لَكَ مِنِّي، إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تُصَلِّيَ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ، ثُمَّ صَلِّ صَلَاةً لَا تَرَى أَنَّكَ تُصَلِّي بَعْدَهَا، وَإِيَّاكَ وَالطَّمَعَ، فَإِنَّهُ فَقْرٌ حَاضِرٌ، وَعَلَيْكَ بِالْيَأْسِ فَإِنَّهُ الْغِنَى، وَإِيَّاكَ وَمَا يُعْتَذَرُ مِنْهُ مِنَ الْعَمَلِ وَالْقَوْلِ، وَاعْمَلْ مَا بَدَا لَكَ»
ترجمہ
عکرمہ بن خالد سے روایت ہے کہ سعد نے موت کے وقت اپنے بیٹے سے فرمایا: ”اے میرے بیٹے! تمہیں مجھ سے زیادہ خیرخواہ کوئی نہیں ملے گا۔ جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو اچھی طرح وضو کرو، پھر ایسی نماز پڑھو جیسے تمہیں یقین ہو کہ تم اس کے بعد پھر نماز نہیں پڑھو گے۔ لالچ سے بچو، کیونکہ وہ موجودہ محتاجی ہے، اور بے نیازی اختیار کرو کیونکہ وہی اصل غنا ہے۔ اور ایسے عمل اور قول سے بچو جس پر بعد میں معذرت کرنی پڑے، اور جو تمہارا جی چاہے کرو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنِي هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ: «مَا أَسْلَمَ أَحَدٌ إِلَّا فِي الْيَوْمِ الَّذِي أَسْلَمْتُ فِيهِ، وَلَقَدْ مَكَثْتُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ، وَإِنِّي لَثُلُثُ الْإِسْلَامِ»
ترجمہ
سعید بن مسیب کہتے ہیں: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کوئی شخص اسلام نہیں لایا مگر اسی دن جس دن میں اسلام لایا تھا، اور میں سات دن تک ایسا رہا کہ میں تیسرا مسلمان تھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ: «إِنِّي لَأَوَّلُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ
قیس کہتے ہیں: میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: ”میں پہلا مسلمان ہوں جس نے اللہ عزوجل کی راہ میں تیر چلایا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ لَهُ أَبَوَيْهِ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَحْرَقَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَعْدٍ: «ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» ، قَالَ: فَنَزَعْتُ بِسَهْمٍ لَيْسَ فِيهِ نَصْلٌ، فَأَصَبْتُ جَنْبَهُ، فَوَقَعَ وَانْكَشَفَتْ عَوْرَتُهُ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى نَوَاجِذِهِ
ترجمہ
…اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے اپنے والدین کو جمع کیا (یعنی ماں باپ دونوں کی قربانی کے الفاظ کہے)۔ وہ کہتے ہیں: مشرکین میں سے ایک آدمی تھا جو مسلمانوں کو جلا رہا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے سعد سے فرمایا: ”تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔“ سعد کہتے ہیں: تو میں نے ایک ایسا تیر کھینچا جس میں پھل نہ تھا، تو میں نے اس کے پہلو میں مارا، وہ گر پڑا اور اس کی شرمگاہ کھل گئی، تو نبی کریم ﷺ اتنا ہنسے کہ میں نے آپ ﷺ کی داڑھیں دیکھ لیں۔
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَقِيلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ دَعَا بِخِلَقِ جُبَّةٍ صُوفٍ، فَقَالَ: «كَفِّنُونِي فِيهَا، فَإِنِّي لَقِيتُ فِيهَا الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدْرٍ، وَإِنَّمَا كُنْتُ أُخَبِّؤُهَا لِهَذَا»
ترجمہ
ابن شہاب سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے جب موت کا وقت قریب آیا تو ایک پرانی اونی جبہ منگوایا اور فرمایا: ”مجھے اسی میں کفن دینا، کیونکہ میں نے بدر کے دن مشرکین کا اسی میں مقابلہ کیا تھا، اور میں اسے صرف اسی موقع کے لیے چھپا کر رکھے ہوئے تھا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: «كَانَ أَبِي إِذَا صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ تَجَوَّزَ وَأَتَمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، وَإِذَا صَلَّى فِي الْبَيْتِ أَطَالَ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ وَالصَّلَاةَ» ، قُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ إِذَا صَلَّيْتَ فِي الْمَسْجِدِ جَوَّزْتَ، وَإِذَا خَلَوْتَ فِي الْبَيْتِ أَطَلْتَ. قَالَ: «يَا بُنَيَّ إِنَّنَا أَئِمَّةٌ يُقْتَدَى بِنَا»
ترجمہ
مصعب بن سعد کہتے ہیں: میرے والد جب مسجد میں نماز پڑھتے تو ہلکی پڑھتے مگر رکوع اور سجدہ مکمل کرتے، اور جب گھر میں نماز پڑھتے تو رکوع، سجدہ اور نماز کو لمبا کرتے۔ میں نے پوچھا: ابا جان! جب آپ مسجد میں پڑھتے ہیں تو ہلکی پڑھتے ہیں، اور جب گھر میں تنہا ہوتے ہیں تو لمبی کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اے میرے بیٹے! ہم امام ہیں، ہماری پیروی کی جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنِي الْمُجَالِدُ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: قِيلَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: مَتَى أَصَبْتَ الدَّعْوَةَ؟ قَالَ: يَوْمَ بَدْرٍ كُنْتُ أَرْمِي بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَضَعُ السَّهْمَ فِي كَبِدِ الْقَوْسِ، أَقُولُ: اللهُمَّ زَلْزِلْ أَقْدَامَهُمْ، وَأَرْعِبْ قُلُوبَهُمْ، وَافْعَلْ بِهِمْ وَافْعَلْ، فَيَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ»
ترجمہ
…میں تیر کو کمان کے بیچ میں رکھتا اور کہتا: اے اللہ! ان کے قدم ڈگمگا دے، ان کے دلوں میں رعب ڈال دے، اور ان کے ساتھ یہ کر اور وہ کر۔ تو نبی کریم ﷺ فرماتے: ”اے اللہ! سعد کی دعا قبول فرما۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الضَّحَّاكِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَامَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ حِينَ اخْتَلَفَ الْحَكَمَانِ، فَقَالَ: «قَدْ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ هَذِهِ الْحُكُومَةِ فَعَصَيْتُمُونِي» فَقَامَ إِلَيْهِ فَتًى آدَمُ فَقَالَ: إِنَّكَ وَاللهِ مَا نَهَيْتَنَا، وَلَكِنَّكَ أَمَرْتَنَا وَدمَّرْتَنَا، فَلَمَّا كَانَ فِيهَا مَا تَكْرَهُ بَرَّأَتَ نَفْسَكَ، وَنَحَلْتَنَا ذَنْبَكَ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «وَمَا أَنْتَ وَهَذَا الْكَلَامُ قَبَّحَكَ اللهُ، وَاللهِ لَقَدْ كَانَتِ الْجَمَاعَةُ فَكُنْتَ فِيهَا خَامِلًا، فَلَمَّا ظَهَرَتِ الْفِتْنَةُ نَجَّمْتَ فِيهَا نُجُومَ قَرْنِ الْمَاعِزَةِ» ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ، فَقَالَ: «لِلَّهِ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَاللهِ لَئِنْ كَانَ ذَنْبًا إِنَّهُ لَصَغِيرٌ مَغْفُورٌ، وَلَئِنِ كَانَ حَسَنًا إِنَّهُ لَعَظِيمٌ مَشْكُورٌ»
ترجمہ
…یحییٰ بن محمد بن ضحاک الحزامی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: جب دونوں حکم (ثالث) میں اختلاف ہوا تو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کوفہ کے منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”میں نے تمہیں اس ثالثی سے منع کیا تھا تو تم نے میری نافرمانی کی۔“ تو ان کے سامنے ایک گندمی رنگ کا نوجوان کھڑا ہوا اور کہا: اللہ کی قسم! آپ نے ہمیں منع نہیں کیا تھا، بلکہ آپ نے ہمیں حکم دیا تھا اور ہمیں تباہ کر دیا، پھر جب اس میں وہ کچھ ہوا جو آپ کو ناپسند تھا تو آپ نے اپنے آپ کو بری قرار دے دیا اور اپنا گناہ ہمارے سر تھوپ دیا۔ تو علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”تمہیں اس بات سے کیا، اللہ تمہیں برباد کرے! اللہ کی قسم! جب جماعت متحد تھی تو تم اس میں گمنام تھے، پھر جب فتنہ ظاہر ہوا تو تم اس میں بکری کے سینگ کی طرح ابھر آئے۔“ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے اس منزل پر جس پر سعد بن مالک اور عبداللہ بن عمر اترے، اللہ کی قسم! اگر یہ گناہ ہے تو یہ ایک چھوٹا سا گناہ ہے جو بخشا ہوا ہے، اور اگر یہ نیکی ہے تو یہ ایک بڑی نیکی ہے جس کی قدر کی جائے گی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخَذَ يُوصِي لِأَهْلِ الشُّورَى: «إِنْ أَصَابَ سَعْدًا فَذَلِكَ، وَإِلَّا فَلْيَسْتَعِنْ بِهِ الَّذِي اسْتَخْلَفَ، فَإِنِّي لَمْ أَنْزِعْهُ مِنْ عَجْزٍ وَلَا خِيَانٍة»
ترجمہ
عمرو بن میمون کہتے ہیں: جب عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو انہوں نے اہل شوریٰ کو وصیت کرنا شروع کی: ”اگر خلافت سعد کو ملے تو ٹھیک ہے، ورنہ جو خلیفہ بنے وہ ان سے مدد لے، کیونکہ میں نے انہیں کسی نااہلی یا خیانت کی وجہ سے عہدے سے نہیں ہٹایا تھا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَايَةَ بْنَ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: " بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ سَعْدًا اتَّخَذَ بَابًا، ثُمَّ قَالَ: انْقَطَعَ الصُّوَيْتُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَحَرَّقَهُ ثُمَّ أَخَذَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بِيَدِهِ فَأَخْرَجَهُ، وَقَالَ: هَهُنَا اجْلِسْ لِلنَّاسِ، فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ سَعْدٌ وَحَلَفَ مَا تَكَلَّمَ بِالْكَلِمَةِ الَّتِي بَلَغَتْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ "
ترجمہ
عبایہ بن رفاعہ بن رافع کہتے ہیں: عمر کو خبر پہنچی کہ سعد نے اپنے گھر پر ایک دروازہ بنوایا ہے، اور کہا گیا: (سعد کی مجلس کی) آواز اب کم ہو گئی ہے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف آدمی بھیجا اور اسے جلوا دیا، پھر محمد بن مسلمہ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکالا اور کہا: یہاں لوگوں کے لیے بیٹھو۔ تو سعد نے ان سے معذرت کی اور قسم کھائی کہ انہوں نے وہ بات نہیں کہی جو امیر المومنین تک پہنچی تھی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قِيلَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: أَلَا تُقَاتِلْ؟ فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِ الشُّورَى، وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ غَيْرِكَ، فَقَالَ: «لَا أُقَاتِلُ حَتَّى تَأْتُونِي بِسَيْفٍ لَهُ عَيْنَانِ وَلِسَانٌ وَشَفَتَانِ يَعْرِفُ الْمُؤْمِنَ مِنَ الْكَافِرِ، فَقَدْ جَاهَدْتُ وَأَنَا أَعْرِفُ الْجِهَادَ»
ترجمہ
ابن سیرین کہتے ہیں: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: آپ (فتنے میں) کیوں نہیں لڑتے؟ آپ اہل شوریٰ میں سے ہیں، اور آپ اس امر کے دوسروں سے زیادہ حقدار ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا: ”میں نہیں لڑوں گا یہاں تک کہ تم میرے پاس ایسی تلوار لاؤ جس کی دو آنکھیں، ایک زبان اور دو ہونٹ ہوں، جو مومن کو کافر سے پہچانے۔ میں نے پہلے جہاد کیا ہے اور میں جہاد کو خوب جانتا ہوں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا خَالِي فَلْيُرِنِي امْرُؤٌ خَالَهُ»
ترجمہ
…سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے پاس تھے کہ سعد بن ابی وقاص آئے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ میرے ماموں ہیں، جو چاہے وہ بھی مجھے اپنا ماموں دکھائے۔“