المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
سن سعد بن أبي وقاص، ووفاته رضي الله عنه باب: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الضَّحَّاكِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَامَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ حِينَ اخْتَلَفَ الْحَكَمَانِ، فَقَالَ: «قَدْ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ هَذِهِ الْحُكُومَةِ فَعَصَيْتُمُونِي» فَقَامَ إِلَيْهِ فَتًى آدَمُ فَقَالَ: إِنَّكَ وَاللهِ مَا نَهَيْتَنَا، وَلَكِنَّكَ أَمَرْتَنَا وَدمَّرْتَنَا، فَلَمَّا كَانَ فِيهَا مَا تَكْرَهُ بَرَّأَتَ نَفْسَكَ، وَنَحَلْتَنَا ذَنْبَكَ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «وَمَا أَنْتَ وَهَذَا الْكَلَامُ قَبَّحَكَ اللهُ، وَاللهِ لَقَدْ كَانَتِ الْجَمَاعَةُ فَكُنْتَ فِيهَا خَامِلًا، فَلَمَّا ظَهَرَتِ الْفِتْنَةُ نَجَّمْتَ فِيهَا نُجُومَ قَرْنِ الْمَاعِزَةِ» ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ، فَقَالَ: «لِلَّهِ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَاللهِ لَئِنْ كَانَ ذَنْبًا إِنَّهُ لَصَغِيرٌ مَغْفُورٌ، وَلَئِنِ كَانَ حَسَنًا إِنَّهُ لَعَظِيمٌ مَشْكُورٌ»…یحییٰ بن محمد بن ضحاک الحزامی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: جب دونوں حکم (ثالث) میں اختلاف ہوا تو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کوفہ کے منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”میں نے تمہیں اس ثالثی سے منع کیا تھا تو تم نے میری نافرمانی کی۔“ تو ان کے سامنے ایک گندمی رنگ کا نوجوان کھڑا ہوا اور کہا: اللہ کی قسم! آپ نے ہمیں منع نہیں کیا تھا، بلکہ آپ نے ہمیں حکم دیا تھا اور ہمیں تباہ کر دیا، پھر جب اس میں وہ کچھ ہوا جو آپ کو ناپسند تھا تو آپ نے اپنے آپ کو بری قرار دے دیا اور اپنا گناہ ہمارے سر تھوپ دیا۔ تو علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”تمہیں اس بات سے کیا، اللہ تمہیں برباد کرے! اللہ کی قسم! جب جماعت متحد تھی تو تم اس میں گمنام تھے، پھر جب فتنہ ظاہر ہوا تو تم اس میں بکری کے سینگ کی طرح ابھر آئے۔“ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے اس منزل پر جس پر سعد بن مالک اور عبداللہ بن عمر اترے، اللہ کی قسم! اگر یہ گناہ ہے تو یہ ایک چھوٹا سا گناہ ہے جو بخشا ہوا ہے، اور اگر یہ نیکی ہے تو یہ ایک بڑی نیکی ہے جس کی قدر کی جائے گی۔“