المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
سن سعد بن أبي وقاص، ووفاته رضي الله عنه باب: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات
حدیث نمبر: 320
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قِيلَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: أَلَا تُقَاتِلْ؟ فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِ الشُّورَى، وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ غَيْرِكَ، فَقَالَ: «لَا أُقَاتِلُ حَتَّى تَأْتُونِي بِسَيْفٍ لَهُ عَيْنَانِ وَلِسَانٌ وَشَفَتَانِ يَعْرِفُ الْمُؤْمِنَ مِنَ الْكَافِرِ، فَقَدْ جَاهَدْتُ وَأَنَا أَعْرِفُ الْجِهَادَ»ترجمہ
ابن سیرین کہتے ہیں: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: آپ (فتنے میں) کیوں نہیں لڑتے؟ آپ اہل شوریٰ میں سے ہیں، اور آپ اس امر کے دوسروں سے زیادہ حقدار ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا: ”میں نہیں لڑوں گا یہاں تک کہ تم میرے پاس ایسی تلوار لاؤ جس کی دو آنکھیں، ایک زبان اور دو ہونٹ ہوں، جو مومن کو کافر سے پہچانے۔ میں نے پہلے جہاد کیا ہے اور میں جہاد کو خوب جانتا ہوں۔“