کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: مسلمانوں کو گالی دینے، ان سے تعلق توڑنے اور ان سے لڑنے کی ممانعت اور اس پر سخت وعید کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: ثنا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَتْلُ الْمُسْلِمِ كُفْرٌ وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ»
ترجمہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان کو قتل کرنا کفر ہے، اور اسے گالی دینا فسق ہے، اور کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی رکھے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا رَوْحُ بْنُ مُسَافِرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ»
ترجمہ
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے، اور اس سے لڑنا کفر ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَكَانَ وَكَانَ، فَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: فِي النَّارِ، فَكَأنَّ الْأَعْرَابِيَّ وُجِدَ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَيْنَ أَبُوكَ؟ قَالَ: «حَيْثُ مَا مَرَرْتَ بِقَبْرِ كَافِرٍ فَبَشِّرْهُ بِالنَّارِ» قَالَ: فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ بَعْدُ، فَقَالَ: لَقَدْ كَلَّفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَبًا، مَا مَرَرْتُ بِقَبْرِ كَافِرٍ إِلَّا بَشَّرْتُهُ بِالنَّارِ
ترجمہ
…نبی کریم ﷺ کے پاس ایک اعرابی نے آ کر کہا: میرے والد صلہ رحمی کرتے تھے اور ایسے ایسے اچھے کام کرتے تھے، تو وہ کہاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جہنم میں۔ اعرابی کو اس بات سے تکلیف محسوس ہوئی، تو اس نے کہا: یا رسول اللہ! تو آپ کے والد کہاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں کہیں بھی تمہارا گزر کسی کافر کی قبر سے ہو، اسے جہنم کی بشارت دے دینا۔“ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد وہ اعرابی مسلمان ہو گیا، اور کہنے لگا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک مشقت میں ڈال دیا ہے، میرا جب بھی کسی کافر کی قبر سے گزر ہوتا ہے تو میں اسے جہنم کی بشارت دیتا ہوں۔