المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
سن سعد بن أبي وقاص، ووفاته رضي الله عنه باب: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات
حدیث نمبر: 308
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: هَجَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَعْدًا، فَقَالَ:
[البحر الطويل]
يُقَاتِلُ حَتَّى يُنْزِلَ اللهُ نَصْرَهُ ... وَسَعْدٌ بِبَابِ الْقَادِسِيَّةِ مُعْصِمُ
فَأُبْنَا وَقَدْ آمَتْ نِسَاءٌ كَثِيرَةٌ ... وَنِسْوَةُ سَعْدٍ لَيْسَ فِيهِنَّ أَيِّمُ
فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَفَعَ يَدَهُ، وَقَالَ: «اللهُمَّ اقْطَعْ لِسَانَهُ وَيَدَهُ عَنِّي بِمَا شِئْتَ» فَرُمِيَ يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ، وَقُطِعَ لِسَانُهُ وَقُطِعَتْ يَدُهُ، وَقُتِلَترجمہ
…”یہاں تک کہ اللہ اپنی مدد نازل کرے، جبکہ سعد قادسیہ کے دروازے پر محفوظ بیٹھا ہے۔
ہم واپس آئے تو بہت سی عورتیں بیوہ ہو چکی تھیں، جبکہ سعد کی بیویوں میں کوئی بیوہ نہیں۔“ یہ بات سعد رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے اپنا ہاتھ اٹھا کر کہا: ”اے اللہ! تو جس طرح چاہے اس کی زبان اور ہاتھ مجھ سے کاٹ دے۔“ چنانچہ وہ قادسیہ کے دن تیر کا نشانہ بنا، اس کی زبان کٹ گئی، ہاتھ کٹ گیا، اور وہ مارا گیا۔