حدیث نمبر: 306
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ، شَكَوْا سَعْدًا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَبَعَثَ رِجَالًا يَسْأَلُونَ عَنْهُ بِالْكُوفَةِ، فَكَانُوا لَا يَأْتُونَ مَسْجِدًا مِنْ مَسَاجِدِ أَهْلِ الْكُوفَةِ إِلَّا أَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا، وَقَالُوا مَعْرُوفًا، حَتَّى أَتَوْا مَسْجِدًا مِنْ مَسَاجِدِ بَنِي عَبْسٍ، فَقَامَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو سَعْدَةَ فَقَالَ: أَمَا إِذْ نَاشَدْتُمُونَا، فَإِنَّهُ كَانَ لَا يَسِيرُ بِالسَّرِيَّةِ، وَلَا يَعْدِلُ فِي الْقَضِيَّةِ، وَلَا يَقْسِمُ بِالسَّوِيَّةِ، فَقَالَ سَعْدٌ: «اللهُمَّ إِنْ كَانَ كَاذِبًا فَأَعْمِ بَصَرَهُ، وَأَطِلْ فَقْرَهُ، وَعَرِّضْهُ لِلْفِتَنِ» قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَتَعَرَّضُ لِلْإِمَاءِ فِي السِّكَكِ، فَإِذَا سَأَلُوهُ كَيْفَ أَنْتَ أَبَا سَعْدَةَ؟ فَيَقُولُ: كَبِيرٌ ضَرِيرٌ، فَقِيرٌ مَفْتُونٌ، أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعْدٍ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: «أَبُو سَعْدَةَ هُوَ جَدُّ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ»
ترجمہ

…پھر ابوسعدہ نامی ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: چونکہ تم نے ہمیں اللہ کی قسم دے کر پوچھا ہے، تو سچ یہ ہے کہ وہ لشکر کے ساتھ انصاف سے نہیں چلتا تھا، فیصلے میں عدل نہیں کرتا تھا، اور مال برابری سے تقسیم نہیں کرتا تھا۔ تو سعد نے کہا: ”اے اللہ! اگر یہ جھوٹا ہے تو اس کی بینائی اندھی کر دے، اس کی محتاجی لمبی کر دے، اور اسے فتنوں میں مبتلا کر دے۔“ عبدالملک کہتے ہیں: میں نے اسے گلیوں میں لونڈیوں کو چھیڑتے دیکھا، اور جب لوگ اس سے پوچھتے: اے ابوسعدہ! تم کیسے ہو؟ تو وہ کہتا: بوڑھا، اندھا، فقیر، فتنے میں مبتلا، مجھے سعد کی بددعا لگ گئی۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوسعدہ ابوبکر بن ابی شیبہ کے دادا ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 306
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 140، حدیث 308