المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
سن سعد بن أبي وقاص، ووفاته رضي الله عنه باب: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات
حدیث نمبر: 313
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ لَهُ أَبَوَيْهِ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَحْرَقَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَعْدٍ: «ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» ، قَالَ: فَنَزَعْتُ بِسَهْمٍ لَيْسَ فِيهِ نَصْلٌ، فَأَصَبْتُ جَنْبَهُ، فَوَقَعَ وَانْكَشَفَتْ عَوْرَتُهُ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى نَوَاجِذِهِترجمہ
…اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے اپنے والدین کو جمع کیا (یعنی ماں باپ دونوں کی قربانی کے الفاظ کہے)۔ وہ کہتے ہیں: مشرکین میں سے ایک آدمی تھا جو مسلمانوں کو جلا رہا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے سعد سے فرمایا: ”تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔“ سعد کہتے ہیں: تو میں نے ایک ایسا تیر کھینچا جس میں پھل نہ تھا، تو میں نے اس کے پہلو میں مارا، وہ گر پڑا اور اس کی شرمگاہ کھل گئی، تو نبی کریم ﷺ اتنا ہنسے کہ میں نے آپ ﷺ کی داڑھیں دیکھ لیں۔