المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
سن سعد بن أبي وقاص، ووفاته رضي الله عنه باب: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات
حدیث نمبر: 319
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَايَةَ بْنَ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: " بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ سَعْدًا اتَّخَذَ بَابًا، ثُمَّ قَالَ: انْقَطَعَ الصُّوَيْتُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَحَرَّقَهُ ثُمَّ أَخَذَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بِيَدِهِ فَأَخْرَجَهُ، وَقَالَ: هَهُنَا اجْلِسْ لِلنَّاسِ، فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ سَعْدٌ وَحَلَفَ مَا تَكَلَّمَ بِالْكَلِمَةِ الَّتِي بَلَغَتْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ "ترجمہ
عبایہ بن رفاعہ بن رافع کہتے ہیں: عمر کو خبر پہنچی کہ سعد نے اپنے گھر پر ایک دروازہ بنوایا ہے، اور کہا گیا: (سعد کی مجلس کی) آواز اب کم ہو گئی ہے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف آدمی بھیجا اور اسے جلوا دیا، پھر محمد بن مسلمہ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکالا اور کہا: یہاں لوگوں کے لیے بیٹھو۔ تو سعد نے ان سے معذرت کی اور قسم کھائی کہ انہوں نے وہ بات نہیں کہی جو امیر المومنین تک پہنچی تھی۔