حدیث نمبر: 305
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَنْبَأَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: بَيْنَمَا سَعْدٌ يَمْشِي، إِذْ مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَشْتِمُ عَلِيًّا، وَطَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرَ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: «إِنَّكَ تَشْتِمُ قَوْمًا قَدْ سَبَقَ لَهُمُ مِنَ اللهِ مَا سَبَقَ، فَوَاللهِ لَتَكُفَّنَّ عَنْ شَتْمِهِمْ، أَوْ لَأَدْعُوَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ» فَقَالَ: تُخَوِّفُنِي كَأَنَّكَ نَبِيٌّ، فَقَالَ سَعْدٌ: «اللهُمَّ إِنَّ هَذَا يَشْتِمُ أَقْوَامًا سَبَقَ لَهُمْ مِنْكَ مَا سَبَقَ، فَاجْعَلْهُ الْيَوْمَ نَكَالًا» فَجَاءَتْ بُخْتِيَّةٌ فَأَفْرَجَ النَّاسُ لَهَا، فَتَخَبَّطَتْهُ، فَرَأَيْتُ النَّاسَ يَتَّبِعُونَ سَعْدًا وَيَقُولُونَ: اسْتَجَابَ اللهُ لَكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ
ترجمہ

…عامر بن سعد کہتے ہیں: سعد چل رہے تھے کہ ان کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا جو علی، طلحہ اور زبیر کو گالیاں دے رہا تھا۔ تو سعد نے اس سے کہا: ”تم ایسے لوگوں کو گالیاں دے رہے ہو جن کے لیے اللہ کی طرف سے پہلے ہی بھلائی طے ہو چکی ہے، اللہ کی قسم! تم ان کو گالیاں دینے سے باز آ جاؤ، ورنہ میں تمہارے خلاف اللہ عزوجل سے دعا کروں گا۔“ اس نے کہا: تم مجھے ایسے ڈراتے ہو گویا تم نبی ہو۔ تو سعد نے کہا: ”اے اللہ! یہ شخص ایسے لوگوں کو گالیاں دے رہا ہے جن کے لیے تیری طرف سے پہلے ہی بھلائی طے ہو چکی ہے، تو آج اسے عبرت بنا دے۔“ تو ایک اونٹنی آئی، لوگوں نے اس کے لیے راستہ چھوڑ دیا، تو اس نے اس شخص کو روند ڈالا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ لوگ سعد کے پیچھے چل رہے تھے اور کہہ رہے تھے: اے ابواسحاق! اللہ نے تمہاری دعا قبول کر لی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 305
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 140، حدیث 307