المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
سن سعد بن أبي وقاص، ووفاته رضي الله عنه باب: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات
حدیث نمبر: 310
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّ سَعْدًا قَالَ لِابْنِهِ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ: «يَا بُنَيَّ إِنَّكَ لَنْ تَلْقَى أَحَدًا هُوَ أَنْصَحُ لَكَ مِنِّي، إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تُصَلِّيَ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ، ثُمَّ صَلِّ صَلَاةً لَا تَرَى أَنَّكَ تُصَلِّي بَعْدَهَا، وَإِيَّاكَ وَالطَّمَعَ، فَإِنَّهُ فَقْرٌ حَاضِرٌ، وَعَلَيْكَ بِالْيَأْسِ فَإِنَّهُ الْغِنَى، وَإِيَّاكَ وَمَا يُعْتَذَرُ مِنْهُ مِنَ الْعَمَلِ وَالْقَوْلِ، وَاعْمَلْ مَا بَدَا لَكَ»ترجمہ
عکرمہ بن خالد سے روایت ہے کہ سعد نے موت کے وقت اپنے بیٹے سے فرمایا: ”اے میرے بیٹے! تمہیں مجھ سے زیادہ خیرخواہ کوئی نہیں ملے گا۔ جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو اچھی طرح وضو کرو، پھر ایسی نماز پڑھو جیسے تمہیں یقین ہو کہ تم اس کے بعد پھر نماز نہیں پڑھو گے۔ لالچ سے بچو، کیونکہ وہ موجودہ محتاجی ہے، اور بے نیازی اختیار کرو کیونکہ وہی اصل غنا ہے۔ اور ایسے عمل اور قول سے بچو جس پر بعد میں معذرت کرنی پڑے، اور جو تمہارا جی چاہے کرو۔“