المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
سن سعد بن أبي وقاص، ووفاته رضي الله عنه باب: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَكَّائِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَمٍّ لَنَا يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ:
[البحر الطويل]
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللهَ أَنْزَلَ نَصْرَهُ ... وَسَعْدٌ بِبَابِ الْقَادِسِيَّةِ مُعْصِمُ
فَأُبْنَا وَقَدْ آمَتْ نِسَاءٌ كَثِيرَةٌ ... وَنِسْوَةُ سَعْدٍ لَيْسَ فِيهِنَّ أَيِّمُ
فَلَمَّا بَلَغَ سَعْدًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَوْلُهُ قَالَ: «اللهُمَّ اقْطَعْ عَنِّي لِسَانَهُ وَيَدَهُ» فَجَاءَتْ نُشَّابَةٌ فَأَصَابَتْ فَاهُ فَخَرِسَ، ثُمَّ قُطِعَتْ يَدُهُ فِي الْقِتَالِ، فَقَالَ سَعْدٌ: «احْمِلُونِي عَلَى بَابٍ» فَخُرِجَ بِهِ مَحْمُولًا، ثُمَّ كَشَفَ عَنْ ظَهْرِهِ وَبِهِ قُرُوحٌ فِي ظَهْرِهِ، فَأَخْبَرَ النَّاسَ بِعُذْرِهِ فَعَذَرُوهُ، وَكَانَ سَعْدٌ لَا يَجْبُنُ، وَقَالَ: " إِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا لِمَا بَلَغَنِي مِنْ قَوْلِكَم…”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اپنی مدد نازل کی، جبکہ سعد قادسیہ کے دروازے پر محفوظ بیٹھا ہے۔
ہم واپس آئے تو بہت سی عورتیں بیوہ ہو چکی تھیں، جبکہ سعد کی بیویوں میں کوئی بیوہ نہیں۔“ جب سعد رضی اللہ عنہ کو اس کی یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا: ”اے اللہ! اس کی زبان اور اس کا ہاتھ مجھ سے کاٹ دے۔“ تو ایک تیر آیا اور اس کے منہ پر لگا، وہ گونگا ہو گیا، پھر لڑائی میں اس کا ہاتھ کٹ گیا۔ تو سعد نے کہا: ”مجھے ایک دروازے پر اٹھا کر لے چلو۔“ چنانچہ انہیں اٹھا کر باہر لے جایا گیا، پھر انہوں نے اپنی پیٹھ سے کپڑا ہٹایا، جس پر زخم تھے، اور لوگوں کو اپنا عذر بتایا، تو لوگوں نے ان کا عذر قبول کر لیا۔ سعد بزدل نہیں تھے۔ انہوں نے فرمایا: ”میں نے یہ صرف اس لیے کیا کہ مجھے تمہاری وہ بات پہنچی تھی۔“