کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ سے منقول دعاؤں کا بیان ، جو آپ مانگا کرتے تھے ، یا جن کی آپ نے تعلیم دی
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أَخْشَاكَ حَتَّى كَأَنِّي أَرَاكَ أَبَدًا حَتَّى أَلْقَاكَ ، وَأَسْعِدْنِي بِتَقْوَاكَ ، وَلَا تُشْقِنِي بِمَعْصِيَتِكَ ، وَخِرْ لِي فِي قَضَائِكَ ، وَبَارِكْ لِي فِي قَدَرِكَ حَتَّى لَا أُحِبَّ تَعْجِيلَ مَا أَخَّرْتَ ، وَلَا تَأْخِيرَ مَا عَجَّلْتَ ، وَاجْعَلْ غَنَائِي فِي نَفْسِي ، وَأَمْتِعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي ، وَاجْعَلْهُمَا الْوُرِاثَ مِنِّي ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي ، وَأَرِنِي فِيهِ ثَأْرِي ، وَأَقِرَّ بِذَلِكَ عَيْنِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَرَوَى الْبَزَّارُ بَعْضَ آخِرِهِ مِنْ قَوْلِ : " أَمْتِعْنِي بِسَمْعِي " . بِنَحْوِهِ بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أَخْشَاكَ حَتَّى كَأَنِّي أَرَاكَ أَبَدًا حَتَّى أَلْقَاكَ ، وَأَسْعِدْنِي بِتَقْوَاكَ ، وَلَا تُشْقِنِي بِمَعْصِيَتِكَ ، وَخِرْ لِي فِي قَضَائِكَ ، وَبَارِكْ لِي فِي قَدَرِكَ حَتَّى لَا أُحِبَّ تَعْجِيلَ مَا أَخَّرْتَ ، وَلَا تَأْخِيرَ مَا عَجَّلْتَ ، وَاجْعَلْ غَنَائِي فِي نَفْسِي ، وَأَمْتِعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي ، وَاجْعَلْهُمَا الْوُرِاثَ مِنِّي ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي ، وَأَرِنِي فِيهِ ثَأْرِي ، وَأَقِرَّ بِذَلِكَ عَيْنِي» ” اے اللہ ! تو مجھے ایسا بندہ بنا دے جو تجھ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو ، یہاں تک کہ میں یوں ہو جاؤں ، جیسے میں ہمیشہ تجھے دیکھتا رہتا ہوں ، اور ایسا اس وقت تک رہے ، جب تک میں تیری بارگاہ میں حاضر نہیں ہو جاتا ، اور تو مجھے اپنے تقویٰ کے ذریعے سعادت عطا فرما ، اور اپنی نافرمانی کے ذریعے تو مجھے بدنصیب نہ کرنا ، اپنے فیصلے میں ، میرے لیے بہتری اختیار کر لے ، اور اپنی تقدیر میں میرے لئے برکت رکھ دے ، یہاں تک کہ میں اس چیز کو جلدی نہ چاہوں ، جسے تو نے موخر کیا ہو ، اور اس میں تاخیر نہ چاہوں ، جسے تو نے جلدی کر دیا ہو ، میری خوشحالی ( یا بے نیازی ) میرے نفس میں ڈال دے ، مجھے میری سماعت اور بصارت کے ذریعے نفع عطا کرتے رہنا اور ان دونوں کو میرا وارث بنانا اور جس نے مجھ پر ظلم کیا ، اس کے خلاف میری مدد کرنا ، اور اس کے بارے میں مجھے بدلہ دکھا دینا ، اور اس کے ذریعے میری آنکھیں ٹھنڈی کرنا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن خیثم بن عراک ہے اور وہ متروک ہے ۔ امام بزار نے اس روایت کا آخری حصہ نقل کیا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں : ” تو میری سماعت کے ذریعے مجھے نفع دینا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد حسب سابق روایت ہے جو عمدہ سند کے ساتھ منقول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17393
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3193)»
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي ، وَاجْعَلْهُمَا الْوَارِثَ مِنِّي ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي ، وَأَرِنِي مِنْهُ ثَأْرِي " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي ، وَاجْعَلْهُمَا الْوَارِثَ مِنِّي ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي ، وَأَرِنِي مِنْهُ ثَأْرِي»
” اے اللہ ! تو مجھے میری سماعت اور میری بصارت کے ذریعے نفع دینا ، اور ان دونوں کو میرا وارث بنانا ، اور جس نے مجھ پر ظلم کیا ، اس کے خلاف میری مدد کرنا اور اس کی طرف سے مجھے بدلہ دکھانا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17394
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3194)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي ، وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنِّي " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ طَهْمَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن شحیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي ، وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنِّي»
” اے اللہ ! تو میری سماعت اور میری بصارت کے ذریعے مجھے نفع دینا اور اسے میرا وارث بنانا ۔ “
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن حکم بن طہمان ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17395
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3195)»
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ : جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، مَا بُعِثْتُ إِلَى نَبِيٍّ قَطُّ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْكَ ، أَلَا أُعَلِّمُكَ أَسْمَاءَ مِنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ ، هُنَّ أَحَبُّ أَسْمَائِهِ إِلَيْهِ أَنْ يُدْعَى بِهِنَّ ؟ قُلْ : يَا نُورَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا زَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا جَبَّارَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا عِمَادَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، يَا صَرِيخَ الْمُسْتَصْرِخِينَ ، وَيَا غَيَّاثُ الْمُسْتَغِيثِينَ وَمُنْتَهَى الْعَابِدِينَ ، الْمُفَرِّجُ عَنِ الْمَكْرُوبِينَ ، الْمُرَوِّحُ عَنِ الْمَغْمُومِينَ ، وَمُجِيبَ دُعَاءِ الْمُضْطَرِّينَ ، وَكَاشِفَ الْكَرْبِ ، يَا إِلَهَ الْعَالَمِينَ ، وَيَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ، مَنْزُولٌ لَكَ كُلُّ حَاجَةٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَلَّامٌ الطَّوِيلُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! مجھے کبھی بھی ، کسی ایسے نبی کی طرف مبعوث نہیں کیا گیا ، جو میرے نزدیک آپ سے زیادہ محبوب ہوں ، کیا میں آپ کو اللہ تعالیٰ کے ایسے اسماء کی تعلیم نہ دوں ؟ جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس حوالے سے سب سے زیادہ محبوب ہیں کہ ان کے ساتھ دعا کی جائے ، آپ یہ پڑھیں :
«يَا نُورَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا زَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا جَبَّارَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا عِمَادَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، يَا صَرِيخَ الْمُسْتَصْرِخِينَ ، وَيَا غَيَّاثُ الْمُسْتَغِيثِينَ وَمُنْتَهَى الْعَابِدِينَ ، الْمُفَرِّجُ عَنِ الْمَكْرُوبِينَ ، الْمُرَوِّحُ عَنِ الْمَغْمُومِينَ ، وَمُجِيبَ دُعَاءِ الْمُضْطَرِّينَ ، وَكَاشِفَ الْكَرْبِ ، يَا إِلَهَ الْعَالَمِينَ ، وَيَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ، مَنْزُولٌ لَكَ كُلُّ حَاجَةٍ» ” اے آسمانوں اور زمین کے نور ! اے آسمانوں اور زمین کی زینت ! اے آسمانوں اور زمین کے زبردست ! اے آسمانوں اور زمین کے ستون ! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! اے آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والے ! اسے جلال اور اکرام والے ! اے چیخ و پکار کرنے والوں کی مدد کرنے والے ! اے مدد مانگنے والوں کے مددگار ! اے عبادت گزاروں کی منزل ! اے پریشان حالوں کو کشادگی نصیب کرنے والے ! اے مغموم لوگوں کو راحت عطا کرنے والے ! اے پریشان لوگوں کی دعا قبول کرنے والے ! مشکل کو ختم کرنے والے ! اے تمام جہانوں کے پروردگار ! اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ! تیرے ذریعے ہر حاجت پوری ہو جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلام طویل ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17396
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (145)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا هَذَا الْكَلَامَ : " اللَّهُمَّ أَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا ، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا ، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ . اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا وَفِي أَبْصَارِنَا ، وَقُلُوبِنَا وَأَرْوَاحِنَا ، وَذُرِّيَّاتِنَا ، وَتُبْ عَلَيْنَا ; إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعَمِكَ مُثْنِينَ بِهَا ، قَابِلِينَ لَهَا ، وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُ الْكَبِيرِ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس کلام کی تعلیم دیتے تھے :
«اللَّهُمَّ أَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا ، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا ، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۔ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا وَفِي أَبْصَارِنَا ، وَقُلُوبِنَا وَأَرْوَاحِنَا ، وَذُرِّيَّاتِنَا ، وَتُبْ عَلَيْنَا ; إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعَمِكَ مُثْنِينَ بِهَا ، قَابِلِينَ لَهَا ، وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا» ” اے اللہ ! ہمارے درمیان صلح ( یا بہتری ) رکھنا اور ہمارے دلوں کے درمیان الفت رکھنا اور ہمیں سلامتی کے راستے پر ثابت قدم رکھنا اور ہمیں تاریکیوں سے نجات دے کر ، نور کی طرف لے جانا اور ہمیں برائیوں سے لاتعلق رکھنا ، ان میں سے جو ظاہر ہوں اور جو باطن ہوں ، اے اللہ ! ہماری سماعتوں میں ، ہماری بصارتوں میں ، ہمارے دلوں میں ، ہماری بیویوں میں ، ہماری اولاد میں ، ہمارے لئے برکت رکھنا اور ہماری توبہ قبول فرما ، بے شک تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے ، اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والا اور ان کی تعریف کرنے والا اور ان کا قائل ہونے والا بنانا ، اور وہ نعمتیں ہم پر مکمل کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17397
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10426)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِيشَةً نَقِيَّةً ، وَمِيتَةً سَوِيَّةً ، وَمَرَدًّا غَيْرَ مُخْزٍ وَلَا فَاضِحٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِيشَةً نَقِيَّةً ، وَمِيتَةً سَوِيَّةً ، وَمَرَدًّا غَيْرَ مُخْزٍ وَلَا فَاضِحٍ»
” اے اللہ ! میں تجھ سے پاک زندگی اور ٹھیک موت اور ایسے لوٹنے کا سوال کرتا ہوں جو مجھے رسوائی اور شرمندگی کا شکار نہ کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام طبرانی کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17398
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3186)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا عَلَّمَهُنَّ إِيَّاهُ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّ فِي رِضَاكَ ضَعْفِي ، وَإِنِّي ذَلِيلٌ فَأَعِزَّنِي ، وَإِنِّي فَقِيرٌ فَأَغْنِنِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، اُسے ان کلمات کی تعلیم دیتا ہے ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم یہ پڑھو :
«اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّ فِي رِضَاكَ ضَعْفِي ، وَإِنِّي ذَلِيلٌ فَأَعِزَّنِي ، وَإِنِّي فَقِيرٌ فَأَغْنِنِي »
” اے اللہ ! بے شک میں کمزور ہوں ، اپنی رضامندی کے بارے میں ، میری کمزوری کو قوت عطا فرما ، اور میں کمتر ہوں ، مجھے عزت عطا فرما ، میں غریب ہوں ، مجھے خوشحال کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17399
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ صُهَيْبٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّكَ لَسْتَ بِإِلَهٍ اسْتَحْدَثْنَاهُ ، وَلَا بِرَبِّ ابْتَدَعْنَاهُ ، وَلَا كَانَ لَنَا قَبْلَكَ إِلَهٌ نَلْجَأُ إِلَيْهِ وَنَذَرُكَ ، وَلَا أَعَانَكَ عَلَى خَلْقِنَا أَحَدٌ فَنُشْرِكُهُ فِيكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ " . ¤ قَالَ كَعْبٌ : وَهَكَذَا كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ دَاوُدُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے ہوئے یہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنَّكَ لَسْتَ بِإِلَهٍ اسْتَحْدَثْنَاهُ ، وَلَا بِرَبِّ ابْتَدَعْنَاهُ ، وَلَا كَانَ لَنَا قَبْلَكَ إِلَهٌ نَلْجَأُ إِلَيْهِ وَنَذَرُكَ ، وَلَا أَعَانَكَ عَلَى خَلْقِنَا أَحَدٌ فَنُشْرِكُهُ فِيكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ» ” اے اللہ ! تو کوئی ایسا معبود نہیں ہے ، جسے ہم نے بنایا ہو ، اور نہ کوئی ایسا پروردگار ہے ، جسے ہم نے ایجاد کیا ہو ، نہ تجھ سے پہلے کوئی پروردگار تھا ، جس کی ہم پناہ لے لیں ، اور تجھے چھوڑ دیں ، اور ہماری تخلیق میں ، کسی نے تیری مدد نہیں کی ، کہ ہم اُس کو تیرا شریک بنا لیں ، تو برکت والا اور بلند و برتر ہے ۔ “
کعب کہتے ہیں : اللہ کے نبی سیدنا داؤد علیہ السلام یہ دعا کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17400
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7300)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا بِدُعَاءٍ لَمْ يَسْمَعِ النَّاسُ مِثْلَهُ ، وَاسْتَعَاذَ اسْتِعَاذَةً لَمْ يَسْمَعِ النَّاسُ مِثْلَهَا ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ : كَيْفَ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْ نَدْعُوَ مِثْلَ مَا دَعَوْتَ ، وَأَنْ نَسْتَعِيذَ كَمَا اسْتَعَذْتَ ؟ فَقَالَ : " قُولُوا : اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ بِمَا سَأَلَكَ مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَنَسْتَعِيذُ بِمَا اسْتَعَاذَ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُحَبَّرِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، آپ نے دعا کی ، لوگوں نے ایسا کلام نہیں سنا تھا ، آپ نے پناہ مانگی ، لوگوں نے اس طرح کا کلام نہیں سنا تھا ، حاضرین میں سے کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! جس طرح آپ نے دعا مانگی ہے ، اگر ہم اس طرح دعا مانگیں اور جس طرح آپ نے پناہ مانگی ہے ، اگر ہم اس طرح پناہ مانگیں تو ہمیں کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ کہو :
«اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ بِمَا سَأَلَكَ مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَنَسْتَعِيذُ بِمَا اسْتَعَاذَ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ»
” اے اللہ ! بے شک ہم تجھ سے ، اس کے مطابق مانگتے ہیں ، جو تیرے بندے اور تیرے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھ سے مانگا ، اور ہم ہر اس چیز سے تیری پناہ مانگتے ہیں ، جس سے تیرے بندے اور تیرے رسول نے پناہ مانگی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن محبر ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17401
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1192)»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا بِدُعَاءٍ كَثِيرٍ لَا نَحْفَظُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " سَأُنْبِئُكُمْ بِشَيْءٍ يَجْمَعُ ذَلِكَ كُلَّهُ ، تَقُولُونَ : اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِمَّا سَأَلَكَ مُحَمَّدٌ نَبِيُّكَ وَرَسُولُكَ ، وَنَسْتَعِيذُكَ مِمَّا اسْتَعَاذَ بِهِ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، آپ نے بہت زیادہ دعا کی ، جسے ہم یاد نہیں رکھ سکے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں بتاتا ہوں ، جو اس ساری دعا کو جمع کر لے گی ، تم لوگ یہ پڑھو :
«اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِمَّا سَأَلَكَ مُحَمَّدٌ نَبِيُّكَ وَرَسُولُكَ ، وَنَسْتَعِيذُكَ مِمَّا اسْتَعَاذَ بِهِ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ” اے اللہ ! بے شک ہم تجھ سے وہ چیزیں مانگتے ہیں ، جو تیرے نبی اور تیرے رسول نے تجھ سے مانگی ہیں ، اور ہم ان چیزوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں ، جن سے تیرے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ مانگی ہے ، جو تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ، تجھ سے مدد مانگی جاتی ہے اور پہنچانا تیرے ذمہ ہے ، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17402
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7791)»
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا عَلِيُّ ، أَلَا أُعَلِّمُكَ دُعَاءً تَدْعُو بِهِ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ عَدَدِ الذَّرِّ ذُنُوبًا غُفِرَتْ لَكَ ، مَعَ أَنَّهُ مَغْفُورٌ لَكَ ، قُلِ : اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ ، سُبْحَانَكَ تَبَارَكْتَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ حَبِيبٍ أَخُو حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے علی ! کیا میں تمہیں ایسی دعا کی تعلیم نہ دوں ؟ کہ اگر تم وہ دعا کرو گے ، تو اگر تمہارے گناہ ذرات ( یا چیونٹیوں ) کی تعداد جتنے ہوں ، تو وہ بخش دیئے جائیں گے ، اگرچہ تمہاری مغفرت ہو چکی ہے ، تم یہ پڑھو :
«اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ ، سُبْحَانَكَ تَبَارَكْتَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ»
” اے اللہ ! تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو بردبار ہے ، کرم کرنے والا ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے ، تو برکت والا ہے ، اے عظیم عرش کے پروردگار !“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن حبیب ہے ، جو حمزہ زیات کا بھائی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17403
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5060)»
وَعَنْ خَبَّابٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي ، وَآمِنْ رَوْعَتِي وَاقْضِ عَنِّي دَيْنِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خباب خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے :
«اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي ، وَآمِنْ رَوْعَتِي وَاقْضِ عَنِّي دَيْنِي»
” اے اللہ ! میرے پوشیدہ معاملات کی پردہ پوشی فرما ، اور میری پریشانیوں کو امان نصیب فرما ، اور میری طرف سے میرا قرض ادا کروا دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17404
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3710)»
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " بِحَسْبِ امْرِئٍ يَدْعُو أَنْ يَقُولَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي ، وَأَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمایا کرتے تھے : ” آدمی کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ دعا کرتے ہوئے یہ کہے :
«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي ، وَأَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ» ” اے اللہ ! تو میری مغفرت کر دے ، تو مجھ پر رحم کر ، اور تو مجھے جنت میں داخل کر دینا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17405
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6670)»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَفْسًا بِكَ مُطْمَئِنَّةً ، تُؤْمِنُ بِلِقَائِكَ ، وَتَرْضَى بِقَضَائِكَ ، [ وَتَقْنَعُ بِعَطَائِكَ ] " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا : تم یہ پڑھو :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَفْسًا بِكَ مُطْمَئِنَّةً ، تُؤْمِنُ بِلِقَائِكَ ، وَتَرْضَى بِقَضَائِكَ ، (وَتَقْنَعُ بِعَطَائِكَ) »
” اے اللہ ! میں تجھ سے ایسے نفس کا سوال کرتا ہوں جو تیری ذات پر مطمئن ہو ، اور تیری بارگاہ میں حاضری پر ایمان رکھتا ہو ، اور تیری تقدیر کے فیصلے سے راضی ہو ، اور تیری عطاؤں پر قناعت کرتا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17406
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ أَبِي عَسِيبٍ مَوْلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُرَشَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَعِيرٍ فَنَادَتْ : يَا عَائِشَةُ ، أَعِينِينِي بِدَعْوَةٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُسَكِّنِينِي أَوْ تُطَمْئِنِينِي ، قَالَتْ لَهَا : ضَعِي يَدَكِ الْيُمْنَى عَلَى بَطْنِكِ فَامْسَحِيهِ ، وَقُولِي : بِسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ دَاوِنِي بِدَوَائِكَ ، وَاشْفِنِي بِشِفَائِكَ ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ ، وَاحْذَرْ عَنِّي أَذَاكَ ، قَالَتْ رَبِيعَةُ : فَدَعَوْتُ بِهِ فَوَجَدْتُهُ جَيِّدًا . ¤ قَالَ الْمُنْتَجِعُ : فَأَرَى أَنَّ رَبِيعَةَ قَالَتْ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ الْمَرْأَةَ كَانَتْ غَيْرِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ میمونہ بنت ابوعسیب رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیز ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : ” حریش سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اونٹ پر سوار ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اس نے بلند آواز میں کہا: اے عائشہ ! آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے حوالے سے میری مدد کیجئے ، آپ مجھے سکون فراہم کیجیے ! ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) مجھے اطمینان فراہم کیجئے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس عورت سے کہا: تم اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھو اور اس پر پھیرتے ہوئے یہ پڑھو :
«بِسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ دَاوِنِي بِدَوَائِكَ ، وَاشْفِنِي بِشِفَائِكَ ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ ، وَاحْذَرْ عَنِّي أَذَاكَ» ” اے اللہ ! تو اپنی دوا کے ذریعے مجھے دوا دے ، اور اپنی شفا کے ذریعے مجھے شفا نصیب کر ، اور اپنے فضل کے ذریعے مجھے اپنے علاوہ ہر ایک سے بے نیاز کر دے ، اور مجھے کسی تکلیف کا شکار نہ کرنا ۔ “
ربیعہ نامی خاتون کہتی ہیں : میں نے یہ دعا کی ، تو میں نے اس دعا کو عمدہ پایا ، منتجع کہتے ہیں : میرا خیال ہے ربیعہ نامی خاتون نے اس روایت میں یہ بات بیان کی تھی : کہ اس عورت کے مزاج میں تیزی پائی جاتی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17407
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (39/25)»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاتَّبَعْتُهُ فَقَالَ : " انْطَلِقْ بِنَا حَتَّى نَدْخُلَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ " ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا وَإِذَا هِيَ نَائِمَةٌ مُضْطَجِعَةٌ فَقَالَ : " يَا فَاطِمَةُ ، مَا يُنِيمُكِ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ " ، قَالَتْ : مَا زِلْتُ مُنْذُ الْبَارِحَةِ مَحْمُومَةً ، قَالَ : " فَأَيْنَ الدُّعَاءُ الَّذِي عَلَّمْتُكِ ؟ " . قَالَتْ : نَسِيتُهُ ، قَالَ : " قَوْلِي : يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ، بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهِ ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ وَلَا إِلَى أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ سَلَمَةَ بْنِ حَرْبِ بْنِ زِيَادٍ الْكِلَابِيِّ ، عَنْ أَبِي مُدْرِكٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَقَدْ ذَكَرَ الذَّهَبِيُّ سَلَمَةَ فِي الْمِيزَانِ فَقَالَ : مَجْهُولٌ كَشَيْخِهِ أَبِي مُدْرِكٍ ، وَقَدْ وَثَّقَ ابْنُ حِبَّانَ سَلَمَةَ ، وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي تَرْجَمَتِهِ ، وَفِي الْمِيزَانِ : أَبُو مُدْرِكٍ ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : مَتْرُوكٌ ، فَلَا أَدْرِي هُوَ أَبُو مُدْرِكٍ هَذَا أَوْ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں موجود تھے ، یہاں تک کہ جب سورج طلوع ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے ، میں آپ کے پیچھے گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ہمارے ساتھ چلو ! تاکہ ہم فاطمہ بنت محمد کے ہاں جائیں ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم ان کے گھر گئے تو وہ سو رہی تھیں اور لیٹی ہوئی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے فاطمہ ! یہ سونے کا کون سا وقت ہے ؟ انہوں نے عرض کی : مجھے گزشتہ رات بخار رہا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس دعا کا کیا بنا ؟ جو میں نے تمہیں تعلیم دی تھی ، انہوں نے عرض کی : وہ میں بھول گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ پڑھو :
«يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ، بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهِ ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ وَلَا إِلَى أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ» ” یا حی ! یا قیوم ! میں تیری رحمت کے وسیلے سے مدد مانگتا ہوں کہ تو میرے تمام کاموں کو ٹھیک کر دے اور مجھے پلک جھپکنے کے عرصے کے لیے بھی میری ذات کے سپرد نہ کرنا ، یا لوگوں میں سے کسی ایک کے سپرد نہ کرنا ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، یہ سلمہ بن حرب بن زیاد کلابی کے حوالے سے ، ابومدرک کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، امام ذہبی نے سلمہ کا ذکر ” میزان الاعتدال “ میں کیا ہے ، اور یہ بات کہی ہے : یہ اپنے استاد ابومدرک کی طرح مجہول ہے ، ابن حبان نے سلمہ کو ثقہ قرار دیا ہے ، انہوں نے اس کے حالات میں اس کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی ہے ” میزان الاعتدال “ میں یہ مذکور ہے : ابومدرک امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) مجھے نہیں معلوم کہ اس سے مراد یہی ابومدرک ہے یا کوئی اور ہے ؟ اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17408
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (444)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ لَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ ، وَلَا تَنْزِعْ مِنِّي صَالِحَ مَا أَعْطَيْتَنِي " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْخُوزِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا یہ ہوتی تھی :
«اللَّهُمَّ لَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ ، وَلَا تَنْزِعْ مِنِّي صَالِحَ مَا أَعْطَيْتَنِي»
” اے اللہ ! تو مجھے پلک جھپکنے کے عرصے کے لیے بھی میرے نفس کے سپرد نہ کرنا اور تو نے مجھے جو کچھ عطا کیا ہے ، اس میں سے جو صالح ہے وہ مجھ سے الگ نہ کرنا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17409
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3190)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ : " اللَّهُمَّ - أَحْسَبُهُ قَالَ : أَسْأَلُكَ إِيمَانًا يُبَاشِرُ قَلْبِي حَتَّى أَعْلَمَ أَنْ لَا يُصِيبَنِي إِلَّا مَا كَتَبْتَ لِي ، وَرِضًا مِنَ الْمَعِيشَةِ بِمَا قَسَمْتَ لِي " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو مَهْدِيٍّ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ہمراہ دعا کیا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ - أَحْسَبُهُ قَالَ : أَسْأَلُكَ إِيمَانًا يُبَاشِرُ قَلْبِي حَتَّى أَعْلَمَ أَنْ لَا يُصِيبَنِي إِلَّا مَا كَتَبْتَ لِي ، وَرِضًا مِنَ الْمَعِيشَةِ بِمَا قَسَمْتَ لِي» ” اے اللہ ! ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں ، جو میرے دل کے ساتھ مل جائے ، یہاں تک کہ مجھے یہ علم ہو جائے کہ مجھے وہی چیز نصیب ہو گی ، جو تو نے میرے لیے تحریر کی ہے ، اور تو نے جو چیز زندگی میں سے میرے حصے میں رکھی ہے ، اُس سے مجھے راضی کر دے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومہدی سعید بن سنان ہے اور وہ حدیث میں ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17410
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3191)»
وَعَنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِي فِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي ، وَفِي آخِرَتِي الَّتِي إِلَيْهَا مَصِيرِي ، وَفِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا بَلَاغِي ، وَاجْعَلْ حَيَاتِي زِيَادَةً فِي كُلِّ خَيْرٍ ، وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ " رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدٍ جَزَرَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ بَارِكْ لِي فِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي ، وَفِي آخِرَتِي الَّتِي إِلَيْهَا مَصِيرِي ، وَفِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا بَلَاغِي ، وَاجْعَلْ حَيَاتِي زِيَادَةً فِي كُلِّ خَيْرٍ ، وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ»
” اے اللہ ! تو میرے دین میں ، میرے لئے برکت رکھ دے ، جو میرے معاملے کے بچاؤ کا باعث ہے ، اور میری آخرت میں ، میرے لئے برکت رکھ دے ، جس کی طرف میں نے لوٹ کے جانا ہے ، اور میری دنیا میں ، میرے لئے برکت رکھ دے ، جس میں میرا بلاغ ہے ، اور میری زندگی کو ہر بھلائی میں اضافہ ( کا باعث ) بنا دے اور میری موت کو ، میرے لیے ہر شر سے راحت کا باعث بنا دے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف صالح بن محمد جزرہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17411
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3188)»
وَعَنْ بُرَيْدَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي شَكُورًا ، وَاجْعَلْنِي صَبُورًا ، وَاجْعَلْنِي فِي عَيْنِي صَغِيرًا ، وَفِي أَعْيُنِ النَّاسِ كَبِيرًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصَمُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَحَسَّنَ الْبَزَّارُ حَدِيثَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي شَكُورًا ، وَاجْعَلْنِي صَبُورًا ، وَاجْعَلْنِي فِي عَيْنِي صَغِيرًا ، وَفِي أَعْيُنِ النَّاسِ كَبِيرًا»
” اے اللہ ! تو مجھے شکر کرنے والا بنا دے اور تو مجھے صبر کرنے والا بنا دے اور تو مجھے اپنی آنکھوں میں چھوٹا بنا دے ( یعنی مجھے ایسا بنا دے کہ میں تکبر کا شکار نہ ہوؤں اور عاجزی و انکساری کے ساتھ رہوں ) اور لوگوں کی آنکھوں میں بڑا بنا دے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن عبداللہ اصم ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام بزار نے اپنی حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17412
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3198)»
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَوْ غَيْرِهِ : أَنْ حُصَيْنًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، لَعَبْدُ الْمُطَّلِبِ كَانَ خَيْرًا لِقَوْمِهِ مِنْكَ ، كَانَ يُطْعِمُهُمُ الْكَبِدَ وَالسَّنَامَ ، وَأَنْتَ تَنْحَرُهُمْ ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ لَهُ وَقَالَ لَهُ : مَا تَأْمُرُنِي أَنْ أَقُولَ ؟ قَالَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي ، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي " . ¤ فَانْطَلَقَ فَأَسْلَمَ الرَّجُلُ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ : إِنِّي أَتَيْتُكَ فَقُلْتُ لِي : " قُلِ : اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي ، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي " ، فَمَا أَقُولُ الْآنَ ؟ قَالَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَخْطَأْتُ وَمَا عَمَدْتُ ، وَمَا عَلِمْتُ وَمَا جَهِلْتُ " ، رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ یا شاید کوئی اور بیان کرتے ہیں : سیدنا حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! جناب عبدالمطلب اپنی قوم کے لئے آپ سے بہتر تھے ، وہ انہیں جگر اور کوہان ( کا گوشت وغیرہ ) کھلایا کرتے تھے اور آپ ان لوگوں کو قربان کر رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ، جو اللہ کو منظور تھا ، وہ اُن سے فرمایا ، سیدنا حصین رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ کہ میں کیا پڑھوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ پڑھو :
«اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي ، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي»
” اے اللہ ! مجھے میری ذات کے شر سے بچا لے ، اور مجھے میرے معاملے کے بارے میں سب سے زیادہ ہدایت والے طریقے پر پختہ کر دے ۔ “
پھر وہ صاحب چلے گئے ، انہوں نے اسلام قبول کر لیا پھر وہ آئے اور بولے : میں آپ کے پاس آیا تھا اور آپ نے مجھ سے یہ کہا: تھا تم یہ پڑھو :
«اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي ، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي»
” اے اللہ ! مجھے میری ذات کے شر سے بچا لے ، اور مجھے میرے معاملے کے بارے میں سب سے زیادہ ہدایت والے طریقے پر پختہ کر دے ۔ “
اب مجھے کیا پڑھنا چاہیے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ پڑھو :
«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَخْطَأْتُ وَمَا عَمَدْتُ ، وَمَا عَلِمْتُ وَمَا جَهِلْتُ»
” اے اللہ ! تو مغفرت کر دے اس چیز کی ، جو میں نے پوشیدہ طور پر کیا اور اس کی جو میں نے اعلانیہ طور پر کیا ، اس کی جو میں نے غلطی سے کیا ، اس کی جو میں نے جان بوجھ کر کیا ، اس کی جو میں جانتا ہوں ، اور اس کی جس سے میں ناواقف ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17413
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (115/18) اخرجه احمد فى المسند (444/4)»
وَعَنْ ثَوْبَانَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الطَّيِّبَاتِ ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ ، وَأَنْ تَتُوبَ عَلَيَّ ، وَإِنْ أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً أَنْ تَقْبِضَنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الطَّيِّبَاتِ ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ ، وَأَنْ تَتُوبَ عَلَيَّ ، وَإِنْ أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً أَنْ تَقْبِضَنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ»
” اے اللہ ! میں تجھ سے پاکیزہ چیزیں مانگتا ہوں اور منکرات کو ترک کرنے اور غریبوں سے محبت رکھنے ( کا سوال کرتا ہوں ) اور یہ کہ تو میری توبہ قبول فرما ! اور جب تو اپنے بندوں کو آزمائش کا شکار کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے ایسی حالت میں وفات دینا کہ میں آزمائش کا شکار نہ ہوا ہوؤں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17414
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3197)»
وَعَنْ مَكْحُولٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : فَسَمِعْتُهُ يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَدْعُو : " اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي ، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْمَدَنِيِّينَ ، وَهِيَ ضَعِيفَةٌ . ¤
محمد محی الدین
مکحول بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہ کہتے ہیں : میں نے انہیں یہ ذکر کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي ، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي» ” اے اللہ ! تو نے مجھے جو علم دیا ہے ، اس کے حوالے سے مجھے نفع عطا فرما اور مجھے اُس چیز کا علم عطا فرما ، جو مجھے نفع دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اسماعیل بن عیاش کی ، اہل مدینہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور
یہ روایت ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17415
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ» ” اے اللہ ! میں تجھ سے نفع دینے والا علم مانگتا ہوں ، اور ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو نفع نہ دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17416
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ جَابِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ " ، قُلْتُ : لِجَابِرٍ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ : " سَلُوا اللَّهَ عِلْمًا نَافِعًا " ، وَهُنَا أَنَّهُ سَأَلَ بِنَفْسِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ»
” اے اللہ ! میں تجھ سے نفع دینے والے علم کا سوال کرتا ہوں ، اور ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو نفع نہ دے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں :
«سَلُوا اللَّهَ عِلْمًا نَافِعًا» ” تم لوگ اللہ تعالیٰ سے نفع دینے والا علم مانگو ۔ “
جبکہ یہاں جو
یہ روایت نقل ہوئی ہے ، اس میں یہ مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود یہ دعا مانگا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17417
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ جَابِرٍ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا ، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا ، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا»
” اے اللہ ! میں تجھ سے نفع دینے والے علم اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17418
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ : " وَاقِيَةً كَوَاقِيَةِ الْوَلِيدِ " . ¤ قَالَ أَبُو يَعْلَى : يَعْنِي الْمَوْلُودَ ، وَكَذَا فَسَّرَ لَنَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں یہ پڑھا کرتے تھے : ” ایسا بچاؤ جیسے بچے کا بچاؤ ہوتا ہے ۔ “ امام ابویعلیٰ کہتے ہیں : یعنی ( نو ) مولود ، ہمارے سامنے اسی طرح وضاحت بیان کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17419
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5527)»
وَعَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَوْسَعَ رِزْقِكَ عَلَيَّ عِنْدَ كِبَرِ سِنِّي ، وَانْقِطَاعِ عُمُرِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَوْسَعَ رِزْقِكَ عَلَيَّ عِنْدَ كِبَرِ سِنِّي ، وَانْقِطَاعِ عُمُرِي» ” اے اللہ ! میری عمر زیادہ ہونے کے وقت اور میری عمر منقطع ہونے کے وقت مجھے اپنا وسیع ترین رزق عطا فرمانا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17420
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (3755)»
وَعَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ بَعْدَ الْعِشَاءِ ، قَالَ : مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ ! قُلْتُ : إِنِّي أُحِبُّكَ ، قَالَ : اللَّهِ إِنَّكَ تُحِبُّنِي ؟ ! قُلْتُ : نَعَمْ ، وَاللَّهِ إِنِّي أُحِبُّكَ ، فَقَالَ : أَلَا أُعَلِّمُكَ دُعَاءً عَلَّمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ افْتَحْ مَسَامِعَ قَلْبِي لِذِكْرِكَ ، وَارْزُقْنِي طَاعَتَكَ ، وَطَاعَةَ رَسُولِكَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَمَلًا بِكِتَابِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْحَارِثُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
حارث اعور بیان کرتے ہیں : میں عشاء کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو انہوں نے دریافت کیا : تم اس وقت کس سلسلے میں آئے ہو ، میں نے جواب دیا : میں آپ سے محبت رکھتا ہوں ، انہوں نے دریافت کیا : کیا اللہ کی قسم ! تم واقعی مجھ سے محبت رکھتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں ، تو انہوں نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس دعا کی تعلیم نہ دوں ، جس کی تعلیم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دی تھی ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے فرمایا : تم یہ پڑھو :
«اللَّهُمَّ افْتَحْ مَسَامِعَ قَلْبِي لِذِكْرِكَ ، وَارْزُقْنِي طَاعَتَكَ ، وَطَاعَةَ رَسُولِكَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَمَلًا بِكِتَابِكَ»
” اے اللہ ! میرے دل کے مسامع کو اپنے ذکر کے لئے کھول دے اور مجھے اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری اور اپنی کتاب پر عمل نصیب فرما ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور حارث نامی راوی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17421
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1308)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ : اللَّهُمَّ لَقِّنِي حُجَّتِي ; فَإِنَّ الْكَافِرَ يَلْقَى حُجَّتَهُ ، وَلَكِنْ يَقُولُ : اللَّهُمَّ لَقِّنِي حُجَّةَ الْإِيمَانِ عِنْدَ الْمَوْتِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کوئی ایک شخص یہ ہرگز نہ کہے : اے اللہ ! تو مجھے میری حجت تلقین فرما ، کیونکہ کافر شخص کو اس کی حجت تلقین کی جاتی ہے بلکہ آدمی کو یہ پڑھنا چاہیے :
«اللَّهُمَّ لَقِّنِي حُجَّةَ الْإِيمَانِ عِنْدَ الْمَوْتِ» ” اے اللہ ! تو موت کے وقت مجھے ایمان کی حجت تلقین فرمانا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17422
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : لَمَّا وَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ إِلَى الْحَبَشَةِ شَيَّعَهُ وَزَوَّدَهُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ : " اللَّهُمَّ الْطُفْ بِي فِي تَيْسِيرِ كُلِّ عَسِيرٍ ; فَإِنَّ تَيْسِيرَ كُلِّ عَسِيرٍ عَلَيْكَ يَسِيرٌ ، وَأَسْأَلُكَ الْيُسْرَ وَالْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو حبشہ کی طرف بھیجا ، تو آپ ان کے ساتھ چلتے ہوئے کچھ دور تک گئے اور انہیں زادراہ کے طور پر یہ کلمات تعلیم دیے :
«اللَّهُمَّ الْطُفْ بِي فِي تَيْسِيرِ كُلِّ عَسِيرٍ ; فَإِنَّ تَيْسِيرَ كُلِّ عَسِيرٍ عَلَيْكَ يَسِيرٌ ، وَأَسْأَلُكَ الْيُسْرَ وَالْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ»
” اے اللہ ! مجھ پر یہ مہربانی فرمانا ، کہ ہر مشکل آسان کر دینا ، کیونکہ ہر مشکل کو آسان کر دینا ، تیرے لئے آسان ہے ، اور میں دنیا اور آخرت میں آسانی اور معافی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17423
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1272)»
وَعَنْ أَبِي بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بُرَيْدَةُ ، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا عَلَّمَهُ إِيَّاهُنَّ ، ثُمَّ لَمْ يَنْسَهُنَّ أَبَدًا ؟ " ، قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّ فِي رِضَاكَ ضَعْفِي ، وَخُذْ إِلَى الْخَيْرِ بِنَاصِيَتِي ، وَاجْعَلِ الْإِسْلَامَ مُنْتَهَى رِضَائِي ، اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّنِي ، وَإِنِّي ذَلِيلٌ فَأَعِزَّنِي ، وَإِنِّي فَقِيرٌ فَأَغْنِنِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” اے بریدہ ! کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں ؟ کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، اُسے ان کلمات کی تعلیم عطا کرتا ہے ، اور پھر وہ بندہ اُن کو کبھی نہیں بھولتا ، راوی کہتے ہیں ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم یہ پڑھو :
«اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّ فِي رِضَاكَ ضَعْفِي ، وَخُذْ إِلَى الْخَيْرِ بِنَاصِيَتِي ، وَاجْعَلِ الْإِسْلَامَ مُنْتَهَى رِضَائِي ، اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّنِي ، وَإِنِّي ذَلِيلٌ فَأَعِزَّنِي ، وَإِنِّي فَقِيرٌ فَأَغْنِنِي»
” اے اللہ ! بے شک میں کمزور ہوں ، اپنی رضامندی کے بارے میں تو میری کمزوری کو قوت دیدے اور میری پیشانی کو بھلائی کی طرف لے جا ، اور اسلام کو میری رضامندی کی آخری حد بنا دے ، اے اللہ ! بے شک میں کمزور ہوں ، تو مجھے قوت عطا فرما ، میں مغلوب ہوں ، تو مجھے غلبہ عطا فرما ! میں غریب ہوں ، تو مجھے خوشحال کر دے ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17424
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
وَعَنْ سَمُرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَدْعُو : " اللَّهُمَّ ضَعْ فِي أَرْضِنَا بَرَكَتَهَا ، وَزِينَتَهَا ، وَسَكَنَهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ ضَعْ فِي أَرْضِنَا بَرَكَتَهَا ، وَزِينَتَهَا ، وَسَكَنَهَا»
” اے اللہ ! ہماری زمین میں اس کی برکت ، اس کی زینت اور اس کا سکون رکھ دے ( یا شاید یہاں باسی مراد ہوں ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17425
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید