مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَدْعِيَةِ الْمَأْثُورَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي دَعَا بِهَا ، وَعَلَّمَهَا . باب: نبی اکرم ﷺ سے منقول دعاؤں کا بیان ، جو آپ مانگا کرتے تھے ، یا جن کی آپ نے تعلیم دی
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : لَمَّا وَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ إِلَى الْحَبَشَةِ شَيَّعَهُ وَزَوَّدَهُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ : " اللَّهُمَّ الْطُفْ بِي فِي تَيْسِيرِ كُلِّ عَسِيرٍ ; فَإِنَّ تَيْسِيرَ كُلِّ عَسِيرٍ عَلَيْكَ يَسِيرٌ ، وَأَسْأَلُكَ الْيُسْرَ وَالْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو حبشہ کی طرف بھیجا ، تو آپ ان کے ساتھ چلتے ہوئے کچھ دور تک گئے اور انہیں زادراہ کے طور پر یہ کلمات تعلیم دیے : «اللَّهُمَّ الْطُفْ بِي فِي تَيْسِيرِ كُلِّ عَسِيرٍ ; فَإِنَّ تَيْسِيرَ كُلِّ عَسِيرٍ عَلَيْكَ يَسِيرٌ ، وَأَسْأَلُكَ الْيُسْرَ وَالْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ»
” اے اللہ ! مجھ پر یہ مہربانی فرمانا ، کہ ہر مشکل آسان کر دینا ، کیونکہ ہر مشکل کو آسان کر دینا ، تیرے لئے آسان ہے ، اور میں دنیا اور آخرت میں آسانی اور معافی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔