حدیث نمبر: 17413
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَوْ غَيْرِهِ : أَنْ حُصَيْنًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، لَعَبْدُ الْمُطَّلِبِ كَانَ خَيْرًا لِقَوْمِهِ مِنْكَ ، كَانَ يُطْعِمُهُمُ الْكَبِدَ وَالسَّنَامَ ، وَأَنْتَ تَنْحَرُهُمْ ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ لَهُ وَقَالَ لَهُ : مَا تَأْمُرُنِي أَنْ أَقُولَ ؟ قَالَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي ، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي " . ¤ فَانْطَلَقَ فَأَسْلَمَ الرَّجُلُ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ : إِنِّي أَتَيْتُكَ فَقُلْتُ لِي : " قُلِ : اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي ، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي " ، فَمَا أَقُولُ الْآنَ ؟ قَالَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَخْطَأْتُ وَمَا عَمَدْتُ ، وَمَا عَلِمْتُ وَمَا جَهِلْتُ " ، رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ یا شاید کوئی اور بیان کرتے ہیں : سیدنا حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! جناب عبدالمطلب اپنی قوم کے لئے آپ سے بہتر تھے ، وہ انہیں جگر اور کوہان ( کا گوشت وغیرہ ) کھلایا کرتے تھے اور آپ ان لوگوں کو قربان کر رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ، جو اللہ کو منظور تھا ، وہ اُن سے فرمایا ، سیدنا حصین رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ کہ میں کیا پڑھوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي ، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي»
” اے اللہ ! مجھے میری ذات کے شر سے بچا لے ، اور مجھے میرے معاملے کے بارے میں سب سے زیادہ ہدایت والے طریقے پر پختہ کر دے ۔ “
پھر وہ صاحب چلے گئے ، انہوں نے اسلام قبول کر لیا پھر وہ آئے اور بولے : میں آپ کے پاس آیا تھا اور آپ نے مجھ سے یہ کہا: تھا تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي ، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي»
” اے اللہ ! مجھے میری ذات کے شر سے بچا لے ، اور مجھے میرے معاملے کے بارے میں سب سے زیادہ ہدایت والے طریقے پر پختہ کر دے ۔ “
اب مجھے کیا پڑھنا چاہیے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَخْطَأْتُ وَمَا عَمَدْتُ ، وَمَا عَلِمْتُ وَمَا جَهِلْتُ»
” اے اللہ ! تو مغفرت کر دے اس چیز کی ، جو میں نے پوشیدہ طور پر کیا اور اس کی جو میں نے اعلانیہ طور پر کیا ، اس کی جو میں نے غلطی سے کیا ، اس کی جو میں نے جان بوجھ کر کیا ، اس کی جو میں جانتا ہوں ، اور اس کی جس سے میں ناواقف ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17413
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (115/18) اخرجه احمد فى المسند (444/4)»