حدیث نمبر: 17408
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاتَّبَعْتُهُ فَقَالَ : " انْطَلِقْ بِنَا حَتَّى نَدْخُلَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ " ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا وَإِذَا هِيَ نَائِمَةٌ مُضْطَجِعَةٌ فَقَالَ : " يَا فَاطِمَةُ ، مَا يُنِيمُكِ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ " ، قَالَتْ : مَا زِلْتُ مُنْذُ الْبَارِحَةِ مَحْمُومَةً ، قَالَ : " فَأَيْنَ الدُّعَاءُ الَّذِي عَلَّمْتُكِ ؟ " . قَالَتْ : نَسِيتُهُ ، قَالَ : " قَوْلِي : يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ، بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهِ ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ وَلَا إِلَى أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ سَلَمَةَ بْنِ حَرْبِ بْنِ زِيَادٍ الْكِلَابِيِّ ، عَنْ أَبِي مُدْرِكٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَقَدْ ذَكَرَ الذَّهَبِيُّ سَلَمَةَ فِي الْمِيزَانِ فَقَالَ : مَجْهُولٌ كَشَيْخِهِ أَبِي مُدْرِكٍ ، وَقَدْ وَثَّقَ ابْنُ حِبَّانَ سَلَمَةَ ، وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي تَرْجَمَتِهِ ، وَفِي الْمِيزَانِ : أَبُو مُدْرِكٍ ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : مَتْرُوكٌ ، فَلَا أَدْرِي هُوَ أَبُو مُدْرِكٍ هَذَا أَوْ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں موجود تھے ، یہاں تک کہ جب سورج طلوع ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے ، میں آپ کے پیچھے گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ہمارے ساتھ چلو ! تاکہ ہم فاطمہ بنت محمد کے ہاں جائیں ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم ان کے گھر گئے تو وہ سو رہی تھیں اور لیٹی ہوئی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے فاطمہ ! یہ سونے کا کون سا وقت ہے ؟ انہوں نے عرض کی : مجھے گزشتہ رات بخار رہا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس دعا کا کیا بنا ؟ جو میں نے تمہیں تعلیم دی تھی ، انہوں نے عرض کی : وہ میں بھول گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ پڑھو : «يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ، بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهِ ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ وَلَا إِلَى أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ» ” یا حی ! یا قیوم ! میں تیری رحمت کے وسیلے سے مدد مانگتا ہوں کہ تو میرے تمام کاموں کو ٹھیک کر دے اور مجھے پلک جھپکنے کے عرصے کے لیے بھی میری ذات کے سپرد نہ کرنا ، یا لوگوں میں سے کسی ایک کے سپرد نہ کرنا ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، یہ سلمہ بن حرب بن زیاد کلابی کے حوالے سے ، ابومدرک کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، امام ذہبی نے سلمہ کا ذکر ” میزان الاعتدال “ میں کیا ہے ، اور یہ بات کہی ہے : یہ اپنے استاد ابومدرک کی طرح مجہول ہے ، ابن حبان نے سلمہ کو ثقہ قرار دیا ہے ، انہوں نے اس کے حالات میں اس کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی ہے ” میزان الاعتدال “ میں یہ مذکور ہے : ابومدرک امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) مجھے نہیں معلوم کہ اس سے مراد یہی ابومدرک ہے یا کوئی اور ہے ؟ اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17408
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (444)»