مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَدْعِيَةِ الْمَأْثُورَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي دَعَا بِهَا ، وَعَلَّمَهَا . باب: نبی اکرم ﷺ سے منقول دعاؤں کا بیان ، جو آپ مانگا کرتے تھے ، یا جن کی آپ نے تعلیم دی
وَعَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ بَعْدَ الْعِشَاءِ ، قَالَ : مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ ! قُلْتُ : إِنِّي أُحِبُّكَ ، قَالَ : اللَّهِ إِنَّكَ تُحِبُّنِي ؟ ! قُلْتُ : نَعَمْ ، وَاللَّهِ إِنِّي أُحِبُّكَ ، فَقَالَ : أَلَا أُعَلِّمُكَ دُعَاءً عَلَّمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ افْتَحْ مَسَامِعَ قَلْبِي لِذِكْرِكَ ، وَارْزُقْنِي طَاعَتَكَ ، وَطَاعَةَ رَسُولِكَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَمَلًا بِكِتَابِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْحَارِثُ ضَعِيفٌ . ¤حارث اعور بیان کرتے ہیں : میں عشاء کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو انہوں نے دریافت کیا : تم اس وقت کس سلسلے میں آئے ہو ، میں نے جواب دیا : میں آپ سے محبت رکھتا ہوں ، انہوں نے دریافت کیا : کیا اللہ کی قسم ! تم واقعی مجھ سے محبت رکھتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں ، تو انہوں نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس دعا کی تعلیم نہ دوں ، جس کی تعلیم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دی تھی ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے فرمایا : تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ افْتَحْ مَسَامِعَ قَلْبِي لِذِكْرِكَ ، وَارْزُقْنِي طَاعَتَكَ ، وَطَاعَةَ رَسُولِكَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَمَلًا بِكِتَابِكَ»
” اے اللہ ! میرے دل کے مسامع کو اپنے ذکر کے لئے کھول دے اور مجھے اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری اور اپنی کتاب پر عمل نصیب فرما ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور حارث نامی راوی ضعیف ہے ۔