مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَدْعِيَةِ الْمَأْثُورَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي دَعَا بِهَا ، وَعَلَّمَهَا . باب: نبی اکرم ﷺ سے منقول دعاؤں کا بیان ، جو آپ مانگا کرتے تھے ، یا جن کی آپ نے تعلیم دی
حدیث نمبر: 17406
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَفْسًا بِكَ مُطْمَئِنَّةً ، تُؤْمِنُ بِلِقَائِكَ ، وَتَرْضَى بِقَضَائِكَ ، [ وَتَقْنَعُ بِعَطَائِكَ ] " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا : تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَفْسًا بِكَ مُطْمَئِنَّةً ، تُؤْمِنُ بِلِقَائِكَ ، وَتَرْضَى بِقَضَائِكَ ، (وَتَقْنَعُ بِعَطَائِكَ) »
” اے اللہ ! میں تجھ سے ایسے نفس کا سوال کرتا ہوں جو تیری ذات پر مطمئن ہو ، اور تیری بارگاہ میں حاضری پر ایمان رکھتا ہو ، اور تیری تقدیر کے فیصلے سے راضی ہو ، اور تیری عطاؤں پر قناعت کرتا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔