مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَدْعِيَةِ الْمَأْثُورَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي دَعَا بِهَا ، وَعَلَّمَهَا . باب: نبی اکرم ﷺ سے منقول دعاؤں کا بیان ، جو آپ مانگا کرتے تھے ، یا جن کی آپ نے تعلیم دی
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أَخْشَاكَ حَتَّى كَأَنِّي أَرَاكَ أَبَدًا حَتَّى أَلْقَاكَ ، وَأَسْعِدْنِي بِتَقْوَاكَ ، وَلَا تُشْقِنِي بِمَعْصِيَتِكَ ، وَخِرْ لِي فِي قَضَائِكَ ، وَبَارِكْ لِي فِي قَدَرِكَ حَتَّى لَا أُحِبَّ تَعْجِيلَ مَا أَخَّرْتَ ، وَلَا تَأْخِيرَ مَا عَجَّلْتَ ، وَاجْعَلْ غَنَائِي فِي نَفْسِي ، وَأَمْتِعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي ، وَاجْعَلْهُمَا الْوُرِاثَ مِنِّي ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي ، وَأَرِنِي فِيهِ ثَأْرِي ، وَأَقِرَّ بِذَلِكَ عَيْنِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَرَوَى الْبَزَّارُ بَعْضَ آخِرِهِ مِنْ قَوْلِ : " أَمْتِعْنِي بِسَمْعِي " . بِنَحْوِهِ بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أَخْشَاكَ حَتَّى كَأَنِّي أَرَاكَ أَبَدًا حَتَّى أَلْقَاكَ ، وَأَسْعِدْنِي بِتَقْوَاكَ ، وَلَا تُشْقِنِي بِمَعْصِيَتِكَ ، وَخِرْ لِي فِي قَضَائِكَ ، وَبَارِكْ لِي فِي قَدَرِكَ حَتَّى لَا أُحِبَّ تَعْجِيلَ مَا أَخَّرْتَ ، وَلَا تَأْخِيرَ مَا عَجَّلْتَ ، وَاجْعَلْ غَنَائِي فِي نَفْسِي ، وَأَمْتِعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي ، وَاجْعَلْهُمَا الْوُرِاثَ مِنِّي ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي ، وَأَرِنِي فِيهِ ثَأْرِي ، وَأَقِرَّ بِذَلِكَ عَيْنِي» ” اے اللہ ! تو مجھے ایسا بندہ بنا دے جو تجھ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو ، یہاں تک کہ میں یوں ہو جاؤں ، جیسے میں ہمیشہ تجھے دیکھتا رہتا ہوں ، اور ایسا اس وقت تک رہے ، جب تک میں تیری بارگاہ میں حاضر نہیں ہو جاتا ، اور تو مجھے اپنے تقویٰ کے ذریعے سعادت عطا فرما ، اور اپنی نافرمانی کے ذریعے تو مجھے بدنصیب نہ کرنا ، اپنے فیصلے میں ، میرے لیے بہتری اختیار کر لے ، اور اپنی تقدیر میں میرے لئے برکت رکھ دے ، یہاں تک کہ میں اس چیز کو جلدی نہ چاہوں ، جسے تو نے موخر کیا ہو ، اور اس میں تاخیر نہ چاہوں ، جسے تو نے جلدی کر دیا ہو ، میری خوشحالی ( یا بے نیازی ) میرے نفس میں ڈال دے ، مجھے میری سماعت اور بصارت کے ذریعے نفع عطا کرتے رہنا اور ان دونوں کو میرا وارث بنانا اور جس نے مجھ پر ظلم کیا ، اس کے خلاف میری مدد کرنا ، اور اس کے بارے میں مجھے بدلہ دکھا دینا ، اور اس کے ذریعے میری آنکھیں ٹھنڈی کرنا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن خیثم بن عراک ہے اور وہ متروک ہے ۔ امام بزار نے اس روایت کا آخری حصہ نقل کیا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں : ” تو میری سماعت کے ذریعے مجھے نفع دینا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد حسب سابق روایت ہے جو عمدہ سند کے ساتھ منقول ہے ۔