حدیث نمبر: 17424
وَعَنْ أَبِي بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بُرَيْدَةُ ، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا عَلَّمَهُ إِيَّاهُنَّ ، ثُمَّ لَمْ يَنْسَهُنَّ أَبَدًا ؟ " ، قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّ فِي رِضَاكَ ضَعْفِي ، وَخُذْ إِلَى الْخَيْرِ بِنَاصِيَتِي ، وَاجْعَلِ الْإِسْلَامَ مُنْتَهَى رِضَائِي ، اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّنِي ، وَإِنِّي ذَلِيلٌ فَأَعِزَّنِي ، وَإِنِّي فَقِيرٌ فَأَغْنِنِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” اے بریدہ ! کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں ؟ کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، اُسے ان کلمات کی تعلیم عطا کرتا ہے ، اور پھر وہ بندہ اُن کو کبھی نہیں بھولتا ، راوی کہتے ہیں ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّ فِي رِضَاكَ ضَعْفِي ، وَخُذْ إِلَى الْخَيْرِ بِنَاصِيَتِي ، وَاجْعَلِ الْإِسْلَامَ مُنْتَهَى رِضَائِي ، اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّنِي ، وَإِنِّي ذَلِيلٌ فَأَعِزَّنِي ، وَإِنِّي فَقِيرٌ فَأَغْنِنِي»
” اے اللہ ! بے شک میں کمزور ہوں ، اپنی رضامندی کے بارے میں تو میری کمزوری کو قوت دیدے اور میری پیشانی کو بھلائی کی طرف لے جا ، اور اسلام کو میری رضامندی کی آخری حد بنا دے ، اے اللہ ! بے شک میں کمزور ہوں ، تو مجھے قوت عطا فرما ، میں مغلوب ہوں ، تو مجھے غلبہ عطا فرما ! میں غریب ہوں ، تو مجھے خوشحال کر دے ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17424
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً