کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ سے منقول دعاؤں کا بیان ، جو آپ مانگا کرتے تھے ، یا جن کی آپ نے تعلیم دی
حدیث نمبر: 17353
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : دَعَوَاتٌ سَمِعْنَاهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا أَتْرُكُهَا مَا عِشْتُ حَيًّا ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أُعَظِّمُ شُكْرَكَ ، وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ ، وَأَتَّبِعُ نَصِيحَتَكَ ، وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ أَبِي يَزِيدَ الْمَدَنِيِّ . وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْحِمْصِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ دعائیں ہیں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہیں ، جب تک میں زندہ رہوں گا ، انہیں ترک نہیں کروں گا :
«اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أُعَظِّمُ شُكْرَكَ ، وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ ، وَأَتَّبِعُ نَصِيحَتَكَ ، وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ»
” اے اللہ ! مجھے ایسا بنا دے کہ میں تیرا زیادہ شکر ادا کروں ، تیرا کثرت کے ساتھ ذکر کروں ، تیری نصیحت کی پیروی کروں ، تیری تلقین کی حفاظت کروں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ابوسعید مدینی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور ایک روایت کے مطابق یہ ابوسعد حمصی سے منقول ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، ان دونوں کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17353
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (10182 و 8087)»
حدیث نمبر: 17354
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَإِسْرَافِي وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَإِسْرَافِي وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ»
” اے اللہ ! تو میری ان چیزوں کے حوالے سے مغفرت کر دے ، جو میں نے پہلے کی ہیں ، جو بعد میں کروں گا ، جو پوشیدہ طور پر کی ہیں ، جو اعلانیہ طور پر کی ہیں ، یا جو میرا اسراف تھا ، اور وہ چیز جس کے بارے میں ، تو مجھ سے زیادہ بہتر جانتا ہے ، بے شک تو آگے کرنے والا ہے ، اور تو پیچھے کرنے والا ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17354
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (7900)»
حدیث نمبر: 17355
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ ، وَشُكْرِكَ ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ ، وَشُكْرِكَ ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ»
” اے اللہ ! اپنے ذکر ، اپنے شکر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت کے بارے میں میری مدد فرما ! “ ۔

یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عمرو بن عبداللہ اودی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17355
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3189)»
حدیث نمبر: 17356
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : كَانَ عَامَّةُ دُعَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا جَهِلْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَوْنٍ الْعُقَيْلِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ تر دعا یہ ہوتی تھی :
«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا جَهِلْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ»
” اے اللہ ! میں نے جو خطا کی ، جو جان بوجھ کے کیا ، جو پوشیدہ طور پر کیا ، جو اعلانیہ طور پر کیا ، جو لاعلمی میں کیا ، جو جان بوجھ کر کیا ، ان ( سب ) کے حوالے سے میری مغفرت کر دے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام بزار اور امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، ان کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف عون عقیلی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17356
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3199) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1201/18) اخرجه احمد فى المسند (437/4)»
حدیث نمبر: 17357
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَدْعُو : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا ، وَظُلْمَنَا ، وَهَزْلَنَا ، وَجِدَّنَا ، وَعَمْدَنَا ، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدَنَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا ، وَظُلْمَنَا ، وَهَزْلَنَا ، وَجِدَّنَا ، وَعَمْدَنَا ، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدَنَا»
” اے اللہ ! تو ہمارے گناہوں کی ، ہمارے ظلم کی ، ہمارے مذاق کی ، ہماری سنجیدگی کی ، ہمارے جان بوجھ کر کیے گئے کی ، ہماری طرف سے ہر چیز کی مغفرت کر دے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17357
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6617)»
حدیث نمبر: 17358
وَعَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَقِيتُ شَيْخًا بِالشَّامِ فَقُلْتُ : أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عون بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : شام میں میری ملاقات ایک بزرگ سے ہوئی ، میں نے دریافت کیا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کوئی بات سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے :
«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا »
” اے اللہ ! تو ہماری مغفرت کر دے ، اور ہم پر رحم فرما ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17358
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1561)»
حدیث نمبر: 17359
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُعَلِّمُكَ مَا عَلَّمَنِي جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَئِي وَعَمْدِي ، وَهَزْلِي وَجِدِّي ، وَلَا تَحْرِمْنِي بَرَكَةَ مَا أَعْطَيْتَنِي ، وَلَا تَفْتِنِّي فِيمَا أَحْرَمْتَنِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عِصْمَةَ أَبِي حَكِيمَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں ان کلمات کی تعلیم نہ دوں ؟ جن کی تعلیم جبرائیل نے مجھے دی ہے ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ پڑھو :
«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَئِي وَعَمْدِي ، وَهَزْلِي وَجِدِّي ، وَلَا تَحْرِمْنِي بَرَكَةَ مَا أَعْطَيْتَنِي ، وَلَا تَفْتِنِّي فِيمَا أَحْرَمْتَنِي»
” اے اللہ ! تو میری خطا کی ، جان بوجھ کر کیے گئے کی ، میرے مذاق کی ، میری سنجیدگی کی مغفرت کر دے ، اور جو تو نے مجھے عطا کیا ہے ، اُس کی برکت سے مجھے محروم نہ رکھنا ، اور جن چیزوں سے تو نے مجھے محروم رکھا ہے ، ان کے بارے میں مجھے آزمائش کا شکار نہ کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عصمہ ابوحکیمہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17359
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 17360
وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ : أَلَا أُعَلِّمُكَ دُعَاءً عَلَّمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ النَّاسَ قَدْ تَنَافَسُوا الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ فَادْعُ بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ ، وَأَسْأَلُكَ عَزِيمَةَ الرُّشْدِ ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ وَالصَّبْرَ عَلَى بَلَائِكَ ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ ، وَالرِّضَا بِقَضَائِكَ ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا ، وَلِسَانًا صَادِقًا ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مَطِيرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ابواسحاق بیان کرتے ہیں : سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس دعا کی تعلیم نہ دوں ؟ جس کی تعلیم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ سونا اور چاندی کی طرف راغب ہو گئے ہیں ، تو تم ان کلمات کے ہمراہ دعا کرو :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ ، وَأَسْأَلُكَ عَزِيمَةَ الرُّشْدِ ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ وَالصَّبْرَ عَلَى بَلَائِكَ ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ ، وَالرِّضَا بِقَضَائِكَ ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا ، وَلِسَانًا صَادِقًا ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ»
” اے اللہ ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ دین کے بارے میں ، میں ثابت قدم رہوں ، اور میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ ہدایت پر میں پختہ رہوں اور میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تیری نعمت کا میں شکر کروں ، اور تیری آزمائش پر میں صبر کروں ، اور تیری اچھے طریقے سے عبادت کروں ، تیرے فیصلے پر راضی رہوں ، اور میں تجھ سے سلامت رہنے والا دل اور سچی زبان مانگتا ہوں اور میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو اپنے علم کے مطابق ( مجھے ) بھلائی عطا فرما ، اور میں تیرے علم کے مطابق ، شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور تیرے علم کے مطابق تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن مطیر ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17360
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1172)»
حدیث نمبر: 17361
وَعَنْ أَوْسَطَ أَبِي عَمْرٍو الْبَجَلِيِّ قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَنَةٍ ، فَأَلْفَيْتُ أَبَا بَكْرٍ يَخْطُبُ النَّاسَ فَقَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ أَوَّلَ ، فَخَنَقَتْهُ الْعَبْرَةُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، سَلُوا اللَّهَ الْمُعَافَاةَ ; فَإِنَّهُ لَمْ يُؤْتَ أَحَدٌ مِثْلَ يَقِينٍ بَعْدَ مُعَافَاةٍ ، وَلَا أَشَدَّ مِنْ رِيبَةٍ بَعْدَ كُفْرٍ " . قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَوْسَطَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
اوسط ابوعمرو بجلی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے ایک سال بعد میں مدینہ منورہ آیا ، تو میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے پایا ، انہوں نے فرمایا : گزشتہ سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تھے ، تو تین مرتبہ ایسا ہوا کہ رونے کی وجہ سے آپ کی آواز گھٹ گئی ، پھر آپ نے فرمایا : ” اے لوگو ! اللہ تعالیٰ سے ” معافاة “ کا سوال کرو ، کیونکہ کسی بھی شخص کو کوئی ایسی چیز نہیں دی گئی جو ” معافاة “ کے بعد یقین جیسی ہو ( شاید یہ کاتب یا ناسخ کی غلطی ہے کیونکہ جملہ یہ ہونا چاہیے : ” جو یقین کے بعد ، معافاة ، جیسی ہو ) اور نہ ہی کفر کے بعد شک سے زیادہ شدید کوئی چیز ہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف اوسط نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17361
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (34 و 44)»
حدیث نمبر: 17362
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ : جَاءَ شَابٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي دُعَاءً أُصِيبُ بِهِ خَيْرًا ، فَقَالَ لَهُ : " ادْنُهْ " . فَدَنَا حَتَّى كَادَتْ رُكْبَتُهُ تَمَسُّ رُكْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اعْفُ عَنِّي ; فَإِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ ، وَأَنْتَ عَفُوٌّ كَرِيمٌ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ مَيْمُونٍ التَّمَّارُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک نوجوان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے ایسی دعا کی تعلیم دیجئے ! جس کے ذریعے میں بھلائی حاصل کر لوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے فرمایا : قریب آ جاؤ ! وہ قریب ہوا ، یہاں تک کہ اُس کے گھٹنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کے ساتھ مس ہونے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( یعنی تم یہ پڑھو : )
«اللَّهُمَّ اعْفُ عَنِّي ; فَإِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ ، وَأَنْتَ عَفُوٌّ كَرِيمٌ»
” اے اللہ ! تو مجھ کو معاف کر دے ، بے شک تو معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ، تو معاف کرنے والا مہربان ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن میمون تمار ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17362
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (1023)»
حدیث نمبر: 17363
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَقَالَ : " فَحَسِّنْ خُلُقِي " . وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَوْسَجَةَ بْنِ الرَّمَّاحِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي»
” اے اللہ ! تو نے میری ظاہری تخلیق اچھی بنائی ہے ، تو میرے اخلاق کو بھی اچھا رکھنا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :
” تو میرے اخلاق کو بھی اچھا رکھنا “ ۔ ( یعنی عربی کا لفظ مختلف ہے لیکن مفہوم یہی ہے ) ۔ ان دونوں کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف عوسجہ بن رماح کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17363
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (5181 و 5075) اخرجه احمد فى المسند (3823)»
حدیث نمبر: 17364
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي» ” اے اللہ ! تو نے میری ظاہری تخلیق خوبصورت بنائی ہے ، تو میرے اخلاق کو بھی اچھا رکھنا ۔ “

یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17364
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 17365
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا سَمِعْتُهُ يَقُولُ حِينَ انْصَرَفَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَئِي وَعَمْدِي ، اللَّهُمَّ اهْدِنِي لِصَالِحِ الْأَعْمَالِ وَالْأَخْلَاقِ ; إِنَّهُ لَا يَهْدِي لِصَالِحِهَا وَلَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے جب بھی تم لوگوں کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی ، تو ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز سے فارغ ہونے کے بعد ، یہ دعا کرتے ہوئے سنا :
«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَئِي وَعَمْدِي ، اللَّهُمَّ اهْدِنِي لِصَالِحِ الْأَعْمَالِ وَالْأَخْلَاقِ ; إِنَّهُ لَا يَهْدِي لِصَالِحِهَا وَلَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ»
” اے اللہ ! تو میری خطا کی ، میرے جان بوجھ کر کیے گئے کی ، مغفرت کر دے ، اے اللہ ! تو نیک اعمال اور اچھے اخلاق کی طرف میری رہنمائی فرما ! کیونکہ اُن ( یعنی اخلاق اور اعمال کے ) اچھے کی طرف رہنمائی ، صرف تو ہی کر سکتا ہے اور اُن ( یعنی اخلاق اور اعمال ) کے برے سے ، صرف تو ہی پھیر سکتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17365
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3192)»
حدیث نمبر: 17366
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا سَمِعْتُهُ يَقُولُ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاتِهِ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَئِي وَذُنُوبِي كُلَّهَا ، اللَّهُمَّ أَنْعِشْنِي ، وَارْزُقْنِي ، وَاجْبُرْنِي لِصَالِحِ الْأَعْمَالِ وَالْأَخْلَاقِ ; لَا يَهْدِي لِصَالِحِهَا وَلَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے جب بھی تمہارے نبی کے پیچھے نماز ادا کی تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پڑھتے ہوئے سنا :
«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَئِي وَذُنُوبِي كُلَّهَا ، اللَّهُمَّ أَنْعِشْنِي ، وَارْزُقْنِي ، وَاجْبُرْنِي لِصَالِحِ الْأَعْمَالِ وَالْأَخْلَاقِ ; لَا يَهْدِي لِصَالِحِهَا وَلَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ»
” اے اللہ ! تو میری خطاؤں اور میرے تمام ذنوب کی مغفرت کر دے ! اے اللہ ! تو مجھے عزم و ہمت دے ، مجھے رزق دے اور صالح اعمال اور صالح اخلاق کے بارے میں میری رہنمائی فرما ، کیونکہ ان ( اخلاق و اعمال ) کے صالح کی طرف رہنمائی کرنا ، اور ان ( اخلاق و اعمال ) میں سے برے سے پھیر دینا ، صرف تو ہی کر سکتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17366
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3875)»
حدیث نمبر: 17367
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصِّحَّةَ ، وَالْعِفَّةَ ، وَالْأَمَانَةَ ، وَحُسْنَ الْخُلُقِ ، وَالرِّضَا بِالْقَدَرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَقَالَ : " أَسْأَلُكَ الْعِصْمَةَ " بَدَلَ : " الصِّحَّةِ " ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے : ” اے اللہ ! میں تجھ سے تندرستی ، پاکدامنی ، امانت ، اچھے اخلاق اور تقدیر پر راضی رہنے کا سوال کرتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے ” تندرستی “ کی جگہ یہ لفظ نقل کیا ہے : ” عصمت ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف الحدیث ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کی دو اسناد میں سے ایک کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17367
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3187)»
حدیث نمبر: 17368
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قَالَ : اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكُ ; فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي إِلَى الشَّرِّ ، وَتُبَاعِدْنِي مِنَ الْخَيْرِ ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ ; فَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُوَفِّينِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ، إِلَّا قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِمَلَائِكَتِهِ : إِنَّ عَبْدِي عَهِدَ عِنْدِي عَهْدًا فَأَوْفُوهُ إِيَّاهُ ; فَيُدْخِلُهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْجَنَّةَ " . ¤ قَالَ سُهَيْلٌ : فَأَخْبَرْتُ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ عَوْنًا أَخْبَرَنِي بِكَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ : مَا فِي أَهْلِنَا جَارِيَةٌ إِلَّا وَهِيَ تَقُولُ هَذَا فِي خِدْرِهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ عَوْنَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جو شخص یہ پڑھتا ہے :
«اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكُ ; فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي إِلَى الشَّرِّ ، وَتُبَاعِدْنِي مِنَ الْخَيْرِ ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ ; فَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُوَفِّينِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ»
” اے اللہ ! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! غیب اور شہادت کا علم رکھنے والے ! میں اس دنیاوی زندگی میں ، تیرے سامنے یہ عہد کرتا ہوں اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف تو ہی معبود ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ، اگر تو مجھے میرے نفس کے سپرد کر دے تو ، تُو مجھے برائی کے قریب کر دے گا اور بھلائی سے دور کر دے گا ، میں صرف تیری رحمت پر بھروسہ رکھتا ہوں ، تو اپنی بارگاہ میں میرے لئے ایک عہد مقرر کر دے ، جو تو قیامت کے دن مجھے عطا کرنا ، بے شک تو وعدے کے خلاف نہیں کرتا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ” تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرشتوں سے یہ فرمائے گا : میرے بندے نے میرے ساتھ عہد کیا تھا ، تو تم اسے پورا بدلہ دو ! تو اللہ تعالیٰ اس بندے کو جنت میں داخل کر دے گا ۔ “
سہیل نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے قاسم بن عبدالرحمن کو یہ بات بتائی کہ عون نامی راوی نے مجھے اس اس طرح کی روایت بیان کی ہے ، تو قاسم نے کہا: ہمارے گھر کی پردہ نشین لڑکیاں بھی پردے میں رہتے ہوئے یہ دعا پڑھتی ہیں ( یعنی انہوں نے پردے میں رہتے ہوئے بھی یہ دعا سیکھی ہوئی ہے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ عون بن عبداللہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17368
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (3916)»
حدیث نمبر: 17369
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْصَى سَلْمَانَ الْخَيْرَ فَقَالَ : " إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ يُرِيدُ أَنْ يَمْنَحَكَ كَلِمَاتٍ تَسْأَلُهُنَّ الرَّحْمَنَ ، تَرْغَبُ إِلَيْهِ فِيهِنَّ ، وَتَدْعُو بِهِنَّ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، قُلِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ صِحَّةَ إِيمَانٍ ، وَإِيمَانًا فِي حُسْنِ خُلُقٍ ، وَنَجَاحًا يَتْبَعُهُ فَلَاحٌ " يَعْنِي " وَرَحْمَةً مِنْكَ وَعَافِيَةً وَمَغْفِرَةً مِنْكَ وَرِضْوَانًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَقَالَ : " وَهُنَّ مَرْفُوعَةٌ فِي الْكِتَابِ ، يَتْبَعُهُ فَلَاحٌ ، وَرَحْمَةٌ مِنْكَ وَعَافِيَةٌ ، وَمَغْفِرَةٌ مِنْكَ ، وَرِضْوَانٌ " . وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمان الخیر رضی اللہ عنہ کو وصیت کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے ہیں کہ وہ تمہیں کچھ کلمات کا تحفہ دیں ، جن کے ہمراہ تم رحمان سے دعا مانگو اور اُن کے ذریعے تم پروردگار کی بارگاہ میں رغبت کا اظہار کرو ، تم رات اور دن میں ان کلمات کے ہمراہ دعا کرو اور یہ پڑھو :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ صِحَّةَ إِيمَانٍ ، وَإِيمَانًا فِي حُسْنِ خُلُقٍ ، وَنَجَاحًا يَتْبَعُهُ فَلَاحٌ يَعْنِي وَرَحْمَةً مِنْكَ وَعَافِيَةً وَمَغْفِرَةً مِنْكَ وَرِضْوَانًا»
” اے اللہ ! میں تجھ سے ایمان کی درستگی اور اچھے اخلاق کے ہمراہ ایمان اور کامیابی کے ہمراہ کامرانی کا سوال کرتا ہوں اور تیری طرف سے رحمت ملنے اور عافیت اور مغفرت نصیب ہونے اور رضامندی کا سوال کرتا ہوں ۔ “

یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :
«وَهُنَّ مَرْفُوعَةٌ فِي الْكِتَابِ ، يَتْبَعُهُ فَلَاحٌ ، وَرَحْمَةٌ مِنْكَ وَعَافِيَةٌ ، وَمَغْفِرَةٌ مِنْكَ ، وَرِضْوَانٌ»
” یہ کلمات کتاب میں ” مرفوع “ ہوں ۔ اس کے بعد کامرانی ہو اور تیری طرف سے رحمت اور تیری طرف سے عافیت اور مغفرت اور رضامندی ( کا سوال کرتا ہوں ) ۔ “
اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17369
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (321/2)»
حدیث نمبر: 17370
وَعَنْ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ : أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِكَ الْمُنْتَخَبِينَ ، الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ ، الْوَفْدِ الْمُتَقَبَّلِينَ " . قَالَ : فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عِبَادُ اللَّهِ الْمُنْتَخَبُونَ ؟ قَالَ : " عِبَادُ اللَّهِ الصَّالِحُونَ " ، قَالُوا : فَمَا الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ ؟ قَالَ : " الَّذِينَ تَبْيَضُّ مِنْهُمْ مَوَاضِعُ الطَّهُورِ " ، قَالُوا : فَمَا الْوَفْدُ الْمُتَقَبَّلُونَ ؟ قَالَ : " وَفَدٌ يَفِدُونَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ مَعَ نَبِيِّهِمْ إِلَى رَبِّهِمْ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
عبدالقیس قبیلے کے وفد کے ارکان کے حوالے سے یہ بات مذکور ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا :
«اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِكَ الْمُنْتَخَبِينَ ، الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ ، الْوَفْدِ الْمُتَقَبَّلِينَ»
” اے اللہ ! تو ہمیں اپنے منتجب بندوں جو روشن پیشانی والے ہوں اور ایسا وفد ہوں ، جنہیں قبول کیا جائے اُن میں شامل کر دے ! “ ۔
راوی بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ کے منتجب بندوں سے مراد کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کے نیک بندے ، لوگوں نے دریافت کیا : روشن پیشانی والے لوگوں سے مراد کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جن کے طہارت کے مقامات چمک رہے ہوں گے ، لوگوں نے دریافت کیا : مقبول وفد سے مراد کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ وفد جس کا تعلق اس امت سے ہو گا اور وہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں وفد کی شکل میں حاضر ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17370
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (431/3)»
حدیث نمبر: 17371
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ ، وَاهْدِنِي السَّبِيلَ الْأَقْوَمَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادَيْنِ حَسَنَيْنِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے :
«رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ ، وَاهْدِنِي السَّبِيلَ الْأَقْوَمَ»
” اے میرے پروردگار ! تو مغفرت کر دے ، تو رحم فرما اور درست راستے کی طرف میری رہنمائی فرما ! “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے دو حسن اسناد کے ہمراہ نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17371
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (303/6)»
حدیث نمبر: 17372
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَهُ عَلَى نِصْفِ الْيَمَنِ وَمُعَاذًا عَلَى نِصْفِ الْيَمَنِ ، فَأَتَاهُ أَبُو مُوسَى يُسَلِّمُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا مُوسَى ، قُلِ : اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي ، وَاذْكُرْ بِهِدَايَتِكَ الْهِدَايَةَ ، وَبِتَسْدِيدِكَ تَسْدِيدَ سَهْمِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ نَافِعٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کے نصف حصے کا گورنر بنا کر اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کے دوسرے نصف حصے کا گورنر بنا کر بھیجا ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سلام کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : اے ابوموسیٰ ! تم یہ پڑھو :
«اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي»
” اے اللہ ! تو مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ ! مجھے سیدھا رکھنا ۔ “
( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ہدایت کے ہمراہ ، اپنی ہدایت ، اور سیدھے رکھنے کے ہمراہ ، اپنے حصے کے سیدھے ہونے کا خیال رکھنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن نافع اشعری ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17372
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17373
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا سَأَلَ الْعِبَادُ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ يَغْفِرَ لَهُمْ وَيُعَافِيَهُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بندوں نے کوئی ایسی چیز نہیں مانگی جو اس سے زیادہ فضیلت رکھتی ہو ( کہ اللہ تعالیٰ ) ان کی مغفرت کر دے اور انہیں عافیت عطا کرے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن سائب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17373
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3176)»
حدیث نمبر: 17374
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَمِّهِ الْعَبَّاسِ : " يَا عَمِّ ، أَكْثِرِ الدُّعَاءَ بِالْعَافِيَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” اے چچا ! آپ کثرت کے ساتھ عافیت کی دعا کیا کریں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہلال بن خباب ہے ، وہ ثقہ ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17374
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11908)»
حدیث نمبر: 17375
وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُهُ اللَّهَ ، فَقَالَ : " سَلْ رَبَّكَ الْعَافِيَةَ " ، فَمَكَثْتُ أَيَّامًا ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - فَقَالَ : " يَا عَبَّاسُ ، يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیجئے ! کہ میں اللہ تعالیٰ سے وہ مانگوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آپ اپنے پروردگار سے عافیت مانگیں ۔ راوی کہتے ہیں : کچھ دن گزر گئے ، پھر میں آیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیجئے جو میں اپنے پروردگار سے مانگوں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے سیدنا عباس ! اے اللہ کے رسول کے چچا ! آپ اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت میں عافیت مانگیں ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17375
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (209/1)»
حدیث نمبر: 17376
وَفِي رِوَايَةٍ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَدْعُو بِشَيْءٍ مِنْ غَدْوَةٍ إِلَى اللَّيْلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَسَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ " . رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں صبح سے شام تک کسی چیز کے بارے میں دعا کرتا ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آپ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگیں ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، جن میں سے بعض کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف یزید بن ابوزیاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17376
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 17377
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ دَعْوَةٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ أَنْ يَدْعُوَ بِهَا مِنْ عَبْدٍ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْمُعَافَاةَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی دعا ایسی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو کہ بندہ وہ دعا مانگئے ، وہ یہ کہے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْمُعَافَاةَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ” اے اللہ ! بے شک میں تجھ سے معاف کر دینے اور دنیا اور آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف علاء بن زیاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، تاہم اس نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17377
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطيراني فى المعجم الكبير (165/20)»
حدیث نمبر: 17378
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : مُرْنِي بِدَعَوَاتٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِنَّ ، قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَمَّا سَأَلْتَنِي عَنْهُ فَقَالَ : " سَلِ اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبداللہ بن جعفر بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا ، اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: آپ مجھے ایسی دعاؤں کے بارے میں حکم دیں ، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع عطا کرے ، انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ، ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی سوال کیا تھا ، جو سوال تم نے مجھ سے کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت میں عفو ( یعنی معاف کرنے ) اور عافیت کا سوال کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذکونی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17378
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17379
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ ، وَأَهْلِي وَمَالِي ، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي ، وَآمِنْ رَوْعَتِي ، وَاحْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي ، وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي ، وَمِنْ فَوْقِي ، وَأَعُوذُ بِكَ اللَّهُمَّ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ ، وَأَهْلِي وَمَالِي ، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي ، وَآمِنْ رَوْعَتِي ، وَاحْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي ، وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي ، وَمِنْ فَوْقِي ، وَأَعُوذُ بِكَ اللَّهُمَّ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي» ” اے اللہ ! میں تجھ سے اپنے دین ، اپنی دنیا ، اپنے اہلخانہ اور اپنے مال کے بارے میں ، عفو اور عافیت کا سوال کرتا ہوں ، اے اللہ ! میرے پوشیدہ معاملات کی پردہ پوشی فرما ، میرے خوف والے معاملات کو محفوظ کر دے ، میرے آگے کی طرف سے ، میرے پیچھے سے میرے دائیں سے ، میرے بائیں سے اور میرے اوپر سے میری حفاظت فرما ، اور اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ نیچے کی طرف سے میرے ساتھ کوئی دھوکا ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یونس بن خباب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17379
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3196)»
حدیث نمبر: 17380
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَا شَيْءَ قَبْلَكَ ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَا شَيْءَ بَعْدَكَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ نَاصِيَتُهَا بِيَدِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْإِثْمِ وَالْكَسَلِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَفِتْنَةِ الْغِنَى ، وَفِتْنَةِ الْفَقْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، هَذَا مَا سَأَلَ مُحَمَّدٌ رَبَّهُ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الدُّعَاءِ ، وَخَيْرَ الْمَسْأَلَةِ ، وَخَيْرَ النَّجَاحِ ، وَخَيْرَ الْعَمَلِ ، وَخَيْرَ الثَّوَابِ ، وَخَيْرَ الْحَيَاةِ ، وَخَيْرَ الْمَمَاتِ ، وَثَبِّتْنِي وَثَقِّلْ مَوَازِينِي ، وَارْفَعْ دَرَجَتِي ، وَتَقَبَّلْ صَلَاتِي ، وَاغْفِرْ خَطِيئَتِي ، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ ، آمِينَ . اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ ، آمِينَ . اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فُعِلَ ، وَخَيْرَ مَا عُمِلَ ، وَخَيْرَ مَا بَطَنَ ، وَخَيْرَ مَا ظَهَرَ ، وَالدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ ، آمِينَ . اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ تَرْفَعَ ذِكْرِي ، وَتَضَعَ وِزْرِي ، وَتُصْلِحَ أَمْرِي ، وَتُطَهِّرَ قَلْبِي ، وَتَغْفِرَ ذَنْبِي ، وَتَحْفَظَ فَرْجِي ، وَتُنَوِّرَ قَلْبِي ، وَتَغْفِرَ ذَنْبِي ، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ ، آمِينَ . اللَّهُمَّ نَجِّنِي مِنَ النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ زُنْبُورٍ ، وَعَاصِمِ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَهُمَا ثِقَتَانِ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ہمراہ دعا کیا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَا شَيْءَ قَبْلَكَ ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَا شَيْءَ بَعْدَكَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ نَاصِيَتُهَا بِيَدِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْإِثْمِ وَالْكَسَلِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَفِتْنَةِ الْغِنَى ، وَفِتْنَةِ الْفَقْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، هَذَا مَا سَأَلَ مُحَمَّدٌ رَبَّهُ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الدُّعَاءِ ، وَخَيْرَ الْمَسْأَلَةِ ، وَخَيْرَ النَّجَاحِ ، وَخَيْرَ الْعَمَلِ ، وَخَيْرَ الثَّوَابِ ، وَخَيْرَ الْحَيَاةِ ، وَخَيْرَ الْمَمَاتِ ، وَثَبِّتْنِي وَثَقِّلْ مَوَازِينِي ، وَارْفَعْ دَرَجَتِي ، وَتَقَبَّلْ صَلَاتِي ، وَاغْفِرْ خَطِيئَتِي ، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ ، آمِينَ ۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ ، آمِينَ ۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فُعِلَ ، وَخَيْرَ مَا عُمِلَ ، وَخَيْرَ مَا بَطَنَ ، وَخَيْرَ مَا ظَهَرَ ، وَالدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ ، آمِينَ ۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ تَرْفَعَ ذِكْرِي ، وَتَضَعَ وِزْرِي ، وَتُصْلِحَ أَمْرِي ، وَتُطَهِّرَ قَلْبِي ، وَتَغْفِرَ ذَنْبِي ، وَتَحْفَظَ فَرْجِي ، وَتُنَوِّرَ قَلْبِي ، وَتَغْفِرَ ذَنْبِي ، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ ، آمِينَ ۔ اللَّهُمَّ نَجِّنِي مِنَ النَّارِ»
” اے اللہ ! تو سب سے پہلے ہے ، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی ، تو سب سے بعد والا ہے ، تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہو گی ، میں ہر ایسے چوپائے کے شر سے بچنے کے لیے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جس کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ، اور میں گناہ اور کسلمندی اور قبر کے عذاب اور خوشحالی کی آزمائش اور غربت کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ ! تو مجھے گناہوں سے اس طرح پاک رکھنا ، جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے پاک رکھا ہے ، اے اللہ ! میرے اور خطاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ رکھ دینا جتنا فاصلہ تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان رکھا ہے ، یہ وہ چیز ہے جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے پروردگار سے مانگتا ہے ، اے اللہ ! میں تجھ سے بہترین دعا اور بہترین مانگنے اور بہترین کامیابی اور بہترین عمل اور بہترین ثواب اور بہترین زندگی اور بہترین موت کا سوال کرتا ہوں ، تو مجھے ثابت قدم رکھنا ، میرے میزان کو وزنی رکھنا ، میرے درجے کو بلند کرنا ، میری نماز کو قبول کرنا ، میری خطا کی مغفرت کرنا اور میں جنت کے بلند درجات کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، آمین ! اے اللہ ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں ، آمین ! اے اللہ ! میں تجھ سے اس سب سے بہتر چیز کا سوال کرتا ہوں جو کی گئی ، اور اس سب سے بہتر چیز کا جو عمل کیا گیا ، اور اس سب سے بہتر چیز کا ، جو باطن ہو اور اس سب سے بہتر چیز کا ، جو ظاہر ہو اور جنت کے بلند درجات کا سوال کرتا ہوں ، آمین ! اے اللہ ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میرا ذکر بلند کر دے اور میرے بوجھ کو کم کر دے اور میرے معاملے کو ٹھیک کر دے اور میرے دل کو پاک کر دے اور میرے ذنب کی مغفرت کر دے اور میری شرمگاہ کی حفاظت کرنا اور میرے دل کو نورانی کر دینا اور میرے ذنب کی مغفرت کر دینا ، میں تجھ سے جنت کے بلند درجات کا سوال کرتا ہوں ، اے اللہ ! تو مجھے جہنم سے نجات عطا فرما ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن زنبور اور عاصم بن عبید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ دونوں ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17380
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 17381
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكْثِرُ فِي دُعَائِهِ أَنْ يَقُولَ : " اللَّهُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ " ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنَّ الْقُلُوبَ لَتَتَقَلَّبُ ؟ ! قَالَ : " نَعَمْ ، مَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ مِنْ بَشَرٍ مِنْ بَنِي آدَمَ إِلَّا وَقَلْبُهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَقَامَهُ ، وَإِنْ شَاءَ أَزَاغَهُ ، فَنَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ لَا يُزِيغَ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا ، وَنَسْأَلُهُ أَنْ يَهَبَ لَنَا مِنْ لَدُنْهُ رَحْمَةً ; إِنَّهُ هُوَ الْوَهَّابُ " . ¤ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تُعَلِّمُنِي دَعْوَةً أَدْعُو بِهَا لِنَفْسِي ، قَالَ : " بَلَى ، قُولِي : اللَّهُمَّ رَبَّ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي ، وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْيَيْتَنَا " . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ بَعْضُهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں اکثر یہ پڑھا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ»
” اے اللہ ! اے دلوں کو تبدیل کر دینے والے ! تو میرے دل کو اپنے دین پر ثابت ( یعنی جما ہوا ) رکھنا ۔ “
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا دل بھی تبدیل ہو جاتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ، اولاد آدم میں سے ، جتنے بھی انسان ہیں ، ان میں سے ہر ایک کا دل ، اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے ، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے ٹھیک رکھتا ہے اور اگر چاہے تو اسے ٹیڑھا کر دیتا ہے ، تو ہم اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ہدایت نصیب کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرے ، اور ہم اس سے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی رحمت سے نوازے ، بے شک وہ بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے ۔ “ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے کسی ایسی دعا کی تعلیم نہیں دیں گے جو میں اپنے لئے کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ رَبَّ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي ، وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْيَيْتَنَا»
” اے اللہ ! اے سیدنا محمد نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پروردگار ! تو میرے گناہوں کی مغفرت کر دے اور میرے دل کے غصے کو رخصت کر دے ، اور جب تک تو مجھے زندہ رکھے گا ، فتنوں کی گمراہیوں سے مجھے محفوظ رکھنا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17381
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 17382
وَعَنْ جَابِرٍ رَفَعَهُ قَالَ : كَانَ يَقُولُ : " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ " ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَخَافُ عَلَيْنَا وَقَدْ آمَنَّا بِمَا جِئْتَ ؟ قَالَ : " إِنَّ الْقُلُوبَ " ، وَأَشَارَ الْأَعْمَشُ بِإِصْبَعَيْنِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ مرفوع روایت کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ پڑھا کرتے تھے :
«يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ»
” اے دلوں کو پھیرنے والے ! تو میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا“ ۔
ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ کو ہمارے بارے میں اندیشہ ہے ؟ جبکہ ہم اس پر ایمان لا چکے ہیں ، جو آپ لے کر آئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک قلوب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( یعنی اس کے بعد راوی نے پوری روایت نقل کی ہے ) ۔ اعمش نامی راوی نے اپنی دو انگلیوں کے ذریعے اشارہ کر کے
یہ روایت بیان کی تھی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17382
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2318)»
حدیث نمبر: 17383
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي دُعَائِهِ : " اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقَلْبِي عَلَى دِينِكَ ، وَاحْفَظْ مِنْ وَرَائِنَا بِرَحْمَتِكَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ : أَبِي إِسْمَاعِيلَ الْجِيزِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقَلْبِي عَلَى دِينِكَ ، وَاحْفَظْ مِنْ وَرَائِنَا بِرَحْمَتِكَ»
” اے اللہ ! تو میرے دل کو اپنے دین کی طرف متوجہ رکھنا اور ہمارے پیچھے والوں کی اپنی رحمت کے ہمراہ حفاظت کرنا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد ابواسماعیل جیزی کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17383
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (3485)»
حدیث نمبر: 17384
وَعَنْ أَنْسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَا وَلِيَّ الْإِسْلَامِ وَأَهْلِهِ ، ثَبِّتْنِي بِهِ حَتَّى أَلْقَاكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے :
«يَا وَلِيَّ الْإِسْلَامِ وَأَهْلِهِ ، ثَبِّتْنِي بِهِ حَتَّى أَلْقَاكَ»
” اے اسلام کے نگران اور اس کے اہل ! تو مجھے اپنی بارگاہ میں حاضر ہونے تک اُس ( یعنی اسلام ) پر ثابت قدم رکھنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17384
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 17385
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَا شَيْءَ قَبْلَكَ ، وَأَنْتَ الْآخِرُ لَا شَيْءَ بَعْدَكَ ، اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ نَاصِيَتُهَا بِيَدِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْإِثْمِ وَالْكَسَلِ ، وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْغِنَى وَمِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ، اللَّهُمَّ نَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ بَعِّدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطِيئَتِي كَمَا بَعَّدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، هَذَا مَا سَأَلَ مُحَمَّدٌ رَبَّهُ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَسْأَلَةِ ، وَخَيْرَ الدُّعَاءِ ، وَخَيْرَ النَّجَاحِ ، وَخَيْرَ الْعَمَلِ ، وَخَيْرَ الثَّوَابِ ، وَخَيْرَ الْحَيَاةِ ، وَخَيْرَ الْمَمَاتِ ، وَثَبِّتْنِي وَثَقِّلْ مَوَازِينِي ، وَأَحِقَّ إِيمَانِي ، وَارْفَعْ دَرَجَتِي ، وَتَقَبَّلْ صَلَاتِي ، وَاغْفِرْ خَطِيئَتِي ، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ ، آمِينَ ، اللَّهُمَّ وَنَجِّنِي مِنَ النَّارِ ، وَمَغْفِرَةً بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، وَالْمَنْزِلَ الصَّالِحَ ، آمِينَ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَلَاصًا مِنَ النَّارِ سَالِمًا ، وَأَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ آمِنًا ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ تُبَارِكَ لِي فِي نَفْسِي ، وَفِي خُلُقِي ، وَفِي خَلِيقَتِي ، وَأَهْلِي ، وَفِي مَحْيَايَ ، وَفِي سَمْعِي وَفِي بَصَرِي ، وَفِي رُوحِي ، وَفِي خُلُقِي وَفِي خَلِيقَتِي ، وَأَهْلِي ، وَفِي مَحْيَايَ وَفِي مَمَاتِي ، اللَّهُمَّ وَثَقِّلْ حَسَنَاتِي ، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ ، آمِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ بِأَسَانِيدَ وَأَحَدِ إِسْنَادَيِ الْكَبِيرِ وَالسِّيَاقُ لَهُ ، وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ہمراہ دعا کیا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَا شَيْءَ قَبْلَكَ ، وَأَنْتَ الْآخِرُ لَا شَيْءَ بَعْدَكَ ، اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ نَاصِيَتُهَا بِيَدِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْإِثْمِ وَالْكَسَلِ ، وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْغِنَى وَمِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ، اللَّهُمَّ نَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ بَعِّدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطِيئَتِي كَمَا بَعَّدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، هَذَا مَا سَأَلَ مُحَمَّدٌ رَبَّهُ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَسْأَلَةِ ، وَخَيْرَ الدُّعَاءِ ، وَخَيْرَ النَّجَاحِ ، وَخَيْرَ الْعَمَلِ ، وَخَيْرَ الثَّوَابِ ، وَخَيْرَ الْحَيَاةِ ، وَخَيْرَ الْمَمَاتِ ، وَثَبِّتْنِي وَثَقِّلْ مَوَازِينِي ، وَأَحِقَّ إِيمَانِي ، وَارْفَعْ دَرَجَتِي ، وَتَقَبَّلْ صَلَاتِي ، وَاغْفِرْ خَطِيئَتِي ، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ ، آمِينَ ، اللَّهُمَّ وَنَجِّنِي مِنَ النَّارِ ، وَمَغْفِرَةً بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، وَالْمَنْزِلَ الصَّالِحَ ، آمِينَ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَلَاصًا مِنَ النَّارِ سَالِمًا ، وَأَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ آمِنًا ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ تُبَارِكَ لِي فِي نَفْسِي ، وَفِي خُلُقِي ، وَفِي خَلِيقَتِي ، وَأَهْلِي ، وَفِي مَحْيَايَ ، وَفِي سَمْعِي وَفِي بَصَرِي ، وَفِي رُوحِي ، وَفِي خُلُقِي وَفِي خَلِيقَتِي ، وَأَهْلِي ، وَفِي مَحْيَايَ وَفِي مَمَاتِي ، اللَّهُمَّ وَثَقِّلْ حَسَنَاتِي ، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ ، آمِينَ»
” اے اللہ ! تو سب سے پہلے ہے ، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی اور تو سب کے بعد ہے ، تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہو گی اے اللہ ! میں ، ہر ایسے جانور سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جس کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ، اور میں گناہ اور کسلمندی سے اور جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے اور خوشحالی کی آزمائش سے اور غربت کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں گناہ اور اُدھار ( یا کوئی ادائیگی لازم ہونا ) سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ ! میرے دل کو خطاؤں سے یوں صاف رکھنا ، جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے صاف رکھا ہے ، اے اللہ ! میرے اور خطاؤں کے درمیان اس طرح فاصلہ رکھ دینا ، جس طرح تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے ، یہ وہ چیز ہے جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے پروردگار سے مانگتا ہے ، اے اللہ ! میں تجھ سے مانگنے میں بہترین دعا ، بہترین کامیابی ، بہترین عمل ، بہترین ثواب ، بہترین زندگی ، بهترین موت کا سوال کرتا ہوں ، تو مجھے ثابت قدم رکھنا ، میرے میزان کو بھاری رکھنا ، میرے ایمان کو مضبوط رکھنا ، میرے درجے کو بلند کرنا ، میری نماز کو قبول کرنا ، میرے گناہ کی مغفرت کرنا اور میں جنت کے بلند درجات کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، آمین ! اے اللہ ! تو مجھے جہنم سے نجات عطا کرنا اور رات اور دن کی مغفرت عطا کرنا اور اچھا ٹھکانہ عطا کرنا ، آمین ، اے اللہ ! میں تجھ سے سلامتی کے ساتھ جہنم سے خلاصی کا سوال کرتا ہوں اور تو ایسی حالت میں مجھے جنت میں داخل کرنا کہ میں محفوظ ہوؤں ، اے اللہ ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میری ذات کے بارے میں ، میری سماعت میں ، میری بصارت میں ، میری روح میں ، میری تخلیق ، میرے اخلاق میں ، میرے اہل خانہ میں ، میری زندگی میں اور میری موت میں ، میرے لئے برکت رکھ دے ، اے اللہ ! تو میری نیکیوں کو بھاری کر دے ، اور میں جنت کے بلند درجات کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، آمین ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے
یہ روایت معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، معجم کبیر جس کا یہ سیاق ہے ، اس کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال اور معجم اوسط کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17385
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 17386
وَعَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ : كَانَ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الرِّضَا بِالْقَضَاءِ وَالْقَدَرِ ، وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ ، فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ " ، وَزَعَمَ أَنَّهَا دَعَوَاتٌ كَانَ يَدْعُو بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام درداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ یہ پڑھا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الرِّضَا بِالْقَضَاءِ وَالْقَدَرِ ، وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ ، فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ»
” اے اللہ میں تجھ سے تقدیر کے فیصلے پر راضی رہنے اور مرنے کے بعد ٹھنڈی زندگی اور تیرے دیدار کی لذت اور تیری بارگاہ میں حاضری کے شوق کا سوال کرتا ہوں ، جو کسی نقصان دہ چیز یا کسی گمراہ کرنے والے فتنے کے بغیر ہو ۔ “
ان کا یہ کہنا ہے : یہ وہ دعا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17386
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (319/18)»
حدیث نمبر: 17387
وَعَنِ السَّائِبِ الثَّقَفِيِّ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عَمَّارٍ ، وَكَانَ يَدْعُو بِدُعَاءٍ فِي صَلَاتِهِ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ : قُلِ اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ ، وَقُدْرَتِكِ عَلَى الْخَلْقِ ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي ، وَاقْبِضْنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْخَشْيَةَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةَ ، وَكَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ ، وَالْقَصْدَ فِي الْغِنَى وَالْفَقْرِ ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَا بِالْقَضَاءِ ، وَبِرَدِّ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَأَسْأَلُكَ شَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ ، اللَّهُمَّ زَيِّنِّي بِزِينَةِ الْإِيمَانِ ، وَاجْعَلْنِي مِنَ الْهُدَاةِ الْمُهْتَدِينَ ، ثُمَّ قَالَ : أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ هُنَّ أَحْسَنُ مِنْهُنَّ - كَأَنَّهُ يَرْفَعُهُنَّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ مِنَ اللَّيْلِ فَقُلِ : اللَّهُمَّ إِنِّي سَلَّمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الْمُنَزَّلِ ، وَنَبِيِّكَ الْمُرْسَلِ ، إِنَّ نَفْسِي نَفْسٌ خَلَقْتَهَا ، لَكَ مَحْيَاهَا وَلَكَ مَمَاتُهَا ; فَإِنْ أَمَتَّهَا فَارْحَمْهَا ، وَإِنْ أَخَّرْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِحِفْظِ الْإِيمَانِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عَطَاءَ بْنَ السَّائِبِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سائب تقفی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، وہ اپنی نماز کے دوران دعا کر رہے تھے ، ایک شخص ان کے پاس آیا تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تم یہ پڑھو :
«اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ ، وَقُدْرَتِكِ عَلَى الْخَلْقِ ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي ، وَاقْبِضْنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْخَشْيَةَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةَ ، وَكَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ ، وَالْقَصْدَ فِي الْغِنَى وَالْفَقْرِ ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَا بِالْقَضَاءِ ، وَبِرَدِّ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَأَسْأَلُكَ شَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ ، اللَّهُمَّ زَيِّنِّي بِزِينَةِ الْإِيمَانِ ، وَاجْعَلْنِي مِنَ الْهُدَاةِ الْمُهْتَدِينَ»
” اے اللہ ! میں تیرے غیب کے علم اور مخلوق پر تیری قدرت کے وسیلے سے یہ دعا کرتا ہوں کہ تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھنا ، جب تک کے بارے میں تو یہ علم رکھے کہ زندگی میرے حق میں بہتر ہے ، اور اس وقت مجھے موت دیدینا ، جب تیرے علم کے مطابق موت میرے حق میں بہتر ہو ، اے اللہ ! میں غیب اور شہادت کے بارے میں خشیت کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور رضامندی اور غصے کے عالم میں حق بات کا ( تجھ سے سوال کرتا ہوں ) اور خوشحالی اور غربت میں میانہ روی کا ( تجھ سے سوال کرتا ہوں ) اور تقدیر کے فیصلے پر راضی رہنے اور مرنے کے بعد ٹھنڈی زندگی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں حاضری کے شوق کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، جو کسی لاحق ہونے والے ضرر یا گمراہ کرنے والے فتنے کے بغیر ہو ، اے اللہ ! ایمان کی زینت کے ہمراہ مجھے آراستہ کر دے اور مجھے ہدایت کی پیروی کرنے والوں اور ہدایت یافتہ افراد میں شامل کر دے ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم دوں ، جو ان سے زیادہ خوبصورت ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : یوں محسوس ہوا ، جیسے وہ اُن کی نسبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر رہے ہیں ، انہوں نے فرمایا : جب تم رات کے وقت اپنے بستر پر جاؤ ، تو یہ پڑھو :
«اللَّهُمَّ إِنِّي سَلَّمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الْمُنَزَّلِ ، وَنَبِيِّكَ الْمُرْسَلِ ، إِنَّ نَفْسِي نَفْسٌ خَلَقْتَهَا ، لَكَ مَحْيَاهَا وَلَكَ مَمَاتُهَا ; فَإِنْ أَمَتَّهَا فَارْحَمْهَا ، وَإِنْ أَخَّرْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِحِفْظِ الْإِيمَانِ»
” اے اللہ ! میں نے اپنا آپ تیرے سپرد کیا ، میں نے اپنا رخ تیری طرف کر لیا ، میں نے اپنا معاملہ تجھے تفویض کر دیا ، میں تیری نازل کی ہوئی کتاب پر اور تیرے بھیجے ہوئے نبی پر ایمان لے آیا ، بے شک میرا وجود ایک ایسا وجود ہے ، جسے تو نے پیدا کیا ہے ، اس کی زندگی تیرے لئے ہے ، اس کی موت تیرے لئے ہے ، اگر تو اسے موت دے گا تو اس پر رحم کرنا اور اگر تو اس ( موت کو مؤخر کر دیتا ہے تو ایمان کی حفاظت کے ہمراہ اس ( وجود ) کی حفاظت کرنا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے اس سے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، البتہ عطاء بن سائب نامی راوی اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17387
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (1624 و 1625)»
حدیث نمبر: 17388
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، وَامْرَأَةٍ مِنْ قَيْسٍ : أَنَّهُمَا سَمِعَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ أَحَدُهُمَا : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، خَطَئِي وَعَمْدِي " . ¤ قَالَ الْآخَرُ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَسْتَهْدِيكَ لِأَرْشَدِ أَمْرِي ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَامْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ اور قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون بیان کرتے ہیں : ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ، ان دونوں میں سے ایک کا یہ کہنا ہے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا :
«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، خَطَئِي وَعَمْدِي»
” اے اللہ ! تو میرے ذنب ، میری خطا اور میرے عمد کی مغفرت کر دے ۔ “
جبکہ دوسرے راوی کا یہ کہنا ہے ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا :
«اللَّهُمَّ أَسْتَهْدِيكَ لِأَرْشَدِ أَمْرِي ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي» ” اے اللہ ! میں تجھ سے اپنے معاملے کے بارے میں ، سب سے زیادہ ہدایت والے طریقے کا طلب گار ہوں ، اور میں اپنی ذات کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” قریش کے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ ان دونوں کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17388
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8369) اخرجه احمد فى المسند (21/4)»
حدیث نمبر: 17389
وَعَنْ عَجُوزٍ مِنْ بَنِي نُمَيْرٍ : أَنَّهَا رَمَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي بِالْأَبْطَحِ تُجَاهَ الْبَيْتِ قَبْلَ الْهِجْرَةِ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، خَطَئِي وَجَهْلِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا السَّلِيلِ ضُرَيْبَ بْنَ نُفَيْرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الصَّحَابَةِ فِيمَا قِيلَ . ¤
محمد محی الدین
بنو نمیر سے تعلق رکھنے والی ایک بوڑھی خاتون بیان کرتی ہیں : انہوں نے بغور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جائزہ لیا ، جب آپ ” ابطح “ کے مقام پر نماز ادا کر رہے تھے ، آپ کا رخ خانہ کعبہ کی طرف تھا اور یہ ہجرت سے پہلے کی بات ہے ، میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا :
«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، خَطَئِي وَجَهْلِي»
” اے اللہ ! تو میرے ذنب ، میری خطا اور میری لاعلمی کی مغفرت کر دے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابوسلیل ضریب بن نفیر نے ، صحابہ میں سے کسی سے سماع نہیں کیا ہے ، جیسا کہ یہ کہا: گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17389
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (55/4)»
حدیث نمبر: 17390
وَعَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ الْقُرَشِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو : " اللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا ، وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ : وَقَالَ : " مَنْ كَانَ ذَلِكَ دُعَاءَهُ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهُ الْبَلَاءُ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ ثَقُاتْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بسر بن ابوارطاة قرشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے :
«اللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا ، وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ»
” اے اللہ ! تمام امور میں ہمارے انجام کو اچھا کر دے اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھنا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص یہ دعا کرتا رہے گا وہ اس سے پہلے مر جائے گا کہ آزمائش اس کو لاحق ہو ( یعنی اسے مرنے سے پہلے آزمائش کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ) ۔ “
امام أحمد کے رجال اور طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17390
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1198 و 1197) أخرجه احمد فى المسند (181/4)»
حدیث نمبر: 17391
وَعَنْ أَبِي صِرْمَةَ ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ غِنَائِي وَغِنَى مَوْلَايَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَكَذَلِكَ الْإِسْنَادُ الْآخَرُ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ غَيْرَ لُؤْلُؤَةَ مَوْلَاةِ الْأَنْصَارِ ، وَهِيَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوصرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ غِنَائِي وَغِنَى مَوْلَايَ»
” اے اللہ ! میں تجھ سے اپنی خوشحالی اور اپنے غلاموں کی خوشحالی کا سوال کرتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اور دوسری سند بھی اسی طرح ہے ، اور امام طبرانی کی سند بھی اسی طرح ہے ، صرف لؤلؤة نامی خاتون کا معاملہ مختلف ہے ، جو انصار کی کنیز ہے اور وہ خاتون ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17391
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (329/22) اخرجه احمد فى المسند (453/3)»
حدیث نمبر: 17392
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو يَقُولُ : " اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي حَتَّى تَجْعَلَ ذَلِكَ الْوَارِثَ مِنِّي ، وَعَافِنِي فِي دِينِي ، وَاحْشُرْنِي عَلَى مَا أَحْيَيْتَنِي ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي حَتَّى تُرِيَنِي مِنْهُ ثَأْرِي ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ دِينِي إِلَيْكَ ، وَخَلَّيْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، وَبِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي حَتَّى تَجْعَلَ ذَلِكَ الْوَارِثَ مِنِّي ، وَعَافِنِي فِي دِينِي ، وَاحْشُرْنِي عَلَى مَا أَحْيَيْتَنِي ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي حَتَّى تُرِيَنِي مِنْهُ ثَأْرِي ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ دِينِي إِلَيْكَ ، وَخَلَّيْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، وَبِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ» ” اے اللہ ! تو میری سماعت اور میری بصارت کے ذریعے مجھے نفع عطا فرما ، یہاں تک کہ تو ان دونوں کو میری طرف سے وارث بنا دے اور مجھے میرے دین کے بارے میں عافیت عطا فرما ، اور میرا حشر بھی اسی حالت پر کرنا ، جس پر تو نے مجھے زندہ رکھا اور جس نے مجھ پر ظلم کیا ہو ، اس کے خلاف میری مدد فرما ، یہاں تک کہ تو مجھے اس کی طرف سے بدلہ دکھا دے ، اے اللہ ! میں نے اپنا دین تیرے سپرد کیا ، اپنا چہرہ تیری طرف پھیر لیا ، اپنا معاملہ تجھے تفویض کر دیا ، اپنی پشت تیرے ساتھ لگا لی ، تیرے مقابلے میں سوائے تیرے ، کوئی اور پناہ گاہ اور جائے نجات نہیں ہے ، میں تیرے اس رسول پر ایمان لایا ، جسے تو نے بھیجا ہے اور تیری اس کتاب پر ایمان لایا ، جسے تو نے نازل کیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر مدینی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17392
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1070)»