کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: انصار کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ مُحَمَّدٍ وَمَحْمُودٍ ابْنَيْ جَابِرٍ قَالَا : خَرَجْنَا يَوْمَ دَخَلَ حُبَيْشُ بْنُ دُلْجَةَ الْمَدِينَةَ بَعْدَ الْحَرَّةِ بِعَامٍ ، فَدَخَلَ الْمَدِينَةَ حَتَّى ظَهْرِ الْمِنْبَرُ ، فَفَزِعَ النَّاسُ ، فَخَرَجْنَا بِجَابِرٍ فِي الْحَرَّةِ ، وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ ، فَنَكَبَهُ الْحَجَرُ فَقَالَ : أَخَافَ اللَّهُ مَنْ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ ، فَقُلْنَا : يَا أَبَتَاهُ ، وَمَنْ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ : أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَخَافَ الْأَنْصَارَ ، فَقَدْ أَخَافَ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ " . ¤
محمد محی الدین
محمد اور محمود نامی راوی ، یہ دونوں جابر کے صاحبزادے ہیں ، یہ دونوں بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نکلے ، یہ ان دنوں کی بات ہے جب حبیش بن دلجہ مدینہ منورہ میں داخل ہوا تھا ، یہ واقعہ حرہ سے ایک سال بعد کی بات ہے ، جب وہ مدینہ منورہ میں داخل ہوا اور منبر پر چڑھا ، تو لوگ خوف زدہ ہو گئے ، ہم سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر پتھریلی زمین کی طرف چلے گئے ، ان کی بینائی رخصت ہو چکی تھی ، انہیں ایک پتھر کے ذریعے ٹھوکر لگی تو انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوف کا شکار کرے ، جس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خوف کا شکار کیا ہے ، انہوں نے یہ بات دو یا تین مرتبہ کہی ، ہم نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، ہم نے کہا: اے ابا جان ! کون شخص ہے جو اللہ کے رسول کو خوف کا شکار کرے گا ؟ تو انہوں نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص انصار کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کرے گا وہ اُس کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کرے گا ، جو ان دونوں کے درمیان ہے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16510
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2805)»
وَفِي رِوَايَةٍ : وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى جَنْبَيْهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ وَقَالَ : " مَنْ أَخَافَ الْأَنْصَارَ " . وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ طَالِبِ بْنِ حَبِيبٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں پہلوؤں پر رکھ کر یہ بات ارشاد فرمائی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جو شخص انصار کو خوف زدہ کرے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف طالب بن حبیب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، امام أحمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جو شخص اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16511
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ : أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَالَ لَهُمْ : يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، مَا لَكُمْ لَمْ تَلْقَوْنِي مَعَ إِخْوَانِكُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ؟ قَالَ عُبَادَةُ : الْحَاجَةُ ، قَالَ : فَهَلَّا عَلَى النَّوَاضِحِ ؟ قَالَ : أَنْضَيْنَا يَوْمَ بَدْرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا أَجَابَهُ فَقَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أَثَرَةٌ بَعْدِي " . قَالَ مُعَاوِيَةُ : فَمَا أَمَرَكُمْ ؟ قَالَ : أَمَرَنَا أَنْ نَصْبِرَ حَتَّى نَلْقَاهُ ، قَالَ : فَاصْبِرُوا إِذًا حَتَّى تَلْقَوْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے انصار کے گروہ ! کیا وجہ ہے کہ تم اپنے قریشی بھائیوں کے ساتھ مجھ سے ملنے کے لئے نہیں آئے ؟ تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ضرورت کی وجہ سے ، انہوں نے کہا: آپ اونٹنیوں پر کیوں نہیں آئے ؟ تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر کے موقع پر ہم نے تھکا دی تھیں ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا ، تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ فرمایا تھا کہ تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک دیکھو گے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کو کیا حکم دیا ؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم صبر سے کام لیں ، یہاں تک کہ ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملیں ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ لوگ اس وقت تک صبر سے کام لیں ، جب تک آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا نہیں ملتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور عطاء بن سائب نامی راوی اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16512
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَدِمَ مُعَاوِيَةُ فَأَبْطَأَتِ الْأَنْصَارُ عَنْ تَلَقِّيهِ فَلَمْ يَصْنَعْ بِهِمْ شَيْئًا ، فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَتُصِيبُكُمْ بَعْدِي أَثَرَةٌ ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي " . قَالَ مُعَاوِيَةُ : فَاصْبِرُوا إِذًا . قَالَ أَبُو أَيُّوبَ : نَصْبِرُ كَمَا أَمَرَنَا ، وَاللَّهِ لَا يُضِلُّكَهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، انصار کو ان سے ملنے کے لئے آنے میں تاخیر ہو گئی ، انہوں نے ان کے لئے کوئی تیاری نہیں کی ، تو سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے ، تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک دیکھو گے تو تم صبر سے کام لینا ، یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ لوگ صبر سے کام لیں ، تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اسی طرح صبر سے کام لیں گے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے ، اللہ کی قسم ! وہ تمہیں نہیں بھٹکائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن قاسم ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16513
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (3861)»
وَعَنْ رَجُلٍ قَالَ : قَالَ ذُو الْيَدَيْنِ : يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَيْسَ أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تَصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْهُ ؟ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَتَابِعِيُّهُ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ فِي هَذَا الْبَابِ . ¤
محمد محی الدین
ایک صاحب بیان کرتے ہیں : سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں یہ حکم نہیں دیا تھا ؟ کہ تم صبر سے کام لینا یہاں تک کہ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے تابعی کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے اس باب میں سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16514
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4226)»
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ السَّاعِدِيِّ الْأَنْصَارِيِّ : أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يُبَايِعُ النَّاسَ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، بَايِعْ هَذَا فَقَالَ : " وَمَنْ هَذَا ؟ " . قَالَ : هَذَا ابْنُ عَمِّي : حَوْطُ بْنُ يَزِيدَ - أَوْ يَزِيدُ بْنُ حَوْطٍ - . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا أُبَايِعُكُمْ ، إِنَّ النَّاسَ يُهَاجِرُونَ إِلَيْكُمْ ، لَا يُهَاجِرُونَ إِلَيْهِمْ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا يُحِبُّ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَهُوَ يُحِبُّهُ ، وَلَا يُبْغِضُ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَهُوَ يُبْغِضُهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حارث بن زیاد ساعدی انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خندق کے دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں سے ہجرت پر بیعت لے رہے تھے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شخص سے بھی بیعت لے لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کون ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : یہ میرا چچازاد حوط بن یزید ہے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں ) یزید بن حوط ہے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تم لوگوں سے بیعت نہیں لوں گا کیونکہ لوگ تو ہجرت کر کے تمہاری طرف آئیں گے ، تم ہجرت کر کے ان کی طرف نہیں جاؤ گے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جو شخص انصار سے محبت کرتا ہو اور اسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو ، تو وہ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہو گا ، اور جو شخص انصار سے بغض رکھتا ہو ، یہاں تک کہ وہ ایسی حالت میں ہی اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں حاضر ہو ، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے بغض رکھتا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اس کے بعض رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمرو کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16515
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3356) أخرجه احمد فى المسند (429/3)»
وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ : أَنَّ النَّاسَ جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَفْرِ الْخَنْدَقِ يُبَايِعُونَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، لَا تُبَايِعُونِ عَلَى الْهِجْرَةِ إِنَّمَا يُهَاجِرُ النَّاسُ إِلَيْكُمْ ، مَنْ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ يُحِبُّ الْأَنْصَارَ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ يُحِبُّهُ ، وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ يُبْغِضُهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُهَيْلٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تاکہ خندق کھودیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بیعت لینا شروع کی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے انصار کے گروہ ! تم لوگ ہجرت پر بیعت نہیں کرو گے ، کیونکہ لوگوں نے ہجرت کر کے تمہاری طرف آنا ہے ، جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ وہ انصار سے محبت رکھتا ہو ، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت رکھتا ہو گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ وہ انصار سے بغض رکھتا ہو ، تو وہ شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اُس سے بغض رکھتا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن سہیل ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16516
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (267/19)»
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ مُعَاوِيَةُ ، فَسَأَلَهُمْ عَنْ حَدِيثِهِمْ فَقَالُوا : لَنَا فِي حَدِيثِ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : أَلَا أَزِيدَكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالُوا : بَلَى يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ أَحَبَّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ أَبْغَضَهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى قَالَ مِثْلَهُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ انصار کے کچھ افراد کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے ان کی بات چیت کے بارے میں دریافت کیا تو ان لوگوں نے بتایا کہ ہم لوگ انصار کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم لوگوں کو مزید ایک حدیث نہ سناؤں ؟ جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ، تو ان لوگوں نے کہا: جی ہاں ! اے امیر المؤمنین ! تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص انصار سے محبت رکھے گا ، اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھے گا اور جو شخص انصار سے بغض رکھے گا ، اللہ تعالیٰ اس سے بغض رکھے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : اس کی مانند روایت منقول ہے امام طبرانی نے
یہ روایت معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16517
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (7368) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (317/19) اخرجه احمد فى المسند 96/4»
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ النُّعْمَانِ بْنِ مُرَّةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص انصار سے محبت رکھے گا تو وہ میرے ساتھ محبت رکھنے کی وجہ سے ان سے محبت رکھے گا اور جو شخص انصار سے بغض رکھے گا تو وہ میرے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ نعمان بن مرہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16518
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (341/19)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ أَحَبَّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ أَبْغَضَهُ اللَّهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص انصار سے محبت رکھے گا اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرے گا اور جو شخص انصار سے بغض رکھے گا ، اللہ تعالیٰ اسے ناپسند کرے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ،
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16519
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (7367) اخرجه احمد فى المسند (501/2)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص انصار سے محبت رکھے گا ، تو وہ میرے ساتھ محبت رکھنے کی وجہ سے ان سے محبت رکھے گا اور جو شخص انصار سے بغض رکھے گا تو وہ میرے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف أحمد بن حاتم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16520
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1003)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي آوَيْتُ إِلَيْهَا ، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ ; فَإِنَّهُمْ قَدْ أَدَّوُا الَّذِي عَلَيْهِمْ ، وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک انصار میرے قریبی ہیں ، جن کی میں نے پناہ لی ہے ، تو تم ان کے اچھے فرد کی اچھائی کو قبول کرو اور ان کے برے فرد سے درگزر کرو ، کیونکہ ان لوگوں نے وہ چیز ادا کر دی ہے جو ان کے ذمہ تھی ، اب وہ چیز باقی رہ گئی ہے جو ان کا حق ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16521
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حُبُّ الْأَنْصَارِ آيَةُ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُنَافِقٍ ، فَمَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ كُرَيْدُ بْنُ رَوَاحَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” انصار سے محبت رکھنا ہر مومن اور منافق ( کے درمیان فرق ) کی نشانی ہے ، جو شخص انصار سے محبت رکھے گا ، تو وہ میرے ساتھ محبت رکھنے کی وجہ سے ان سے محبت رکھے گا اور جو شخص انصار سے بغض رکھے گا ، تو وہ میرے ساتھ بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کرید بن رواحہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16522
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4175)»
وَعَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُوَيْطِبٍ قَالَ : حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي : أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا : سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَيْهِ ، وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِي ، وَلَا يُؤْمِنُ بِي مَنْ لَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ " . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَابْنُ مَاجَهْ خَالِيًا عَنْ ذِكْرِ الْأَنْصَارِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو ثِفَالٍ الْمُرِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
رباح بن عبدالرحمن بن حويطب بیان کرتے ہیں : میری دادی نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ اس خاتون نے اپنے والد سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس شخص کی نماز نہیں ہوتی ، جس کا وضو نہ ہو ، اور اس شخص کا وضو نہیں ہوتا ، جس نے اُس سے پہلے اللہ کا نام نہ لیا ہو ، اور وہ شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والا نہیں ہوتا جو مجھ پر ایمان نہ رکھتا ہو ، اور وہ شخص مجھ پر ایمان رکھنے والا نہیں ہوتا ، جو انصار سے محبت نہ کرتا ہو ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤ اور امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں انصار والا حصہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابوثفال مری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16523
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (381/5)»
وَعَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُوَيْطِبٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَمْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ مَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِي ، وَلَمْ يُؤْمِنْ بِي مَنْ لَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَتَرْجَمَ لِهَذِهِ الْمَرْأَةِ ، فَلَعَلَّهَا سَمِعَتْهُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمِنْ أَبِيهَا فَرَوَتْهُ مَرَّةً هَكَذَا ، وَمَرَّةً هَكَذَا ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو ثِفَالٍ أَيْضًا ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
رباح بن عبدالرحمن بن حویطب اپنی دادی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” وہ شخص اللہ پر ایمان نہیں رکھتا ، جو مجھ پر ایمان نہ رکھتا ہو اور وہ شخص مجھ پر ایمان نہیں رکھتا ، جو انصار سے محبت نہ کرتا ہو ۔ “
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے انہوں نے اس خاتون کے حالات بیان کیے ہیں ، شاید اس خاتون نے
یہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست خود بھی سنی ہو ، اور اپنے والد سے بھی سنی ہو ، تو ایک مرتبہ اس طرح روایت کر دی اور دوسری مرتبہ دوسری طرح روایت کر دی ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوثقال ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16524
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (382/6)»
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اسْتَحْدِثُوا الْإِسْلَامَ بِحُبِّ الْأَنْصَارِ ; فَإِنَّهُ لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ ، وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” انصار سے محبت کے ذریعے اسلام کی تجدید کرتے رہو ، کیونکہ مومن ہی ان سے محبت رکھے گا اور کوئی منافق ہی اُن سے بغض رکھے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16525
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5710)»
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : كَانَتِ الْأَنْصَارُ إِذَا جَرُّوا نَخْلَهُمْ قَسَّمَ الرَّجُلُ تَمْرَةً إِلَى قِسْمَيْنِ : أَحَدُهُمَا أَقَلُّ مِنَ الْآخَرِ ، ثُمَّ يَجْعَلُونَ السَّعَفَ مَعَ أَقَلِّهِمَا ، ثُمَّ يُخَيِّرُونَ الْمُسْلِمِينَ فَيَأْخُذُونَ أَكْثَرَهُمَا ، وَيَأْخُذُ الْأَنْصَارُ أَقَلَّهُمَا مِنْ أَجْلِ السَّعَفِ ، حَتَّى فُتِحَتْ خَيْبَرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ وَفَّيْتُمْ لَنَا بِالَّذِي كَانَ عَلَيْكُمْ ، فَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَطِيبَ أَنْفُسُكُمْ بِنَصِيبِكُمْ مِنْ خَيْبَرَ ، وَتَطِيبَ لَكُمْ ثِمَارُكُمْ فَعَلْتُمْ " . قَالُوا : إِنَّهُ قَدْ كَانَ لَكَ عَلَيْنَا شُرُوطٌ ، وَلَنَا عَلَيْكَ شَرْطٌ بِأَنَّ الْجَنَّةَ لَنَا ، فَقَدْ فَعَلْنَا الَّذِي سَأَلْتَنَا بِأَنَّ لَنَا شَرْطَنَا ، قَالَ : " فَذَاكُمْ لَكُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَفِيهِمَا مَجَالِدٌ ، وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ إِحْدَاهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار جب اپنی کھجوروں کے درخت سے کھجوریں اُتارتے تھے تو ہر آدمی کھجوروں کو دو حصوں میں تقسیم کر لیتا تھا ، ان میں سے ایک حصہ ، دوسرے سے کم ہوتا تھا ، پھر وہ شاخوں کو کم والے حصے کے ساتھ ملا دیتے تھے ، پھر مسلمانوں کو اختیار دیا جاتا تھا تو وہ ان میں سے زیادہ والا حصہ لے لیتے تھے ، اور انصار تھوڑا حصہ لیتے تھے ، کیونکہ اس میں شاخیں وغیرہ ہوتی تھیں ، یہاں تک کہ جب خیبر فتح ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں کے ذمہ جو چیز لازم تھی وہ تم نے ہمیں پوری ادا کر دی ، اب اگر تم چاہو تو خیبر میں اپنا حصہ لے کر مطمئن ہو جاؤ اور اگر تم چاہو تو اپنے یہ پھل لے لو ، جیسے تم کرو گے ٹھیک ہے تو ان لوگوں نے عرض کی : آپ کے لئے ہمارے ذمہ ایک شرط تھی اور ہمارے لئے آپ کے ذمہ ایک شرط تھی کہ ہمیں جنت ملے گی تو ہم نے تو وہ کر دیا ، جو آپ نے ہم سے مانگا تھا ، کیا ہمیں وہ چیز ملے گی جو ہم نے شرط عائد کی ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ چیز تمہیں ملے گی ۔
یہ روایت امام بزار نے دو حوالوں سے نقل کی ہے اور ان دونوں میں ایک راوی مجالد ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ان دونوں میں سے ایک کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16526
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا يَضُرُّ امْرَأَةً نَزَلَتْ بَيْنَ بَيْتَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ ، أَوْ نَزَلَتْ بَيْنَ أَبَوَيْهَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایسی کسی خاتون کو کوئی نقصان نہیں ہو گا جو انصار کے دو گھرانوں کے درمیان ٹھہرتی ہے ، یا وہ اپنے ماں باپ کے ہاں ٹھہرتی ہے “ ( یعنی کوئی فرق نہیں ہو گا ) ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16527
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (286) أخرجه احمد فى المسند (257/6)»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : شَقَّ عَلَى الْأَنْصَارِ النَّوَاضِحُ ، فَاجْتَمَعُوا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُونَهُ أَنْ يَكْرِيَ لَهُمْ نَهْرًا سَيْحًا ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَرْحَبًا بِالْأَنْصَارِ ، مَرْحَبًا بِالْأَنْصَارِ ، وَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَيْتُكُمُوهُ ، وَلَا أَسْأَلُ اللَّهَ لَكُمْ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَانِيهِ " . فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : اغْتَنِمُوهَا وَسَلُوهُ الْمَغْفِرَةَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ لَنَا بِالْمَغْفِرَةِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار کے لئے یہ پانی لاد کر لانا مشکل کا باعث بن رہا تھا ، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہوئے اور آپ سے یہ درخواست کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے ایک نہر کھدوا دیں ، جو مستقل بہتی رہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے فرمایا : انصار کو خوش آمدید ہے ! انصار کو خوش آمدید ہے ! اللہ کی قسم ! آج تم مجھ سے جو بھی مانگو گے وہ میں تمہیں دے دوں گا اور میں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگوں گا وہ مجھے دیدے گا ۔ ان میں سے ایک نے دوسروں سے کہا: تم لوگ اس صورت حال کو غنیمت سمجھو اور تم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دعائے مغفرت کی درخواست کرو ، تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لئے مغفرت کی دعا کر دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! انصار کی مغفرت کر دے ، انصار کے بچوں کی مغفرت کر دے ، انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت کر دے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16528
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (354) أخرجه البزار فى المسند (2808) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (735) اخرجه احمد فى المسند (139/3)»
وَفِي رِوَايَةٍ : " وَلِأَزْوَاجِ الْأَنْصَارِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَقَالَ : " مَرْحَبًا بِالْأَنْصَارِ " - ثَلَاثًا - . ¤ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَقَالَ : " وَلِلْكَنَائِنِ " . وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” انصار کی بیویوں کی مغفرت کر دے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” انصار کو خوش آمدید ۔ “ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ معجم اوسط ، معجم صغیر اور معجم کبیر میں اس کی مانند روایت منقول ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ” انصار کی بہو ، بیٹیوں کی مغفرت کر دے ۔ “ امام أحمد کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16529
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ ، وَلِذَرَارِيِّ الْأَنْصَارِ ، وَلِذَرَارِيِّ ذَرَارِيِّهِمْ ، وَجِيرَانِهِمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هِشَامِ بْنِ هَارُونَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! تو انصار کی ، انصار کے بچوں کی ، انصار کے بچوں کے بچوں کی اور اُن کے پڑوسیوں کی مغفرت کر دے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ہشام بن ہارون کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16530
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2810) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4534)»
وَعَنْ جَابِرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ ، وَلِأَزْوَاجِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اے اللہ ! تو انصار کی اور انصار کے بچوں کی اور انصار کے بچوں کے بچوں کی ، اُن کی بیویوں کی ، اُن کی اولاد کی مغفرت کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16531
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! تو انصار کی ، انصار کے بچوں کی ، انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن زائدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16532
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3822)»
وَعَنْ عَوْفٍ الْأَنْصَارِيِّ الْأَشْهَلِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِمَوَالِي الْأَنْصَارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف انصاری اشہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! تو انصار کی ، انصار کے بچوں کی ، انصار کے بچوں کے بچوں کی اور انصار کے غلاموں کی مغفرت کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16533
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (81/18)»
وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْإِيمَانُ يَمَانٌ [ وَرَدْءُ ] الْإِيمَانِ فِي قَحْطَانَ ، وَالْقَسْوَةُ فِي وَلَدِ عَدْنَانَ ، حِمْيَرُ رَأْسُ الْعَرَبِ وَنَابُهَا ، وَمَذْحِجٌ هَامَتُهَا وَعِصْمَتُهَا ، وَالْأَزْدُ كَاهِلُهَا وَجُمْجُمَتُهَا ، وَهَمْدَانُ غَارِبُهَا وَذُرْوَتُهَا ، اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْأَنْصَارَ الَّذِينَ أَقَامَ اللَّهُ بِهِمْ الدِّينُ ، الَّذِينَ آوَوْا ، وَنَصَرُوا ، وَحَمَوْنِي ، وَهُمْ أَصْحَابِي فِي الدُّنْيَا ، وَشِيعَتِي فِي الْآخِرَةِ ، وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایمان یمنی ہے اور ایمان کے مددگار قحطان میں ہیں اور سختی عدنان کی اولاد میں ہے ، حمیر عربوں کا سر اور اصل ہیں اور ازد ان کا کاہل ( مخصوص رگ ) اور جمجمہ ( سر کی ہڈی ) ہیں اور مذحج اُن کا سر ہیں اور ان کا بچاؤ ہیں اور ہمدان ان کی گردن اور کوہان ہیں ، اے اللہ ! انصار کو عزت دے ، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے دین کو قائم کیا ، جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی اور میری حمایت کی ، وہ دنیا میں میرے ساتھی ہیں اور آخرت میں میرا گروہ ہیں اور میری امت میں سے وہ سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16534
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2807)»
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي طَلْحَةَ : " أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ مَا عَلِمْتُهُمْ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْبُنَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” تم اپنی قوم کو سلام کہہ دینا اور انہیں یہ بتانا کہ ان کے بارے میں میرا علم یہی ہے کہ وہ مانگنے سے بچنے والے اور صبر کرنے والے لوگ ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ثابت بنانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16535
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2804) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4710)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : عَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَلَمَّا دَنَا مِنْ مَنْزِلِهِ سَمِعَهُ يَتَكَلَّمُ فِي الدَّاخِلِ ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ دَخَلَ ، فَلَمْ يَرَ أَحَدًا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَمِعْتُكَ تُكَلِّمُ غَيْرَكَ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ دَخَلْتَ الدَّاخِلَ اغْتِمَامًا بِكَلَامِ النَّاسِ مِمَّا بِي مِنَ الْحُمَّى ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَجُلٌ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا بِعْدَكَ أَكْرَمَ مَجْلِسًا ، وَلَا أَحْسَنَ حَدِيثًا مِنْهُ . قَالَ : " ذَاكَ جِبْرِيلُ ، وَإِنَّ مِنْكُمْ لَرِجَالًا لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ يُقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَأَسَانِيدُهُمْ حَسَنَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لائے ، جب آپ اس کے گھر کے قریب تشریف لائے تو آپ نے اندر سے کسی کے بات چیت کرنے کی آواز سنی ، جب آپ نے اجازت لی اور اندر تشریف لے گئے تو آپ کو کوئی نظر نہیں آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے دریافت کیا : میں نے تمہیں کسی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے سنا تھا ؟ تو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک شخص بخار کی وجہ سے میری مزاج پرسی کے لیے آیا ، میں نے اس جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو آپ کے بعد اس سے زیادہ اچھے طریقے سے بیٹھتا ہو اور آپ کے بعد اس سے زیادہ اچھے طریقے سے بات چیت کرتا ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل تھے اور تم لوگوں میں کچھ ایسے افراد ہیں کہ اگر اُن میں سے کوئی ایک اللہ کے نام پر قسم اٹھا دے تو اللہ تعالیٰ اُسے پوری کروا دے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی اسانید حسن ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16536
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2811) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12321)»
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : افْتَخَرَ الْحَيَّانِ الْأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ ، فَقَالَتِ الْأَوْسُ : مِنَّا غَسِيلُ الْمَلَائِكَةِ : حَنْظَلَةُ بْنُ الرَّاهِبِ ، وَمِنَّا مَنِ اهْتَزَّ لَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، وَمِنَّا مَنْ حَمَتْهُ الدُّبُرُ : عَاصِمُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْأَفْلَحِ ، وَمِنَّا مَنْ أُجِيزَتْ شَهَادَتُهُ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ : خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ . ¤ وَقَالَ الْخَزْرَجِيُّونَ : مِنَّا أَرْبَعَةٌ جَمَعُوا الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَجْمَعْهُ غَيْرُهُمْ : زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأَبُو زَيْدٍ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : الَّذِينَ جَمَعُوا الْقُرْآنَ فَقَطْ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ اوس اور خزرج کے قبیلے کے لوگوں نے ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کیا ، اوس قبیلے کے لوگوں نے کہا: ہم میں وہ فرد ہیں ، جنہیں فرشتوں نے غسل دیا تھا اور وہ سیدنا حنظلہ بن راہب رضی اللہ عنہ ہیں اور ہم میں سے وہ فرد ہیں ، جن کے لئے رحمان کا عرش ہل گیا تھا اور وہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ہیں اور ہم میں سے وہ فرد ہیں جنہیں دبر ( نامی کیڑے نے ) کاٹ لیا تھا ، اور وہ سیدنا عاصم بن ثابت بن ابوافلح رضی اللہ عنہ ہیں اور ہم میں سے وہ فرد ہیں کہ جن کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا گیا ہے ، اور وہ سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں ، خزرج قبیلے کے لوگوں نے کہا: ہم میں چار افراد ایسے ہیں کہ جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں قرآن کو جمع کیا تھا ، اُن کے علاوہ اور کسی نے قرآن کو جمع نہیں کیا ، اور وہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سیدنا ابوزید رضی اللہ عنہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں ، اس میں سے صرف یہ حصہ ہے : ” جنہوں نے قرآن کو جمع کیا تھا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16537
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2802) اخرجه أبو يعلى فى المسند (2953)»
وَعَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، وَزَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ : جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتَّةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُلُّهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ : أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأَبُو زَيْدٍ ، وَسَعْدُ بْنُ عُبَيْدٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَعُدَّ غَيْرَ خَمْسَةٍ مِنَ السِّتَّةِ . ¤
محمد محی الدین
داؤد بن ابوہند ، اسماعیل بن ابوخالد اور زکریا بن ابوزائدہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے چھ افراد نے قرآن کو جمع کیا تھا ، اُن سب کا تعلق انصار سے ہے ، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سیدنا ابوزید رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعد بن عبید رضی اللہ عنہ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند منقطع ہے اور چھ میں سے صرف ان پانچ افراد کا نام ذکر کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16538
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5492)»
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ مِثْلَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَقِبَ هَذَا ، وَفِي إِسْنَادِهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سعد بن عبید کے حوالے سے اس کی مانند روایت منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اس کے بعد نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16539
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5493)»
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَقْبَلَ مِنْ تَبُوكَ ، وَكَانَ عَلَى الثَّنِيَّةِ قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ " . فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى أُحُدٍ قَالَ : " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ " . ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ : " هَلْ تُحِبُّونَ أَنْ أُخْبِرَكُمْ بِدُورِ الْأَنْصَارِ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّ خَيْرَ دُورِ الْأَنْصَارِ عَبْدُ الْأَشْهَلِ ، ثُمَّ دَارُ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، ثُمَّ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ " . فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَعَلْتَنَا آخِرَ الْقَبَائِلِ ، قَالَ : " إِذَا كُنْتَ مِنَ الْخِيَارِ فَحَسْبُكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تبوک سے تشریف لائے تو آپ گھاٹی پر پہنچے ، آپ نے فرمایا : اللہ اکبر ! اور جب آپ نے اُحد پہاڑ کی طرف دیکھا تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ، پھر آپ نے توجہ دی اور ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ اس بات کو پسند کرتے ہو کہ میں تمہیں انصار کے گھرانوں کے بارے میں بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انصار کے گھرانوں میں سب سے بہتر عبداشہل ہیں ، پھر حارث بن خزرج کا گھرانہ ہے ، پھر بنو نجار کا گھرانہ ہے ، پھر بنو ساعدہ کا گھرانہ ہے ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں قبائل میں ، سب سے آخر میں کر دیا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم بہترین لوگوں میں سے ہو ، تو یہی تمہارے لئے کافی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16540
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5720)»
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى جَوَارٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ وَهُنَّ يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ ، وَيَقُلْنَ : نَحْنُ جَوَارٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ يَا حَبَّذَا مُحَمَّدٌ مِنْ جَارِ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِنَّ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ طَرِيقِ رَشِيدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَرَشِيدٌ هَذَا قَالَ الذَّهَبِيُّ : مَجْهُولٌ .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو نجار کی کچھ لڑکیوں کے پاس سے گزرے ، جو دف بجاتے ہوئے یہ گا رہی تھیں : ” ہم بنو نجار کی لڑکیاں ہیں اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کتنے اچھے پڑوسی ہیں ۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! انہیں برکت نصیب فرما ! “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے رشید کے حوالے سے ثابت سے نقل کی ہے اور رشید نامی اس راوی کے بارے میں امام ذہبی نے یہ کہا: ہے : یہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16541
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3409)»