حدیث نمبر: 16528
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : شَقَّ عَلَى الْأَنْصَارِ النَّوَاضِحُ ، فَاجْتَمَعُوا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُونَهُ أَنْ يَكْرِيَ لَهُمْ نَهْرًا سَيْحًا ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَرْحَبًا بِالْأَنْصَارِ ، مَرْحَبًا بِالْأَنْصَارِ ، وَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَيْتُكُمُوهُ ، وَلَا أَسْأَلُ اللَّهَ لَكُمْ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَانِيهِ " . فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : اغْتَنِمُوهَا وَسَلُوهُ الْمَغْفِرَةَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ لَنَا بِالْمَغْفِرَةِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ " . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار کے لئے یہ پانی لاد کر لانا مشکل کا باعث بن رہا تھا ، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہوئے اور آپ سے یہ درخواست کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے ایک نہر کھدوا دیں ، جو مستقل بہتی رہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے فرمایا : انصار کو خوش آمدید ہے ! انصار کو خوش آمدید ہے ! اللہ کی قسم ! آج تم مجھ سے جو بھی مانگو گے وہ میں تمہیں دے دوں گا اور میں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگوں گا وہ مجھے دیدے گا ۔ ان میں سے ایک نے دوسروں سے کہا: تم لوگ اس صورت حال کو غنیمت سمجھو اور تم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دعائے مغفرت کی درخواست کرو ، تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لئے مغفرت کی دعا کر دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! انصار کی مغفرت کر دے ، انصار کے بچوں کی مغفرت کر دے ، انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت کر دے ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16528
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (354) أخرجه البزار فى المسند (2808) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (735) اخرجه احمد فى المسند (139/3)»