کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: انصار کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16470
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَسْلَمَتِ الْمَلَائِكَةُ طَوْعًا ، وَأَسْلَمَتِ الْأَنْصَارُ طَوْعًا ، وَأَسْلَمَتْ عَبْدُ الْقَيْسِ طَوْعًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، عَنْ شَيْخِهِ : عَلِيِّ بْنِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ وَفِيهِ لِينٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” فرشتوں نے اپنی رضامندی سے اسلام قبول کیا اور انصار نے اپنی رضامندی سے اسلام قبول کیا اور عبدالقیس نے اپنی رضامندی سے اسلام قبول کیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد علی بن سعید بن بشیر کے حوالے سے نقل کی ہے اس میں کمزوری پائی جاتی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16470
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 16471
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ مِحْنَةٌ ، حُبُّهُمْ إِيمَانٌ ، وَبُغْضُهُمْ نِفَاقٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، فِي رِجَالِ أَحْمَدَ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَأَسْقَطَهُ الْآخَرَانِ وَرِجَالُهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن عبادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک انصار کا یہ قبیلہ محنۃ ( یعنی آزمائش ) ہے ، ان سے محبت رکھنا ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا منافقت ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال میں ایک ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور باقی دو افراد نے اسے ساقط کیا ہے امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16471
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (67) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5377) اخرجه احمد فى المسند (285/5)»
حدیث نمبر: 16472
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَحَبَّنِي أَحَبَّ الْأَنْصَارَ ، وَمَنْ أَبْغَضَنِي فَقَدْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ ، لَا يُحِبُّهُمْ مُنَافِقٌ ، وَلَا يُبْغِضُهُمْ مُؤْمِنٌ ، مَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللَّهُ ، النَّاسُ دِثَارٌ ، وَالْأَنْصَارُ شِعَارٌ ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ شِعْبًا وَالْأَنْصَارُ شِعْبًا ، لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ " . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَفِيهِمَا كِلَاهُمَا عَطِيَّةُ ، وَحَدِيثُهُ يُكْتَبُ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مجھ سے محبت رکھتا ہے ، وہ انصار سے محبت رکھے گا ، جو شخص مجھ سے بغض رکھتا ہے وہ انصار سے بغض رکھے گا ، کوئی منافق ان سے محبت نہیں رکھے گا اور کوئی مومن ان سے بغض نہیں رکھے گا ، جو ان سے محبت رکھے گا اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا ، اللہ تعالیٰ اس سے بغض رکھے گا ، لوگ اوپری لباس ہیں اور انصار اندرونی لباس ہیں ، اگر لوگ ایک گھاٹی میں چلیں ، اور انصار دوسری گھاٹی میں چلیں ، تو ” میں “ انصار کی گھاٹی میں چلوں گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں ایک راوی عطیہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث کو اس کے ضعیف ہونے کے باوجود نوٹ کیا جائے گا ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16472
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه البزار فى المسند (66 و 65) اخرجه ابو يعلى فى المسند (1092)»
حدیث نمبر: 16473
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَكْثَرِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایسا کوئی شخص انصار سے بغض نہیں رکھے گا جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے زیادہ تر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16473
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (34/3)»
حدیث نمبر: 16474
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حُبُّ الْأَنْصَارِ إِيمَانٌ ، وَبُغْضُهَا نِفَاقٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” انصار سے محبت رکھنا ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا منافقت ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16474
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (70/3)»
حدیث نمبر: 16475
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : لَمَّا أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أَعْطَى مِنْ تِلْكَ الْعَطَايَا فِي قُرَيْشٍ وَقَبَائِلِ الْعَرَبِ ، وَلَمْ يَكُنْ فِي الْأَنْصَارِ مِنْهَا شَيْءٌ ، وَجَدَ هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى كَثُرَتْ فِيهِمُ الْقَالَةُ ، حَتَّى قَالَ قَائِلُهُمْ : لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْمَهُ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ وَجَدُوا عَلَيْكَ فِي أَنْفُسِهِمْ لِمَا صَنَعْتَ فِي هَذَا الْفَيْءِ الَّذِي أَصَبْتَ ، قَسَّمْتَ فِي قَوْمِكَ ، وَأَعْطَيْتَ عَطَايَا عِظَامًا فِي قَبَائِلِ الْعَرَبِ ، وَلَمْ يَكُنْ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ . قَالَ : " فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ ذَلِكَ يَا سَعْدُ ؟ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَنَا إِلَّا امْرُؤٌ مِنْ قَوْمِي ، وَمَا أَنَا مِنْ ذَلِكَ . قَالَ : " فَاجْمَعْ لِي قَوْمَكَ فِي هَذِهِ الْحَظِيرَةِ " . قَالَ [ فَخَرَجَ سَعْدٌ فَجَمَعَ النَّاسُ فِي تِلْكَ الْحَظِيرَةِ ] قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ فَتَرَكَهُمْ ، [ فَدَخَلُوا ] وَجَاءَ آخَرُونَ فَرَدَّهُمْ ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا أَتَاهُ سَعْدٌ فَقَالَ : قَدِ اجْتَمَعَ لَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَثْنَى عَلَيْهِ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، مَا قَالَةٌ بَلَغَتْنِي عَنْكُمْ ؟ وَوَجْدَةٌ وَجَدْتُمُوهَا فِي أَنْفُسِكُمْ ؟ أَلَمْ تَكُونُوا ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللَّهُ ، وَأَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ " . قَالُوا : بَلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ وَأَفْضَلُ ، قَالَ : " أَلَا تُجِيبُونِي يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ؟ " . قَالُوا : وَبِمَاذَا نُجِيبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ الْمَنُّ وَالْفَضْلُ ؟ قَالَ : " أَمَا وَاللَّهِ ، لَوْ شِئْتُمْ لَقُلْتُمْ فَلَصَدَقْتُمْ وَلَصُدِّقْتُمْ ، أَتَيْتَنَا مُكَذَّبًا فَصَدَّقْنَاكَ ، وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ ، وَطَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ ، وَعَائِلًا فَوَاسَيْنَاكَ . أَوَجَدْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، فِي لُعَاعَةٍ مِنَ الدُّنْيَا ؟ تَأَلَّفْتُ قَوْمًا لِيُسْلِمُوا ؟ وَوَكَلَتْكُمُ إِلَى إِسْلَامِكُمْ ، أَلَا تَرْضَوْنَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي رِحَالِكُمْ ؟ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنَّهُ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ ، اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْأَنْصَارَ ، وَأَبْنَاءَ الْأَنْصَارِ ، وَأَبْنَاءَ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ " . قَالَ : فَبَكَى الْقَوْمُ حَتَّى أَخْضَلُوا لِحَاهُمْ ، وَقَالُوا : رَضِينَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَسْمًا وَحَظًّا . ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَفَرَّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو مختلف عطیات عطا کیے ، اور عربوں کے دیگر قبائل کو بھی دیے ، اور انصار کو ان میں سے کچھ بھی نہیں دیا ، تو انصار کو اس حوالے سے کچھ الجھن ہوئی ، یہاں تک کہ انہوں نے اس بارے میں بات چیت کی ، ان میں سے کسی نے یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات اپنی قوم سے ہو گئی ہے ، سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ انصار کے اس قبیلے کو آپ کے اس طرز عمل کے حوالے سے کچھ الجھن ہے جو آپ نے اس مال فئے کے بارے میں کیا ہے ، جو مال آپ کو حاصل ہوا ہے ، جسے آپ نے اپنی قوم میں تقسیم کر دیا ہے اور آپ نے عربوں کے مختلف قبائل کے لوگوں کو بڑے ، بڑے عطیات سے نوازا ہے ، لیکن انصار کے لوگوں کو کچھ بھی نہیں دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے سعد ! تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بھی اپنی قوم کا ایک فرد ہوں اور میں ان میں سے ایک ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی قوم کو میرے لئے کسی جگہ پر جمع کرو ، راوی کہتے ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے ، انہوں نے لوگوں کو ایک جگہ پر جمع کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب آئے انہوں نے ان لوگوں کو چھوڑ دیا ، پھر وہ لوگ اندر آئے ، پھر بعض اور لوگ آئے ، انہوں نے انہیں واپس کر دیا ، جب وہ لوگ اکٹھے ہو گئے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی : میں نے انصار کے قبیلے کے لوگوں کو آپ کے لئے اکٹھا کروا دیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، جو اُس کی شان کے لائق ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” اے انصار کے گروہ ! وہ بات کیا ہے ؟ جو تمہارے حوالے سے مجھ تک پہنچی ہے اور وہ الجھن کیا ہے جو تم اپنے من میں محسوس کر رہے ہو ؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ تم لوگ گمراہ تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہدایت نصیب کی ، تم لوگ تنگ دست تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں خوشحال کر دیا ، تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے درمیان الفت پیدا کر دی ، ان لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! اللہ اور اس کے رسول کا احسان سب سے زیادہ اور فضل سب سے زیادہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! تم لوگ مجھے جواب کیوں نہیں دیتے ؟ ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ کو کیا جواب دیں ؟ جبکہ احسان اور فضل ، اللہ اور اس کے رسول کے لئے مخصوص ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر تم چاہو تو یہ کہ سکتے ہو ، اور تم سچ بولو گے اور تمہاری بات کی تصدیق کی جائے گی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ایسی حالت میں آئے تھے کہ آپ کو جھٹلایا جا رہا تھا ، تو ہم نے آپ کی تصدیق کی ، آپ کو پرے کر دیا گیا تھا ، تو ہم نے آپ کی مدد کی ، آپ کو نکال دیا گیا تو ہم نے آپ کو پناہ دی ، آپ تنگی کا شکار تھے ، تو ہم نے آپ کے ساتھ اچھا سلوک کیا ، اے انصار کے گروہ ! کیا تم اپنے من میں دنیا کے ساز و سامان کے حوالے سے الجھن رکھتے ہو ؟ میں نے اس کے حوالے سے کچھ لوگوں کی تالیف قلب کی ہے تاکہ وہ مسلمان ہو جائیں ، اور میں نے تم لوگوں کو تمہارے اسلام کے سپرد کر دیا ہے ، اے انصار کے گروہ ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ لوگ بھیڑ بکریاں اور اونٹ لے جائیں گے اور تم لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی رہائشی جگہ پر واپس لے جاؤ ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہوتا ، اور اگر لوگ ایک گھاٹی میں چلیں گے تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا ، اے اللہ ! انصار پر رحم فرما ، انصار کے بچوں پر ، انصار کے بچوں کے بچوں پر رحم فرما ۔ “
راوی کہتے ہیں : تو حاضرین نے رونا شروع کر دیا ، یہاں تک کہ ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں ، انہوں نے عرض کی : ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم اور حصے سے راضی ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور وہ لوگ بھی ادھر اُدھر چلے گئے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16475
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (76/3)»
حدیث نمبر: 16476
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَيْضًا قَالَ : قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لِأَصْحَابِهِ : أَمَا وَاللَّهِ ، لَقَدْ كُنْتُ أُحَدِّثُكُمُ أَنْ لَوِ اسْتَقَامَتِ الْأُمُورُ لَقَدْ آثَرَ عَلَيْكُمْ . قَالَ : فَرَدُّوا عَلَيْهِ رَدًّا عَنِيفًا . قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ أَشْيَاءَ لَا أَحْفَظُهَا ، قَالُوا : بَلَى . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَكُنْتُمْ لَا تَرْكَبُونَ الْخَيْلَ " . قَالَ : فَكُلَّمَا قَالَ لَهُمْ شَيْئًا قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : فَلَمَّا رَآهُمْ لَا يَرُدُّونَ عَلَيْهِ . قُلْتُ : فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَقَالَ فِي آخِرِهِ : " الْأَنْصَارُ كَرِشِي ، وَأَهْلُ بَيْتِي ، وَعَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا ، فَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ ، وَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ " . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : قُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ : ِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَنَا أَنَّا سَنَرَى بَعْدَهُ أَثَرَةً . قَالَ مُعَاوِيَةُ : فَمَا أَمَرَكُمْ ؟ قُلْتُ : أَمَرَنَا أَنْ نَصْبِرَ قَالَ : فَاصْبِرُوا إِذًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ہی کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنے ساتھیوں سے کہا: اللہ کی قسم ! میں تم لوگوں کو کہا: کرتا تھا کہ جب معاملات ٹھیک ہو جائیں گے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ساتھ ترجیحی سلوک کریں گے ، راوی کہتے ہیں : تو ان لوگوں نے اس کو سختی سے منع کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ ان کے پاس تشریف لائے اور آپ نے انہیں مختلف باتیں ارشاد فرمائیں ، جو مجھے یاد نہیں رہیں ، تو لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو تم لوگ پہلے گھوڑوں پر سواری نہیں کیا کرتے تھے ؟ جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن سے کوئی بات فرماتے تھے تو وہ یہی کہتے تھے : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا کہ وہ آپ کو کوئی جواب نہیں دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں : انصار میرے رازدار ( یا انتہائی قریبی ) ہیں ، میرے اہل بیت ہیں اور میری پناہ گاہ ہیں ، جس کی ” میں “ پناہ میں آیا ، تو تم اُن کے برے لوگوں سے درگزر کرو اور ان کی اچھائی قبول کرو ۔ “ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حدیث بیان کی تھی کہ ہم عنقریب ترجیحی سلوک دیکھیں گے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کو کیا ہدایت کی ؟ میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ ہدایت کی کہ ہم صبر سے کام لیں ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر تم لوگ صبر سے کام لو ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16476
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1358) اخرجه احمد فى المسند (89/3)»
حدیث نمبر: 16477
وَفِي رِوَايَةٍ : " فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ " . ¤ رَوَاهَا أَحْمَدُ كُلَّهَا ، وَأَبُو يَعْلَى بِالرِّوَايَةِ الَّتِي قَالَ فِيهَا : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لِأَصْحَابِهِ . وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى لِأَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ ، قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تم لوگ صبر سے کام لینا ، یہاں تک کہ حوض پر تمہاری ملاقات مجھ سے ہو جائے ۔ “ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، امام ابویعلیٰ نے اس میں سے پہلی روایت نقل کی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں : ” انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ پہلی روایت جو امام أحمد نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں
یہ روایت اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16477
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (57/3)»
حدیث نمبر: 16478
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ نَحْوُ مَا تَقَدَّمَ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ [غَيْرَ ابْنِ إِسْحَاقَ وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ] . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اختصار کے ساتھ اس کی مانند روایت منقول ہے جو پہلے گزری ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16478
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (67/3)»
حدیث نمبر: 16479
وَعَنْ جَابِرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا فُتِحَتْ حُنَيْنٌ بَعَثَ سَرَايَا فَأَتَوْا بِالْإِبِلِ وَالشَّاةِ ، فَقَسَّمُوهَا فِي قُرَيْشٍ ، فَوَجَدْنَا أَيُّهَا الْأَنْصَارُ [ عَلَيْهِ ] ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ ، فَجَمَعَنَا فَخَطَبَنَا فَقَالَ : " أَلَا تَرْضَوْنَ أَنَّكُمْ أُعْطِيتُمْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ! فَوَاللَّهِ ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكْتُمْ شِعْبًا لَأَتْبَعْتُ شُعْبَتَكُمْ " . قَالُوا : رَضِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ - . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کو فتح کر لیا اور آپ نے اپنے دستوں کو بھیجا ، تو وہ لوگ اونٹ اور بکریاں لے کر آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سب چیزیں قریش میں تقسیم کر دیں ، ہمیں انصار کو اس حوالے سے الجھن ہوئی اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اکٹھا کیا اور آپ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” کیا تم لوگ اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ تمہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دیدیے گئے ہیں ، اللہ کی قسم ! اگر لوگ ایک وادی میں چلیں ، اور تم لوگ ایک گھاٹی میں چلو ، تو میں تمہاری گھاٹی میں جاؤں گا “ لوگوں نے عرض کی : ہم راضی ہیں ، یا رسول اللہ ! اے سیدنا محمد ! اللہ تعالیٰ آپ پر درود نازل کرے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16479
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (347/3)»
حدیث نمبر: 16480
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَسَمَ الْفَيْءَ الَّذِي أَفَاءَ اللَّهُ بِحُنَيْنٍ مِنْ غَنَائِمِ هَوَازِنَ ، فَأَحْسَنَ فَأَفْشَى [ الْقَسْمَ ] فِي أَهْلِ [ مَكَّةَ ] مِنْ قُرَيْشٍ وَغَيْرِهِمْ ، فَغَضِبَتِ الْأَنْصَارُ ، فَلَمَّا سَمِعَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُمْ فِي مَنَازِلِهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ كَانَ هَاهُنَا [ لَيْسَ ] مِنَ الْأَنْصَارِ فَلْيَخْرُجْ إِلَى رَحْلِهِ " . ثُمَّ يَشْهَدْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - ثُمَّ قَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، قَدْ بَلَغَنِي مِنْ حَدِيثِكُمْ فِي هَذِهِ الْمَغَانِمِ الَّتِي آثَرْتُ بِهَا أُنَاسًا أَتَأَلَّفُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ ; لَعَلَّهُمْ أَنْ يَشْهَدُوا بَعْدَ الْيَوْمِ ، وَقَدْ أَدْخَلَ اللَّهُ قُلُوبَهُمُ الْإِسْلَامَ " . ثُمَّ قَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَمْ يَمُنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ بِالْإِيمَانِ ؟ وَخَصَّكُمْ بِالْكَرَامَةِ ، وَسَمَّاكُمْ بِأَحْسَنِ الْأَسْمَاءِ : أَنْصَارِ اللَّهِ ، وَأَنْصَارِ رَسُولِهِ ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكْتُمْ وَادِيًا لَسَلَكْتُ وَادِيَكُمْ ، أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ [ بِهَذِهِ الْغَنَائِمِ ] الشَّاءِ وَالنَّعَمِ وَالْبَعِيرِ ، وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ! " . ¤ فَلَمَا سَمِعَتِ الْأَنْصَارُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا : رَضِينَا ، قَالَ : " أَجِيبُونِي فِيمَا قُلْتُ " . قَالَتِ الْأَنْصَارُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَجَدْتَنَا فِي ظُلْمَةٍ فَأَخْرَجَنَا اللَّهُ بِكَ إِلَى النُّورِ ، وَوَجَدْتَنَا عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَنَا اللَّهُ بِكَ ، وَوَجَدْتَنَا ضُلَّالًا فَهَدَانَا اللَّهُ بِكَ ، قَدْ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا ، فَاصْنَعْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شِئْتَ فِي أَوْسَعِ الْحَلِّ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَاللَّهِ ، لَوْ أَجَبْتُمُونِي بِغَيْرِ هَذَا الْقَوْلِ لَقُلْتُ : صَدَقْتُمْ ، لَوْ قُلْتُمْ : أَلَمْ تَأْتِنَا طَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ ، وَمُكَذَّبًا فَصَدَّقْنَاكَ ، وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ ، وَقَبِلْنَا مَا رَدَّ النَّاسُ عَلَيْكَ ، لَوْ قُلْتُمْ هَذَا لَصَدَقْتُمْ " . فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : بَلْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ الْمَنُّ وَالْفَضْلُ عَلَيْنَا وَعَلَى غَيْرِنَا ، ثُمَّ بَكَوْا فَكَثُرَ بُكَاؤُهُمْ ، وَبَكَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهُمْ [ فَكَانُوا بِالَّذِي قَالَ لَهُمْ أَشَدَّ ارْتِبَاطًا وَأَفْضَلَ عِنْدَهُمْ مِنْ كُلِّ مَالٍ ] . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَحَدِيثُهُ فِي الرِّقَاقِ وَنَحْوِهَا حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ” ہوازن “ کے مال غنیمت میں سے غزوہ حنین میں مال فئے عطا کیا تھا ، وہ آپ نے تقسیم کر دیا ، آپ نے وہ ( مال و اسباب ) قریش سے تعلق رکھنے والے اہل مکہ اور دیگر لوگوں کے درمیان تقسیم کیا ، اس بات پر انصار غصے میں آ گئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ ان کی رہائشی جگہوں پر ان کے پاس تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : یہاں جو ایسا فرد موجو ہو ، جس کا تعلق انصار سے نہ ہو وہ نکل کر اپنی رہائشی جگہ پر چلا جائے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ شہادت پڑھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا :
” اے انصار کے گروہ ! اس مال غنیمت کے بارے میں تمہاری جو بات ہے ، وہ مجھ تک پہنچی ہے ، جس کے حوالے سے میں نے تمہارے ساتھ کچھ ترجیحی سلوک کیا ہے ، میں اس کے ذریعے ان لوگوں کو اسلام سے مانوس کرنا چاہتا تھا ہو سکتا ہے کہ وہ آج کے بعد ایسی کسی جنگ میں شریک نہ ہوں ، تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں اسلام داخل کر دے “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” اے انصار کے گروہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ذریعے تم پر احسان نہیں کیا ؟ اور تمہیں خصوصی کرامت عطا نہیں کی اس نے تمہارا نام سب سے عمدہ رکھا ہے کہ اللہ کے مددگار ، اس کے رسول کے مددگار ، اگر ہجرت نہ ہوتی ، تو میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہوتا ، اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور تم دوسری وادی میں چلو ، تو میں تمہاری وادی میں چلوں گا ، تو کیا تم اس چیز سے راضی نہیں ہو ؟ کہ لوگ اس مال غنیمت کو لے جائیں ، بھیڑ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جاؤ “
جب انصار نے یہ بات سنی تو انہوں نے کہا: ہم راضی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے جو تمہیں کہا: ہے ، اس کے بارے میں تم مجھے جواب دو ، انصار نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں ظلمت میں پایا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے ہمیں اس میں سے نکال کر نور کی طرف لے گیا ، آپ نے ہمیں جہنم کے گڑھے کے کنارے پر پایا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے ہمیں اس سے بچا لیا ، آپ نے ہمیں گمراہ پایا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ کے ذریعے ہدایت نصیب کی ، ہم اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی ہیں ، یا رسول اللہ ! آپ جیسے چاہیں ، جو چاہیں کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر تم مجھے اس کے علاوہ کوئی اور جواب دیتے تو میں یہ کہتا کہ تم نے ٹھیک کہا: ہے ، اگر تم یہ کہتے کہ کیا آپ ایسی حالت میں ہمارے پاس نہیں آئے تھے کہ آپ کو نکال دیا گیا تھا ، تو ہم نے آپ کو پناہ دی ، آپ کو جھٹلایا جا رہا تھا ، تو ہم نے آپ کی تصدیق کی ، آپ کو چھوڑ دیا گیا تو ہم نے آپ کی مدد کی ، اور لوگوں نے آپ کو جواب دیا تھا تو ہم نے آپ کو قبول کیا ، اگر تم لوگ یہ بات کہتے ، تو تم سچے ہوتے ، انصار نے کہا: بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فضل اور احسان ہے ، جو ہم پر ہے اور ہمارے علاوہ دوسرے لوگوں پر ہے ، پھر وہ لوگ رونے لگے ، یہاں تک کہ ان کا رونا بہت زیادہ ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ رونے لگے پھر ان لوگوں کو اس حوالے سے زیادہ فخر محسوس ہوا اور یہ چیز ان کے نزدیک ہر قسم کے مال سے زیادہ فضیلت رکھتی تھی ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا تھا ۔

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث ، دلوں کو نرم کرنے سے متعلق موضوعات اور اس جیسے دیگر موضوعات میں حسن شمار ہوتی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16480
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6665)»
حدیث نمبر: 16481
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَصَابَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ غَنَائِمَ ، فَقَسَّمَ لِلنَّاسِ ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : نَلِي الْقِتَالَ وَالْغَنَائِمُ لِغَيْرِنَا . فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ " أَنِ اجْتَمِعُوا " . فَأَتَاهُمْ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ ؟ " . قَالُوا : لَا . إِلَّا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا وَمَوْلَانَا ، فَقَالَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ، وَمَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ " . فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ ، وَتَذْهَبُونَ أَنْتُمْ بِمُحَمَّدٍ إِلَى أَبْيَاتِكُمْ ؟ " . قَالُوا : رَضِينَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ السُّحَيْمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مال غنیمت حاصل ہوا ، وہ آپ نے لوگوں کے درمیان تقسیم کیا تو انصار نے کہا: جنگ ہم کریں اور غنیمت دوسرے لوگوں کو مل جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے انہیں پیغام بھیج کر بلوایا کہ تم لوگ اکٹھے ہو جاؤ ، پھر آپ ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے ، آپ نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا فرد ہے ؟ جو تمہارے علاوہ ہو ؟ ان لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ! ہمارا ایک بھانجا ہے اور ہمارا ایک غلام ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قوم کا بھانجا ، اُن کا ایک فرد ہوتا ہے ، اور قوم کا غلام ، اُن کا ایک فرد ہوتا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے انصار کے گروہ ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ لوگ بھیڑ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھروں کی طرف لے جاؤ ، تو ان لوگوں نے عرض کی : ہم اس سے راضی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر سحیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16481
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12879)»
حدیث نمبر: 16482
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِلْأَنْصَارِ : " أَلَا تَرْضَوْنَ أَنَّ أَصْلَ النَّاسِ دِثَارٌ وَأَنْتُمْ شِعَارٌ ؟ أَلَا تَرْضَوْنَ أَنَّ النَّاسَ لَوْ سَلَكُوا وَادِيًا وَسَلَكْتُمْ آخَرَ اتَّبَعْتُ وَادِيَكُمْ وَتَرَكْتُ النَّاسَ ؟ وَلَوْلَا أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - سَمَّانِي مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ [امْرَأً] مِنَ الْأَنْصَارِ ؟ " . قَالُوا : [بَلَى] رَضِينَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جُبَيْرٍ قِيلَ : إِنَّهُ تَابِعِيٌّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن جبیر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا : کیا تم لوگ اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ لوگ اوپر اوڑھنے والا لباس ہوں اور تم جسم کے ساتھ لگنے والا لباس ہو ، کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور تم دوسری میں چلو ، تو میں تمہاری وادی میں جاؤں گا اور لوگوں کو چھوڑ دوں گا ، اگر ایسا نہ ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نام مہاجرین میں شامل کیا ہے ، تو مجھے یہ بات پسند ہوتی کہ میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہوتا ، تو ان لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! ہم اس بات سے راضی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، عبداللہ بن جبیر کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ یہ تابعی ہیں اور یہ ثقہ ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16482
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 16483
وَعَنْ عَبَّادِ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَنْتُمُ الشِّعَارُ وَالنَّاسُ الدِّثَارُ ، لَا أُوتَيَنَّ مِنْ قِبَلِكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ إِلَّا وَاحِدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباد بن بشیر انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے انصار کے گروہ ! تم لوگ جسم کے ساتھ لگنے والا لباس ہو ، دوسرے لوگ اوپری لباس ہیں اور مجھے تمہاری طرف سے کوئی اندیشہ نہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس کے حوالے سے صرف ایک فرد نے روایت نقل کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16483
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16484
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ - يَعْنِي ابْنَ عَقِيلٍ - قَالَ : قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ ، فَتَلَقَّاهُ أَبُو قَتَادَةَ فَقَالَ : أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَمَا إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً " . قَالَ : فَبِمَا أَمَرَكُمْ ؟ قَالَ : أَمَرَنَا أَنْ نَصْبِرَ ، قَالَ : اصْبِرُوا إِذًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن محمد بن عقیل بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ منورہ تشریف لائے ، وہاں سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انصار سے ) یہ ارشاد فرمایا تھا : ” تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک کا سامنا کرو گے “ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ لوگوں کو کیا حکم دیا تھا ؟ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم صبر سے کام لیں ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر آپ لوگ صبر سے کام لیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور عبداللہ بن محمد بن عقیل نامی راوی حسن الحدیث ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16484
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (304/3)»
حدیث نمبر: 16485
وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ عَيْبَةً ، وَعَيْبَتِي هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَ الْأَنْصَارُ شِعْبًا ، لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ ، الْأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ ، فَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا فَلْيُحْسِنْ إِلَى مُحْسِنِهِمْ ، وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ہر نبی کا ایک قریبی گروہ ہوتا ہے اور میرا قریبی گروہ ، انصار کا یہ گروہ ہے ، اگر ہجرت نہ ہوتی ، تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا ، اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک گھاٹی میں چلیں ، تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا ، انصار جسم کے ساتھ لگنے والا لباس ہیں اور لوگ اوپر اوڑھنے والا لباس ہیں ، جو شخص لوگوں کے کسی بھی معاملے کا نگران بنے ، اسے انصار کے اچھے فرد کے ساتھ اچھائی کرنی چاہیے اور ان کے برے فرد سے درگزر کرنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16485
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2800)»
حدیث نمبر: 16486
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَلَا [إِنَّ] لِكُلِّ نَبِيٍّ تَرِكَةً وَصَنِيعَةً ، وَإِنَّ تَرِكَتِي وَصَنِيعَتِي الْأَنْصَارُ ، فَاحْفَظُونِي فِيهِمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خبردار ! ہر نبی کے پسماندگان اور مقربین ہوتے ہیں اور میرے پسماندگان اور مقربین انصار ہیں ، تو تم ان کے بارے میں میری حفاظت کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16486
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
حدیث نمبر: 16487
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا ، فَخَطَبَ فَقَالَ لِلْأَنْصَارِ : " أَلَمْ تَكُونُوا أَذِلَّاءَ فَأَعَزَّكُمُ اللَّهُ بِي ؟ أَلَمْ تَكُونُوا ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللَّهُ بِي ؟ أَلَمْ تَكُونُوا خَائِفِينَ فَأَمِنَكُمُ اللَّهُ بِي ؟ أَلَا تَرُدُّونَ عَلَيَّ ؟ " . قَالُوا : أَيُّ شَيْءٍ نُجِيبُكَ ؟ قَالَ : " تَقُولُونَ : أَلَمْ يَطْرُدْكَ قَوْمُكَ فَآوَيْنَاكَ ؟ أَلَمْ يُكَذِّبْكَ قَوْمُكَ فَصَدَّقْنَاكَ ؟ " . يُعَدِّدُ عَلَيْهِمْ ، [قَالَ] : فَجَثَوْا عَلَى رُكَبِهِمْ وَقَالُوا : أَمْوَالُنَا وَأَنْفُسُنَا لَكَ . فَنَزَلَتْ : "قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى" . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَفِيهِ لِينٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات سنی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے انصار سے ارشاد فرمایا :
” کیا ایسا نہیں ہے ؟ کہ تم لوگ کمتر حیثیت کے مالک تھے تو اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہیں عزت سے نوازا ، کیا ایسا نہیں ہے ؟ کہ تم لوگ گمراہ تھے تو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے تمہیں ہدایت نصیب کی ، کیا ایسا نہیں ہے ؟ کہ تم لوگ خوف کا شکار تھے تو اللہ تعالی نے میری وجہ سے تمہیں امان عطا کی ، تم لوگ مجھے جواب نہیں دو گے ؟ لوگوں نے عرض کی : ہم آپ کو کیا جواب دیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ مجھے یہ جواب دو کہ کیا آپ کی قوم نے آپ کو چھوڑ نہیں دیا تھا ؟ تو ہم نے آپ کو پناہ دی ، کیا آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلا نہیں دیا تھا ؟ تو ہم نے آپ کی تصدیق کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد باتیں شمار کروائیں ، تو وہ لوگ اپنے گھٹنوں کے بل کھڑے ہو گئے اور انہوں نے عرض کی : ہمارے اموال اور ہماری جانیں آپ کی ملکیت ہیں ، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :
” تم یہ فرما دو ! کہ میں اس بارے میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا ہوں ، البتہ رشتے داری کے حوالے سے محبت کا حکم مختلف ہے ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد علی بن سعید بن بشیر کے حوالے سے نقل کی ہے اس میں کمزوری پائی جاتی ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16487
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16488
وَعَنْ مَطَرٍ أَبِي مُوسَى مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ : اجْتَمَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - وَإِنِّي لَقَاعِدٌ مَعَهُمَا وَأَنَا غُلَامٌ - فَقَالَ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنَّ النَّاسَ يَزْعُمُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَيُّ أَرْضٍ تُقِلُّنِي ؟ وَأَيُّ سَمَاءٍ تُظِلُّنِي ؟ فَقَالَ : أَنْتَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا ، وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا لَسَلَكْتُ مَعَ الْأَنْصَارِ فِي ذَلِكَ الْوَادِي " . فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُهُ . ¤ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ " . قَالَ : صَدَقْتَ ، سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَلَمْ يُحَدِّثْ يَوْمَئِذٍ إِلَّا صَدَّقَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
مطر ابوموسی ، جو سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی آل کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے ، میں ان دونوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، میں لڑکا تھا ، انہوں ( یعنی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتا ہوں ، کون سی زمین مجھ کو سہارا دے گی اور کون سا آسمان مجھ پر سایہ کرے گا ؟ ( اگر میں ایسا کروں ؟ ) تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ اس سے زیادہ بہتر ہیں ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں چلیں ، تو میں انصار والی وادی میں اُن کے ساتھ چلوں گا ۔ “ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہوتا ۔ “ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : آپ نے سچ بیان کیا ہے ، میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ، اس دن سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جو بھی حدیث بیان کی ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اُن کی تصدیق کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16488
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16489
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : عَلِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ الشِّعْبَ أَحْسَنُ مِنَ الْوَادِي . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات جانتے تھے کہ گھاٹی ، وادی سے بہتر ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16489
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2801)»
حدیث نمبر: 16490
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : " أَلَا إِنَّ النَّاسَ دِثَارٌ ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ شِعَارٌ ، وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَكُوا وَادِيًا ، وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شُعْبَةً لَاتَّبَعَتْ شُعْبَةَ الْأَنْصَارَ ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَمَنْ وَلِيَ مَنْ أَمْرِهِمْ شَيْئًا ، فَلْيُحْسِنْ إِلَى مُحْسِنِهِمْ ، وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ ، وَمَنْ أَفْزَعَهُمْ فَقَدْ أَفْزَعَ هَذَا الَّذِي بَيْنَ هَذَيْنِ " وَأَشَارَ إِلَى صَدْرِهِ يَعْنِي قَلْبَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ : مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ : إِنَّهُ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” خبردار ! دوسرے لوگ اوپر اوڑھنے والا لباس ( یعنی چادر ) ہیں ، اور انصار جسم کے ساتھ لگنے والا لباس ہیں ، اگر دوسرے لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک گھاٹی میں چلیں ، تو میں انصار کی گھاٹی میں جاؤں گا ، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہوتا ، جو شخص لوگوں کے معاملے میں سے کسی بھی چیز ( یعنی حکومت ) کا نگران بنے تو اسے انصار کے اچھے افراد کے ساتھ اچھائی کرنی چاہیے اور برے لوگوں سے درگزر کرنا چاہیے ، جو شخص انصار کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کرے گا ، وہ اس کو خوف زدہ کرنے والا شمار ہو گا جو ان دونوں کے درمیان ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے یعنی اپنے دل کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن دقیق العید کہتے ہیں : اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16490
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16491
وَعَنِ ابْنِ شَفِيعٍ - وَكَانَ طَبِيبًا - قَالَ : دَعَانِي أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ فَقَطَعْتُ لَهُ عِرْقَ النَّسَا ، فَحَدَّثَنِي بِحَدِيثَيْنِ قَالَ : أَتَانِي أَهْلُ بَيْتَيْنِ مِنْ قَوْمِي : أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ [ بَنِي ] ظَفَرٍ ، وَأَهْلُ بَيْتٍ مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ ، فَقَالُوا : كَلِّمْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَسِّمُ لَنَا ، أَوْ يُعْطِينَا ، أَوْ نَحْوَ [ مِنْ ] هَذَا ، فَكَلَّمْتُهُ فَقَالَ : " نَعَمْ أَقْسِمُ لِكُلِّ [ أَهْلِ ] بَيْتٍ مِنْهُمْ شَطْرًا ، فَإِنْ عَادَ اللَّهُ عَلَيْنَا عُدْنَا عَلَيْهِمْ " . قَالَ : قُلْتُ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا ; فَإِنَّكُمْ مَا عَلِمْتُكُمْ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ " . " قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ أَثَرَةً بَعْدِي " . فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَسَّمَ حُلَلًا بَيْنَ النَّاسِ فَبَعَثَ إِلَيَّ مِنْهَا بِحُلَّةٍ فَاسْتَصْغَرْتُهَا [ فَأَعْطَيْتُهَا ابْنَتِي ] ، فَبَيْنَا أَنَا أُصَلِّي إِذْ مَرَّ بِي شَابٌّ مِنْ قُرَيْشٍ ، عَلَيْهِ حُلَّةٌ مِنْ تِلْكَ الْحُلَلِ يَجُرُّهَا ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ أَثَرَةً بَعْدِي " . فَقُلْتُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ ، فَجَاءَ وَأَنَا أُصَلِّي فَقَالَ : صَلِّ أَبَا أُسَيْدٍ ، فَلَمَّا قَضَيْتُ صَلَاتِي قَالَ : كَيْفَ قُلْتَ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : تِلْكَ حُلَّةٌ بَعَثْتُ بِهَا إِلَى فُلَانٍ ، وَهُوَ بَدْرِيٌّ أُحُدِيٌّ عَقَبِيٌّ ، فَأَتَاهُ هَذَا الْفَتَى فَابْتَاعَهَا مِنْهُ فَلَبِسَهَا ، فَظَنَنْتَ أَنْ ذَلِكَ يَكُونَ فِي زَمَانِي ؟ قَالَ : قُلْتُ : قَدْ وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، ظَنَنْتُ أَنَّ ذَلِكَ لَا يَكُونُ فِي زَمَانِكَ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ مِنْهُ : " إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن شفیع ، جو ایک طبیب تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا اور میں نے ان کی عرق النساء کاٹ دی ، انہوں نے مجھے دو حدیثیں بیان کیں ، انہوں نے فرمایا : میری قوم کے افراد میرے پاس آئے ، ایک گھرانے کا تعلق بنوظفر سے تھا اور ایک گھرانے کا تعلق بنو معاویہ سے تھا تو ان لوگوں نے کہا: آپ ہمارے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کریں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بھی تقسیم میں کچھ دیں ، یا ہمیں کچھ اور عطا کریں ، یا اس کی مانند کوئی بات انہوں نے بیان کی ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات چیت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! میں ان میں سے ہر گھرانے کو نصف حصہ دوں گا اور اگر اللہ تعالیٰ ہمیں مزید دے گا تو میں انہیں مزید دوں گا ۔
راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ اللہ تعالیٰ تم لوگوں ( یعنی انصار ) کو جزائے خیر عطا کرئے ، کیونکہ تم لوگوں کے بارے میں میرا علم یہ ہے کہ تم لوگ مانگنے سے بچنے والے اور صبر کرنے والے لوگ ہو ۔
راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
” بے شک تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک کا سامنا کرو گے ۔ “
راوی کہتے ہیں : جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور انہوں نے کچھ حلے لوگوں کے درمیان تقسیم کئے تو ان میں سے ایک حلہ انہوں نے مجھے بھی بھیجا ، میں نے اسے چھوٹا سمجھا ، وہ میں نے اپنی بیٹی کو دے دیا ، ایک وقت میں ، میں نماز ادا کر رہا تھا اسی دوران قریش سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان میرے پاس سے گزرا ، اس نے ان حلوں میں سے ایک حلہ پہنا ہوا تھا اور وہ اتنا بڑا تھا کہ وہ اس کو گھسیٹ رہا تھا ، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد آ گیا :
” تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک کا سامنا کرو گے ۔ “
میں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے ، وہ شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں اس بارے میں بتایا ، وہ تشریف لائے ، میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا ، انہوں نے فرمایا : اے ابواسید ! آپ نماز پڑھتے رہیں ، جب میں نے نماز مکمل کی تو انہوں نے دریافت کیا : آپ نے کیا کہا: تھا ؟ میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : وہ ایک ایسا حلہ ہے ، جو میں نے فلاں کی طرف بھیجا تھا اور وہ ایسا شخص ہے جسے غزوہ بدر میں ، غزوہ احد میں اور بیعت عقبہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، پھر یہ نوجوان اس شخص کے پاس گیا اور اس نوجوان نے اس شخص سے وہ حلہ خرید کر اسے پہن لیا ، مجھے یہ اندازہ نہیں ہے کہ ایسا ( یعنی ترجیحی سلوک ) میرے زمانے میں ہو گا ، راوی کہتے ہیں : تو میں نے کہا: اللہ کی قسم ! اے امیر المؤمنین ! مجھے بھی یہ گمان نہیں تھا کہ یہ صورت حال آپ کے زمانے میں ہو گی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں ، اس میں سے صرف یہ حصہ منقول ہے :
” بے شک تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک کا سامنا کرو گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16491
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 16492
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : أَمَرَ أَبِي بِخَزِيرَةٍ صُنِعَتْ ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ ، قَالَ : فَقَالَ لِي : " مَاذَا مَعَكَ يَا جَابِرُ ؟ أَلَحْمٌ هَذَا ؟ " . قُلْتُ : لَا . فَأَتَيْتُ أَبِي فَقَالَ : هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : فَهَلْ سَمِعْتَهُ يَقُولُ شَيْئًا ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ لِي : " مَاذَا مَعَكَ يَا جَابِرُ ؟ أَلَحْمٌ هَذَا ؟ " . قَالَ : لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَكُونَ اشْتَهَى اللَّحْمَ ، فَأَمَرَ بِشَاةٍ لَنَا دَاجِنٍ فَذُبِحَتْ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَشُوِيَتْ ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : " مَاذَا مَعَكَ يَا جَابِرُ ؟ " . فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : " جَزَى اللَّهُ الْأَنْصَارَ عَنَّا خَيْرًا ، وَلَا سِيَّمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ ، وَسَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے ” خزیرہ “ تیار کرنے کا حکم دیا ، وہ تیار کیا گیا ، پھر میرے والد نے مجھے ہدایت کی تو میں وہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، راوی کہتے ہیں : جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ اپنے گھر میں تھے ، آپ نے مجھ سے دریافت کیا : اے جابر ! تمہارے پاس کیا ہے ؟ کیا یہ گوشت ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! پھر میں اپنے والد کے پاس آیا ، انہوں نے دریافت کیا : کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! انہوں نے دریافت کیا : کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے جابر ! تمہارے پاس کیا ہے ؟ کیا یہ گوشت ہے ؟ تو میرے والد نے کہا: شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت کھانے کی خواہش ہو رہی تھی ، تو انہوں نے ہماری ایک بکری کے بارے میں حکم دیا اسے ذبح کیا گیا پھر ان کے حکم کے تحت اسے پکایا گیا ، پھر انہوں نے مجھے حکم دیا میں اس کا گوشت لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے جابر ! تمہارے ساتھ کیا ہے ؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ انصار کو ہماری طرف سے جزائے خیر عطا کرے ، خاص طور پر عبداللہ بن عمرو بن حرام اور سعد بن عبادہ کو ( جزائے خیر عطا کرے ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن حبیب بن شہید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16492
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2707) اخرجه أبو يعلى فى المسند (2080 و 2079)»
حدیث نمبر: 16493
وَعَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ أَبَانِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : كَتَبَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يَخْطُبُ عَلَى ابْنِهِ عَبْدِ الْمَلِكِ أُمَّ أَبَانٍ بِنْتَ النُّعْمَانِ ، وَكَانَ فِي كِتَابِهِ إِلَيْهِ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مِنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، سَلَامٌ عَلَيْكَ ، فَإِنِّي أَحْمَدُ اللَّهَ إِلَيْكَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، أَمَّا بَعْدُ : فَإِنَّ اللَّهَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، وَالْعَظَمَةِ وَالسُّلْطَانِ ، قَدْ خَصَّكُمْ - مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ - بِنَصْرِ دِينِهِ ، وَاعْتِزَازِ نَبِيِّهِ ، وَقَدْ جَعَلَكَ اللَّهُ مِنْهُمْ فِي الْبَيْتِ الْعَمِيمِ ، وَالْفَرْعِ الْقَدِيمِ ، وَقَدْ دَعَانِي ذَلِكَ إِلَى اخْتِيَارِي مُصَاهِرَتَكَ ، وَإِيثَارِكَ عَلَى الْأَكْفَاءِ مِنْ وَلَدِ أَبِي ، وَقَدْ رَأَيْتُ أَنْ تُزَوِّجَ ابْنِي عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ ابْنَتَكَ أُمَّ أَبَانٍ بِنْتَ النُّعْمَانِ ، وَقَدْ جَعَلْتُ صَدَاقَهَا مَا نَطَقَ بِهِ لِسَانُكَ ، وَتَرَمْرَمَتْ بِهِ شَفَتَاكَ ، وَبَلَغَهُ مُنَاكَ ، وَحَكَمْتَ بِهِ فِي بَيْتِ الْمَالِ قِبَلَكَ . فَلَمَّا قَرَأَ النُّعْمَانُ كِتَابَهُ كَتَبَ إِلَيْهِ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مِنَ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، بَدَأْتُ بِاسْمِي سُنَّةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; وَذَلِكَ لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا كَتَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى أَحَدٍ فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ " . أَمَّا بَعْدُ : فَقَدْ وَصَلَ إِلَيَّ كِتَابُكَ ، وَقَدْ فَهِمْتُ مَا ذَكَرْتَ فِيهِ مِنْ مَحَبَّتِنَا ، فَإِمَّا أَنْ تَكُونَ صَادِقًا فَغُنْمٌ أَصَبْتَ ، وَبِحَظِّكَ أَخَذْتَ ; لِأَنَّا أُنَاسٌ جَعَلَ اللَّهُ تَعَالَى حُبَّنَا إِيمَانًا ، وَبُغْضَنَا نِفَاقًا . وَأَمَّا مَا أَطْنَبْتَ فِيهِ مِنْ ذِكْرِ شَرَفِنَا ، وَقَدِيمِ سَلَفِنَا ، فَفِي مَدْحِ اللَّهِ تَعَالَى لَنَا وَذِكْرِهِ إِيَّانَا فِي كِتَابِهِ الْمُنَزَّلِ ، وَقُرْآنِهِ الْمُفَصَّلِ عَلَى نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أَغْنَانَا عَنْ مَدْحِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ . ¤ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ آثَرْتِنِي بِابْنِكَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ عَلَى الْأَكْفَاءِ مِنْ وَلَدِ أَبِيكَ ، فَحَظِّي مِنْكَ مَرْدُودٌ عَلَيْهِمْ ، مَوْفُورٌ لَهُمْ ، غَيْرُ مُشَاحٍّ لَهُمْ فِيهِ ، وَلَا مُنَازِعٍ لَهُمْ عَلَيْهِ . ¤ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ بِأَنَّ صَدَاقَهَا مَا نَطَقَ بِهِ لِسَانِي ، وَتَرَمْرَمَتْ بِهِ شَفَتَايَ ، وَبَلَغَهُ مُنَايَ ، وَحَكَمْتُ بِهِ فِي بَيْتِ الْمَالِ قِبَلِي ، فَقَدْ أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ لَوْ أَنْصَفْتَ حَظِّي فِي بَيْتِ الْمَالِ أَوْفَرَ مِنْ حَظِّكَ ، وَسَهْمِي فِيهِ أَجْزَلَ مِنْ سَهْمِكَ ، فَأَنَا الَّذِي أَقُولُ : ¤ فَلَوْ أَنَّ نَفْسِي طَاوَعَتْنِي لَأَصْبَحْتُ لَهَا حَفْدٌ مِمَّا يُعَدُّ كَثِيرُ وَلَكِنَّهَا نَفْسٌ عَلَيَّ كَرِيمَةٌ عَيُوفٌ لِأَصْهَارِ اللِّثَامِ قُدُورُ لَنَا فِي بَنِي الْعَنْقَاءِ وَابْنَيْ مُحَرِّقٍ مُصَاهَرَةٌ ¤ يُسَمَّى بِهَا وَمُهُورُ وَفِي آلِ عِمْرَانَ وَعَمْرِو بْنِ عَامِرٍ عَقَائِلُ لَمْ يُدَنَّسْ لَهُنَّ حُجُورُ ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبَانُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ النُّعْمَانِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ حِبَّانَ قَالَ فِي أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ أَبَانٍ قَالَ فِيهِ : بَشِيرُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ أَبَانٍ . فَزَادَ فِي نَسَبِهِ النُّعْمَانَ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
ابومحمد بن بشیر بن ابان بن بشیر بن نعمان بن بشیر بن سعد انصاری ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : مروان بن حکم نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو اپنے بیٹے عبدالملک کے لئے شادی کا پیغام دیا ، جو سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام ابان کے لئے تھا ۔ مردان نے جو انہیں خط لکھا اس میں یہ تحریر تھا :
” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ مروان بن حکم کی طرف سے نعمان بن بشیر کے نام ہے ، تم پر سلام ہو ! میں تمہارے سامنے اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے امابعد ! بے شک اللہ تعالیٰ کی ذات جلال والی ہے ، اکرام والی ہے ، عظمت والی ہے ، غلبے والی ہے ، اے انصار کے گروہ ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ خصوصیت عطا کی ہے کہ تم نے اس کے دین کی مدد کی ، اس کے نبی کا ساتھ دیا ، تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان میں سے عمومی گھر میں رکھا اور قدیم شاخ میں رکھا ، تو اس چیز نے مجھے اس بات کی طرف راغب کیا کہ میں تمہارے ساتھ رشتے داری قائم کروں ، اور تمہیں اپنے باپ کی اولاد کے ہم پلہ افراد پر ترجیح دوں ، تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم میرے بیٹے عبدالملک بن مروان کے ساتھ اپنی بیٹی اُم ابان بنت نعمان کی شادی کروا دو ، اس کا مہر وہ ہو گا جو تمہاری زبان بیان کرے گی ، اور جو تمہارے ہونٹ ادا کریں گے ، اور جو تمہاری خواہش ہو گی ، میں نے اس سے پہلے ہی بیت المال ( کے نگران کو ) اس بارے میں حکم دے دیا ہے ۔ “
جب سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے وہ خط پڑھا تو انہوں نے اُسے جوابی خط میں لکھا :
” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ نعمان بن بشیر کی طرف سے مروان بن حکم کے نام ہے ، میں نے اپنا نام پہلے اس لئے لکھا ہے کیونکہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
” جب کوئی شخص کسی دوسرے کو خط لکھے تو پہلے اپنا ذکر کرے ۔ “
امابعد ! تمہارا مکتوب مجھ تک پہنچا ، جو تم نے ذکر کیا ہے ، اس کی مجھے سمجھ آ گئی کہ جو تم نے ہمارے ساتھ محبت کا ذکر کیا ہے ، تو یا تو تم اس دعوے میں سچے ہو گے ، تو یہ غنیمت ہے جو تمہیں حاصل ہو گئی ، اور ایک حصہ ہے جو تم نے لے لیا ، کیونکہ ہم ایسے لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے محبت کو ایمان قرار دیا ہے اور ہمارے ساتھ بغض کو نفاق قرار دیا ہے ، اور تم نے جو ہمارے شرف اور پرانے مرتبے کا ذکر کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ہماری تعریف کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کی ہوئی کتاب میں اس حوالے سے ہمارا ذکر کیا ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر نازل کی ، تو اس کے بعد ہمیں لوگوں میں سے کسی کی تعریف کی ضرورت نہیں رہ جاتی ، جہاں تک تم نے یہ بات ذکر کی ہے کہ تم نے اپنے بیٹے عبدالملک بن مروان کے لئے اپنے باپ کی اولاد میں سے اپنے ہم پلہ لوگوں پر مجھے ترجیح دی ہے ، تو تمہاری طرف سے میرا حصہ ان پر لوٹ جائے گا اور انہیں پوری ادائیگی کی جائے گی ، ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو گی ، ان کے ساتھ اس حوالے سے کوئی تنازع نہیں ہو گا ، جہاں تک تم نے یہ بات ذکر کی ہے کہ اس لڑکی کا مہر وہ ہو گا جو میری زبان بیان کرے گی اور جو میرے ہونٹ حرکت میں آئیں گے اور جو میری خواہش ہو گی اور اس بارے میں تم نے بیت المال کے حکام کو حکم بھی دے دیا ہے ، تو الحمدللہ صورت حال یہ ہے کہ اگر تم میرے حصے کے بارے میں انصاف سے کام لو ، تو بیت المال میں میرا حصہ تمہارے حصے سے زیادہ بنتا ہے ، اور اس بارے میں میرا حصہ تمہارے حصے سے زیادہ ہے ، تو میں یہ کہتا ہوں :
” اگر میرا نفس میری بات مان لے تو اس کے بہت سے خدمتگار ہو جائیں گے ، اور وہ اتنے ہوں گے جنہیں کثیر شمار کیا جائے ، لیکن میرا نفس میرے نزدیک معزز ہے اور اس کو کمینے اور گندے لوگوں کے ساتھ رشتہ مصاہرت قائم کرنا ناگوار گزرتا ہے ، عنفاء کے بیٹوں اور محرق کے دو بیٹوں کے ساتھ ہمارا رشتہ مصاہرت ہے ، جس سے بلندی بھی حاصل ہوئی اور مہر بھی ، عمران اور عمرو بن عامر کی آل میں ایسی رسیاں ہیں جن کے کنارے بھی میلے نہیں ہوتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابان بن بشیر بن نعمان ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن حبان نے ابومحمد بن بشیر بن ابان کے بارے میں یہ کہا: ہے : بشیر بن نعمان بن بشیر بن ابان ہے ، تو انہوں نے اس کے نسب میں نعمان کا اضافہ کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16493
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16494
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ أَيَّدَنِي بِأَشِدِّ الْعَرَبِ أَلْسُنًا وَأَذْرُعًا ، بِابْنَيْ قَيْلَةَ : الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے میری تائید قیلہ کے ان دو بیٹوں کے ذریعے کی ہے ، جو عربوں میں زبان کے اعتبار سے ، سب سے زیادہ مضبوط ہیں اور سب سے زیادہ مضبوط کلائیوں والے ہیں اور وہ اوس اور خزرج قبیلے کے لوگ ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16494
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12014)»
حدیث نمبر: 16495
وَعَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَمَسُّ رُكْبَتِي رُكْبَتَهُ ، فَأَتَاهُ آتٍ ، فَالْتَقَمَ أُذُنَهُ ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَثَارَ الدَّمُ فِي أَسَارِيرِهِ ، وَقَالَ : " هَذَا يَا رَسُولُ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ يَتَهَدَّدُنِي وَيَتَهَدَّدُ مَنْ بِإِزَائِي ، فَكَفَانِيهِ اللَّهُ بِالْبَنِينَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، بِابْنَيْ قَيْلَةَ " يَعْنِي الْأَنْصَارَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ : " فَكَفَانِيهِ اللَّهُ بِالنَّبِيِّ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، وَبِابْنَيْ قَيْلَةَ " . وَفِي إِسْنَادِهِمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْبَكْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، میرا گھٹنا آپ کے گھٹنے کو مس ہو رہا تھا اسی دوران ایک شخص آپ کے پاس آیا ، اس نے آپ کے کان کے پاس منہ کیا اور کوئی بات بیان کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ تبدیل ہو گیا اور آپ کی رگوں میں خون پھیل گیا ( یعنی رگیں نمایاں ہو گئیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ عامر بن طفیل کا قاصد ہے اور اس نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو دھمکی دی ہے ، حالانکہ اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ اولاد اسماعیل میں سے ( بعض افراد یعنی مہاجرین ) اور قیلہ کے دو بیٹوں ( کی اولاد ) کے ذریعے میری مدد کر دے گا “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد انصار تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اللہ تعالیٰ اس کے مقابلے میں اپنے نبی کی کفایت ، اسماعیل کی اولاد میں سے ( بعض افراد یعنی مہاجرین ) اور قیلہ کے دو بیٹوں ( کی اولاد یعنی انصار ) کے ذریعے کر دے گا ۔ “ ان دونوں کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یزید بکری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16495
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3299)»
حدیث نمبر: 16496
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ لِلْأَنْصَارِ : " أَلَا إِنَّ النَّاسَ دِثَارِي وَالْأَنْصَارَ شِعَارِي ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شُعْبَةً ، لَاتَّبَعَتْ شُعْبَةَ الْأَنْصَارِ ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكَنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَمَنْ وَلِيَ أَمْرَ الْأَنْصَارِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى مُحْسِنِهِمْ ، وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ ، وَمَنْ أَفْزَعَهُمْ فَقَدْ أَفْزَعَ هَذَا الَّذِي بَيْنَ هَذَيْنِ " . وَأَشَارَ إِلَى نَفْسِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ النَّضْرِ الْأَنْصَارِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر انصار سے یہ فرماتے ہوئے سنا : ” خبردار ! دوسرے لوگ اوپر اوڑھنے والی چادر ہیں اور انصار جسم کے ساتھ لگنے والا لباس ہیں ، اور اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک گھاٹی میں چلیں ، تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہوتا ، جو شخص انصار کے معاملے کا نگران بنے تو وہ ان کے اچھے فرد کے ساتھ اچھائی کرے اور ان کے برے فرد سے درگزر کرے جو شخص انہیں خوف زدہ کرے گا ، وہ اس کو خوف زدہ کرے گا ، جو ان دونوں کے درمیان ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یحیی بن نضر انصاری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16496
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (307/5)»
حدیث نمبر: 16497
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ - وَكَانَ أَبُوهُ أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ - عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ خَطِيبًا ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَاسْتَغْفَرَ لِلشُّهَدَاءِ الَّذِينَ قُتِلُوا بِأُحُدٍ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ تَزِيدُونَ ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ لَا يَزِيدُونَ ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي آوَيْتُ إِلَيْهَا ، أَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ ; فَإِنَّهُمْ قَدْ قَضَوُا الَّذِي عَلَيْهِمْ ، وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن کعب بن مالک ، ان کے والد ان تین افراد میں سے ایک ہیں ، جن کی توبہ قبول ہوئی تھی ، وہ صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک فرد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور آپ نے غزوہ اُحد کے شہداء کے لئے دعائے مغفرت کی اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ” اے مہاجرین کے گروہ ! تم لوگ زیادہ ہوتے جاؤ گے ، اور انصار زیادہ نہیں ہوں گے ، انصار میرے خاص ساتھی ہیں ، میں جن کی پناہ میں آیا ، تو تم ان کے معزز فرد کی عزت افزائی کرنا اور ان کے برے فرد سے درگزر کرنا کیونکہ انہوں نے اس چیز کو ادا کر دیا ہے جو اُن کے ذمہ بنتا تھا اور اب وہ چیز باقی رہ گئی ہے ، جو ان کا حق بنتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16497
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (224/5)»
حدیث نمبر: 16498
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ - وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ - يَعْنِي : أَبَاهُ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ يَوْمًا عَاصِبًا رَأْسَهُ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ : " أَمَّا بَعْدُ ، يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ ، فَإِنَّكُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ تَزِيدُونَ ، وَأَصْبَحَتِ الْأَنْصَارُ لَا تَزِيدُ عَلَى هَيْئَتِهَا الَّتِي هِيَ عَلَيْهَا الْيَوْمَ ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي آوَيْتُ إِلَيْهَا ، فَأَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری ( یہ سیدنا کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ ) ان تین افراد میں سے ایک ہیں ، جن کی توبہ قبول ہوئی تھی ، عبداللہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے انہیں یہ بات بتائی ہے : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے کے درمیان ارشاد فرمایا : ” امابعد ! اے مہاجرین کے گروہ ! تم لوگ زیادہ ہوتے جاؤ گے اور انصار زیادہ نہیں ہوں گے ، وہ اسی حالت پر رہیں گے جس پر اب ہیں اور انصار میرے قریبی ہیں ، جن کی پناہ میں نے لی ہے ، تو تم ان کے معزز فرد کی عزت افزائی کرنا ان کے برے فرد سے درگزر کرنا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16498
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (500/3)»
حدیث نمبر: 16499
وَعَنْ قُدَامَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : رَأَيْتُ الْحَجَّاجَ يَضْرِبُ عَبَّاسَ بْنَ سَهْلٍ فِي أَمْرِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، فَأَتَاهُ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَهُ ضَفْرَانِ ، وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ : إِزَارٌ وَرِدَاءٌ ، فَوَقَفَ بَيْنَ السِّمَاطَيْنِ فَقَالَ : أَبَا حَجَّاجٍ ، أَلَا تَحْفَظُ فِينَا وَصِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ : وَمَا أَوْصَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيكُمْ ؟ قَالَ : أَوْصَى أَنْ يُحْسَنَ إِلَى مُحْسِنِ الْأَنْصَارِ ، وَيُعْفَى عَنْ مُسِيئِهِمْ . قَالَ : فَأَرْسَلَهُ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ ، فِي أَحَدِهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَفِي الْآخَرِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
قدامہ بن ابراہیم بیان کرتے ہیں : میں نے حجاج کو دیکھا کہ وہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے عباس بن سہل کی پٹائی کر رہا تھا ، اسی دوران سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ حجاج کے پاس آئے اور وہ ایک عمر رسیدہ شخص تھے ، ان کے دونوں طرف بال تھے ، ان کے جسم پر دو لباس تھے ، ایک تہبند تھا اور ایک چادر تھی ، وہ پاس آ کر کھڑے ہوئے اور بولے : اے حجاج ! کیا تم ہمارے بارے میں ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کا خیال نہیں رکھو گے ؟ حجاج نے دریافت کیا : آپ لوگوں کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا وصیت کی ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وصیت کی ہے کہ انصار کے اچھے فرد کے ساتھ اچھائی کی جائے اور ان کے برے فرد سے درگزر کیا جائے گا ، راوی کہتے ہیں : تو حجاج نے عباس کو چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی عبداللہ بن مصعب ہے اور دوسری میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16499
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7532) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5719 و 6028)»
حدیث نمبر: 16500
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِ الْأَنْصَارِ ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ ، وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” انصار کے اچھائی کرنے والے کو قبول کرو ، ان کے برے فرد سے درگزر کرو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے جسے دحیم اور ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16500
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2796)»
حدیث نمبر: 16501
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا نُعِيَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ خَرَجَ مُتَلَفِّعًا فِي أَخْلَاقِ ثِيَابٍ عَلَيْهِ ، حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَسَمِعَ النَّاسُ بِهِ وَأَهْلُ السُّوقِ ، فَحَضَرُوا الْمَسْجِدَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، احْفَظُونِي فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ ; فَإِنَّهُ كَرِشِي الَّذِي آكُلُ فِيهَا ، وَعَيْبَتِي ، اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَزَيْدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ زَيْدٍ الْأَشْهَلِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
زید بن سعد اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع دی گئی کہ آپ عنقریب دنیا سے رخصت ہو جائیں گے تو آپ گھر سے باہر تشریف لائے آپ نے کپڑا سر پر لپیٹا ہوا تھا ، یہاں تک کہ آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے ، لوگوں کو آپ کے بارے میں پتہ چلا اور بازار والوں کو پتہ چلا ، تو وہ سب مسجد میں آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! انصار کے اس قبیلے کے بارے میں میری حفاظت کرنا ، کیونکہ یہ میرے خاص قریبی ساتھی ہیں ، تم ان میں کے اچھے فرد کی اچھائی کو قبول کرنا اور ان کے برے فرد سے درگزر کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس میں ایک راوی زید بن سعد بن زید اشہلی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16501
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5425)»
حدیث نمبر: 16502
وَعَنْ مُهَاجِرِ بْنِ دِينَارٍ : أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ مَرَّ بِمَرْوَانَ يَوْمَ الدَّارِ وَهُوَ صَرِيعٌ فَقَالَ : يَا ابْنَ الزَّرْقَاءِ ، لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ حَيٌّ أَجَزْتُ عَلَيْكَ ، فَحَقَدَهَا عَلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عَبْدُ الْمَلِكِ أَتَى بِهِ ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : احْفَظْ فِيَّ وَصِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ : وَمَا ذَاكَ ؟ فَقَالَ : " احْفَظُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " . وَكَانَ أَبُو سَعِيدٍ زَوْجَ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مہاجر بن دینار بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوسعید انصاری رضی اللہ عنہ ایک دن مروان کے پاس سے گزرے ، یہ اس وقت کی بات ہے جب جنگ ہوئی تھی اور وہ پچھاڑا گیا تھا ، انہوں نے کہا: اے ابن زرقاء ! اگر مجھے یہ پتہ ہوتا کہ تم زندہ ہو ، تو میں نے تم پر حملہ کر دینا تھا ، عبدالملک نے ان کے خلاف یہ بات یاد رکھی ، پھر جب عبدالملک خلیفہ بن گیا تو انہیں لایا گیا تو سیدنا ابوسعید انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میرے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کا خیال رکھنا ، عبدالملک بن مروان نے دریافت کیا : وہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ) ” ان کے ( یعنی انصار کے ) اچھے افراد کی حفاظت کرنا اور برے لوگوں سے درگزر کرنا ۔ “ راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بنت یزید بن سکن بن عمرو بن حرام کے شوہر تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16502
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (306/22)»
حدیث نمبر: 16503
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كَتَبَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : أَمَّا بَعْدُ ، فَقَدْ عَرَفْتَ وَصِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْأَنْصَارِ عِنْدَ مَوْتِهِ : " اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَحَسُنَ إِسْنَادُهُ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا ، وَفِيهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو خط لکھا : ” امابعد ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال کے قریب انصار کے بارے میں جو وصیت کی تھی ، اس کا تمہیں علم ہے کہ تم لوگ ان کے اچھے فرد کی اچھائی قبول کرنا اور ان کے برے فرد سے درگزر کرنا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ، اسے امام طبرانی نے بھی روایت کیا ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16503
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2795) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (45)»
حدیث نمبر: 16504
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقِيلَ لَهُ : هَذِهِ الْأَنْصَارُ رِجَالُهَا وَنِسَاؤُهَا فِي الْمَسْجِدِ يَبْكُونَ ، قَالَ : " وَمَا يُبْكِيهَا ؟ " . قَالَ : يَخَافُونَ أَنْ تَمُوتَ . قَالَ : فَخَرَجَ فَجَلَسَ عَلَى مِنْبَرِهِ مُتَعَطِّفٌ بِثَوْبٍ ، طَارِحٌ طَرَفَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْهِ ، عَاصِبٌ رَأْسَهُ بِعِصَابَةِ سَخْتٍ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، أَيُّهَا النَّاسُ ، فَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَتَقِلُّ الْأَنْصَارُ حَتَّى يَكُونُوا كَالْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ ، فَمَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِمْ فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ ، وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا أَوَّلَهُ إِلَى قَوْلِهِ : فَخَرَجَ فَجَلَسَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنِ ابْنِ كَرَامَةَ ، عَنِ ابْنِ مُوسَى ، وَلَمْ أَعْرِفِ الْآنَ أَسْمَاءَهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی آیا اور آپ کو بتایا کہ انصار کے مرد اور خواتین مسجد میں موجود ہیں اور وہ رو رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں رو رہے ہیں ؟ آپ کو بتایا گیا کہ ان لوگوں کو یہ اندیشہ ہے کہ کہیں آپ کا انتقال نہ ہو جائے ، راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے ، آپ نے کپڑا سر پر باندھا ہوا تھا ، جس کے کنارے آپ کے کندھے پر آ رہے تھے ، آپ نے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی جو پرانے کپڑے کی تھی ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” امابعد ! اے لوگو ! بے شک دوسرے لوگ زیادہ ہو جائیں گے اور انصار کم ہوتے رہیں گے ، یہاں تک کہ وہ یوں ہو جائیں گے جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے ، تو جو شخص لوگوں کے معاملے میں کسی چیز کا نگران بنے ، تو وہ انصار کے اچھے فرد کی اچھائی کو قبول کرے اور برے فرد کی برائی سے درگزر کرے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس کا ابتدائی حصہ یہاں تک نہیں ہے : ” آپ تشریف لائے اور تشریف فرما ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام بزار نے ابن کرامہ کے حوالے سے ابن موسیٰ سے نقل کی ہے اور اس وقت میں ان دونوں کے ناموں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16504
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2798)»
حدیث نمبر: 16505
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَلَّى بِالنَّاسِ ، ثُمَّ أَوْصَى بِالنَّاسِ خَيْرًا ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ ، إِنَّكُمْ أَصْبَحْتُمْ تَزِيدُونَ ، وَأَصْبَحَتِ الْأَنْصَارُ لَا تَزِيدُ عَلَى هَيْئَتِهَا الَّتِي هِيَ عَلَيْهَا الْيَوْمَ ، وَالْأَنْصَارُ عَيْبَتِي الَّتِي آوَيْتُ إِلَيْهَا ، فَأَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقه رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر آپ نے لوگوں کے بارے میں بھلائی کی تلقین کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” امابعد ! اے مہاجرین کے گروہ ! تم لوگ زیادہ ہوتے جاؤ گے اور انصار زیادہ نہیں ہوں گے ، یہ اسی طرح رہیں گے جس طرح یہ اس وقت ہیں اور انصار میرے مقربین ہیں ، جن کی پناہ میں نے لی ہے ، تو تم ان کے معزز افراد کی عزت افزائی کرنا اور ان کے برے فرد سے درگزر کرنا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16505
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2799)»
حدیث نمبر: 16506
وَعَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ سَهْلًا دَخَلَ عَلَى الْحَجَّاجِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى يَدِهِ فَقَالَ لَهُ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي الْأَنْصَارِ : " أَحْسِنُوا إِلَى مُحْسِنِهِمْ ، وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " . فَقَالَ : مَنْ يَشْهَدُ لَكَ ؟ قَالَ : هَذَانِ كَنَفَيْكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، فَقَالَا : نَعَمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عباس بن سہل بن سعد بیان کرتے ہیں : سیدنا سہل رضی اللہ عنہ ، حجاج کے پاس آئے ، وہ اس وقت ہاتھ کے ذریعے ٹیک لگائے ہوئے تھا ، سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے بارے میں یہ فرمایا ہے : کہ ان کے اچھے فرد کے ساتھ اچھائی کرو اور ان کے برے فرد سے درگزر کرو ، حجاج نے دریافت کیا : کون آپ کے حق میں گواہی دے گا ؟ تو انہوں نے کہا: یہ دو افراد جو تمہارے پہلو میں بیٹھے ہوئے ہیں ، عبداللہ بن جعفر اور ابراہیم بن محمد بن حاطب ، تو ان دونوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ( یعنی ایسا ہی ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس بن سہل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16506
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16507
وَعَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي ، وَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَهُمْ يَقِلُّونَ ، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” انصار میرے انتہائی قریبی اور رازدار ہیں ، دوسرے لوگ زیادہ ہوتے جائیں گے اور یہ لوگ کم ہوتے جائیں گے ، تو تم اُن کے اچھے فرد کی اچھائی قبول کرنا اور ان کے برے فرد سے درگزر کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16507
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (552)»
حدیث نمبر: 16508
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ - وَكَانَ أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ - : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ خَطِيبًا ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَاسْتَغْفَرَ لِلشُّهَدَاءِ الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ : " إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ ، تَزِيدُونَ إِنَّ الْأَنْصَارَ لَا يَزِيدُونَ ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا ، فَأَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن کعب بن مالک اپنے والد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں : اُن کے والد ان تین افراد میں سے ایک ہیں جن کی توبہ قبول ہوئی تھی ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور ان شہداء کے لئے دعائے مغفرت کی جو غزوہ اُحد میں شہید ہو گئے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے مہاجرین کے گروہ ! تم لوگ زیادہ ہوتے جاؤ گے ، اور انصار زیادہ نہیں ہوں گے ، انصار میرے رازدار ہیں ، جن کی میں نے پناہ لی ، تو تم ان کے معزز فرد کی عزت افزائی کرنا اور اُن کے برے فرد سے درگزر کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16508
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (79/19)»
حدیث نمبر: 16509
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : آخِرُ خُطْبَةٍ خَطَبَنَاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن کعب بن مالک اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : وہ آخری خطبہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ارشاد فرمایا : ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16509
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (79/19)»